انڈیا: پاکستان کا سب سے اہم ہمسایہ
کسی بھی ذی شعور انسان کے لئے وہ چیز غیر اہم نہیں ہو سکتی جو اس کے لئے خطرناک ہو اور اگر معاملہ دو ممالک کا ہو تو اس حقیقت سے انکار اور بھی زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر پاک بھارت تعلقات کی بات آئے تو ہمارے ذہن میں یہی بات آتی ہے کہ بھارت ہمارا دشمن ہے۔
پاکستان اور بھارت اگست 1947 میں آزاد ممالک کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر نمودار ہوئے۔ دونوں ممالک کو ہندو مسلم آبادی کی بنیاد پر تقسیم کرنے پر آزاد کیا گیا تھا۔ بھارت جس میں ہندو اکثریتی قوم تھی ایک سیکولر ریاست قرار پایا جبکہ مسلم اکثریتی پاکستان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نام دیا گیا۔ آزادی کے وقت سے ہی دونوں ممالک نے ایک دوسرے سے اچھے تعلقات استوار رکھنے کا عزم ظاہر کیا تھا مگر ہندو مسلم فسادات اور علاقائی تنازعات کی وجہ سے دونوں ممالک میں کبھی اچھے تعلقات دیکھنے کو نہیں ملے۔ آزادی کے بعد سے اب تک دونوں ممالک میں چار بڑی جنگیں جب کہ بہت سی سرحدی جھڑپیں ہو چکی ہیں۔
پاک بھارت جنگ 1971 اور جنگ آزادی بنگلہ دیش کے علاوہ تمام جنگوں اور سرحدی کشیدگیوں کا محرک کشمیر کی تحریک آزادی رہی ہے۔ اپریل 1984 ء میں بھارت نے شمالی کشمیر میں سیاچن گلیشیئر کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ کارگل جنگ کنٹرول لائن پر ہونے والی ایک محدود جنگ تھی جو پاکستان اور بھارت کے درمیان 1999 ء میں لڑی گئی۔ اس جنگ میں واضح کامیابی کسی ملک کو نہیں مل سکی لیکن پاکستانی فوج نے بھارت کا لڑاکا جہاز مار گرایا اس کے علاوہ بھارتی فوج کارگل سیکٹر میں اپنا توازن کھو بیٹھی اور 700 سے زائد فوجی ہلاک ہوئے اس جنگ میں بھارت کو شدید دھچکا لگا اور بعد میں دونوں فریقین نے جنگ بندی کا اعلان کیا۔
ان تاریخی حوالوں کو دیکھتے ہوئے یہ مان بھی لیا جائے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے دشمن ہیں تب بھی ہمسایہ ممالک ہونے کے باعث ایک دوسرے کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان اور بھارت کی سفارت بھی ان کے تعلقات کی طرح کشیدہ ہے۔ عالمی امور کی تجزیہ نگار اور پاکستان کی سابق سفارت کار ملیحہ لودھی صاحبہ لکھتی ہیں : ”خارجہ پالیسی ایک انتہائی نازک معاملہ ہے اور اسے درست طور پر کسی بھی ملک کی پہلی دفاعی لائن کہا جاتا ہے۔ اس حوالے سے پالیسی سازی اور اس کی وضاحت کے لیے بہت زیادہ سوچ بچار اور معاملہ فہمی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک خارجہ پالیسی کو عوامی سطح پر جس انداز میں پیش کیا جاتا ہے وہ اسے کم یا زیادہ موثر بنا سکتا ہے ساتھ ہی وہ دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات پر بھی اثر انداز ہوتا ہے“ ۔
دور جدید کی سفارتکاری میں ریاستوں کے مابین معاشی سرگرمیاں ترجیح بن چکی ہیں۔ اس کی ایک مثال امریکا اور چین کے تعلقات ہیں۔ دونوں ہی ممالک دنیا پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں لیکن یہ معاشی طور پر ایک دوسرے پر منحصر بھی ہیں۔ اسی طرح بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازعہ بھی جاری رہتا ہے مگر ساتھ ان کی دوطرفہ تجارت اور ان کی ایک دوسرے کے ملک میں سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اسی طرح بھارت نے گزشتہ کچھ برسوں میں امریکا کے ساتھ تعلقات بہتر کیے ہیں لیکن روس کے ساتھ اپنی روایتی دوستی بھی برقرار رکھی۔
یوکرین پر حملے کے بعد روس پر لگنے والی مغربی پابندیوں سے قطع نظر بھارت نے روس سے تیل خریدنے کا فیصلہ کیا کیونکہ بھارت جانتا تھا کہ بین الریاستی معاشی سرگرمیوں کی ایک اور خصوصیت مفادات پر مبنی تعلقات کا سامنے آنا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ 2 ممالک ایک عالمی یا علاقائی مسئلہ پر حلیف اور دوسرے معاملے میں حریف ہوں۔ جیسا کہ اٹلی اور جرمنی پڑوسی ممالک ہیں اور دونوں یورپی یونین کے رکن بھی ہیں۔ تاہم اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی اصلاحات کے حوالے سے دونوں کا موقف ایک دوسرے سے متصادم رہا ہے۔
چین اور امریکا کی مخاصمت میں بھارت ویسے تو امریکا کا اسٹریٹجک اتحادی ہے لیکن موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات میں چین کے اکثر نکات سے اتفاق کرتا ہے۔ لہذا دور جدید میں مختلف ممالک کے مابین تعلقات میں جو چیز سب سے اہم ہے وہ ہے اقتصادی اور دیگر باہمی فوائد کی بنیاد پر مفادات کا حصول۔
تاریخی طور پر جاپان اور چین کے تعلقات کشیدہ ہی رہے ہیں لیکن پھر بھی یہ آپس میں تجارت بھی کرتے ہیں اور سرمایہ کاری بھی۔
پاکستان ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کی جانب سے انڈیپنڈنٹ اردو کو مہیا کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان بھارت کو 383 ملین ڈالر کی اشیا برآمد کرتا ہے جس میں کھجور، سیمنٹ اور چمڑے کی بنی اشیا شامل ہیں۔ جبکہ پاکستان بھارت سے 9۔ 1 بلین ڈالر کی اشیا درآمد کرتا ہے جس میں کاٹن سر فہرست ہے جو ہماری ٹیکسٹائل انڈسٹری میں خام مال کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ یہ تجارتی تعلقات اکثر کشیدگی اور تعطل کا شکار ہو جاتے ہیں۔
معاشی امور کے ماہرین کے خیال میں اس کشیدہ صورتحال کی وجہ سے دونوں ممالک کے تجارت کو بہت نقصان ہو رہا ہے۔ واضح رہے کہ ورلڈ بنک نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان موجودہ تجارت کا حجم صرف 2 بلین ڈالر ہے جو بہتر تعلقات کی صورت میں 37 بلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت اور پاکستان بھی وہی کریں جو باقی دنیا کر رہی ہے۔ بہتر ہو گا کہ دونوں ممالک کی حکومتیں باہمی رابطوں کو بڑھائیں اور تاجروں، سرمایہ کاروں، اسکالرز اور کھلاڑیوں کے درمیان خوشگوار اور موثر روابط کو یقینی بنائیں جس کا مقصد ہندوستان اور پاکستان کے عوام کو علاقائی امن میں اسٹیک ہولڈر بنا کر دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کا فروغ ہو۔
اس حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہیے کہ اختلافات، کشیدہ تعلقات، جنگوں اور گزشتہ ناخوشگوار تجربات کے باوجود انڈیا ہمارا ہمسایہ ہے اور ہمسایہ بھی وہ جو چاند پہ کمند ڈالنے کو تیار بیٹھا ہے۔

