جاگتی آنکھوں کا خواب: نواں حصہ
اسلام کی چوتھی بڑی مسجد، مسجد کوفہ
سلام کر کے واپس باہر آ کر وہیل چئیر شکریے کے ساتھ واپس کی۔ اتنے میں جنازہ اٹھائے ہوئے لوگ نظر آئے۔ پتہ چلا کہ کوئی فوت ہو جائے تو تدفین سے پہلے اسے یہاں لے کر آتے ہیں۔ پھر باہر نکلتے ہوئے اس شاندار مسجد کو نظروں میں سمونے کی کوشش کی۔ باہر گاڑی میں آ کر بیٹھے اور اب ہمارا رخ مسجد کوفہ کی جانب تھا۔ کوفہ عراق کے جنوب میں نجف اشرف سے 10 کلومیٹر دور شمال مشرق میں واقع ہے۔ یہ دریائے فرات کے کنارے معتدل آب و ہوا اور سرسبز و شاداب شہر ہے۔
روایات میں ہے کہ طوفان نوح کا آغاز اسی شہر سے ہوا۔ اس کے آغاز سے ہی متعدد انبیاء الٰہی، پیغمبرِ اسلام، امیر المؤمنین علی علیہ السلام، حسینؓ اور بعض دوسرے آئمہ اس مسجد میں حاضر ہوئے ہیں۔
امام علی علیہ السلام یہاں آئے تو اس مسجد کی اہمیت میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے بارہا اس مسجد میں خطبے دیے۔ بعض امور کے فیصلے کیے اور اسی مسجد کی محراب میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔
یہ چوتھی بڑی مسجد ہے۔ اس کی فضیلت اور بعض روایات میں ہے کہ یہ جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا اللہ نے تمہاری اس مسجد گاہ کو فضیلت بخشی۔ یہ ( مسجد کوفہ ) آدم کا گھر، نوح کا مقام، ادریس کی منزل، میرے بھائی خضر کا مصلی اور میری نماز گاہ ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ روزِ قیامت یہ دو سفید کپڑوں میں میدان محشر میں شفاعت کرے گی، ان لوگوں کی جنہوں نے اس میں نماز پڑھی ہے۔
کوفہ علمی و ثقافتی مرکز رہا ہے۔ امام علی کوفہ آئے تو مقیم ہونے کے بعد مسجد کوفہ میں علوم کی تدریس کیا کرتے تھے۔ عبداللہ بن عباس اور کمیل بن زیاد نے آپ سے فیض حاصل کیا جن کی دعائے کمیل شبِ جمعہ میں پڑھی جاتی ہے۔
یہ پہلا مقام ہے جہاں اللہ کی عبادت و بندگی کی گئی۔ آدم کی تخلیق سے پہلے فرشتوں کی سجدہ گاہ یہی زمین تھی۔ آدم علیہ السلام کو فرشتوں نے یہاں سجدہ کیا۔ بعض روایات کے مطابق آدم علیہ السلام نے مسجد کوفہ کی بنیاد رکھی اور اسے وسیع رقبے پر تعمیر کیا۔ طوفانِ نوح کے بعد حضرت نوح نے اس کی تعمیرِ نو کی۔ صاحب نہج البلاغہ نے فرمایا کہ اگر لوگ اس کی فضیلت کو جان پاتے تو دنیا کے گوشے گوشے سے چل کر یہاں آتے۔
نجف اور کوفہ کی تاریخ دل چسپ حقائق پر مبنی ہے۔ 17 ہجری قمری میں لشکر اسلام مدائن میں موجود تھا مگر سپاہیوں کو وہاں کی آب و ہوا راس نہ آئی اور وہ بیمار رہنے لگے۔ بیماری کی اطلاع پا کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سعید بن وقاص کو لکھا کہ مناسب زمین تلاش کی جائے۔ انہوں نے سلمان فارسی اور حذیفہ کو روانہ کیا۔ سلمان فارسی دریائے فرات کے مغربی ساحل پر اور حذیفہ مشرقی کنارے پر تلاش کے لئے پہنچے۔ دو دو رکعت نفل پڑھ کر دعا کی اور اس جگہ آ کر مل گئے۔ اس جگہ پھر لشکری آباد ہوئے۔ اس جگہ تین سو ستر پیغمبر اور اولیا مدفون ہیں۔ یہ مقامِ صورِ اسرافیل ہے۔ اسرافیل کے صور پھونکنے پر مردے زندہ ہوں گے۔ مسجد کوفہ میں بیٹھنا بھی عبادت ہے۔
