توندل اور کان کنی
’ توندل‘ سنسکرت زبان کا لفظ ہے۔ فارسی میں اسے ’چاق‘ کہتے ہیں اور عربی میں اس کے مترادف کے طور پر ’سمین‘ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ارے، ہم تو آغاز میں ہی لفظی موشگافیوں میں ایسے الجھ گئے ہیں جیسے ایچ ای سی سے منظور شدہ جریدے کے لیے تحقیقی مقالہ رقم کر رہے ہوں اور کسی ایسے ’مقابلۂ علم‘ میں شریک ہوں جس میں مقالوں کو گنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے، اس لیے تشبیب سے گریز کرتے ہیں اور فوری طور پر اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں جس کے لیے ہم نے قلم اٹھایا تھا مگر یہاں ایک اور سخن گسترانہ بات آ پڑی ہے اور ہمیں وہ مولوی صاحب یاد آ گئے ہیں جنہوں نے ہندوستان کے راکٹ چندریان کے چاند پر قدم رنجہ ہونے پر زوالِ امت پر تاسف کا اظہار کیا اور ہندوستانیوں کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا : ”دوستو! انہوں نے سائنس کے میدان میں ترقی کی ہے، انہوں نے تحقیق کو اپنا شعار بنایا ہے، انہوں نے چاند کو تسخیر کیا ہے، وہ بلا کے محنتی لوگ ہیں۔ “
اس کے بعد انہوں نے ایک لمبی آہ بھری اور ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے گویا ہوئے : ”ہم واپس لوٹتے ہیں اپنے اصل موضوع کی طرف۔ تو صاحبو، جب ہم جنت میں داخل ہوں گے تو بہتر حوریں ہمارے استقبال کے لیے موجود ہوں گی۔“
صاحبو، ہم آپ کو جنت کی سیر تو نہیں کرائیں گے لیکن ایک ایسے ملک میں لیے جاتے ہیں جو کبھی جنت نظیر تھا۔ ملک کا نام ناؤرو ہے اور یہ بحر اوقیانوس کا ایک جزیرہ ہے۔ اس کی آبادی محض ہزاروں میں ہے، گویا یہاں کے لوگ نفس کشی اور منصوبہ بندی کے قائل ہیں۔ ناؤرو کا حدود اربعہ اتنا مختصر ہے کہ اگر آپ تیز قدم ہیں تو ایک گھنٹے میں ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پاپیادہ سفر کر سکتے ہیں۔ یہ دنیا کا تیسرا چھوٹا ملک ہے مگر ایک معاملے میں یہ اول درجے پر فائز ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ توندل ناؤرو میں پائے جاتے ہیں۔ یہاں نوّے فی صد افراد موٹاپے میں مبتلا ہیں اور باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں۔
اس موٹاپے کی بھی ایک تاریخ ہے۔ بس، یوں سمجھ لیجیے کہ یہ نوآبادیاتی نظام کا ’جرمانۂ جاریہ‘ ہے۔ یہ ملک کبھی برطانیہ کے زیرِ نگیں تھا۔ ان کو خبر ملی کہ اس خرابے میں فاسفیٹ کے خزانے موجود ہیں۔ خبر پاتے ہی انگریز نے ”کاؤ کاؤ سخت جانی“ شروع کر دی اور بے رحمی سے مال مفت برآمد کرنے لگے اور سرمایہ کمانے لگے۔ فاسفیٹ، مصنوعی کھاد کی تیاری میں استعمال ہوتی ہے۔ اس دوران میں ملک آزاد ہوا لیکن سرمایہ داری کے فرہادوں نے کان کنی جاری رکھی تاہم انہوں نے نرخ اتنے بالا رکھے کہ ناؤرو، دنیا کا دوسرا امیر ترین ملک بن گیا۔
یہاں کے حکمرانوں نے انڈوں کے لالچ میں سالم مرغی ذبح کر ڈالی اور پورے ملک میں ہل چلا دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ فاسفیٹ کے ذخائر ختم ہو گئے اور ملک غریب ہو گیا۔ ناؤرو نہ صرف غریب ہوا بلکہ ایک ویرانہ بن گیا۔ کان کنی نے زمین کے ساتھ آسمان جیسا سلوک کیا۔ زمین کاشت کاری کے قابل نہ رہی اور اب وہاں سبزہ تو کجا سبزۂ بیگانہ بھی نہیں اگتا۔ صورت حال یہ ہے کہ جانوروں کے کھانے کے لیے گھاس نہیں اور انسانوں کے کھانے کے لیے جانور نہیں۔ نہ رہے گا گھاس، نہ پکے گا ماس! ( ارے، واہ، ہم نے بھی کیا خلاق طبیعت پائی ہے، بیٹھے بٹھائے ایک نیا محاورہ ایجاد کر ڈالا)۔
ستم بالائے ستم یہ کہ اس اکھاڑ پچھاڑ میں زیرِ زمین پانی کے ذخائر فاسفیٹ نے زہریلے کر دیے۔ اب دودھ ہو، پانی ہو یا دودھ میں پانی ہو، سب باہر سے درآمد کیا جاتا ہے۔ سامانِ شکم ڈبوں میں پیک ہو کر آتا ہے۔ پوری قوم جنک فوڈ کھا کر گزارہ کر رہی ہے۔
فیل مرغ نام کا ایک پرندہ ہے جس کا گوشت بہت لذیذ ہوتا ہے۔ یورپ میں اسے شوق سے کھایا جاتا ہے۔ اس کے جسم کے ایک خاص حصے میں چربی پائی جاتی ہے جسے آلائش تصور کرتے ہوئے کاٹ پھینکا جاتا ہے۔ خدا ترس سرمایہ داروں کو خیال آیا کہ کیوں نہ اس حصے کو ناؤرو کی غریب عوام کو سستے داموں فروخت کر دیا جائے۔ لحمِ خالص وہ خود تناول کرتے ہیں اور مچرب گوشت جنک فوڈ کی صورت میں خوش نما ڈبوں میں پیک کر کے ناؤرو بھیج دیتے ہیں جسے کھا کھا کر وہ پھول کر کپا ہو جاتے ہیں۔ خوشی سے نہیں، مجبوری سے! عزیز ہم وطنو! ہمارے ملک میں بھی توندلوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اپنے اطراف پر نظر رکھیے۔ کہیں کوئی کان کنی تو نہیں ہو رہی؟

