ہم اکثر کسی کو بڑا سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہوتے
ایک دور تھا اور شاید اب بھی یہ جملہ دہرایا جاتا ہو کہ بڑوں میں بیٹھا کرو تمھیں سیکھنے کا موقع ملے گا۔ یہ حقیقت ہے جب اپنے سے بڑے اور تجربہ کار لوگوں کی محفل اور نشستیں مل جائیں تو انسان بہت سی اچھی بری باتوں سے آشنا ہوجاتا ہے۔
بچپن میں پہلے والدین ہی اس ذمہ داری کو نبھاتے ہیں لیکن انہیں آسانی سے قبولیت کم ملتی ہے خاص طور پر اکثر اپنے والد کی صحبت سے گریز کرتے ہیں۔ والدہ کی قربت ایک قدرتی عمل بھی ہے وہ شفقت کے ساتھ ایک نرم گوشہ اولاد کے لئے رکھتی وہی سب کا نقطۂ توجہ ہوتا ہے۔
گھر سے باہر استاد بھی بڑے ہوتے ہیں یا پھر اس سے پہلے بڑے بھائی بہن کبھی یہی کردار ادا کرتے ہیں۔ اچھی بری کہہ لیں، پتے اور حکمت کی باتیں۔ خاص طور پر بزرگوں سے سنی سنائی حکایتیں آگے منتقل کرتے رہتے ہیں۔ اب یہ سارا عمل کئی بار کافی تکلیف دہ، بورنگ اور کسی حد تک فضول لگنے لگتا ہے۔ کیونکہ کئی بار اس بچے یا نوجوان کی ذہنی حالت بہت زیادہ چیزوں کو اکٹھا کر کے رکھنے کی نہیں ہوتی۔
سکول کے بعد کالج میں قدم رکھتے ہی ایک تبدیل ماحول جس میں ایک آزادی اور کسی حد تک ڈسپلن کی چھوٹ صاف صاف نہ صرف دکھائی دیتی ہے بلکہ آپ کی منتظر ہوتی ہے اور زیادہ تر نوجوان اسے گلے لگاتے ہیں۔ یہاں سے ایک ایسے دور کا آغاز ہوتا ہے جس میں آگے نئے دوست بنتے، تعلقات کی نئی تعریف سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ سرگرمیوں کی نوعیت اور ترجیحات بھی بدل جاتی ہیں۔
یہاں کچھ دوست بچپن کا ساتھ نبھاتے لیکن کئی نئے چہرے اچانک ہاتھ تھام لیتے ہیں انہیں میں سے کچھ زندگی کے آخری موڑ تک دامن نہیں چھوڑتے۔
وہ بڑے جنہیں موضوع بنایا ہے ان کی نشستوں میں وقت گزارنے میں اب کوئی قباحت نہیں ہوتی۔ یہ چند سال عمر میں بڑے بھی ہوسکتے ہیں استاد یا پھر کسی بھی حیثیت میں ملنے والے بزرگ، جن سے زندگی کے معاملات پر رہنمائی لی جاتی ہے۔ سیاست میں قدم رکھنے والوں کو بہتر انداز میں تجربہ ہوتا ہے۔ ان کی بتائی اور سکھائی باتوں کا ذخیرہ کچھ لوگ خوب سنبھالے رکھتے ہیں لیکن بعض کی عادت ہوتی ہے وہ انہیں فلٹر کر کے اپنے ذہن میں چلنے والے معاملات کو محفوظ کرنا بہتر خیال کرتے ہیں۔
یہ وہ دور ہوتا ہے جب کہتے ہیں اچھی بری صحبت دستیاب ہوتی ہے جس دوران گھر اور باہر کا توازن درست ہوتا یا پھر بگڑ جاتا ہے۔ کھیل کود اور آوارہ گردی میں بظاہر کوئی قباحت نہیں صرف سمت تبدیل ہونے سے خرابی پیدا ہوتی ہے۔ یہاں بڑوں کا کردار کام کرتا ہے وہ کس راستے کا تعین کر کے دیتے ہیں۔ اصل میں یہ بڑے ہی زندگی میں کامیابی اور ناکامی سیڑھیاں تھامے ہوتے ہیں۔ زیادہ تر بھلے کی بات بتائیں گے لیکن گمراہ کرنے کی ذمہ داری بھی کسی نے انجام دینا ہوتی ہے۔
وہ پھر ایسا کام دکھاتا ہے کہ پٹڑی پر اترے کو دوبارہ واپس لانا مشکل ہوجاتا ہے۔ تعلق میں خلوص ہو تو پھر سمجھنے والے کے لئے کوئی دقت نہیں راستے آسان اور رکاوٹیں دور ہوجاتی ہیں۔ اور جلد ایک وقت آتا ہے وہ خود بڑے کا کردار ادا کر رہا ہوتا ہے اور اسے معلوم بھی نہیں پڑتا اب اپنے محسنوں کو یاد کر کے دوسروں کی راہیں بھی آسان کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کچھ ایسے بھی ہوتے جنہیں یہ سب فضول مشق لگتی ہے یا پھر یہ خیال ہوتا ہے کہ کوئی اس کی بات کو وزن نہیں دے گا۔ ایسا نہیں ہوتا کسی کا بھلا سوچنے پر اچھا ردعمل ہی ملتا ہے یہ بڑے کا کردار کبھی زیادہ ادا کرنے پر مسئلہ ہوتا ہے کیونکہ توازن بے حد ضروری ہے۔ آج کے مسائل بڑے کی بات نظر انداز کرنے کے باعث زیادہ بگڑ رہے ہیں۔ کیونکہ ہم اکثر کسی کو بڑا سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔


