آپ اللہ اللہ کیوں نہیں کرتے؟


چند روز پہلے ایک پرانے جاننے والوں کا فون آیا کہ وہ ہمارے شہر ایک دو روز کے لئے آرہے ہیں اور تھوڑی دیر کے لئے ہم سے بھی ملنے آئیں گے۔ ایک دو دن بعد دونوں میاں بیوی تشریف لائے اور چائے پہ کچھ پرانے دنوں کی اور آج کل کے زمانے کی باتیں ہوتی رہیں۔

باتوں کے درمیان مہمان خاتون مجھ سے مخاطب ہوئیں۔ ’آپ کہانیاں لکھنے کے بجائے اللہ اللہ کیوں نہیں کرتے؟ آپ کہانیوں میں کیا لکھتے ہیں؟ ‘
یہ سوال کوئی غیر متوقع نہیں تھا۔

میں نے مسکرا کر جواب دیا۔ ’میری اکثر کہانیاں ظلم اور نا انصافی کے خلاف ہوتی ہیں۔ یہ میرا مذہبی فریضہ بھی ہے اور شوق بھی۔ آگر میں ظلم کو اجاگر نہ کروں تو میں ظالم کے ساتھ ہوں۔ ظالم کو میری مدد کی ضرورت نہیں ہے، اسے میری خاموشی کی ضرورت ہے۔ اس کے پاس ظلم ڈھانے کے بے شمار وسائل ہیں۔ ‘ پھر میں نے حبیب جالب کا شعر سنایا۔ ؎

مخلوق خدا جب کسی مشکل میں پھنسی ہو
سجدے میں پڑے رہنا عبادت نہیں ہوتی

باتوں ہی باتوں میں گفتگو کا عنوان بدل گیا اور مجھے پوری بات کہنے کا موقع نہیں ملا۔
وہ باقی بات کیا تھی؟

میں یہ کہنا چاہتا تھا کہ ایک معاشرہ صرف مذہبی فرائض اور عبادات کے بل بوتے پہ ترقی نہیں کر سکتا۔ معاشرے کی ترقی کے لئے زندگی کے ہر شعبے میں ذوق پرواز اور جنون کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ذوق پرواز یا اپنے شوق سے عشق ہر طرح کی دلچسپی کے لوگوں میں ہونا چاہیے خواہ وہ سائنسی علوم ہوں، یا فنون لطیفہ کے، یا جسمانی کھیل کود کے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم اقبال اقبال تو ہر وقت کرتے ہیں لیکن ان کے اس شعر پہ غور و فکر نہیں کرتے۔ ؎

دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر

پچھلے دنوں ایک مضمون میں ناصر عابدی نے کتنی وزنی بات لکھ دی:
’ کسی معاشرے میں جب صبح شام مذہب مذہب، نماز، روزہ، حج، عمرے کی گردان ہونے لگے تو سمجھ لیجیے کہ وہ معاشرہ اپنی اخلاقی پستی کی آخری سیڑھی پر کھڑا ہے۔ ‘

جب لوگ علم و عمل، اپنے لگن و جنون کے بارے میں بات کریں گے تو سمجھ لینا چاہیے کہ معاشرہ ترقی کی راہ پہ گامزن ہو گیا ہے۔ اقبال کے کلام کی واضح مثال ہمارے سامنے موجود ہے۔ ان لوگوں کے ہاں بچپن سے ہی یہ تربیت دی جاتی ہے کہ بچے نے بڑا ہو کر کچھ کر دکھانا ہے یا کم از کم دوسروں پہ سبقت لے جانی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج یہ یہودی نسل کے لوگ علم کے ہر شعبے کی تحقیق میں بہت آگے نکل گئے ہیں۔ ہماری بہت سے اساتذہ ان کے ہائی اسکول کے طلباء سے علمی موضوعات پہ بحث نہیں کر سکتے۔ اسرائیل کے اسکولوں اور ہمارے پاکستانی اسکولوں کے معیار کا زمین آسمان کا فرق ہے۔ تنقیدی سوچ ان کی تعلیم کا ایک لازمی پہلو ہے جبکہ ہمارے ہاں اس کا مکمل فقدان ہے۔ تنقیدی سوچ رکھنے والے اور سوال کرنے والے کے انجام کی مثال جامعہ ولی خان کا طالب علم مشال خان کا قتل ہمارے سامنے ہے۔

کسی قوم کی علمی لگن کا ایک معیار فی کس کتب خانوں اور عجائب گھروں کی مقدار ہے۔ اسرائیل اس میں پہ پہلے نمبر پہ ہے جبکہ ہمارے ہاں ان فضول اداروں کو بند کر کے ہر طرف فوڈ اسٹریٹ کھل گئی ہے۔ اسرائیل کی ہر شعبے میں کامیابی کی وجہ اس کے عوام کی اپنے کام سے محبت و دیانت داری ہے۔ اس کے بر عکس ہماری قوم کا سارا زور ضیاء الحق کے دور سے مذہب مذہب کرنا ہے جس کا انجام ہم جہالت، غربت، بد دیانتی، نفرت، اور دہشت گردی کی پھیلتی ہوئی تاریکی میں دیکھ رہے ہیں۔

نجانے کب امید سحر رونما ہو گی! آج کل تو ہر طرف عمرہ کی سعادت کرنے اور کروانے کا شور ہے جس میں تقریباً ہر چھوٹے سے چھوٹا ادارہ اور بڑی سے بڑی کارپوریشن مبتلا ہے۔ ہم عمرہ کرنے میں پہلے نمبر پہ ہیں جبکہ اخلاقیات کے اصولوں پہ عمل کرنے میں ہمارا مقام کوسوں پستی میں ہے۔

کاش ہمارے اسکولوں میں محض اقبال کی تصویر سجانے کے علاوہ اس کے عشق اور لگن کے پیغام کو طلباء کے ذہنوں میں بٹھایا جائے۔ اس لگن، تنقیدی سوچ، اور ہر موضوع پہ بحث و مباحثہ کی آزادی کے بغیر ہماری حیثیت دولے شاہ کے چوہوں سے زیادہ نہیں ہے۔ ان صفات کے بغیر ہم جنوبی ایشیا میں سب سے آخری نمبر پر ہی رہیں گے۔

حوالہ: طوائف اور ہمارے مذہبی لوگ؛ ناصر عابدی؛ 20 اگست 2023 ؛

Facebook Comments HS