نوبل پرائز اور پاکستانی جینئیس نوید
نوبل پرائز کی خبریں آج کل ہر طرف سنائی دے رہی ہیں جن میں ہر سال مختلف کیٹگریز بشمول صحت کے شعبے میں لوگوں کو ان کی خدمات کے اعتراف میں انعامات دیے جاتے ہیں۔ اس ضمن میں پاکستانی موٹر مکینک نوید کی حیران کن خدمات سامنے آئی ہیں۔
ہمارا خیال ہے کہ نوبل پرائز بانٹنے والے سائنس دانوں کو ہمارے پاکستانی موٹر مکینک نوید کو بھی یاد رکھنا چاہیے جس نے میڈیا رپورٹس کے مطابق اٹھائیس مریضوں کے گردوں کی پیوند کاری کا کارنامہ تن تنہا انجام دے کر دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ ان مریضوں میں نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکیوں کے گردوں کی پیوند کاری بھی شامل ہے۔ ان میجر اور پیچیدہ سرجری کے عمل کے دوران انہیں بے ہوشی والے سپیشلسٹ بھی میسر نہیں رہے مگر انہوں نے اس مسئلے کو اپنے مشن کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا اور بے ہوش کرنے کا یہ عمل بھی اپنے اعتماد اور لیاقت کی بنا پر خود انجام دیا جو بجائے خود ایک حیران کن عمل ہے۔
صرف یہی نہیں بلکہ قانون، اخلاقیات اور سماج کی بلند دیواریں بھی ان کی اس خدمت کے راستے میں حائل رہیں۔ آپ کو ان سے ملتی جلتی خدمات کے اعتراف میں اپنی او ٹی اے کی سرکاری نوکری سے بھی دستبردار ہونا پڑا مگر یہ مشکلات انہیں انسانیت کی خدمت سے باز نہیں رکھ پائیں۔ یاد رہے کہ دکھی مریضوں کی حاجت روائی کرنے والے یہ مسٹر نوید محض او ٹی اے کا ڈپلومہ رکھتے ہیں اور غالب امکان ہے کہ کسی بوسیدہ سے رہائشی مکان میں انہوں نے بغیر کسی اسٹیٹ آف دی آرٹ آپریشن تھیٹر کے عام سے آپریشن تھیٹر میں یہ خدمات انجام دی ہیں۔
لوگوں کی معاشی حالت سدھارنے اور فاضل گردے کے بوجھ سے آزاد کرنے کا اضافی بیڑہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے تینتیس لاکھ روپے فی کس کے حساب سے لوگوں میں اپنی جیب سے تقسیم کیے اور اس عظمت کردار کے لئے کسی طرح کی خودنمائی اور تشہیر سے بھی انتہائی درجہ میں گریز کیا۔ نتیجتاً ان کی یہ خدمت صرف انتہائی حق داران تک محدود رہیں۔ خودنمائی سے گریز کی یہ خو اور خواہش ان کے کردار کی خوشبو کو چہار سو پھیلنے سے نہیں روک پائی جس کو سونگھتے ہوئے پاکستانی حکومتی ادارے بھی بھنوروں کی طرح ان کی طرف کھنچتے چلے آئے اور بالآخر خوشبو کے ماخذ اس پھول کو اپنی کو اپنی بانہوں کے حصار میں لے لیا۔
فی الوقت ان کی خدمات کا اعتراف قانون نافذ کرنے والے ادارے بشمول پولیس اور ایف آئی اے کر رہے ہیں جن کے پاس وہ آج کل سرکاری مہمان کے طور پر موجود ہیں۔ یہاں ان کے دیکھے اور ان دیکھے انسانی کارناموں پر تحقیق کا عمل جاری ہے اور اس ضمن میں کسی بھی طرح سے ان کی مدد کرنے والوں کو بھی تلاش کیا جا رہا ہے تاکہ سرکاری سطح پر ان سب کی کماحقہ قانونی اور عدالتی پذیرائی عطا کی جا سکے۔
دکھ اس بات کا ہے کہ ان تمام تر خدمات کے باوجود مجال ہے کہ نوبل پرائز عطا کرنے والوں نے ان کی انسانیت نوازی کا ذرہ بھر بھی نوٹس لیا ہو۔ یہود و ہنود کا یہی متعصبانہ رویہ انسانی خدمات کے ضمن میں پاکستانیوں کی حوصلہ شکنی کا سبب بن رہا ہے مگر عالمی برادری کو آگاہ رہنا چاہیے کہ کہ اس تغافل کے باوجود پاکستانی کبھی بددل نہیں ہوتے اور ہر گلی اور محلہ میں ایسے مجاہدین نہ صرف موجود ہیں بلکہ انسانی صحت کے ضمن میں اپنی اوقات سے بڑھ کر وہ خدمات انجام دے رہے ہیں جن کا اعتراف کسی انسانی فورم کے بس کی بات ہی نہیں۔ ان کی خدمات کا اعتراف صرف ”عزرائیل“ کو ہی زیبا ہے۔


