بھارتی اداکار جن کی روحیں پاکستان میں ہی منڈ لا رہی ہیں
بالی وڈ کی ہیرو سنجے دت جو مشہور اداکار سنیل دت اور اداکارہ نرگس کے بیٹے ہیں، بتاتے ہیں کہ ایک رات جب شوٹنگ سے گھر واپس آیا تو والد صاحب (سنیل دت) کے کمرے سے رونے کی آوازیں سنائی دیں، میں ان کے کمرے میں داخل ہوا تو والد صاحب سسکیاں بھر بھر کے رو رہے تھے۔ میں سمجھا کہ شاید امی (سنیل دت کی بیوی نرگس) کو یاد کر کے رو رہے ہیں۔ میں والد صاحب سے مخاطب ہوا اور پوچھا کیا ہوا پاپا کہنے لگے مجھے گھر یاد آ رہا ہے ”مینو (مجھے) گھر لے چل“ میں نے کہا پاپا یہ ہی تو اپ کا گھر ہے کہنے لگے ”پتر تو نہیں سمجھے گا“ ۔ ”مجھے اپنا پنڈ یاد آ رہا ہے“ ۔ اس واقعہ کے تھوڑے عرصے بعد 25 مئی 2005 کو سنیل دت کا انتقال ہو گیا۔ سنیل دت 6 جون 1929 کو متحدہ ہندوستان کے صوبہ پنجاب کے ایک گاؤں ”نکہ خورد“ میں پیدا ہوئے۔ جو ضلع جہلم میں واقع ہے اور اب پاکستان میں شامل ہے۔ جب وہ 18 سال کے تھے تو تقسیم ہند کی وجہ سے پورے ملک میں ہندو مسلم فسادات برپا ہو گئے۔ سنیل دت کے والد کے ایک مسلمان دوست یعقوب نے ان کے پورے خاندان کو بلوائیوں سے بچایا۔ تقسیم کے نتیجے میں سنیل دت اپنے خاندان کے ہمراہ مشرقی پنجاب میں جا بسے جو اب ہندوستان کا حصہ ہے۔ سنیل دت ہجرت کے بعد 1997 میں پہلی دفعہ پاکستان تشریف لائے۔ اپنے ایک انٹرویو میں سنیل دت نصف صدی کے بعد اپنی جائے پیدائش کا دورہ کرنے کا تجربہ یوں بیان کرتے ہیں :
”مجھے یاد ہے جب میں 50 سال بعد پہلی دفعہ پاکستان گیا اور وہاں پہنچ کر اپنے گاؤں بھی گیا۔ جو“ نکہ خورد ”کہلاتا ہے۔ یہ دریائے جہلم کے کنارے، جہلم شہر سے تقریباً 14 میل کے فاصلے پر ہے۔ مجھے محسوس ہوا کہ پاکستان کے لوگ ہماری طرح ہی پیار کرنے والے اور خیال رکھنے والے ہیں۔ آپ حیران ہوں گے جب میں اپنے گاؤں گیا تو پورا گاؤں میرے استقبال کے لیے جمع تھا۔ میں نے سوچا کہ وہ ایسا اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ میں ایک اداکار ہوں اور وہ مجھے اس حوالے سے جانتے ہیں۔ لیکن اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ بلکہ وہ حقیقی طور پر محسوس کر رہے تھے کہ میں وہاں سے تعلق رکھتا ہوں۔ گاؤں کے نوجوانوں نے استقبالیہ بینرز کے ساتھ میرا زبردست استقبال کیا، جس پر تحریر تھا“ ’سنیل دت، نکہ خورد میں خوش آمدید! ”میرے ساتھ اسکول میں پڑھنے والے سارے ساتھی مجھ سے ملنے آئے۔ میں ان خواتین سے بھی ملا جو تقسیم کے وقت 10 سال کی تھیں، اور اب 60 یا 65 سال کی تھیں۔ انہوں نے مجھ سے، میری بہن رانی اور میری ماں کلونتی کے بارے میں پوچھا۔ انہیں سارے نام یاد تھے۔ جب میں نے بتایا وہ دنیا میں نہیں رہیں تو وہ پنجاب کی روایت کے مطابق اپنے سینے پیٹنے لگیں جیسے ان کے اپنے ہی خاندان کا کوئی مر گیا ہو۔ اس سے زیادہ مخلصانہ جذبہ کہاں سے مل سکتا ہے۔
وہ مجھے باہر کھیتوں میں لے گئے۔ انہوں نے مجھ سے کہا، ”یہ زمین تیری ہے، بلّا۔ میرا نام بلراج ہے۔ مجھے گاؤں میں بِلا کہا جاتا تھا۔ میں نے ان سے کہا، نہیں، یہ تمہارا ہے۔“ انہوں نے کہا، ’نہیں، تم یہاں۔ آ جاؤ۔ تمہیں دے دیں گے۔ میرے والد کا انتقال اس وقت ہوا تھا جب میں پانچ سال کا تھا، ہم گاؤں میں بغیر کسی پریشانی کے رہتے تھے۔ حالانکہ وہاں ہندوؤں سے زیادہ مسلمان تھے۔
”اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی!“ بالی وڈ کی معرکتہ الآرا فلم شعلے کا مشہور مکالمہ ہے۔ جو اس فلم کے کردار مسجد کے امام صاحب رحیم چاچا نے ادا کیے تھے۔ رحیم چاچا کا کردار ہندوستانی فلموں کی ہر دل عزیز کریکٹر ایکٹر اوتار ہنگل نے ادا کیا تھا۔ ہنگل یکم فروری 1914 کو متحدہ ہندوستان کے شہر سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے۔ سیالکوٹ شہر اب پاکستان کے صوبہ پنجاب کا ایک مقام ہے۔ 1947 میں ہنگل کراچی میں رہائش پذیر تھے اور کمیونسٹ پارٹی کے سر گرم کارکن تھے۔
1947 کا سال وہ پرآشوب دور ہے جب ہندوستان تقسیم ہو گیا۔ بارہ اگست 1947 کو ہنگل سے ملنے اُس کا ایک پرانا دوست آیا اور ہنگل کو بتایا کہ حکومتِ سندھ نے کراچی میں مجھے ایک عارضی ریڈیو اسٹیشن قائم کرنے کا کام سونپا ہے، میرے پاس صرف اڑتالیس گھنٹے ہیں۔ کیونکہ 14 اگست کو پاکستان کی یومِ آزادی پر ریڈیو اسٹیشن کو اپنی نشریات کا آغاز کرنا ہے۔ اس حوالے سے ہنگل سے اُس نے ایک ڈرامہ تیار کرنے کی درخواست کی۔ ہنگل نے اُس کی درخواست قبول کرتے ہوئے ایک ڈرامہ تیار کیا جو 14 اگست 1947 کو کراچی کے عارضی ریڈیو اسٹیشن سے نشر ہوا۔
تقسیم کے ہنگاموں کے پیشِ نظر ہنگل کی سوچ میں بھی کافی تبدیلی آئی اور انہوں نے سیا سی سر گرمیوں کے ساتھ ساتھ اپنے ابتدائی جوانی کے شوق ”تھیٹر“ کی جانب توجہ مرکوز کرنی شروع کر دی۔ ان کا خیال تھا کہ سیاسی شعور اور روحانی قدروں کو ترویج دینے کے لیے تھیٹر ایک اچھا میڈیم بن سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے غیر منقسم ہندوستان میں ایک تنظیم Indian People ’s Theater Association (IPTA) کے نام سے کام کر رہی تھی۔ ان کا ذہن IPTA کی طرز پر PPTA ” پاکستان پیپلز تھیٹر ایسوسی ایشن“ قائم کرنے کا منصوبہ بنا نے لگا۔ افسوس کہ اُن کا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔
ہندوستان کے بٹوارے کے بعد ”کمیونسٹ پارٹی“ بھی دو حصوں میں تقسیم ہو گئی اور ”کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان“ وجود میں آئی جس کے پہلے سیکرٹری جنرل مشہور دانشور و ترقی پسند رہنما سجاد ظہیر بنائے گئے اور ہنگل نے کراچی میں ہی رہ کر کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے لئے کام کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ تحریکِ آزادی کے ابتدائی دنوں میں ”کمیونسٹ پارٹی“ پاکستان کی حمایت کر رہی تھی لیکن 1947 میں دو مملکتوں کے قیام کے بعد پارٹی نے اپنا نکتہ نظر بدل لیا اور یہ نظریہ دیا کہ یہ دونوں مُلک آزاد نہیں ہوئے بلکہ مقامی استعماری قوتوں کے قبضے میں آ گئے ہیں اور یہاں پر ایک اصل انقلاب لانے کی ضرورت ہے۔ پارٹی کے اس نئے نظریے سے نوزائیدہ مملکت پاکستان کے حکمراں نہایت خائف ہو گئے اور حکومت نے کمیونسٹ پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کو بے دریغ گرفتار کرنا شروع کر دیا۔ ہنگل کو بھی چار دوسرے ساتھیوں سمیت گرفتار کر کے کراچی سینٹرل جیل میں قید کر دیا گیا اور پھر کچھ مدت بعد انہیں صوبہ سندھ کے دوسرے شہر حیدر آباد کی جیل میں بھیج دیا گیا۔ حیدرآباد جیل میں ان کی ملاقات ”خدائی خدمت گار“ کے رہنما ”خان عبدالغفار خان“ کے بڑے بیٹے ”غنی خان“ سے ہوئی۔ غنی خان نے ان سے کہا کہ تم پاکستان میں کیوں رہ رہے ہو۔ یہاں تمہارا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ تم ہندوستان چلے جاؤ۔ حکومتِ پاکستان تمہیں فوراً رہا کر دے گی۔ لیکن ہنگل نے دلی طور پر پاکستان کو ہی اپنا وطن تسلیم کر لیا تھا۔
حیدرآباد کی جیل میں قید کی کچھ مدت کاٹنے کے بعد ان کو واپس کراچی سینٹرل جیل میں بھیج دیا گیا اور یہاں ایک ایک کر کے سیاسی قیدی رہا کیے جانے لگے۔ صرف ہنگل اور سوبھو گیان چندانی کو قید سے رہائی نہ مل سکی۔ ہنگل اور سوبھو گیان چندانی نے مشترکہ طور پر اپنی رہائی کی درخواست سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو بھیجی۔ ہنگل اور سوبھو گیان کے مقدمے کی سماعت کے بعد ہنگل کے وکیل نے ہنگل کو مشورہ دیا کہ آپ کے لیے یہی بہتر ہے کہ آپ مستقل طور پر بمبئی سکونت اختیار کر لیں۔ ہنگل نے ان کی ہدایت اور رائے کے مطابق اعلیٰ حکام کو بمبئی جانے کی درخواست دے دی۔ چند ہی دنوں بعد ان کو کراچی کے ایڈمنسٹریٹر کے سامنے پیش کیا گیا اور انہیں پاکستان چھوڑنے کے لیے صرف بارہ گھنٹے کی مہلت دی گئی۔ ہنگل نے اگلی صبح ہی رختِ سفر باندھ لیا اور بحری جہاز کے ذریعے نومبر 1949 میں دیوالی کے تہوار کے دنوں میں وہ اپنی بیوی اور بچے کے ساتھ بمبئی پہنچ گئے۔
1965 کا سال ان کے لیے فلمی دنیا میں داخل ہونے کا سال ثابت ہوا۔ حالانکہ فلموں میں کام کرنے کا فیصلہ اور کوشش انہوں نے بہت دیر سے کی تھی لیکن بہت جلد اس میدان میں بھی انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔ ان کے ادا کیے ہوئے کچھ کردار فلم بینوں کے دلوں پر ہمیشہ کے لیے انمٹ نقوش چھوڑ گئے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ لگ بھگ دو سو پچیس ہندی فلموں میں مختلف کردار ادا کرنے والے ہنگل روانی سے ہندی لکھنا اور پڑھنا نہیں جانتے تھے۔ کیونکہ ان کے طالب علمی کا زمانہ موجودہ پاکستان میں گزرا تھا۔ اس لیے ان کے فلمی کرداروں کا اسکرپٹ خاص طور پر ”اردو“ کے ”رسم الخط“ میں لکھا جاتا تھا۔
پاکستان سے بے دخل کیے جانے والے ہنگل نے ہندوستان پہنچ کر وہیں کی شہریت اختیار کر لی تھی۔ اب یہی ان کا وطن تھا لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ فن سے متعلق مختلف شعبوں میں بے انتہا محنت کر کے کارہائے نمایاں انجام دینے کے باوجود نوّے کی دہائی میں جب انہیں پاکستان سے بے دخل ہوئے چالیس برس سے زائد کا عرصہ بیت چکا تھا تو شیو سینا کے متعصب رہنما بال ٹھاکرے نے پاکستانی قونصلیٹ میں یومِ آزادی کی تقریب میں شریک ہونے کی پاداش میں انہیں نہ صرف غدار قرار دے دیا بلکہ ان کے اوپر روزگار کے مواقع بھی بند کر دیے گئے تھے۔
انہوں نے بال ٹھاکرے کی طرف سے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ
”میں اپنا سب کچھ پیچھے چھوڑ کر کراچی سے بھارت آیا تھا لیکن انہوں نے پھر مجھے پاکستانی بنا دیا“


