کیا آپ ذہنی اور جسمانی صحت کے تعلق سے واقف ہیں؟


جب ہم اپنی یا اپنے گھر کے افراد خاص طور پر بچوں کی صحت کے بارے میں فکر مند ہوتے ہیں تو ہمیں پہلے مائنڈ باڈی ریلشن شپ کو سمجھنے کے لئے اس کے بارے میں بنیادی شعور ، آگاہی اور اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ دماغ اور جسم اگر الگ الگ وجود بھی رکھتے ہیں پھر بھی جسم اور برین جو جسم کی حیثیت رکھتا ہے اس کے کیمیاوی اور حیاتیاتی عوامل اور فعلیات انسان کی نفسیاتی حالتوں پر یعنی مائنڈ اور اس کی کارکردگی پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ یعنی جسمانی صحت انسان کی ذہنی صحت پر اثر انداز ہوتی ہے اور کئی صورتوں میں ذہنی بیماریوں کی وجہ بن سکتی ہے ۔ اسی لئیے کہا جاتا ہے کہ "صحتمند جسم صحتمند دماغ کی ضمانت ہے”
“Healthy Body , Healthy Mind”
اسی طرح صورتحال معکوس بھی ہو سکتی ہے کہ ہمارے ذہن کے اعمال ، افعال اور بیماریاں ہمیں جسمانی طور پر بھی بیمار کر سکتی ہیں ۔
آئیے پہلے بچوں کے مائنڈ باڈی ریلیشن شپ کو سمجھتے ہیں ۔
ہم اس مضمون کو آسان طریقے سے سمجھنے کے لئے والدین کی غلطیوں کی نشاندہی کریں گے جن کی وجہ سے مائنڈ باڈی ریلیشن شپ کا معاملہ کنفیوژن کا شکار ہوتا ہے ۔
آج کے شعور رکھنے والے معاشرے اور والدین اب ذہنی صحت کی آگاہی کو شدت پسندی سے اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ جسمانی صحت سے زیادہ ذہنی صحت کے حقیقی اور غیر حقیقی خدشات میں گھرے رہتے ہیں اور سب کچھ بھول کر ذہنی علاج کے لئے اپنے ہی خدشات کے مفروضے گھڑ کر نفسیاتی معالجین کی شاپنگ میں لگے رہتے ہیں ۔.
یہاں تین بنیادی غلطیوں کا ذکر کرنا ضروری ہے:
1۔. مائنڈ باڈی ریلیشن شپ کا نہ سمجھنا ۔
2۔ پٹنگ دا کارٹ بی فور ہارس۔
3۔ فوک وزڈم سے مدد نہ لینا

ان تین غلطیوں کو سمجھنا مشکل نہیں ۔ صرف اس بات کو تسلیم کرنا ہے کہ جسمانی تکالیف اور بیماریاں کسی بچے کی ذہنی بیماریوں کی وجہ بن کر مختلف بیمار کرداروں ، رویّوں، ذہنی مسائل اور علامتوں کی صورت میں ظاہر ہوسکتی ہیں ۔
چونکہ یہ علامتیں بہت خفیف طور پر یعنی (Subtle) طور پر کار فرما ہوتی ہیں اور والدین یا تو اپنی کم علمی ، حکمت اور دانائی سے تصب یا ڈینائل کی وجہ سے ان کو شناخت نہیں کرپاتے ۔ اور اسی غلطی کی بنیاد پر جو مسائل پہلے دیکھنے چاہئیں وہ بعد پر چھوڑ دیتے ہیں یعنی Putting the Cart before Horse والی غلطی کے مرتکب ہوتے ہیں ۔
جسم اور دماغ کے حیاتیاتی اور کیمیاوی وجود اور ذہنی اعمال و افعال بلا شبہ ایک دوسرے سے منسلک ہیں لیکن ہمیں ان سے جڑے مسائل کی تشخیص کے لئے درست سمت کا تعین کرنا ہوگا یعنی بہت باریکی اور سرعت کے ساتھ دیکھنا ہوگا کہ کسی بچے کو اگر کوئی جسمانی مسئلہ ہے تو اس کی وجہ کوئ ذہنی حالت اور بیماری بھی ہو سکتی ہے یا اگر کوئی نفسیاتی یا ذہنی مرض ہے تو اس کی وجہ اس کی عمومی جسمانی صحت ، یا خاص طور پر کو ئی نیورولوجیکل یا بائیولوجیکل وجہ بھی ہو سکتی ہے اور ہو سکتا ہے کہ دونوں وجوہات بہ یک وقت کار فرما ہوں ۔
بچوں کے نفسیاتی ، ذہنی اور کرداری مسائل کی فہرست طویل ہے ۔ مثلا اینزائٹی ، ڈپریشن، نیند کی کمی ، رات کو سوتے میں ڈرنا اور رونا ، ارتکاز توجہ کے مسائل یعنی (ADHD) ، ٹیمپر ٹینٹرم ، سکول میں دوسروں کو نقصان پہنچانے والے مسائل مثلا دوسرے بچوں کو مارنا ، اشیا کی توڑ پھوڑ ،کہنا نہ ماننا ، دھونس جمانا ، سکول جانے سے انکار ، بد تمیزی کرنا اور دیگر کنڈکٹ ڈس آرڈرز وغیرہ ۔
جب بچے میں ان تمام مسائل کی ہلکی یا شدید علامات ظاہر ہوں تو والدین کو مائنڈ باڈی ریلیشن شپ تھیوری کو ذہن میں لاتے ہوئے سب سے پہلے بچے کی جسمانی ضروریات ، تکالیف اور بیماریوں پر نظر ڈالنی ہو گی ۔ مثلا
کیا بچے کی عام صحت اچھی ہے اور وہ بار بار انفیکشن ، وائرس ، الرجی ، نزلہ زکام کا شکار تو نہیں ہوتا ۔ اگر ایسا ہے تو اس کی تعلیمی کار کردگیوں اور ذہنی صحت سے پہلے اور متوازی طور پر اس کے جسمانی امراض کے علاج پر توجہ دینی چاہئیے ۔ اور اس کے مکمل طبی معائنے کروانے چاہئیں ۔ لیکن بہت مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ طبی معائنوں کی ٹیسٹ رپورٹس درست ہوتی ہیں اور ڈاکٹر بچے کو صحتمند قرار دیتے ہیں اور والدین مطمئن ہوجاتے ہیں ۔ لیکن بچہ مسلسل نفسیاتی مسائل اور کرداری مسائل کی شکایتیں لے کر گھر آتا ہے اور یہیں سے ذہنی بیماریوں کی غلط تشخیص اور ٹامک ٹوئیاں بچے کی ذہنی اور جسمانی صحت کے لئے مزید خطرہ بن جاتی ہیں۔ یہاں والدین کو اپنے بچے کو منفرد سمجھتےہوئے بہت باریک بینی سے اس کے جسم اور ذہن کے تعلق کا مشاہدہ کرنا ہو گا۔
ریسرچز بتاتی ہیں کہ:
وہ بچے جن کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے اور وہ سارا سال نزلہ زکام میں مبتلا رہتے ہیں ۔ بظاہر بھاگتے دوڑتے ہیں مگر وہ تھکاوٹ اور ہلکے بخار کی ٹوٹ پھوٹ میں مبتلا رہتے ہیں جو وہ بتا نہیں سکتے اور نہ ہی یہ بخار تھرما میٹر پر ظاہر ہوتا ہے ۔ مگر اس کا اظہار گھر اور سکول میں چڑچڑا پن ، غصہ ، ٹیمپر ٹینٹرم ، عدم برداشت ، ضد ، ڈھیٹ پن ، مار پیٹ اور ارتکاز توجہ یعنی اے ڈی ایچ ڈی کے کردار اور جوں جوں بچہ بڑا ہوتا جاتا ہے ڈپریشن بھی شامل تشخیص ہو جاتا ہے ۔ ایسے بچوں کے والدین اپنے ناقص علم یا ڈینائل کی وجہ سے بچے کی جسمانی صحت کے مسائل کو نظر انداز کرتے جاتے ہیں اور یوں جسم اور ذہن دونوں بیمار پڑ جاتے ہیں ۔
بچے کے جسمانی آرام ، نیند اور خوراک کا بھی پہلے جسم اور پھر ذہن پر اثر پڑتا ہے۔
والدین کو فوک وزڈم سے بھی کام لینا ہوگا اوردیکھنا ہوگا کہ وہ کونسے پھل اورخوراک ہیں جو بچے کی الرجی کے امراض کو بڑھاتے ہیں اور الرجی بڑھانے والی خوراک بچے کے جسم اور ذہن میں بے چینی پیدا کرکے اس کے جسم اور دماغ کو بھی متاثر کرتی ہے ۔ یہاں والدین کو یہ سمجھنا چاہئے کہ جس طرح ہر انسان یونیک ہے اسی طرح ہر خوراک جو ڈاکٹر بھی منظور کر دے مگر ہو سکتا ہے کہ آپ کے یونیک بچے کے لئے مضر ہو ۔ لہذا یہاں خاندانی ہسٹری کو بھی مد نظر رکھنا چاہئے کہ اگر کسی خاندان میں کوئی بھی گاۓ کا گوشت اور سٹرک فروٹ نہیں کھا سکتا تو آپ کا بچہ بھی شاید ان کو کھانے سے بیمارہو جائے لیکن آپ کا شعوری اصرار ، فوک وزڈم سے تعصب یا نادانی بچے کو بیمار کرکے اس کی ذہنی صحت کو بھی داو پر لگا رہے ہیں۔
پیٹ بھر کر ناشتہ ، ٹھوس سنیکس اور دودھ ، اور دیگر متوازن خوراک کے بجاۓ محض وٹامن اور پروٹین کے سپلیمینٹ پر آرٹیفشل طریقے سے بچے کی غذائی ضروریات پورا کرنا بھی اس کی ذہنی صحت کے مسائل پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔
اکثر بچے رات کو سوتے نہیں ہیں ۔ ان کے لئے بہت چھوٹی عمر میں نیند آور ادویات کا استعمال اور ان کے سائیڈ ایفیکٹس کی وجہ سے شدید جسمانی اور ذہنی و کرداری مسائل میں اضافے مستقل روگ کا باعث بن سکتے ہیں ۔
اسی طرح رونے کا عمل خالصتا جسمانی ہے لیکن اس کی وجوہات جسمانی تکلیف بھی ہو سکتی ہے اور ذہنی حالت بھی ۔ اگر بچہ رو رہا ہے تو ہو سکتا ہے کہ اس کے جسم میں درد ہو اور آپ کے پوچھنے پر وہ کہہ بھی دے کہ نہیں درد نہیں ہو رہا اور آپ اسے اس کے اس بیان پر اسے زبردستی تھکاوٹ والے جسمانی کاموں پر لگا دیں ۔ ڈاکٹری رپورٹیں بیشتر اوقات اس تھکاوٹ کو شناخت نہیں کر سکتیں اور یہ خالصتا سبجیکٹیو ہو سکتا ہے جسے صرف والدین ہی ہوشیاری کے ساتھ کھوج سکتے ہیں۔
تھکاوٹ ایک سبجیکٹو معاملہ ہے جو بچے میں ہیجانی سٹریس اور جذباتی مسائل کا باعث ہو سکتی ہے
دوسری طرف رونے کی وجہ نفسیاتی بھی ہو سکتی ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ بچے کو کوئ نفسیاتی معاملہ تنگ کر رہا ہے مثلا والدین کی جدائ کا خوف ، گھر میں کسی ایک والدین کے بے جا ڈسپلن اور اٹھنے بیٹھنے ، ملنے جلنے اور ہنسنے کھیلنے بولنے اور فطری طریقے سے خوش ہونے پر پابندیاں اور بہت چھوٹی عمر میں تربیت کے بہت سے سٹرکچرڈ پروگرام اور دن بھر کی طویل تھکا دینے والی روٹین ، والدین کے ٹھونسے ہوۓ کامیابیوں کے اہداف اس کی جسمانی استطاعت سے بڑھ کر ہوں اور بچہ والدین کے ان عظیم مقاصد کو پورا نہ کرنے کے نتائج سے خوف زدہ ہو کر سٹریس ، اینزائٹی اور پھر ڈپریشن میں مبتلا ہو ۔ اور ان مسائل کے نتیجے جوابی کاروائی کے طور پر اس کو دوبارہ جسمانی امراض لاحق ہو جائیں ۔
ایسی صورت میں نفسیاتی امراض کنورژن ری ایکشن کے طور پر جسمانی امراض میں بدل جاتے ہیں۔ انزائٹی ڈس آرڈرز اور نیوروسس اسی کیٹیگری میں شامل ہیں ۔ جس میں دمہ ، السر تھکاوٹ ، سٹریس کی وجہ سے امیون سسٹم کا کمزور ہونا اور الرجی کے امراض ہیں اور مائنڈ باڈی ریلیشن شپ کا سائیکل کاز اینڈ ایفیکٹ کے انداز میں چلتا رہتا ہے ۔

لہذا والدین کو اپنے بچوں کی فلاح کے لئے مائنڈ باڈی ریلیشن شپ کو لازمی سمجھنا ہوگا ۔ اور دونوں والدین کو ایک پیج پر ہونے کی ضرورت ہے ۔ ورنہ ان کا بچہ ان کی انا کی بھینٹ چڑھ سکتا ہے ۔ اکثر دونوں والدین میں سے ایک کی رائے یہ ہوتی ہے کہ بچے کو کوئ جسمانی تکلیف ہے جبکہ دوسرے کی رائے میں یہ نفسیاتی مسئلہ ہے جس کے لئے سائیکیاٹرسٹ کی ادویات استعمال کرنا ضروری ہے ۔
جبکہ دانائ اور شعور کا تقاضہ ہے کہ صحت کے دونوں پہلووں پر بلا تعصب غور کرنا ضروری ہے.

Facebook Comments HS