کچھ ذکر اپنے شہر مظفر آباد کا
اس شہر کو یاد کرنے کے کتنے ہی حوالے ہیں۔ لڑکپن میں گزرے ہوئے دن، نوجوانی میں گزرا ہوا تقریباً ایک عشرہ، ملازمت میں ملنے والے لوگوں کی شکلیں اور پھر شعر و ادب کے حوالے سے ملنے والے یاران بے مثل۔ سب سے پرانی یاد شاید ان دنوں کی ہے جب ہم ایک پہاڑی قصبے میں رہتے تھے اور سردیوں میں کانپتے، برف سے بھاگتے اس نسبتاً کم سرد شہر میں چلے آتے تھے۔ تب شہر میں اکا دکا تانگے چلتے تھے اور سیالکوٹ سویٹ ہاؤس کے سامنے چڑھائی پر دس پندرہ رکشے کھڑے ہوتے تھے۔
گیلانی ہوٹل، خواجہ بازار، مدینہ مارکیٹ، قلچوں والی گلی اور سہیلی سرکار شہر کے اہم نشانات تھے۔ سہیلی سرکار کا میلہ، جس دن مقامی سکولوں میں چھٹی ہوتی، ایک سالانہ تفریح تھا۔ کالج کے دنوں میں بھی شہر کافی چھوٹا تھا اور کتابوں کی دو تین دکانیں اور دوائیوں کی چار پانچ دکانیں شہر بھر کے لئے کافی تھیں۔ مگر سارے ملک میں جیسے ہر شہر بغیر کسی منصوبہ بندی کے پھیلا ہے، یہ شہر بھی یونہی پھیلتا رہا۔ ہم نے برساتی نالوں میں تعمیر ہوتے ہوئے گھر اور عمارتیں دیکھیں، پہاڑوں پر چڑھتی آبادیاں دیکھیں، اور پھر آدھے شہر کو دو ہزار پانچ کے زلزلے میں الٹتے ہوئے، زمین بوس ہوتے ہوئے دیکھا۔
وہ دن کبھی نہیں بھولیں گے۔ بس اتنا بتانا کافی ہے کہ ہمارے جاننے والے کم و بیش ہر شخص کی ان دنوں شکل تبدیل ہو گئی تھی۔ جسے ملتے یوں لگتا کہ اسی کی کہانی سب سے زیادہ الم ناک ہے۔ لیکن جیسے ہر مصیبت اپنے جلو میں کچھ آسانیاں بھی لے کر آتی ہے تو اس زلزلے نے اس شہر کو تبدیل کر دیا۔ کاروبار، خوشحالی، آبادی میں اضافہ ہوا تو عمومی شہری مسائل بھی در آئے۔ تمام شہروں کی طرح یہ شہر بھی آبادی کے دباؤ، بے ہنگم ٹریفک اور جگہ کی کمی کا شکار ہے۔
لیکن شہر تو وہی ہوتا ہے جو آپ کے دل اور آپ کی یادوں میں زندہ ہو۔ گارشیا مارکیز نے کہا ہے کہ ہم نے صرف وہ زندگی بسر کی ہوتی ہے جو ہماری یاد میں محفوظ ہو۔ تو ہماری یادوں میں تو سرسبز پہاڑوں کے بیچوں بیچ دو دریاؤں کے پہلو میں ایک مہربان اور خوب صورت شہر آباد ہے، جہاں اب بھی امن اور تحفظ کا احساس ہوتا ہے جہاں شام کو آپ دریاؤں سے آتی ہوئی ہوا کا لطف لے سکتے ہیں اور جہاں ہر دوسرے قدم پر کوئی شناسا مل جاتا ہے۔
ہماری برادری کے ایک بزرگ کہا کرتے ہیں کہ مرنے کا مزہ صرف مظفر آباد میں ہے جہاں لوگ روایتاً جنازوں میں شرکت کرتے ہیں اور آپ اگر بیمار پڑ جائیں تو آدھا شہر آپ کی عیادت کرنے پہنچ جاتا ہے۔ پھر کچھ نعمتیں اس کے دارالحکومت ہونے کی وجہ سے بھی ہیں اور کچھ پنڈی کی قربت کی وجہ سے بھی۔
خورشید نیشنل لائبریری، جو زلزلے کی نذر ہوئی، شہر کے لئے ایک نعمت سے کم نہیں تھی۔ جلال آباد گارڈن کے بیچوں بیچ، ایک خاموش گوشے میں کتابوں کا ذخیرہ، کانفرنس روم، سیمینار ہال اور آڈیو ویڈیو کی سہولیات۔ ہم نے مقابلے کے امتحان میں بیٹھنے والے کئی نوجوانوں کو یہاں مطالعے میں غرق دیکھا۔ پھر اخبارات کا حصہ، جہاں آٹھ دس انگریزی اردو اخبار ہوتے اور کئی میگزین۔ اس لائبریری کی تجدید ہونی چاہیے۔
لائبریری کا ذکر ہوا تو بلدیہ کی قائم کردہ لائبریری جو مرحوم نذیر قادری صاحب کا شہر کے لئے ایک تحفہ تھی۔ اپر اڈہ کے مین مرکز میں جہاں سارا دن ٹرکوں پر لوڈنگ ان لوڈنگ ہوتی، یہ مختصر سی عمارت کھڑی کی گئی۔ بہت سے لوگ معترض تھے مگر ہم نے اس سے خوب استفادہ کیا اور اکثر اس کے ہال میں نوجوانوں کو کتابیں، رسائل اور اخبارات پڑھتے دیکھا۔
شعر و ادب سے تعلق رکھنے والے کے لئے یاد دہانی کہ احمد شمیم اسی شہر میں رہتے تھے۔ الطاف حسین قریشی بھی یہیں تھے، جن کی اردو شاعری تو بہت خوب صورت ہے، مگر ان کی پنجابی شاعری کا مجموعہ ’اکھیاں دا پر چھانواں‘ پنجاب یونیورسٹی کے نصاب میں شامل رہا ہے، منور قریشی جیسے خوب صورت شاعر، جن کا مجموعہ بوجوہ چھپ نہیں سکا، ڈاکٹر صابر آفاقی اور اردو مزاح کی توانا آواز جناب آذر عسکری بھی یہیں سے تھے، ہمارے دوست افتخار مغل نے بھی یہیں زندگی گزاری اور آج کل کے بے شمار شاعر، ادیب اور نثر نویس جو ادب میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ انھیں میں بہت سے جو ہمارے دل کے بہت قریب ہیں اور جن سے سال میں ایک دو بار ضرور ملاقات ہوتی ہے۔
یہ دیکھنے کو جاتا ہوں اس شہر بار بار
کس کس کو میری نقل مکانی کا دکھ ہوا
(کاشف حسین غائرؔ)