مسجد کوفہ میں داخل ہوئے تو ایک وسیع و عریض، کشادہ اور شاندار مسجد نے دل موہ لیا۔ عائشہ اکثر مسجد کوفہ کی ویڈیو اور تصاویر واٹس ایپ کر کے آتشِ شوق کو بھڑکاتی اور آج اللہ کے فضل وکرم سے مسجد کوفہ میں قدم رکھا تو لگا کہ
شنیدہ کہ مانند بود دیدہ
یہاں بھی جگہ جگہ زائرین مردوزن بچوں سمیت باہر صحن اور برآمدوں میں ہر جگہ موجود تھے۔ سب سے زیادہ ہجوم اس جگہ تھا جہاں کنواں تھا۔ لوگ یہاں گلاس بھر بھر کے پانی پی رہے تھے۔ ہم نے بھی پانی کا گلاس پیا اور سب کے لئے دعائیں مانگیں۔
ایک روایت کے مطابق کنویں کی جگہ نوح علیہ السلام کا گھر تھا۔ مجھے سورہ نوح کی آیات اور قرآن کا تمثیلی انداز یاد آ گیا۔ نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سو سال اپنی قوم کو راہِ راست پر لانے کے لئے تبلیغ کی۔ جب کہ اس نافرمان قوم کا یہ حال تھا کہ کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے اور ٹھٹھا اڑاتے۔ ان کی ہٹ دھرمی دیکھ کر عذاب کا حکم آ گیا کہ سب کو غرقِ آب کر دیا جائے۔ صرف وہی لوگ بچ پائیں گے جو کشتیِ نوح میں سوار ہوں گے۔ نوح علیہ السلام جب کشتی بنا رہے تھے تو لوگ پھر طعن و تشنیع کے تیر چلاتے ہوئے گزر جاتے کہ بھلا خشکی پر کشتی کا کیا کام!
عذاب آنے کی نشانی یہ تھی کہ گھر کے تنور سے پانی ابلنے لگے گا۔
ہم نے پانی پیا اور دعائیں مانگ کر آگے بڑھے تو سفید عروسی لباس پہنے کم سن دلہن نظر آئی۔ دلہا بھی کم عمر سا تھا اور رشتے دار خواتین دونوں کو دیکھ کر خوشی سے نہال ہو رہی تھیں۔ لڑکے کو ترغیب دلا رہی تھیں کہ وہ دلہن کو چاکلیٹ کھلائے۔ یہ منظر ایسا دلربا تھا کہ چلتے چلتے ہم سب رک گئے۔ ان دونوں کا کچھ دیر پہلے ہی نکاح ہوا تھا۔
ابھی تھوڑی دیر پہلے ہم نے ایک جنازہ دیکھا تھا جسے ابدی زندگی کے آغاز سے پہلے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مزارِ مقدس پر لایا گیا تھا اور اب عقد نکاح میں بندھنے والا یہ کم سن جوڑا نئی زندگی کی شروعات اسی مسجد سے کر رہا تھا جس میں بغیر عبادت کے بیٹھنا بھی باعثِ ثواب ہے۔
ہم کچھ اور آگے گئے تو حیدر وہیل چئیر لے آیا کہ مسجد بہت بڑی ہے آپ چل نہیں پائیں گی۔ عائشہ نے بھی تائید کی، امی بہت بڑی مسجد ہے تھک جائیں گی۔ تو ایک بار پھر بیٹھنا ہی پڑا۔ اللہ خوش رکھے۔ حیدر اور ڈرائیور قادر مستعد کھڑے ہوتے تھے۔ فوراً میری وہیل چئیر پکڑ کر چلنا شروع کر دیتے۔ ساتھ ساتھ معلومات بھی بہم پہنچاتے جاتے۔ مجھے سکون سے آس پاس دیکھنے، شاندار چھتیں، آرائشی بیل بوٹے، بتیاں اور بہت بڑے بڑے کرسٹل کے فانوس دیکھنے کا موقع مل جاتا۔ ساتھ ساتھ سب پیاروں، دوست و احباب کے لئے دعائیں بھی مانگتی جاتیں کہ جالیوں کے پاس پہنچ کر تو دنیاوی دعائیں بھول بھول جاتیں اور بے اختیار علم و عمل اور دائمی زندگی کی دعائیں لبوں پر آ جاتیں۔
ہم کنویں سے گزر کر آگے آئے تو جگہ جگہ سنگ مرمر کے کتبے لگے ہوئے تھے اور ان پر لکھا ہوا تھا کہ کس پیغمبر کی یادگار ہے۔ مقام آدم، مقام جبرائیل۔ وغیرہ
جن جگہوں کی نشان دہی کی گئی تھی، وہاں ہم سب نے نفل پڑھے۔ دعائیں مانگیں اور اللہ کے شکر گزار ہوئے کہ اس اہم ترین مسجد تک آنا نصیب ہوا۔ اسلام کی چوتھی بڑی مسجد اور مسجد کے صحن ہی میں سنگ مرمر کا گول ستون سا کھڑا تھا۔ قریب جا کر دیکھا تو یہ دھوپ گھڑی تھی۔ ساتھ ہی سٹینڈ پر لکھا تھا۔ Sundial ساعتہ شمسیہ
یہ ایک نئی چیز تھی۔ پہلے لوگ دھوپ اور گھٹتے بڑھتے سایوں سے وقت اور نماز کا تعین کرتے۔ ہم نے اہم مقام پر نوافل پڑھے۔ مسجد کوفہ کی اہمیت اور فضیلت میں پہلے بیان کرچکی ہوں۔
اسی زمین پر اسرافیل صور پھونکیں گے۔ واہ گویا آغاز و انجام کی یہی جگہ ہے۔ اس لئے امام جعفر صادق فرماتے ہیں کہ لوگ اس کی فضیلت جان لیں تو دنیا کے کونے کونے سے دوڑے چلے آئیں۔ نجف و کوفہ کی زمین حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ زمین خریدنا، بعد ازاں قمری جری میں حضرت عمرؓ کا یہاں لشکر اسلام کو بسانا، پھر صاحب نہج البلاغہ کا اس زمین کو خریدنا، اسے پسند کرنا، اسے دارالحکومت بنانا، اس زمین میں دفن ہونے کی خواہش کرنا اور یہ بشارت دینا کہ یہاں سے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کتاب جنت میں جائیں گے۔ مجھے اس کے بارے میں پڑھی ہوئی ساری باتیں یاد آئیں۔ چپے چپے پر حضرت آدم، نوح، خضر، جبرائیل، اسرافیل اور سب سے بڑھ کر خاتم النبین کی یاد گار دیکھی۔ یہاں ہونے، یہ سب دیکھنے کا موقع ملنے پر سراپا سپاس ہوئی۔
پھر مجھے افسوس ہوا کہ ہم سنی لوگ عمرہ کرنے تو چلے جاتے ہیں مگر ان تمام برگزیدہ مبارک مقامات کی اہمیت اور فضیلت سے بے خبر ہیں۔ یا اگر جانتے بھی ہیں تو اسے اہلِ تشیع کے ساتھ خاص سمجھتے ہیں۔ ان ہی سوچوں میں غلطاں و پیچاں آگے بڑھے اور واقعہ کربلا کے پہلے شہید کی زیارت کی۔ مسلم بن عقیل امام حسین رضی اللہ عنہ کے چچا زاد بھائی تھے۔ جنہیں امام حسین نے صورتِ حال معلوم کرنے کے لئے کوفہ بھیجا۔ وہاں تیس ہزار لوگوں نے آپ کی بیعت کی۔
یزید نے ابن زیاد کو گورنر مقرر کیا اور مسلم بن عقیل کا سر قلم کرنے کا حکم دیا۔ مسلم بن عقیل نے صحابی رسول ہانی بن عروہ کے گھر پناہ لے لی۔ پناہ دینے کے جرم کی پاداش میں ہانی بن عروہ کو گرفتار کر لیا گیا اور ان کا سر قلم کر کے لٹکا دیا گیا۔ اس کے کچھ دنوں بعد مسلم بن عقیل کو گڑھے میں گرا کر قید کرنے کے بعد ابن زیاد کے سامنے پیش کیا گیا۔
مسلم کو ابن زیاد کے سامنے پیش کیا گیا تو اس نے انہیں سزا دی کہ انہیں کوفہ کے دار الامارۃ کی چھت سے گرا دیا جائے۔ مسلم بن عقیل نے شہادت سے پہلے چند وصیتیں کیں جس کے بعد ان کو چھت سے گرا کر شہید کر دیا گیا۔ یہ واقعہ 9 ذوالحج 60 ہجری کا ہے۔ شہید ہونے کے بعد ان کا سر کاٹ دیا گیا اور اسے یزید کو دمشق بھجوا دیا گیا اور جسم کو کوفہ کے قصابوں کے بازار میں دار پر لٹکا دیا گیا تا کہ کوفہ کے لوگ اب بنو ہاشم کی حمایت نہ کریں۔ تیس ہزار بیعت کرنے والے لوگوں نے خوف اور مصلحت سے چپ سادھ لی۔ ان کے دل امام حسین کے ساتھ اور تلواریں ابن زیاد کے ساتھ تھیں۔
بقول امام زین العابدین سانحہ کربلا سے زیادہ کوفہ والوں کی خاموشی نے دکھ اور تکلیف دی۔
کوفہ والوں کی بے وفائی استعارہ بن گئی اور آج امتِ مسلمہ کی مصلحت پسندی، امریکہ نوازی اور مجرمانہ خاموشی کو دیکھ کر اہلِ کوفہ کی یاد آتی ہے۔ آج کے دور کی منافقت اور مصلحت پسندی کے آگے تو کوفی بھی شرما جائیں۔ ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے کہ ہم کوفی ہیں یا حسینی۔
(جاری ہے )


