تھائی لینڈ میں لینڈنگ


ناصر محمود ملک بنکاک کے کوئی پونے چار سٹار ہوٹل میں ایک رات گزارنے کے بعد اگلی صبح ہوٹل کے ریسٹورنٹ میں ناشتے کے دوران ہمارے ساتھ بیٹھے ایک مردم بیزار انڈین نے یہ افواہ اڑائی کہ یہاں بعض ہوٹلوں کے کمروں میں خفیہ کیمرے لگے ہوئے ہیں۔ یقین جانیئے ایک دفعہ تو جیسے جان ہی نکل گئی۔ اگرچہ ہوٹل میں رہتے ہوئے ہماری کوئی مصروفیت ایسی نہ تھی جسے کسی طور بھی قابل اعتراض کہا جا سکتا ہو۔ بلکہ ہمارے کمرے میں اگر ایسا کوئی کیمرہ وغیرہ تھا بھی تو اسے لگانے والوں کو ہماری سرگرمیاں دیکھ کر سخت مایوسی ہوئی ہوگی۔

اور یوں کیمرے کے ذریعے لوگوں کی پرائیویسی پر نظر رکھنے کی اپنی پالیسی پر بھی شاید انہیں نظر ثانی کرنا پڑے۔ لیکن پھر بھی جب یہ بات سنی تو ایک دفعہ سخت پریشانی ہوئی۔ کئی طرح کے خدشات نے سر اٹھایا۔ دراصل کسی بھی شریف انسان کو جب ایسی کسی افواہ کا سامنا ہو تو اس کا پریشان ہونا سمجھ آتا ہے۔ چنانچہ اگلے کوئی دو گھنٹے ہم اپنے کمرے میں اس غیبی کیمرے کو بری طرح تلاش کرتے رہے۔ عجب اضطراب کا عالم تھا۔ بڑی تلاش بسیار کے بعد جب ایسا کچھ نہ ملا تو سخت مایوسی ہوئی۔

ہماری کیفیت یہ تھی کہ اگر اس وقت وہاں ایسا کوئی خفیہ کیمرہ مل جاتا تو شاید سکون آ جاتا۔ تھک ہار کر بیٹھے تو ہمیں وہ لطیفہ یاد آیا جس میں ایک صاحب کو بتایا جاتا ہے کہ فلاں جانور آپ کا ایک کان لے بھاگا ہے۔ اس پر وہ شریف آدمی بجائے اپنا کان چیک کرنے کے اس جانور کے پیچھے بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ چنانچہ اس لطیفے کے پیش نظر ہمیں یاد آیا کہ وہ منحوس کیمرہ تلاش کرنے کی بجائے کیوں نہ اپنی گزشتہ دو دنوں کی سرگرمیوں کا جائزہ ہی لے لیا جائے۔

اس پر ہم نے کمرے میں اپنی انتہائی معصوم اور بے ضرر سرگرمیوں کا علم ہونے کے باوجود یہاں اپنے پچھلے دو روزہ قیام کو ذہنی طور پر کئی دفعہ ریوائنڈ کر کے اس کا بغور جائزہ لیا تو پتہ چلا کہ نیند کے علاوہ یہاں ہم نے تھوڑی دیر ایک کتاب پڑھنے اور کافی کے دو چار کپ پینے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ لہذا کچھ تسلی ہوئی۔

تھائی لینڈ پہنچنے کے دو چار گھنٹے بعد ہی مجھے اندازہ ہو گیا کہ یہاں آنے کا فیصلہ کوئی اتنا مناسب نہیں تھا۔ بنکاک ائر پورٹ سے شہر کی جانب جانے والی ٹرین میں سفر کا تجربہ تو خیر خوب رہا۔ مجھے لگا کہ میں ایک ترقی یافتہ اور قدرے مہذب معاشرے میں پہنچا ہوں لیکن ٹرین اسٹیشن سے اتر کر اپنے ہوٹل تک پہنچتے پہنچتے میری رائے بدل چکی تھی۔ مجھے فوری طور پہ تنگی، حبس اور ایک طرح کی گھٹن کا احساس ہوا۔ چھوٹی سڑکیں اور ان کے ساتھ اور بھی چھوٹے فٹ پاتھ۔

کنکریٹ کا ایک نا ختم ہونے والا جنگل۔ اوپر نیچے گزرتی سڑکوں کی چھتیں۔ آسمان کو چھوتی ایک دوسرے کے اوپر گرتی عمارتیں۔ ایک دوسرے کے اندر گھسے بلندوبالا پلازے اور شاپنگ مالز۔ گھروں میں بری طرح گھرے گھر۔ بالکل وہی کیفیت جو منیرؔ نیازی نے اپنے ایک پنجابی شعر میں کہی، ”شہر دے مکان / اپنے ای ڈر توں جڑے ہوئے نیں اک دوجے دے نال۔“ تھائی لینڈ جانے سے پہلے گزشتہ کچھ عرصے میں مجھے ترکی، مصر، ازبکستان، آذربائیجان وغیرہ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔

ان ممالک کے شہروں سے گھومتا گھماتا جو بندہ بھی بنکاک ( تھائی لینڈ ) پہنچتا ہے اس کی کیفیت قریب وہی ہوتی ہے جو میری تھی۔ ان ممالک میں آپ کو تازگی اور کشادگی کا جو احساس ہوتا ہے وہ یہاں بنکاک میں بالکل ہی مفقود تھی۔ شہر شہر گھومنے والے سیاحوں کو علم ہوتا ہے کہ ہر شہر کی اپنی الگ خوشبو/ بو ہوتی ہے۔ ترکی اور ازبکستان میں آپ کو کشادگی اور کھلے پن کا احساس ہوتا ہے اور باکو کی تازگی سے بھرپور ہمہ وقت چلنے والی جادوئی ہوا تو آپ کو مسحور کر دیتی ہے لیکن بنکاک کی فضا اس کے برعکس تھی یہاں تازگی محسوس ہوئی اور نہ خیر سے کہیں نفاست نظر آئی انسانی خوراک ہو یا انسانی تعلقات۔ یہاں ہر چیز کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا گیا ہے۔

سی فوڈ کی بو نے شہر کے سیاحتی علاقوں کو کافی متاثر کیا ہوا ہے۔ یہ لوگ گوشت کے نام پر نجانے کیا کچھ کھا جاتے ہیں۔ میرے ہوٹل کے سامنے ”پورک نوڈلز“ کی کوئی بہت معروف شاپ تھی۔ اس کی شہرت ایسے ہی تھی جیسے ہمارے ہاں لاہور میں تلی ہوئی مچھلی بیچنے والی مشہور دکانوں کی ہے۔ صبح صبح ان نوڈلز کے رسیا یہاں پہنچ کر قطار بنا لیتے۔ شاپ کے باہر رش اور اندر بیٹھے نوڈلز سے انصاف کرتے لوگوں کی ایک جھلک دن بھر ہماری طبیعت مکدر رکھتی۔ حلال کھانے کے آپشنز زیادہ نہیں ہیں۔ بلکہ کھانے پر ہی کیا موقوف ہے یہاں دیگر معاملات میں بھی یہی چلن نظر آتا ہے۔ کوئی بھولا بھٹکا، شریف شرفاء قسم کا بھلا مانس سیاح ادھر آ نکلے تو اسے بس ایک ہی چیلنج درپیش ہوتا ہے کہ اس ماحول میں دامن بچا کے کیسے پھرا کیے۔

تھائی لینڈ جانے سے پہلے یار لوگوں نے ہمیں بتایا کہ اب تھائی لینڈ بہت بدل گیا ہے۔ وہاں کے حیرت انگیز اور مثالی شاپنگ مالز دنیا بھر کے لیے اپنی جدت اور ورائٹی کے حوالے سے بے پناہ کشش کا باعث ہیں۔ بے شمار لوگ محض شاپنگ کے لیے یہاں تشریف لاتے ہیں۔ پھر تھائی لینڈ کے ساحلی شہر اور قدرتی حسن سے بھرپور جزیرے دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ یہاں کا نیلا آسمان اور سبز سمندر فطرت کے جادوئی کمالات کے مظہر ہیں۔

بے شمار لوگ تھائی لینڈ کا یہ فطری حسن دیکھنے یہاں آتے ہیں۔ اب وہاں جانے کے لیے کوئی ایک نہیں بلکہ کئی اٹریکشن ہیں جو باعث سفر ہو سکتی ہیں۔ لیکن سچی بات ہے کہ تھائی لینڈ میں ایک ہفتہ گزارنے اور دیس بدیس سے آئے مختلف رنگ و نسل کے افراد سے بالمشافہ ملاقات اور گفتگو کے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ تھائی لینڈ یاترا کا بڑا مقصد، خیر سے! اب بھی وہی ’ہوس سیر و تماشا‘ ہی ہے۔ شاپنگ وغیرہ یہاں کی سیاحت کے ذیلی مقاصد ہوں گے لیکن سر فہرست اب بھی حسن و عشق کے معاملات ہی ہیں۔ ہر ’بوالہوس‘ جس نے بقول استاد غالبؔ ’حسن پرستی شعار‘ کر رکھی ہو وہ تھائی لینڈ آ کر یوں محسوس کرتا ہے جیسے مچھلی پانی میں آ گئی ہو۔ یہ باشندگان اپنے اپنے ملک میں اس حوالے سے طلب و رسد میں عدم توازن پاکر یہاں پدھارتے ہیں اور یہاں موجود فراواں حسن کی خیرات پاکر واپس نکل لیتے ہیں۔ شاعر نے کہا تھا

رنگ و رس کی ہوس اور بس مسئلہ دسترس اور بس!

Facebook Comments HS