کھیل کے میدان میں جگ ہنسائی
ملک عزیز میں موجودہ سیاسی، سماجی، معاشرتی، مذہبی انتہا پسندی، اقتصادی تنزلی اور گراوٹ کا سفر گزشتہ کئی سالوں سے جاری و ساری ہے۔ جس کے مستقبل قریب میں تھمنے کے کوئی اثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔ بدقسمتی سے اس بحران نے اب مزید اگے بڑھ کر کھیل کے شعبے کو بھی اپنی آہنی گرفت میں لے لیا ہے۔
اگرچہ حالیہ دنوں میں پاکستانی کرکٹ ٹیم نے ایک روزہ میچوں کے فارمیٹ میں نمبر ایک پوزیشن حاصل کر لی تھی جس نے تنزلی اور مایوسی کی شکار عوام میں خوشی اور امید کی ایک نئی لہر دوڑا دی تھی۔ لیکن ملکی مزاج جو کہ ہمیشہ سے غیر یقینی اور نہ ہموار کارکردگی پر مبنی ہے کہ عین مطابق پاکستانی ٹیم نے یہ اعزاز محض ایک ماہ میں ہندوستانی ٹیم کے ہاتھوں اس وقت گنوا دیا جب اسے ایشیا کپ کے پول میچ میں بھارت سے 228 رنز کی بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کی ناقص کارکردگی اس وقت مزید کھل کر سامنے آئی جب اسے سری لنکا کی کمزور ٹیم نے شکست کی ہزیمت سے دوچار کر کے فائنل کی دوڑ سے باہر کر دیا۔ بعد ازاں بھارتی کرکٹ ٹیم نے فائنل میچ میں سری لنکا کو با آسانی شکست دے کر ایشیا کپ کا تاج ایک بار پھر اپنے سر پر سجا لیا۔
پاکستان کی کھیل کے میدان میں بدترین اور ناقص کارکردگی کا نقطہ عروج 30 ستمبر 2023 کو دیکھنے میں آیا جب اسے چین میں جاری ایشیائی کھیلوں میں اپنے روایتی حریف بھارت سے سکواش، ٹینس اور ہاکی کے مقابلوں میں پے در پے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ جو کہ لاکھوں بلکہ کروڑوں پاکستانیوں کے لیے انتہائی دکھ اور صدمے کا باعث تھا۔ قارئین کرام کھیل کے میدان میں فتح اور شکست ایک معمول کی بات ہے لیکن جس بھونڈے اور ناقص انداز میں شکست پاکستان کا مقدر بنی اس نے پاکستان میں جاری شکست و ریخت اور زندگی کے ہر شعبے میں جاری تنزلی کے عمل کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔
صاحب مضمون کے لیے یہ بات انتہائی تکلیف دہ اور ناقابل یقین تھی کہ سکواش کے کھیل میں جس میں پاکستان کو ہمیشہ سے بھارت پر مکمل برتری حاصل تھی اخر کیوں کر مردوں کے ٹیم مقابلوں میں بھارت سے شکست کھا گیا۔ یہ وہی پاکستان ہے جس نے سکواش کے کھیل کو انتہائی بے سروسامانی کی حالت میں بھی ہاشم خان، اعظم خان، قمر زمان، جہانگیر خان اور جان شیر خان جیسے عالمی چیمپین دیے تھے آج بھارت جیسی ٹیم سے شکست کھا بیٹھا ہے۔ یہاں یہ بات لکھنا ضروری ہے کہ پاکستان سکواش فیڈریشن جس کی سربراہی ہمیشہ سے حاضر سروس چیف اف ائر سٹاف کے پاس رہی ہے اخر کیوں کر ملک میں سکواش کے کھیل میں بہتری اور ترقی لانے میں مکمل ناکام رہی ہے۔
پاکستان کی دوسری ناکامی ٹینس کے مکسڈ ڈبل میچ میں دیکھنے کو آئی جب 43 سالہ عقیل خان اور ان کی ساتھی سارہ خان پر مشتمل جوڑی کو بھارتی جوڑی نے ایک انتہائی یک طرفہ میچ میں 6۔ 0 اور 6۔ 0 سے بدترین شکست دی۔ قارئین کرام ٹینس کا شمار دنیا کے مقبول ترین کھیلوں میں ہوتا ہے اور یہ زیادہ دیر کی بات نہیں جب پاکستان کا شمار اچھے ٹینس کھیلنے والے ممالک میں ہوتا تھا۔ لیکن آج اس کھیل سے بے توجہی کا یہ عالم ہے کہ پاکستان کی نمائندگی ایک 43 سال کا معمر کھلاڑی جو کہ اس عمر میں بھی قومی چیمپین ہے کر رہا تھا۔ درحقیقت یہ تمام تر صورتحال ایک ناقص منصوبہ بندی اور ٹینس فیڈریشن کے نئے ٹیلنٹ کو تلاش اور ضروری تربیت دینے میں مکمل ناکامی کو ظاہر کر رہی ہے۔
کھیل کے میدان میں پاکستان کی پسپائی اور رسوائی کا نقطہ عروج اس وقت دیکھنے کو آیا جب بھارتی ہاکی ٹیم نے پاکستانی ٹیم کو دو کے مقابلے میں 10 گول کے بڑے فرق سے شکست دے دی جو کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان آج تک کھیلے جانے والے میچوں میں شکست کا سب سے بڑا فرق ہے۔ اس میچ کے دوران پاکستانی کھلاڑیوں کی مجموعی کارکردگی اور بدنی بولی انتہائی ناقص اور ناقابل دید تھی۔ بھارتی ٹیم نے اس پورے میچ کے دوران اپنا دباؤ برقرار رکھا اور ہاکی کے کھیل میں پاکستان پر اپنی گزشتہ 10 سالوں سے جاری برتری کو مزید استحکام دیا۔
قارئین کرام ہاکی کہنے کو پاکستان کا قومی کھیل ہے لیکن پاکستانی ہاکی فیڈریشن اور پاکستان ٹیلی ویژن کی جانب سے اس کھیل کی بے توقیری اور مکمل لا تعلقی اس بات سے ظاہر تھی کہ پاکستان ٹیلی ویژن نے اس اہم میچ کو براہ راست دکھانے کی بجائے بھارت میں جاری ایک روزہ عالمی کرکٹ کپ کے غیر اہم وارم اپ میچ جو کہ آسٹریلیا اور نیدرلینڈ جیسی کمزور ٹیم کے درمیان کھیلا جا رہا تھا کو براہ راست دکھانے کو ترجیح دی۔ یہ ٹین سپورٹس جو کہ درحقیقت ایک بھارتی چینل ہے کی مہربانی تھی کہ پاکستانی شائقین کو یہ میچ براہ راست دیکھنا نصیب ہوا جو کہ اپنے طور ایک قومی سانحے سے کم نہیں تھا۔
بھارت سے کھیل کے میدان میں ان پے درپے تین شکستوں کا سلسلہ ابھی ختم نہیں ہو پایا تھا جب اسی دن بھارت نے نیپال میں جاری ایس۔ اے۔ اے۔ ایف انڈر 19 فٹبال فائنل میں بھی پاکستان کو صفر کے مقابلے میں تین گولوں سے واضح شکست دے دی۔
قارئین کرام اس تمام تر تناظر میں پاکستان کے ارباب اختیار کے لیے لازم ہے کہ وہ کھیل کے میدان میں بہتری لانے کے لیے فی الفور ضروری اقدامات کا آغاز کریں۔ بدقسمتی سے ملک میں تیزی سے بڑھتی معاشی مشکلات، غربت، بے روزگاری اور مادہ پرستی نے نوجوان نسل میں کھیلوں کی اہمیت اور افادیت کا مکمل خاتمہ کر دیا ہے۔ ملک میں لے دے کر صرف کرکٹ ہی ایسا کھیل ہے جسے حکومت اور کاروباری سرپرستی حاصل ہے۔ جبکہ سکواش، ہاکی، فٹبال، ٹینس، تیراکی اور دیگر ٹریک اینڈ فیلڈ کھیل حکومتی اور کاروباری بے توجہی کا شکار ہیں۔
اس تمام تر صورتحال میں ملک کے ارباب اختیار کو ملکی وسائل کو بڑھانے کی کوششوں کو مزید تیز تر کرنے کے علاوہ ان وسائل کا ایک معقول حصہ ملک میں کھیلوں کی ترقی اور ترویج پر خرچ کرنا ہو گا تاکہ ملک کم از کم ایک بار پھر ہاکی اور سکواش کے میدان میں اپنی کھوئی ہوئی عظمت اور وقار کو حاصل کر سکے۔ لیکن یہ ہدف صرف اس وقت ہی حاصل ہو سکتا ہے جب ملک میں جاری سیاسی، معاشرتی اور سب سے بڑھ کر سنگین اقتصادی بحران کو حل کرنے کے لیے ذاتی مفادات، جھوٹی اور خود ساختہ انا پرستی، عدالتی فیصلوں اور آئینی بندشوں سے انحراف جیسے قبیح طرز عمل کو دفن کر کے عوام الناس کو اپنے ووٹوں کے ذریعے حکومت منتخب کرنے کا حق دیا جائے گا۔ لیکن کیا یہ سب کچھ آنے والے دنوں میں ممکن ہو پائے گا اس سوال پر فی الحال بڑے بڑے سوالیہ نشانات ہیں


