کراچی کے مسائل

میں نے کراچی کو ساٹھ کے عشرے کے ایک صاف ستھرے شہر سے ابلتے ہوئے گٹروں، کچرے کے ڈھیر اور کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل ہوتے دیکھا ہے۔ کچھ اسے لاوارث بچہ اور کچھ سندھ حکومت کو اس کی سوتیلی ماں بھی کہتے ہیں۔ جن لوگوں کو میں نے صحیح معنوں میں دردمندی سے کراچی کے مسائل کے بارے میں سوچتے اور ان کا حل پیش کرتے ہوئے پایا ہے، ان میں سر فہرست عارف حسن اور نرگس رحمن ہیں۔ عارف حسن تو بین الاقوامی شہرت یافتہ اربن پلانر ہیں لیکن نرگس رحمن تو ایک شفیق ماں کی طرح برسوں سے کراچی کے مسائل پر کام کرتی چلی آ رہی ہیں اور ان کو اپنے جیسے درد مند شہریوں کا تعاون حاصل رہا ہے۔
خاص طور پر میں عبدالحمید ڈاگیا کا حوالہ دینا چاہوں گی جو دس سال سے کراچی کے ماحولیاتی مسائل پر کام کر رہے ہیں۔ وہ کراچی میں درختوں خاص طور پر کونو کورپس کے بڑے درختوں کے کاٹے جانے پر پریشان ہیں کیونکہ اس وجہ سے شہری سورج کی بالائے بنفشی شعاعوں کے نقصان دہ اثرات سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ ان کے اسکن کینسر میں مبتلا ہونے کا امکان بڑھ جائے گا، ڈی این اے اور آنکھوں کو نقصان پہنچے گا، آنکھوں میں موتیا اترے گا، کھال لٹکنے لگے گی اور جسم کا مدافعتی نظام متاثر ہو گا۔
درختوں کے کاٹے جانے کی بنا پر گردوغبار کا طوفان آئے گا، شہری دمہ اور کالی کھانسی کا شکار ہوں گے۔ ہیٹ ویوز آئیں گی اور دیگر متعدد خرابیاں اور بیماریاں پیدا ہوں گی۔ اب آپ یقیناً سوچ رہے ہوں گے کہ آخر پھر درخت کاٹے کیوں جا رہے ہیں تو اس کا ایک ہی جواب ہے اور وہ ہے صاحبان اقتدار کی پیسے کی ہوس اور دولت سمیٹنے کا لالچ۔ اسی لالچ کی وجہ سے پندرہ سال پہلے یوکلپٹس کو خراب قرار دے کر کاٹ دیا گیا۔ اب کونو کورپس کے درخت بڑے ہو گئے ہیں تو ان کے خلاف پراپیگنڈہ کر کے انہیں کاٹنے کا جواز پیدا کیا جا رہا ہے۔
اب لیگنم کے مہنگے امریکی درخت لگائے جا رہے ہیں، پندرہ سال بعد ان کے خلاف بھی پروپیگنڈا کیا جائے گا۔ کراچی کے شہریوں کو کونو کورپس درختوں کو کٹنے سے بچانا ہو گا۔ کراچی کی زبوں حالی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وفاقی حکومت سندھ حکومت کو کراچی کے لئے جو رقم دیتی ہے وہ کراچی پر خرچ نہیں کی جاتی۔ کراچی کے مسائل پر کام کرنے کے حوالے سے ایک نیا نام سامنے آیا ہے اور وہ ہیں اربن پلانر محمد توحید۔ انہوں نے کراچی کے دردمند شہریوں کے فورم کی حالیہ میٹنگ میں بتایا کہ 1996 میں واٹر سیوریج بورڈ کراچی میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) کا حصہ تھا مگر پھر سیاسی وجوہات کی بنا پر اسے الگ کیا گیا اور کے ایم سی کے پاس صرف برساتی نالوں کا انتظام رہ گیا۔
کراچی کے مسائل میں اضافے کی وجہ دیگر علاقوں سے لوگوں کی آمد کی بنا پر شہری سہولتوں اور وسائل پر بڑھتا ہوا بوجھ بھی ہے۔ جس کی وجہ سے فلیٹوں کی تعداد میں اور کاروباری دکانوں اور دفاتر کی عمارتوں میں اضافہ ہوا لیکن ان کے لئے درکار سہولتوں جیسے بجلی، پانی، گیس اور کچرا اٹھانے کے انتظامات میں اضافہ نہیں ہوا۔ واٹر بورڈ کے پاس کچرا اٹھانے کے لئے وسائل نہیں تھے چنانچہ انہوں نے برساتی نالوں میں کچرا پھینکنا شروع کر دیا۔
یوں بارش کے پانی کے نکاس کا راستہ بند ہو گیا اور شہر میں سیلاب آ گیا۔ کراچی کا کوئی 55 فی صد حصہ کنٹونمنٹ کی حدود میں آتا ہے مگر کنٹونمنٹ کی انتظامیہ کراچی کے مسائل کے حل کے لئے کچھ نہیں کرتی۔ اس وقت شہری امور کے انتظام کے لئے 19 یا 21 ادارے کام کر رہے ہیں۔ ان کے کاموں کی نگرانی کے لئے ان کے اوپر ایک ادارہ بنانے کی ضرورت ہے۔ عام شہری کو اس کا علم نہیں کہ اب کراچی میں کچرا بیچنا بھی اربوں روپے کا کاروبار بن چکا ہے۔
ڈاکٹر شورو کا کہنا ہے کہ گھریلو کچرے، صنعتی فضلے اور گاڑیوں کے دھویں سے سانس کی نالی، آنکھیں اور ناک کی جھلی متاثر ہوتی ہے۔ ہوا میں زہریلی گیسوں کی موجودگی کی وجہ سے کینسر کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ فوری اقدامات کے طور پر یہی کیا جا سکتا ہے کہ درختوں کو کٹنے سے بچایا جائے اور اور شہری کچرے اور صنعتی فضلے کو ٹھکانے لگانے کا صحیح انتظام کیا جائے۔ اور اربن پلاننگ کے لئے عوام دوست ماہرین کی تجاویز پر عمل کیا جائے۔

