بہتر روزگار کے لیے پاکستان سے نقل مکانی کرنے والی خواتین: مواقع اور مسائل


پاکستان کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی حالات سے پریشان، بہتر روزگار، اعلی تعلیم یا مختلف مسائل کا شکار ہو کر ہجرت کرنے والوں میں مردوں کے ساتھ خواتین بھی شامل ہیں۔ اپنے خوابوں کی تعبیر اور بہتر مستقبل کے لئے خواتین بھی عرب، ساؤتھ ایشیا، یورپ، امریکہ، آسٹریلیا اور کینیڈا جیسے ممالک کا رخ کر رہی ہیں۔

روزنامہ ایکسپریس ٹریبیون کی سرکاری اعداد و شمار پر مبنی رپورٹ کے مطابق سن 2021 میں تقریباً دو لاکھ پچیس ہزار پاکستانیوں نے اپنا ملک چھوڑا جبکہ بے روزگاری، روزگار کے کم ہوتے مواقع، غیر یقینی معاشی اور سیاسی صورتحال کی وجہ سے بیرون ملک ملازمت کا انتخاب کے لیے گزشتہ سال یہ تعداد تقریباً تین گنا ہو کر سات لاکھ پینسٹھ ہزار تک پہنچ چکی تھی۔ نقل مکانی کا یہ رجحان سن 2023 میں بڑھتا جا رہا ہے۔

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن 2020 کی جانب سے مختلف سروے کو مدنظر رکھتے ہوئے رپورٹ میں پاکستان سے نقل مکانی کرنے والی خواتین کے اعداد و شمار بیان کیا گیا، جس کے مطابق پاکستان دنیا میں آبادی کے لحاظ سے بڑے ملکوں میں شامل ہوتا ہے۔ کل آبادی میں لیبر فورس 61.7 ملین ہے اس لیبر فورس میں خواتین 22 فیصد پر مشتمل ہے۔ رپورٹ کے مطابق خواتین ہنر کی سطح کے لحاظ سے 18.8 فیصد ہیں، جس میں سے کم ہنر مند والی خواتین 32.9 فیصد، دوسرے درمیان درجہ 8.7 فیصد ہیں جبکہ اعلی ہنر مند خواتین 1.9 فیصد ہیں جبکہ اعلی تعلیم یافتہ 37.6 فیصد خواتین کی تعداد بھی شامل ہے۔

پاکستان میں صوبوں کے لحاظ سے خواتین میں نقل مکانی کرنے کا سب سے زیادہ رجحان پنجاب سے 56 فیصد، خیبر پختونخوا 33 فیصد ہے جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد 5، سندھ 33، کشمیر 1، گلگت بلتستان 1، بلوچستان 0، فاٹا 0 فیصد خواتین کی نقل مکانی رپورٹ ہوئی ہیں۔ جبکہ رپورٹ کے مطابق خواتین کی زیادہ تعداد یو اے ای میں 42.5، سعودی عرب 35 فیصد، عمان 5 فیصد، انگلینڈ 2 فیصد، قطر 2 فیصد اور کینیڈا 1.4 فیصد ہے۔ پیشہ کے لحاظ سے نقل مکانی کرنے والی خواتین میں جنرل ورکرز 14.7، گھریلو ملازمین 17.3، مینیجرز 11.5، ٹیجرز 4.5، ڈاکٹر اور نرس 15.1، آفس سٹاف 8.3 اور سیلز میں 5.3 فیصد جبکہ دیگر بیوٹیشن، انجینئر، فارماسسٹ، کمپیوٹر پروگرامر، فنانسز، تکنیکی ماہر 23.1، اپنے اپنے شعبوں میں روزگار کے لیے کوشش کرتی ہیں۔

یہ تاثر عام تھا کہ ہمارے معاشرے میں بہتر مستقبل کے لیے مرد ہی نقل مکانی کرتے ہیں مگر اب خواتین کی جانب سے بھی نقل مکانی کا رجحان زور پکڑتا جا رہے ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بیرونی ملکوں میں خواتین کے لیے ہر سطح پر روزگار کے مواقع موجود ہیں۔ اس بارے میں جاننے کے لیے بیرونی ملکوں میں نقل مکانی کرنے والی خواتین سے جاننے کی کوشش کی گئی۔

ایک سال پہلے اپنے تین بچوں سمیت امریکہ کا ویزا حاصل کر کے نقل مکانی کرنے والی خاتون بشری ملک کا کہنا ہے کئی سال سے اسلام آباد میں ملٹی نیشنل کمپنی میں ملازمت کرنے کے باوجود معاشی حالات میں بہتری نہیں ہو رہی تھی۔ کمپنی کی جانب سے بھی تنخواہ بڑھائی جاتی تھی مگر مردوں کے مقابلے میں انتہائی کم ہوتی تھی۔ ملک کے سیاسی حالات اور مہنگائی نے خوف میں ڈال دیا کہ اب بچوں کا مستقبل اس ملک میں کیا ہو گا۔ تمام تر جمع پونجی لگا کہ امریکہ ہجرت کی ہے تاکہ بچوں کہ ساتھ ساتھ خود بھی کوئی بہتر زندگی بسر کر سکوں۔ ان نے بتایا کہ امریکہ میں ہر سطح کا روزگار موجودہ ہے مگر پاکستان سے آنے والے اعلی تعلیم یافتہ انسان کے لیے اپنے معیار سے کم پر یہاں روزگار پر سمجھوتا کرنا پڑتا ہے۔ جیسے کہ ٹیکسی چلانے، ہوٹلوں میں ویٹرز، سٹورز یا چیزوں اور کھانوں کی ڈیلیوری کا کام یہاں مل جاتا ہے جس سے کام کا آغاز کیا جا سکتا ہے، خاص کر خواتین کے لیے مشکل حالات ہیں رہائش، روزگار کے حوالے سے مگر یہاں ملازمت کسی بھی سطح کی ہو اجرت محنت کے مقابلے میں ادا کی جاتی ہے۔ خواتین اگر امریکہ آنے کو ترجیح دیتی ہیں تو اس بات کو یاد کر آئے کہ یہاں پر بھی مشکل حالات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔

روزگار کے لیے قطر میں رہائشی پذیر امبر ریاض کا کہنا ہے کہ پیشہ کے لحاظ سے میں ٹیچر کے فرائض سر انجام دیے رہی ہوں۔ پاکستان کے مقابلے میں یہاں پر تنخواہیں اچھی ادا کی جاتی ہے مگر دوسرے شعبوں میں خواتین کے لیے میرے اندازہ کے مطابق مواقع کم ہی ہوتے ہیں۔

جرمن ویزا کے حصول کے لیے کوشاں حرا علی کہتی ہیں کہ لاکھوں روپے لگانے اور تعلیم حاصل کرنے کے بعد چند ہزاروں کی ملازمت میں کوئی محفوظ مستقبل نظر نہیں آتا ہے۔ ملک میں سیاسی جنگ اور اقتدار کے لیے اخلاقیات کو بھولنے والے سیاستدان نوجوان کو کسی بھی قسم کی سہولیات فراہم کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ ایسے میں نوجوان اپنے مستقبل کو لے کر پریشان ہے، ہر عمر کے افراد مایوسی کا شکار نظر آتے ہیں۔ ایسے حالات میں بیرونی ملک نقل مکانی کرنا ہی بہترین قدم ہے۔

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق پاکستان سے خواتین کے مقابلے میں نقل مکانی کرنے والے اکثریت مردوں کی ہے۔ 1971 اور 2019 کے درمیان خواتین کی ہجرت 0.4 فیصد ریکارڈ میں سامنے آئی تھی۔ جس میں اعلی تعلیم یافتہ اور ہنر مند ہونے کی وجہ سے بین الاقوامی لیبر مارکیٹ تک رسائی حاصل کرنے والی خواتین کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے، جن کی بنیادی وجہ سماجی اور ثقافتی روایات کا دباؤ اور جانے کے لیے طریقہ کار کے بارے میں شعور اور اگاہی کا نہ ہونا ہے۔

خواتین کو بیرونی ملک نقل مکانی کرنے سے درپیش مسائل کے حوالے سے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن 2020 کی رپورٹ میں خواتین کو بیرون ملک ملازمت کے لیے پیش آنے والی مشکلات اور محدود کرنے کا عنصر بھی بیان کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نقل مکانی کرنے والی خواتین جو روزگار کے لیے جانے میں کامیاب ہو جاتی ہے، ان کی تعداد بھی انتہائی کم ہے جبکہ بہتر ہنر مند خواتین کو بین الاقوامی مارکیٹ میں بہتر اجر ملنے کے مسائل بھی درپیش ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں واضح بتایا گیا ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں خواتین کے لیے بہتر روزگار کے مواقع انتہائی کم ہیں۔

صنفی امور کی ماہر ڈاکٹر رخشندہ پروین کا کہنا ہے یہ خوش آئند بات ہے کہ خواتین بھی اپنے بہتر مستقبل کے لیے عملی طور پر اقدام کے عمل میں آ چکی ہیں۔ پاکستان میں نقل مکانی انتہائی کم خواتین کرتی ہیں جو اس عمل میں کامیاب ہوتی ہیں یا تو وہ سکالرشپ، فیلوشپ یا کسی پروگرام کے لیے منتخب ہوتی ہیں بلکہ ایسی شادی شدہ خواتین کی مثال موجود ہے جو اپنے بچوں اور خاوند کو بھی ساتھ لے کر جاتی ہیں۔ خواتین ہمارے معاشرے میں با شعور ہو چکی ہیں کئی فیصد عورتیں نقل مکانی کر چکی ہیں۔ مشورہ ہے کہ ملک کے معاشی، سیاسی، سماجی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے خواتین ہنر یافتہ ہو کر بیرونی ملک نقل مکانی کرنے اور دوسرے ملک میں روزگار کے حوالے سے معلومات رکھتے ہوئے نقل مکانی کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ ساتھ نجی طور پر کام کرنے والے ادارے خواتین کو کونسلز اور مواقعوں کے بارے میں رہنمائی فراہم کرتے رہے۔ سوشل میڈیا کی وجہ سے دنیا ایک گلوبل ولیج کی صورت اختیار کر چکی ہے کسی بھی قسم کی معلومات حاصل کرنا آسان کام ہو چکا ہے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ نقل مکانی کرنے والی خواتین کو مردوں کے مقابلے میں زیادہ تحفظ کی ضرورت ہے جیسا کہ انہیں بہ آسانی سمگل کرنے کے ساتھ زیادتی کا نشانہ بھی بنایا جا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق نقل مکانی کر کے آنے والی خواتین نے 2005 میں اپنے گھروں کو 149 بلین پاؤنڈ بھیجے ہیں۔ جیسا کہ نقل مکانی کرنے والی خواتین کی بڑی تعداد گھروں میں کم تنخواہ پر کام کرتی ہے اس لیے وہ مزدوروں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قوانین سے وہ زیادہ استفادہ حاصل نہیں کر سکتیں اور نہ ہی انہیں اس بات کی اجازت ہوتی ہے کہ وہ کسی یونین کا حصہ بنیں۔ رپورٹ کے مطابق ان خواتین کی ایک بڑی تعداد کام کی زیادتی، مار پیٹ اور جنسی زیادتی کا شکار ہوتی ہے۔

اقوام متحدہ کے آبادیاتی فنڈ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ثریا احمد عبید رپورٹ میں کہتی ہیں کہ رپورٹ حکومتوں اور عام لوگوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ نقل مکانی کرنے والی ان خواتین کی معاشی ترقی میں شمولیت کو پہچانیں اور ان کے انسانی حقوق کو تحفظ دی۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کی فوری ضرورت ہے کہ مختلف ملک نقل مکانی کو محفوظ بنانے کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کریں۔ ’

اوورسیز پاکستانی فاونڈیشن کے مطابق قانونی طریقے سے بیرونی ملک جانے والے کسی بھی فرد کو شکایت کی صورت میں ہر طرح سے مدد فراہم کی جائے ہے مگر دوسرے ملکوں کے قوانین کے مطابق مدد فراہم کرنے کی لائحہ عمل طے کی جاتا ہے۔ خواتین کا تحفظ بین اقوامی قانون کا بھی حصہ ہے اس لیے اپنے ملک کی خواتین شہریوں کا تخفظ کرنا ہماری ذمہ داری بھی ہے۔

Facebook Comments HS