نو مئی اور عمران خان کا مستقبل
28 جنوری کو ملک میں عام انتخابات ہوں گے، الیکشن کمیشن کی طرف سے باقاعدہ اعلان ہو چکا ہے، سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں سے بظاہر یہی لگ رہا ہے کہ انتخابات دی گئی تاریخ کے مطابق ہوں گے، دی گئی تاریخ کے باوجود ایک خوف تو ہے کہ شاید حالات ایسے پیدا ہوں کہ انتخابات مزید طول پکڑیں لیکن یہ اب تک محض ایک خدشہ ہے، کیونکہ نواز شریف کی واپسی انتخابات کی تصدیق سمجھی جا رہی ہے، اس ضمن میں سب سے زیادہ پرجوش مسلم لیگ ہے جو اپنے قائد کے استقبال کو ایک بہت بڑے ایونٹ میں بدل کر انتخابی مہم کا آغاز کرنا چاہتی ہے، پی پی پی دباؤ میں ہے، جے یو آئی کے گڑھ کے پی کے اور بلوچستان میں بدامنی اور سخت موسم پریشان کن ہیں، جبکہ ملک کی سابقہ حکمران جماعت پی ٹی آئی مشکلات میں ہے، ( بلکہ ناممکنات میں ہے ) ان مشکلات کی وجہ پی ٹی آئی سربراہ عمران خان کا 9 مئی کو ریڈ لائن کراس کرنے کی وہ فاش غلطی تھی جس کی سزا اسے پی ٹی آئی بکھرنے کی صورت میں ملی ہے اور آنے والے انتخابات میں سابقہ حکمران جماعت کے لیے امیدوار ملنا مشکل ہو رہا ہے۔
پاکستان کی عمر 75 سال ہے اور ملک میں موجود بڑی سیاسی پارٹیاں بھی عمررسیدہ ہیں، مسلم لیگ اس ملک کی خالق جماعت ہے، جے یو آئی کا قیام 1953 کو ہوا ہے، پی پی پی 1967 کو قائم ہوئی ہے اور پی ٹی آئی کا قیام 1996 کو ہوا۔
ملک میں تین طویل مارشل لاء آئے، ان کے خلاف سیاسی جماعتوں نے تاریخ ساز جدوجہد کی، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، کوڑے کھائے، جلاوطن ہوئے لیکن ان تمام احتجاجوں کے باوجود ریڈ لائن کراس نہیں کیا گیا، ایسا احتجاج نہیں ہوا جس سے ملکی سالمیت پر بات آئے، کیونکہ آپ ایک ریاست میں سیاسی سرگرمیاں کرتے ہیں، تو ریاستی قوانین کا احترام بہرطور ملحوظ نظر رکھے جائیں گے، اگر سیاسی جماعتیں احتجاج کے نام پر وہ کچھ کریں جو عمران خان کی گرفتاری پر کیا گیا وہ حدود پھلانگنے کے مترادف سمجھا جائے گا اور سمجھا گیا، 9 مئی کو عمران خان نے جو کچھ کیا وہ احتجاج نہیں بغاوت تھی، جس طرح دنیا کی کوئی بھی ریاست احتجاج کا حق نہیں چھین سکتی ہے بالکل اسی طرح دنیا کی کوئی بھی ریاست بغاوت کی اجازت بھی نہیں دے سکتی ہے۔
ماضی میں یہی کچھ ایم کیو ایم نے کیا، 80 کی دہائی میں ایم کیو ایم کا قیام ہوا، نوجوان الطاف حسین کی آتشیں تقاریر نے مہاجر کمیونٹی میں ایک سماں باندھا، الطاف کے لفظ لفظ کو مہاجر مقدس صحیفے میں لپیٹ کر اپنے دل و دماغ کے گوشوں میں محفوظ کرتے رہے، دیکھتے ہی دیکھتے ایم کیو ایم نے طاقت پکڑی، قائد تحریک کی نکسیر پھوٹتی تو کراچی بند ہوتا ہے، ایم کیو ایم کے کسی سرکردہ راہنما کے پاؤں میں موچ آ جاتی تو سڑکیں سنسان ہوجاتی تھیں، گلیوں میں خوف بستا تھا، بات یہاں تک نہیں رکی، بے لگام طاقت اور مہاجر کے نام اکٹھی کی جانے والی دولت نے قائد تحریک کو تشدد کے راستے پر ڈال دیا، سیاسی مخالفین قتل ہوتے رہے، حکم عدولی کرنے والوں کی لاشیں بوریوں سے ملنے لگیں، اور ایک وقت آیا جب کراچی کا بیشتر حصہ نو گو ایریا بن گیا اور تین دہائیوں تک پورا کراچی دہشت کی علامت بنا رہا، آخر میں بات یہاں تک آ گئی کہ الطاف حسین نے اپنی ایک تقریر میں وہ باتیں کیں جنہیں ریڈ لائن کراس سمجھا جاتا ہے، پھر وہ دن اور آج کا دن نہ الطاف حسین کی سیاست رہی، نہ ایم کیو ایم کی تنظیم بچی، آج کی ایم کیو ایم الگ ہے جو ری آرگنائز ہو کر اپنے وجود البقاء کی جنگ میں مصروف ہے۔
جب کوئی جماعت ملکی آئین کے دائرے میں رہ کر سیاست کرتی ہے تو پھر اسے سمجھ لینا چاہیے کہ اگر وہ بغاوت کی پالیسی اختیار کرے گی تو بالآخر اسے خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔
ہاں یہ بات درست ہے کہ ملکی نظام عوام کو راحت دینے میں ناکام ہے، عام لوگوں کی زندگی جہنم ہے، ریاست اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہی ہے، نظام انصاف ناپید ہے، تھانہ کلچر تباہ ہے، بھوک ہر گھر میں محو رقص ہے، بدامنی اور بے روزگاری نے ہرطرف پنجے گاڑے ہیں لیکن کیا عمران خان کی جدوجہد اس نظام کی تبدیلی کے لیے تھی، یا صرف اپنے لیے وزارت عظمی کے حصول کے لیے یہ سارا تماشا کیا گیا۔ نظام بدلنا تھا تو چار سال حکومت میں رہے، ایک پیج پر رہے، بجائے نظام بدلتا اس کے دور حکومت میں ملکی معیشت اور معاشرتی اخلاقیات تباہی کے آخری دھانے پر پہنچ گئے۔
بطور ایک سیاسی ورکر ہمارے لیے تمام سیاسی جماعتیں اور ان کے قائدین قابل احترام ہیں لیکن سیاسی جماعت کے نام پر پی ٹی آئی ایک سرکس تھی، اس سرکس میں سب کا تماشا لگایا گیا، پی ٹی آئی نے نہ صرف معیشت کو ٹھکانے لگایا بلکہ سیاسی گفتگو کے آداب کی مٹی تک پلید کردی، سیاسی زبان میں ماضی میں بھی سیاستدان ایک دوسرے پر طنز کرتے رہے ہیں، اور جملے بھی کستے رہے ہیں لیکن عمران خان الفاظ کے کپڑے اتار کر مخالفین پر اچھالتا تھا، اس کی وجہ یہ ہے کہ عمران سیاست کا گرم و سرد چشیدہ نہ تھا، وہ سیاسی مراحل سے نہیں گزرا تھا، اس کی سیاسی تربیت نہیں ہوئی تھی وہ پلے بوائے سے سیاست میں آیا اور سیاست کو بھی پلے بوائے کے رنگ میں رنگنا چاہا، جس کا انجام اس کے سامنے ہے۔
جہاں تک یہ سوال کہ تشدد سے سیاسی جماعتیں ختم نہیں ہوتی ہیں، قیدوبند سے لیڈر کو خوفزدہ نہیں کیا جاسکتا ہے، بھٹو پھانسی چڑھے پی پی زندہ رہی، نواز شریف دو بار قید اور جلاوطن ہوئے مسلم لیگ آج بھی بہت بڑی حقیقت ہے، جے یو آئی کو ختم کرنے کی کوششیں ہوئیں وہ مزید ابھر کر سامنے آ گئی ہے، اس بات سے اتفاق ہے کہ تشدد سے سیاسی جماعتیں ختم نہیں ہوتی ہیں اور لیڈر کو خوفزدہ نہیں کیا جاسکتا ہے، لیکن پہلے عرض کرچکا ہوں کہ نہ پی ٹی آئی کوئی سیاسی جماعت تھی اور نہ عمران خان سیاستدان تھے، نرگسیت کے خمار میں ڈوبے ہوئے اس شخص نے سب کچھ تہس نہس کرتے کرتے 9 مئی کو اپنی سیاست کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دیا، آج پی ٹی آئی تاریخ کا حصہ بن چکی ہے اور اس کے سارے پرندے اڑ کر دوسرے گھونسلوں میں پناہ لے چکے ہیں اور خان صاحب زنداں میں اپنی حسرتوں پر آنسو بہ اکر سو رہے ہیں، نگراں وزیراعظم بتا رہے ہیں کہ عمران خان کے بغیر بھی منصفانہ انتخابات ہوسکتے ہیں۔


