انگریز بھی کیا لوگ تھے
ہندوستان پر آج سے ایک ہزار سال پہلے مسلمان حملہ آور ہوئے اور یہاں اپنی سلطنت بنائی۔ پھر مختلف علاقوں سے شکست خوردہ مسلمان یہاں آ کر حکومت کرتے رہے۔ لیکن انتظامی حوالے سے ان تمام مسلمانوں کا حال ایسا نہیں ہے کہ بیان کیا جا سکے۔ پھر انگریز ہندوستان پر قابض ہوئے اور ہندوستان نے پہلی مرتبہ بادشاہی حکم نامہ کے جگہ ریاستی انتظام دیکھا۔ یہاں کسی کی شخصی خواہش کی جگہ سلطنت برطانیہ کا بنایا ہوا ایک مکمل نظام نافذ کیا گیا۔ جس میں پولیس، ڈاکخانہ، محکمہ مال، پٹوار، عدالت وغیرہ لوگوں نے دیکھے۔ تعلیمی ادارے بنائے گئے۔ اور ہر علاقے کی ہر مہینے باقاعدہ رپورٹ بنا کر مرکز کو بھیجی جاتی تھی۔ اور مرکز سے یہ رپورٹیں انگلستان بھیجی جاتی تھیں۔ تمام عہدوں پر باقاعدہ تربیت یافتہ و تعلیم یافتہ عملہ تعینات ہوتا تھا۔ ملک گیری کے علاوہ عوام کے فلاح و بہبود کے ادارے قائم کیے گئے۔ ملک میں پولیس سٹیشن، پولیس کے لیے تحریری قوانین، سزا و جزا کے لیے عدالت اور عدالتوں کے فیصلے کے خلاف اپیل کے لیے اعلی عدالت قائم کی گئی۔
اور ان عدالتوں میں انصاف کی مثالی فراہمی کو یقینی بنایا گیا۔ لارڈ لویران نے 1864 میں ہائی کورٹ بنوایا۔ لارڈ مایو نے 1872 میں پہلی مردم شماری کروائی، انہوں نے ہندوستان کا شماریاتی سروے کروایا۔ لارڈ نارتھ بروک نے شادیوں کو قانونی حیثیت دی اور عدالتوں میں شادی اور اس کا ریکارڈ رکھنے کو رواج بنایا۔ چند ہزار انگریزوں نے پورے ہندوستان کو کئی سو برس اس خوبصورتی سے چلایا کہ آج اس کی نظیر نہیں ملتی، نہ صرف ہندوستان بلکہ انگریزوں نے افغانستان اور دیگر ریاستوں کو بھی اپنے قابو میں کیے رکھا اور وہاں اپنی مرضی و منشا کے مطابق حکمرانوں کو برسراقتدار رکھا اور بالواسطہ اپنی سلطنت میں امن قائم رکھا۔
ہندوستان کے کونے کونے میں ریلوے کا نظام پہنچایا اور پورے ہندوستان کو تجارتی طور پر ایک دوسرے سے منسلک کر دیا۔ اور ہندوستان کی پیداوار کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کا بھی انتظام کیا۔ اس طرح کے ہزاروں کام تھے جو اس سے پہلے کے ہزار برس میں نہیں ہوئے تھے۔ جو انگریزوں نے کیے اور ہندوستان کے لوگ اس سے مستفید ہوئے۔ یہاں باقاعدہ تعلیمی ادارے بنے جو ترقی کر کے یونیورسٹیاں بن گئیں۔ جن سے تعلیم حاصل کر کے ہندوستانیوں نے جہاں بانی کے گر سیکھے۔
یہ سب سرکاری سطح پر ہو رہا تھا مگر ایک اور خصوصیت انگریزوں کی ایسی تھی جو انگریزوں کے جانے کے بعد یہاں برقرار نہ رہی۔ وہ تھی ایمانداری، حب الوطنی۔ انگریز بے انتہا ایماندار تھے اور سلطنت برطانیہ کے ایسے وفادار تھے کہ ان کے سر کٹ جاتے تھے لیکن وہ اپنے وطن سے اور لیے گئے عہد سے وفاداری نبھاتے تھے۔ انگریزوں کی ایک بہت بڑی تعداد مشنری جذبے سے سرشار ہو کر ہندوستان آئی تھی۔ ان مشنری لوگوں نے عیسائیت کی تبلیغ بھی کی اور رفاہی کام بھی کیے۔
آج ہندوستان بھر میں ان کے بنائے ہوئے ہسپتال، یتیم خانے، سکول، کالجز ان کی یادگار ہیں۔ یہ مشنری حضرات زیادہ تعداد میں کلکتہ، بمبئی، سورت، دہلی، کراچی، ڈھاکہ، لاہور اور ہندوستان کے سینکڑوں دیگر شہروں میں آباد ہو گئے تھے۔ خاص کر ان شہروں میں جہاں انگریز فوجوں کی باقاعدہ چھاؤنیاں تھیں۔ جہاں جہاں انگریزوں کی کنٹونمنٹس تھیں وہاں آج بھی جاکر دیکھیں آپ کو ان مشنریوں کے بنائے ہوئے سکول، ہسپتال اور خیراتی ادارے نظر آئیں گے۔
انگریزوں کے دور میں ہندوستان میں کوڑھ یعنی جذام کا مرض عام تھا۔ اس مرض میں مبتلا لوگوں سے لوگ دور بھاگتے تھے۔ ان کے قریب کوئی نہیں جاتا تھا مگر ان امراض کے علاج اور اس کے خاتمے کے لیے انگریز مشنریوں نے بہت کام کیا۔ اس کے کئی ایک ہسپتال بنوائے اور آخر کا ر ان کی مساعی کے بدولت اس مرض سے ہندوستان کی جان چھٹی۔ انگریز حکومت اور مشنریوں کے علاوہ ان کے وائسرائیوں کی بیویوں اور ان کے دیگر افسران کی بیگمات نے بھی ہندوستان کی بہت زیادہ خدمت کی ہے۔
پشاور کا ریڈی ریڈنگ ہسپتال۔ لاہور کا لیڈی ویلنگڈن ہسپتال، لیڈی گرفتھ سکول، کوئین میری سکول، غرض اس طرح کے درجنوں سکولز اور خیراتی ادارے جو انہوں نے بنائے آج بھی قائم ہیں۔ ان سکولوں کا معیار آج بھی سب سے بہتر ہے۔ خیراتی ادارے بنانے میں ان کو جو سبقت حاصل ہے اس کا موازنہ اگر آج کے دور کے حکمرانوں اور ان کی بیگمات سے کیا جائے تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کی مثال ہی لے لیں۔ جب لیڈی ریڈنگ جن کا نام ایلس ایڈتھ اسحاق تھا اور یہ یہودی تھیں۔
ان کے شوہر 1921 سے 1926 تک ہند کے وائسرائے تھے۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ دورے پر پشاور آئیں اور کچھ عرصہ قیام کیا۔ اس خاتون نے ویمن آف انڈیا فنڈ قائم کیا جس سے لاکھوں ہندوستانی خواتین کے بہبود کے لیے رقم، مواقع اور پلیٹ فارم مہیا کیا گیا، انہیں ہندوستان آنے سے پہلے ہی کینسر کا مرض لاحق ہو گیا تھا جس کے علاج کی غرض سے انہیں ہسپتال جانا پڑتا تھا۔ وہ جب پشاور آئیں تو انہوں نے پوچھا کہ یہاں ہسپتال کہاں ہے۔
تو انہیں بتایا گیا کہ یہاں تو کوئی باقاعدہ ہسپتال نہیں ہے۔ البتہ ایک شفا خانہ ہے جسے ایجرٹن شفاخانہ کہتے ہیں۔ لیکن نہ تو وہاں کوئی باقاعدہ ڈاکٹر ہے اور نہ دیگر سہولیات ہیں۔ انہوں نے اس وقت کے کمشنر بولٹن سے کہا کہ کیا ہم یہاں ہسپتال نہیں بنوا سکتے۔ تو بولٹن نے ان کو تفصیلی جواب دیا کہ ہسپتال بنانے کے لیے پچاس ہزار روپے درکار ہیں۔ حکومت زمین دے سکتی ہے اور دیگر سہولیات بھی لیکن اس وقت پچاس ہزار روپے دینا حکومت کے بس میں نہیں ہے۔ جنگ عظیم اول کے بعد ان کے پاس وسائل بہت کم ہیں اور حکومت کے دیگر اخراجات بہت زیادہ ہیں۔ اسی وقت لیڈی ریڈنگ نے ان سے کہا مناسب جگہ دکھائیں۔ پیسہ ہم جمع کر لیں گے۔ بولٹن ان کو لے کر قلعہ بالا حصار کے پشت پر واقع زمین دکھانے لائے جہاں پرانا ایجرٹن شفا خانہ بھی تھا۔ یہاں کچھ قبریں تھیں جن میں سے ایک پر ان کے گھوڑے کا پاؤں پھسلا جس سے لیڈی ریڈنگ گھوڑے سے گر گئیں اور ان کا پاؤں ٹوٹ گیا۔ انہیں سٹریچر میں لاہور اور وہاں سے کلکتہ منتقل کیا گیا اور ان کا علاج ہوا۔ اس لیے کہ پشاور میں اس وقت علاج کا کوئی مناسب بندوبست نہیں تھا۔ صحت یاب ہونے کے بعد ان کے شوہر کی ملازمت کا دورانیہ بھی مکمل ہو گیا تھا۔ مگر لیڈی ریڈنگ واپس پشاور آ گئیں اور انہوں نے چندہ کر کے باون ہزار روپے بھی جمع کیے اور اپنی نگرانی میں اس ہسپتال کو مکمل کیا۔ یہ ہسپتال اس کے بعد آج تک افغانستان اور خیبر پختونخوا کے تمام مریضوں کا مسیحا خانہ رہا ہے۔ لیڈی ولینگڈن بھی وائسرائے ہند فری مین کی بیگم تھیں۔
ان کے اتنے کارنامے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ اس خاتون نے ان ہندوستانیوں کے خاندانوں کے لیے بہبود کے بہت سارے کام کیے جو پہلی جنگ عظیم میں انگلستان کے لیے لڑتے ہوئے مارے گئے تھے۔ ان کی کوششوں اور چندے سے لاہور کا لیڈی ولینگڈن ہسپتال بنا جو زچہ و بچہ کے لیے ہندوستان میں پہلا باقاعدہ ہسپتال تھا اور آج تک یہ ہسپتال قائم ہے۔ انہوں نے دوسرا ہسپتال منالی ہماچل پردیش ہندوستان میں بھی بنایا تھا اور یہ آج بھی منالی کا سب سے بڑا ہسپتال ہے۔
آپ کسی بھی شہر میں جائیں جہاں انگریزوں کی حکومت رہی ہو وہاں آپ کو یہ خیراتی ادارے ملیں گے۔ بہت سارے ادارے ایسے ہیں جن کے لیے انگریز خواتین نے اپنی تمام دولت وقف کی اور ان اداروں کے لیے چندے کیے۔ ان اداروں کے لیے ایک بہترین انتظامی نظام ترتیب دیا۔ دہلی، کلکتہ، بمبئی اور کراچی میں ایسے ادارے آپ کو ہر موڑ پر ملیں گے۔ پاکستان بننے کے بعد ایسے بہت سارے خیراتی ادارے جو ان انگریزوں نے قائم کیے تھے۔ ان پر مقامی قبضہ مافیا نے قبضہ جما کر ان کو ہتھیا لیا اور چند ایک اب بھی قائم ہیں۔
ہم ان انگریزوں سے ان کی اچھی عادتیں نہ اپنا سکے۔ پاکستان بننے سے اب تک پاکستان کے حکمران پاکستان کو لوٹتے رہے اور ان کی بیگمات ان سے اس معاملے میں دو دو ہاتھ آگے رہی ہیں۔ یہاں آج بھی آپ کو بہت سارے ادارے ملیں گے جو پاکستانی سیاست دانوں کے بیگمات اور بچوں کے نام پر بنے ہوئے ہیں لیکن ان کے بنانے میں ان کا کوئی ذاتی عمل دخل نہیں ہے بلکہ یہ سرکاری فنڈز سے بنائے گئے ہیں۔ سندھ بھر میں آپ کو بھٹو خاندان کے بچوں کے نام پر میڈیکل کالجز، یونیورسٹیاں، ہسپتال اور دیگر ادارے ملیں گے۔
یہ سارے ادارے حکومت کے فنڈز سے بنائے گئے ہیں۔ لیکن آپ کو انگریزوں کے دور میں ایک بھی ایسی عمارت نظر نہیں آئی گی جو حکومت کے خرچے پر بنی ہو اور اس پر کسی افسر نے اپنا یا اپنی بیگم یا بچوں کا نام چسپاں کیا ہو۔ اس کی مثال دیکھیں اسلامیہ کالج پشاور میں انگریز افسروں نے اپنے ذاتی جمع پونجی سے طلبا کے لیے ہاسٹل بنوائے جو آج بھی ان کے نام سے آباد ہیں۔ اس وقت ملک میں بے نظیر کے نام پر سات یونیورسٹیاں ہیں۔
جن میں سے ایک بھی انہوں نے نہیں بنائی اور نہ ہی ان کے ذاتی پیسے سے ایک روپیہ ان پر خرچ کیا گیا۔ عبدالولی خان یونیورسٹی، باچا خان یونیورسٹی، نواز شریف کے نام پر تین یونیورسٹیاں، بیگم نصرت بھٹو یونیورسٹی، پیر مہر علی شاہ یونیورسٹی، سردار بہادر خان یونیورسٹی، ذوالفقار علی بھٹو کے نام پر چار یونیورسٹیاں سرکاری خرچے پر بنی ہیں۔ ان یونیورسٹیوں میں سے کسی بھی ایک یونیورسٹی کے لیے ان افراد یا ان کے خاندانوں نے نہ کوئی زمین دی ہے اور نہ ہی کوئی مالی امداد دی ہے۔
جبکہ جو بھی وائسرائے ہندوستان آتا تھا وہ سرکاری خرچے پر اپنے نام کی کوئی تشہیر نہیں کر سکتا تھا۔ اور ہر برس ان کی آمدن کا باقاعدہ حساب انگلستان بھیجا جاتا تھا اور ان کی بیگم کوئی سرکاری تحفہ وصول کرنے کی مجاز نہیں تھیں۔ جو تحفہ بھی انہیں دیا جاتا تھا وہ مال خانے میں جمع ہوتا تھا۔ جسے باقاعدہ اندراج کے بعد انگلستان روانہ کیا جاتا تھا۔ ہمارے ہاں بھی ان کی تقلید میں توشہ خانہ بنایا گیا تھا۔ اور اس توشہ خانہ سے ہمارے حکمرانوں اور ان کے خاندان والوں نے کیا کیا فائدے اٹھائے ہیں۔
وہ اب کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ سلطنت برطانیہ ہندوستان میں کسی بڑے خاندان کے فرد کو وائسرائے بنا کر بھیجتی تھی۔ ان کو اپنے خاندان کی شرافت اور عزت کا احساس رہتا تھا۔ اس لیے انگلستان کے میوزیم ان قیمتی ترین تحفوں سے بھرے پڑے ہیں۔ جو ان کو ذاتی حیثیت میں ملے تھے۔ ہم ہمیشہ انگریزوں کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ لیکن ان کے کتوں کی رکھوالی کرنے والے اور وظیفہ خور جو ان کے لیے مخبری کرتے تھے جو ان کے جانے کے بعد یہاں برسر اقتدار آئے۔
ان کو سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں۔ وہ تہذیب یافتہ تھے، تمدن یافتہ تھے، تعلیم یافتہ تھے اور وفادار تھے، ایماندار تھے جبکہ ان کے لیے مخبری کرنے والے بد تہذیب، تمدن سے عاری، ان پڑھ، بے وفا اور انتہا درجے کے بے ایمان تھے۔ کیا ہی اچھا ہو کسی دن ان انگریزوں کا اور ہمارے حکمرانوں کا موازنہ کرنے بیٹھ جائیں تو ہمیں اندازہ ہو جائے گا کہ ہم کیوں دنیا سے اخلاق، ایمانداری، فرض شناسی اور قابلیت میں بہت پیچھے ہیں۔ انڈیا آفس لائبریری لندن میں ان تمام افسران کے سالانہ کارکردگی اور اخلاقی رپورٹس موجود ہیں۔
جس میں ان کی کارکردگی کے علاوہ ان کے غلط کام بھی مکمل سچائی کے ساتھ رپورٹ ہوئے ہیں۔ کیا ہم ایسا کر سکتے ہیں۔ انگریزوں نے انگلستان میں اپنی جائیدادیں فروخت کر کے یہاں ہسپتال، سکول، کالجز، یونیورسٹیاں، یتیم خانے بنائے اور ہمارے حکمرانوں نے یہاں غریبوں کو لوٹ کر ان پیسوں سے لندن میں گھر اور جائیدادیں بنائی ہیں۔ لیکن ہم گالیاں انگریزوں کو ہی دیں گے اور قصیدے لوٹنے والوں کی ہی پڑھیں گے۔


