انسان کو ایک سائنسی معجزے کی ضرورت ہے (مکمل کالم)

ایک وقت آئے گا جب اس زمین پر انسان کا وجود ختم ہو جائے گا۔ شاید یہ وقت قیامت کے قریب آئے یا ممکن ہے قیامت سے پہلے ہی آ جائے کیونکہ قیامت تو پوری کائنات کے لیے برپا ہوگی جبکہ زمین تو فقط کائنات کے سمندر میں ایک ذرہ ہے۔ سو، اس بات کا امکان موجود ہے کہ اپنی حرکتوں کی وجہ سے ہم نسل انسانی کے خاتمے کو قیامت کے مقررہ وقت سے پہلے ہی یقینی بنا لیں۔ دوسری طرف اگر ہم انسانی ترقی کی رفتار کو دیکھیں تو لگتا ہے کہ انسان اپنی نسل کو کسی نہ کسی سائنسی طریقے سے بچانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ آخر انسان نے گزشتہ تیس ہزار برس سے عقل و دانش کے بل بوتے پر اس کرہ ارض پر اپنی حکمرانی قائم کر رکھی ہے اور دیگر چرند، پرند اور درند کا جینا حرام کیا ہوا ہے سو یہ کیسے ممکن ہے کہ حضرت انسان اتنی آسانی سے ہار مان لیں۔ شاید یہی سوچ کر انسان نے ناروے کے ایک دور افتادہ مقام پر زمین میں پیدا ہونے والی تمام اجناس کے بیجوں کو ذخیرہ کر رکھا ہے تاکہ کسی ناگہانی آفت کے نتیجے میں اگر زمین سے زرعی اجناس اور ان کے بیج ختم ہوجائیں تو انسان یہاں سے بیج حاصل کر کے دنیا میں خوراک کی فراہمی کو یقینی بنا سکے۔ اسی طرح انسان نے ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت کا انتظام بھی کر رکھا ہے تاکہ ایسا نہ ہو کہ کسی سرپھرے سے اچانک ’بندوق‘ چل جائے اور پوری انسانی نسل ایک ہی ہلے میں ختم ہو جائے۔ لیکن ان تمام احتیاطی تدابیر کے باوجود میرا اندازہ ہے کہ انسان کے چل چلاؤ کا وقت اب قریب ہے اور اب کوئی سائنسی معجزہ ہی اسے بچا سکتا ہے۔ ایسا کیوں کر ہو گا، یہ بات بعد میں کرتے ہیں، پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ انسان کے جانے کے بعد زمین کی حالت میں کیا تبدیلی آئے گی!
انٹرنیٹ پر بے شمار مضامین اور ویڈیوز موجود ہیں جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ اگر آج زمین سے انسان کا وجود مٹ جائے تو کیا ہو گا۔ سب سے پہلے تو تیل کے کارخانوں میں خرابی پیدا ہو جائے گی اور چونکہ ان کا کوئی والی وارث نہیں ہو گا تو ان میں آگ بھڑک اٹھے گی جسے بجھانے والا کوئی نہیں ہو گا۔ پھر دنیا بھر کے زیر زمین ریلوے سٹیشن بند ہوجائیں گے کیونکہ ان میں نکاسی آب کا نظام ناکارہ ہو جائے جس کی وجہ سے وہاں سرنگوں میں پانی امڈ آئے گا، یہ سب کچھ فقط تین دن میں ہو جائے گا۔ لندن کی بگ بینگ بھی آخری مرتبہ گھنٹہ بجائے گی کیونکہ اس میں ہر تین دن بعد چابی بھرنی پڑتی ہے اور ایسا کرنے والا کوئی نہیں ہو گا۔ ایک ہفتے کے اندر اندر دنیا بھر میں ہنگامی حالت میں بجلی پیدا کرنے والے جنریٹر بھی بند ہوجائیں گے اور اس دوران تیل کے کارخانوں میں لگنے والی آگ بجھ چکی ہوگی جس کے نتیجے میں زمین کئی صدیوں میں پہلی مرتبہ اندھیرے میں ڈوب جائے گی۔ دس دن بعد ایٹمی پلانٹس کا خود کار حفاظت کا نظام بھی جواب دے جائے گا جس کے بعد پے درپے خوفناک دھماکوں کا سلسلہ شروع ہو گا جس کے نتیجے میں زمین میں زہریلے مادے اور تابکاری کے اثرات پھیل جائیں گے۔ خیال رہے کہ پہلے ماہ میں ہونے والی تباہی کے نتائج تیزی سے سامنے آئیں گے مگر اس کے بعد دھیرے دھیرے زمین کی ہیئت تبدیل ہوگی۔ انسان کے پالتو جانور سڑکوں اور گلیوں میں پھرتے ہوئے نظر آئیں گے اور جو قید میں ہوں گے وہ خوراک نہ ملنے کی وجہ سے مر جائیں گے۔ اگلے دس بیس برسوں میں دریاؤں کا پانی شہروں میں آ جائے گا، عمارتوں میں توڑ پھوڑ شروع ہو جائے گی اور تقریباً دو سو سال میں کئی شہروں میں فلک بوس عمارتیں گرنا شروع ہوجائیں گی۔ دریاؤں کے کناروں پر آباد شہروں کی عمارتیں نسبتاً تیزی سے تباہ ہوں گی جبکہ دیہات میں تعمیر شدہ مکانات میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل قدرے سست ہو گا، ان مکانوں میں کیڑے مکوڑے اور آس پاس کے کھیتوں اور جنگلوں سے چوہے اور دیگر جانور آ کر بسیرا کر لیں گے۔ ہمارے بازاروں اور دکانوں میں کتے، بلیوں اور چوہوں کا راج ہو گا، سب وہاں دندناتے پھریں گے، انسان کے تعمیر کردہ گھروں، دفتروں اور عمارتوں میں پودے اور گھاس اگ آئے گی۔ تیس سال بعد مصنوعی سیارے، جنہیں انسان نے زمین سے چھوڑا تھا، واپس زمین کا رخ کریں گے مگر زمین پر ان کو سگنل دینے والا کوئی نہیں ہو گا۔ بہت سے شہر زیر آب آ جائیں گے اور سمندروں میں ڈوب جائیں گے۔ آہستہ آہستہ سمندری حیات کی بحالی شروع ہو جائے گی اور لگ بھگ ڈیڑھ سو برس میں ہمارے شہر بھی اپنی قدرتی حالت میں ویسے واپس آ جائیں گے جیسے انسان کی آمد سے پہلے تھے۔ جنگلوں کا رقبہ بڑھ جائے گا اور پانچ سو برسوں میں جنگل اپنے جوبن پر ہوں گے۔ پچیس ہزار برسوں میں زمین پر شاید ہی کوئی شے ایسی باقی رہے گی جسے ہم اپنی نشانی قرار دے سکیں ما سوائے پلاسٹک کی چند چیزوں کے اور پلاسٹک کو ختم ہونے مزید ایک یا دو لاکھ برس لگیں گے۔
یہاں تک لکھ کر مجھے احساس ہوا ہے کہ کہیں میں وہ بندہ تو نہیں جو ہر محلے میں ہوتا ہے اور صرف بری خبریں پہنچانے کا کام کرتا ہے بالکل ویسے جیسے ہمارے پنجابی ڈراموں میں اکثر ایک جگت لگائی جاتی ہے کہ ’اے تے او بندہ اے جنے آ کے قیامت دا اعلان کرنا اے۔ ‘ (یہ وہ شخص ہے جس نے آ کر قیامت کا اعلان کرنا ہے )۔ تفنن برطرف، میں نے شروع میں لکھا ہے کہ انسان کے زمین سے رخصت ہونے کا وقت قریب آ چکا ہے اور اس کی وجہ انسان کا جدید طرز زندگی ہے جس نے زمین کو رہنے کے قابل نہیں چھوڑا۔ صرف گزشتہ تین ماہ میں دنیا کے بڑے ممالک میں جس قسم کے سیلاب آئے ہیں اور انہوں نے جس طرح کی تباہی مچائی ہے وہ خوفناک ہے۔ لیبیا، ہانگ کانگ، امریکہ، سپین، کوریا، چین اور ہندوستان کے مختلف شہروں میں سیلابی ریلوں نے شہری زندگی مفلوج کردی، لاکھوں لوگ گھر سے بے گھر ہوئے، ہزاروں مارے گئے، ٹرانسپورٹ اور بجلی کا نظام درہم برہم ہوا اور انسان بے بسی سے یہ سب کچھ دیکھتا رہا۔ موسمیاتی تبدیلیوں کا یہ صرف ٹریلر ہے، اصل فلم تو ابھی چلی ہی نہیں۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ دنیا کے زیادہ تر لوگ اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی محض ایک ڈھکوسلہ ہے، اور جو لوگ اسے حقیقی خطرہ سمجھتے ہیں وہ بھی یہ نہیں جانتے کہ اس سے نمٹنے کے لیے کیا کیا جائے، وہ فقط ورلڈ ارتھ ڈے کے موقع پر ایک منٹ کے لیے گھر کی بتیاں بجھا کر سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ایک اچھے انسان ہونے کی ذمہ داری پوری کردی۔ اسی طرح دنیا کی فاسٹ فیشن انڈسٹری عالمی سطح پر ہونے والے کاربن اخراج میں سے دس فیصد کی ذمہ دار ہے جو کہ شپنگ اور ہوا بازی سے بھی زیادہ ہے۔
حضرت انسان کے جس قسم کے لچھن ہیں انہیں دیکھ کر لگتا تو نہیں کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں کے خوفناک نتائج سے نمٹ پائے گے، رہی یہ خوش فہمی کہ ہم ہومو سیپئن ہیں اس لیے بچ جائیں گے، تو عرض یہ ہے کہ کرہ ارض پر لاکھوں برس سے اب تک جتنی بھی species پیدا ہوئی ہیں ان میں سے 97 فیصد سے زائد معدوم ہو چکی ہیں، ہمارا شمار باقی تین فیصد میں ہوتا ہے۔ لیکن اس تاریک صورتحال میں امید کی کرن صرف سائنس ہے، اگر کوئی سائنسی معجزہ ہو گیا اور انسان Fusion کے عمل کے نتیجے میں توانائی پیدا کرنے میں کامیاب ہو گیا تو اس صورت میں نسل انسانی کے بچاؤ کی امید ہے، ورنہ ہماری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔

