پہلی چپ کا شور: چند تاثرات

جس طرح عناصر فطرت کی اپنی ہی منطق اور ترتیب ہوتی ہے بالکل ایسے ہی تخلیق کی بھی اپنی منطق ہوتی ہے۔ تخلیق کے بے ساختہ عمل میں احساس کی جس نزاکت، کو ملتا اور تازگی کی ضرورت ہوتی ہے وہ ریاضت، لگن اور ان تھک محنت کے بغیر صریر خامہ میں ڈھل کر نوائے سروش نہیں بن سکتی۔ اگر عصر حاضر کے افسانہ نگاروں کے افسانوں کا ژرف نگاہی سے جائزہ لیا جائے تو عیاں ہوتا ہے کہ ان میں مذکورہ صفات مفقود ہیں، یہی وجہ ہے کہ جو وہ ادب کے نام پر قارئین کے سامنے پیش کر رہے ہیں، اس کی وقعت اور اثر پذیری نہ ہونے کے برابر ہے۔
اس فکری، علمی اور ادبی قحط کے دوران ماہ جبیں آصف کے افسانوں کا مجموعہ ”پہلی چپ کا شور“ منظر عام پر آیا ہے جس سے امید باندھی جا سکتی ہے کہ معیاری ادب تخلیق کرنے والے کے قلم ابھی خاموش نہیں ہوئے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان کی تخلیقات میں وہ جواز موجود ہے جو مستقبل میں ہر فکری و علمی سطح پر تخلیق ہونے والے ادب کو اپنے ہونے کی دلیل پیش کر سکتا ہے۔ ماہ جبیں آصف نے ذات کے کرب کو کائنات کے تناظر میں رکھ کر دیکھنے کے بجائے، ذات ہی میں کائنات کو دریافت کر نے کا جتن کیا ہے۔
اپنی ذات میں لو دیتی سچائی کو اپنی اصلیت کے ساتھ افسانوی رنگ دینے کا یہ عمل ہمیں معاصر تخلیق کاروں کے ہاں خال خال ہی دکھائی دیتا ہے۔ کیوں کہ ایسی صورت حال میں عام طور پر تخلیقی مواد جذباتی عمومیت کا شکار ہو کر اپنی قدر کھو بیٹھتا ہے۔ ماہ جبیں آصف کے افسانوی جہاں میں ایسا نہیں ہوا۔ انھوں نے اپنی تخلیقی جوہر کو پوری دیانتداری سے افسانوی رنگ عطا کیا ہے۔ انھوں نے اپنے گراں قدر جذبات کو عامیانہ سطح پر اترنے کی اجازت نہیں دی ہے اور نہ ہی اپنی فکر کو کسی اسلامی، غیر اسلامی اور سیکولر نعرے کی تبلیغ کا بار بردار بنایا ہے۔
ان کے افسانوں کی دنیا، احساس کی شدت، فکری وجدان اور گہرے عصری شعور کے کرب کو اپنے اندر اس طور جذب کیے ہوئے ہے کہ بالائی سطح سے ان کے افسانوں کے باطن میں روشنی ہی روشنی دکھائی دیتی ہے۔ ان کے افسانوں کا عقبی دیار حساسیت، محبت، لطافت اور نازک جذبوں کی تمام تر خوب صورتیوں سے عبارت ہے۔ ان کے افسانوں پر اظہار خیال کرتے ہوئے نعیم صدیقی نے لکھا ہے :
”ماہ جبیں آصف اپنے ارد گرد موجود افسانوں بالخصوص صنف نازک کے احساسات اور درد کو پوری دیانت داری، ہنر مندی اور جذب کے ساتھ سبک، تند و تیز اور شدت احساس میں ڈوبے ہوئے لفظوں میں جس عمدگی کے ساتھ منتقل کرتی ہیں وہ بلا شبہ فسوں کاری ہے۔ لفظوں کی اس فسوں کاری کے پس پردہ ایک گہری اور حساس سوچ ہے جس کی دھیمی آنچ میں ان کے کردار کہیں گیلی لکڑی کی طرح اندر ہی اندر سلگ رہے ہیں اور کہیں جذبوں کی کڑواہٹ اور رویوں کی تلخی اپنے اندر سموئے ہوئے ان کا برملا اظہار کرتے نظر آتے ہیں“
ماہ جبیں آصف کے افسانوں میں جس عورت کا تصور نمایاں ہوا ہے وہ عورت کے عمومی تصور سے ہٹ کر ہے۔ انھوں نے خوب صورت اور سلجھے ہوئے انداز میں عورت کو اپنی کہانیوں کا موضوع بنایا ہے۔ خالدہ تبسم، عصمت چغتائی اور سعادت حسن منٹو کے افسانوں میں پیش کردہ عورت کے تصور سے، ان کے ہاں انحراف ملتا ہے۔ انھوں نے عورت کے جنسی پہلوؤں کو اپنی تخلیقات میں پیش کیا لیکن ماہ جبیں نے عورت کی ذات کے نہاں گوشوں سے پردہ کشائی کر کے اس کی داخلی کیفیات کو منکشف کرنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے عورت کے احساسات و جذبات کو افسانوں میں پیش کرتے ہوئے اس کے صنفی اور انسانی دونوں حیثیتوں کو مد نظر رکھا ہے۔ ان کا عورت کے مسائل کو پیش کرنے کا ایک انداز ملاحظہ ہو :
”شاداں گاؤں کی کچی پکی پگڈنڈیوں کے خار عبور کرتی۔ تپتے جلتے آبلے اس امید پر سہلا لیتی کہ آج نہیں تو کل اپنے گھر کی ٹھنڈی چھاؤں ان آبلوں کو پھول بنا دے گی، ان ہی میٹھے نرم نازک سپنوں کی طلب لال دہکتے جوڑے میں لپٹی۔
شاداں کو شہر لے آئی
اور محض خرچہ طلب کرنے کا جرم فضا میں چیخوں کی صورت گونجا
اس کے چہرے پر پھول ہی پھول تھے
آگ کے! ” (آگ کے پھول )
اسی طرح کی کیفیات ان کے افسانوں ”نائلون میں لپٹی لاش“ ، ”بخت نگر کی بختی“ اور ”ٹوٹے تتلی کے پر “ وغیرہ میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ماہ جبیں آصف نے عورتوں کے حقوق کا نعرہ بلند نہیں کیا جس میں عورت کے ساتھ ہونے والے ہر ظلم اور ہر زیادتی کا مرد کو الزام دیا جائے۔ یہ کہانیاں عورت کو مرکز خیال کرتے ہوئے اس کے ساتھ جڑے ہوئے معاشرے کی حقیقی اور اصلی تصاویر پیش کرتی ہیں۔ ان کے افسانوں میں سعادت حسن منٹو کی عورتوں کی طرح بند کمروں کی فضا میں تحلیل ہوتی ہوئی گالیاں نہیں ہیں۔ ان کے کرداروں کے مکالمے سے ایسی عورت کا وجود سامنے آتا ہے جو ہر لمحہ خود کو معاشرے میں گالی بننے کے خلاف مسلسل جد و جہد کرتی دکھائی دیتی ہے۔
ماہ جبیں آصف نے اپنے افسانوں کے پلاٹ ہمارے ارد گرد کے ماحول سے لیے ہیں، اسی لیے ہمیں ان کا کوئی افسانہ اجنبی محسوس نہیں ہوتا۔ افسانوں کے پلاٹ، بیانیہ افسانوں سے ہٹ کر ہیں۔ کہیں کہیں آزاد تلازمہ خیال اور شعور کی رو کی تکنیک سے بھی استفادہ کیا گیا ہے جس سے ان کا افسانہ تکنیک کے اعتبار سے جدید افسانے کے مد مقابل رکھا جا سکتا ہے۔ مغرب میں اس طرح کا بیانیہ رچرڈ سن، ورجینیا وولف اور جیمز جوائس کے ہاں نظر آتا ہے۔
اردو میں قرۃ العین حیدر، سجاد ظہیر، حسن عسکری اور جدید افسانہ نگاروں میں انور سجاد، مظہر الاسلام، نیر مسعود اور رشید امجد کے ہاں دکھائی دیتا ہے۔ ماہ جبیں آصف نے اسے لاشعوری طور پر برتا ہے جس سے نہ ہی افسانوں کی بنت میں تصنع کا شائبہ ہوتا ہے اور نہ ہی بیانیہ ابہام کی حدود کو چھوتا ہے۔ اس کا اظہار زیب اذکار نے بھی کیا ہے :
”ماہ جبیں آصف کے بیشتر افسانوں میں روایتی آغاز، وسطانیہ اور انجام سے ماورائیت میں جو اظہاریت پنہاں ہے، وہ اہمیت رکھتی ہے۔ ایسے افسانے آپ اس وقت تک نہیں لکھ سکتے جب تک کہ آپ عمومیت سے ہٹ کر ایک مخصوص ذہنی سطح کے حامل نہ ہوں۔ ان کے افسانے شعور کی رو کے اندر رہ کر لکھے گئے ہیں جن میں تمثیلیں ہیں، علامتیں ہیں جوان کا رنگ دو آتشہ کر دیتی ہیں۔“
ان کی نثر کی قرات کے دوران احساس ابھرتا ہے کہ ان کی زبان معمول کی زبان سے ماورا، جمالیاتی سطح کو مس کرتی ہے۔ ترسیل اور ابلاغ تو ہے ہی لیکن لفظ تخلیقی اور جمالیاتی سطح کو چھو کر ادبی زبان میں ڈھلتے چلے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے جملوں سے محظوظ ہونے کے لیے قاری کا ادبی طور پر تربیت یافتہ ہونا ضروری ہے کیوں کہ ان کی زبان خود مکتفی اور اپنا جو ازخود ہے۔ اسے کسی خارجی وسیلے کی ضرورت نہیں۔ استعارہ، کنایہ اور مجاز مرسل جیسے ادبی پیرائے خوب صورتی سے بروئے کار لائے گئے ہیں جس سے ادبی چاشنی میں اضافہ ہوا ہے۔ ”پہلی چپ کا شور“ ماہ جبیں آصف کو ادبی و علمی حلقوں میں اعتبار اور وقار دلانے میں یقیناً معاون ثابت ہوگی۔

