تلاش حق سے سفیر حق تک


تقریباً دس سال پہلے راقم کو مہاتما گاندھی جی کی مشہور زمانہ تصنیف یا خود نوشت ”تلاش حق“ کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔ تلاش حق تقسیم یا آزادی ہند، جنوبی افریقہ میں نسل پرستانہ قوانین کے نفاذ کے خلاف تحریک، برٹش انڈیا میں برپاء ہونے والی کسان تحریکوں، تحریک خلافت اور عوامی و فوجی بغاوتوں وغیرہ کے تناظر میں لکھی جانے والی نہایت عمدہ کتاب ہے جس میں سیاسی و سماجی تبدیلی کے طالب علموں کی تعلیم و تربیت اور رہنمائی کے لیے بیشمار مواد موجود ہے۔ ہمارے جیسے تمام طلباء کو اس کتاب کو مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔

اب عرصہ بعد محترم اور دیرینہ دوست جناب مقصود گوہر صاحب کی تحریر کردہ کتاب بعنوان سفیر حق ایک مشترکہ دوست کے ذریعہ اس نوٹ یا حکم کے ساتھ موصول ہوئی کہ بغور مطالعہ کے بعد کتاب پر آراء بھی درکار ہے۔ یہ راقم کی خوش قسمتی ہے کہ کسی دوست نے ہمیں کسی کتاب پر آراء رکھنے کے قابل سمجھا۔ لہذا حکم کی تعمیل کا پہلا مرحلہ یعنی بغور مطالعہ فوری طور پر شروع کر دیا گیا۔ سفیر حق جناب اشتیاق چوہدری ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کی قانونی، سیاسی و سماجی تبدیلی اور انسانی حقوق کے حصول کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ ان کے ذاتی اور خاندانی معاملات کا تفصیلی بیان ناصرف کرتی ہے بلکہ ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں اور سیاسی و سماجی تجربات و واقعات کا نچوڑ بھی ادبی چاشنی کے ساتھ ترتیب سے کرتی جاتی ہے۔

ہم جیسے جیسے کتاب میں آگے بڑھتے گئے ویسے ہی اسی میں کھوتے چلے گئے اور ساتھ ہی گاندھی جی کی کتاب تلاش حق کے بھولے ہوئے اسباق بھی یاد آنے شروع ہو گئے۔ دو مختلف پس مناظر و ادوار میں لکھی جانے والی دو مختلف کتابوں میں حیرت انگیز طور پر کچھ باتیں خاصی مشترک ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ راہ حق کے تمام مسافروں کا راستہ ایک جیسا ہی ہوتا ہو۔ مثال کے طور پر گاندھی جی بھی ایک وکیل تھے موکل سے فیس لینی ہی نہیں یا برائے نام لے لینی ہے۔

انسان دوست فکر کے ساتھ انسانی حقوق کی مختلف تحریکوں کا حصہ رہے اور پھر اسی راستے پر چلنے کی پاداشت میں گولی کا شکار بھی ہوئے۔ ہمارے دوست اشتیاق چوہدری کا راستہ بھی بالکل ویسا ہی ہے۔ گاندھی جی پر قاتلانہ حملہ ان کی آخری عمر میں ہوا تھا لیکن موصوف بھر پور جوانی میں ہی ایک مہلک قاتلانہ حملے کا سامنا کر چکے ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں خیرو عافیت سے رکھے اور عمر دراز عطا فرمائے۔

روایتی طور پر کتب کسی خاص مضمون و عنوان کے احاطے میں ہی لکھی جاتی ہیں اس لیے ان کا ایک ایک لفظ اور سطر کو خوب تول کر اور توازن سے لکھا جاتا ہے خواہ انہیں سو بار ایڈٹ ہی کیوں نہ کرنا پڑ جائے۔ تلاش حق اور سفیر حق جیسی کتابیں چونکہ ایک رواں اور عام پیرائے میں لکھی جاتی ہیں اس لیے بظاہر کسی سادہ لفظ، سطر یا جملے کے انتہائی گہرے مطالب اور اثرات ہو سکتے ہیں۔

سفیر حق قاری کو ملکی سیاست کی مختلف وادیوں کی عملی یا چشم دید روداد بتاتی ہے۔ ہمارا خیال میں اس کتاب کا ایک ایک لفظ عمل کی کسوٹی میں سے ہو کر نکلا ہے اور اس میں کوئی تصوراتی بات کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ اس کتاب میں ایک سیاسی جماعت کی ابتداء اور عروج و زوال کا تفصیلی احوال بھی ملتا ہے، حکمران ٹولوں کی سازشیں، ملکی معاشی، سماجی اور سیاسی صورتحال، مختلف انسانی حقوق کی تحریکوں، مزدور یونینز کے مسائل اور حقوق، ججز اور وکلاء حضرات کے رویے، سیاسی کارکنان اور لیڈران کے سوچنے سمجھنے کے انداز، قانونی کیس کی تیاری اور کامیابی کے عوامل پر سیر حاصل مواد موجود ہے۔

سفیر حق کے مکمل مطالعہ کے بعد محسوس ہوا کے اس پر آراء دینے کا معاملہ اب مصنف اور راقم کا باہمی معاملہ نہیں رہا اور کوشش ہے اس خوبصورت تخلیق کا تعارف ہمارے باقی کے احباب اور قارئین تک ضرور پہنچے۔ کہا جاتا ہے کہ حق تو یہ ہے کہ حق اداء نہ ہوا ہم کس قدر اس تصنیف کار تعارف لکھ سکے اس کا فیصلہ ہم قارئین پر ادھار رکھتے ہیں۔ ہماری تمام دوستوں اور خاص طور پر جو سماجی تبدیلی کے طالب علم ہیں ان سے استدعاء ہے کہ وہ کچھ وقت نکال کر اس کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔

ہر خار راہ دشت وطن کا ہے سوالی
کب دیکھیے آتا ہے کوئی آبلہ پاء کوئی اور

Facebook Comments HS