آزاد کشمیر میں جاری عوامی حقوق کی تحریک اور خود ساختہ ہیرو


آزاد کشمیر میں جاری تحریک جو فری بجلی کے حصول، آٹے اور دیگر اشیاء خورد و نوش پر سبسڈی کی بحالی، حکمرانوں کی مراعات کے خاتمے اور آزاد کشمیر میں نیشنل گریڈ اسٹیشن کے قیام کے لئے جاری ہے۔ جو آج آزاد کشمیر کے ہر شہر، ہر گاؤں بلکہ ہر گلی اور محلے تک پھیل چکی ہے۔ تقریباً ستر فیصد سے زائد شہریوں نے پچھلے دو ماہ سے بجلی بلوں کا مکمل طور پر بائیکاٹ کیا ہوا ہے۔ حکومت آزاد کشمیر کے ریونیو کا سب سے بڑا ذریعہ بجلی بل ہی ہیں۔ حکومت آزاد کشمیر کو اپنی روز مرہ کی سرگرمیاں روا رکھنے کے لئے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ وزیراعظم آزاد کشمیر نے مظاہرین سے متعدد بار مذاکرات کی کوشش کی۔ مظاہرین نے واضح پیغام دیا۔ ہمارے مطالبات پورے کر دو۔ یہی مذاکرات ہیں۔ ہم آزاد کشمیر میں جاری دھرنے اور آئے روز احتجاج ختم کر دیں گے۔

آزاد کشمیر والے فری بجلی کیوں مانگ رہے ہیں۔ آزاد کشمیر میں اس وقت تقریباً تین ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہوتی ہے۔ اور ضرورت صرف چار سو میگاواٹ سے کم ہے۔ اس پیداوار کا آزاد کشمیر کے شہریوں کو کوئی بینی فٹ نہیں ہوا۔ یہ پیداوار کرنے کے لئے آزاد کشمیر کے دو شہروں کو متاثر کیا گیا۔ میرپور شہر کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا۔ اس کی تاریخ، تہذیب و ثقافت سب کو ڈیم برد کر دیا گیا۔ یہاں کے باسیوں کو ان کی تاریخ، تہذیب و ثقافت سے جبراً ہمیشہ کے لئے محروم کر دیا گیا۔

بڑے بڑے اعلانات اور وعدے کیے گے۔ آزاد کشمیر کو بجلی فری دی جائے گی، میرپور کے شہریوں کے ایک ایک آنسو کا حساب چکتا کیا جائے گا۔ نیو میرپور کو دنیا کا جدید شہر بنایا جائے گا۔ لیکن آج تک کسی بھی اعلان، وعدے یا ایگریمنٹ پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ سب عملی طور پر جھوٹ ثابت ہوا۔ بات یہاں ختم نہیں ہوتی جو تھوڑی بہت تہذیب و ثقافت بچی تھی۔ اسے ڈیم کی اپ ریزنگ کے وقت ڈیم برد کر دیا گیا۔ اسی طرح مظفرآباد شہر کی خوبصورتی اور مخصوص موسم تقریباً پورا سال راتیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔

شہریوں کی مرضی و منشاء کے بغیر لاکھوں سالوں سے بہنے والے نیلم اور جہلم کا رخ تبدیل کر دیا گیا۔ آج اس شہر کے لاکھوں شہری پینے کے صاف پانی سے محروم ہو رہے ہیں۔ موسمی تبدیلی کی وجہ سے درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ آزاد کشمیر میں پن بجلی کے جاری پراجیکٹ مکمل ہونے کے بعد یہاں بجلی کی پیداوار تقریباً پانچ ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر جائے گی۔ یہاں پیدا ہونے والی بجلی پر یہاں کے باسیوں کا حق مالکیت ہے۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اس لئے فری بجلی کے حصول کے لئے جدوجہد کر رہی ہے۔

نیشنل گریڈ اسٹیشن کا قیام عمل میں لا کر واپڈا یا دیگر کسی بھی ادارے کو بجلی فروخت کی جائے۔ اس سے جو آمدن ہو وہ آزاد کشمیر کے شہریوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کی جائے۔ آزاد کشمیر ایک مقبوضہ علاقہ ہے۔ جس میں آٹے سمیت تقریباً چھپن اشیاء خورد و نوش پر یو این او کی طرف سے سبسڈی دی گئی ہیں۔ جو یہاں کے ظالم و جابر حکمرانوں نے منسوخ کر دی ہے۔ بڑی تعداد میں شہری دو وقت کی روٹی کے لئے کئی کئی گھنٹے قطاروں میں کھڑے ہوتے ہیں۔ ان سے ہتک آمیز رویہ معمول بن چکا ہے۔ کئی شہری آٹا لیے بغیر خالی ہاتھ واپس چلے جاتے ہیں۔ اسی طرح اس مقبوضہ علاقے کی کٹھ پتلی سرکار کی عیاشیوں پر ہر سال اربوں کے اخراجات اٹھتے ہیں۔ جو غیر ضروری ہیں۔ ان عیاشیوں پر پابندی لگائی جائے۔ اور یہ اربوں روپے شہریوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کیے جائیں۔

اس تحریک کو آزاد کشمیر کے باسیوں کی مسلسل محرومی نے جنم دیا ہے۔ اور یہاں کے سیاسی کارکنان جو پچھلے تین سال سے مسلسل اس کو ایک منظم تحریک بنانے کے لئے کوشاں تھے۔ یہاں پر طلباء آرگنائزیشن بالخصوص این ایس ایف اور ایس ایل ایف کے مسلسل سیاسی و نظریاتی عمل سے سیاسی کارکنان کی عددی اکثریت موجود تھی۔ یہ سارے عوامل اس تحریک میں شہریوں کو دن بدن متحد و منظم کر رہے ہیں۔ اب بہت سے ایسے لوگ بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا چاہتے ہیں۔ اپنے پیسے یا عہدے کی بنیاد پر خود ساختہ ہیرو بننا چاہتے ہیں۔ ان کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے ایسا انسانی تاریخ میں کبھی ممکن نہیں ہوا۔ کیونکہ عوامی تحریکوں میں اصل ہیرو عوام ہی ہوتے ہیں اور ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے ہر فرد کا کردار بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔

جن قوتوں نے میرپور کی پبلک کو آزاد کشمیر بھر کے اتحاد سے جدا کرنے کی ناکام کوششیں کیں۔ کیا وہ عوام دوست ہو سکتے ہیں؟ جن نے کہا ہم پانچ ستمبر کو چوک شہیداں میں بلات جلائیں گے۔ پانچ ستمبر آیا تو اس عمل سے خوف کھا گئے کئی کار سرکار میں مداخلت پر مقدمات درج نہ ہو جائیں۔ کیا عوامی حقوق اور فری بجلی کی جدوجہد کر سکتے ہیں؟ جب آزاد کشمیر بھر کے مزاحمت کاروں کو حکومت اور انتظامیہ زد و کوب کر رہی ہو اور چند لوگ وزیر اعظم کے در پر ان کا دیدار کرنے چلے جائے عوامی حقوق کی تحریکوں سے کس قدر واقفیت رکھتے ہیں اور جو تاریخ نہیں جانتے وہ کیا عوامی حقوق کی درست سمتوں میں لڑائی لڑ سکتے ہیں؟

میرپور کے شہریوں، ڈسٹرکٹ بار کے ممبران اور آزاد کشمیر بھر کے مزاحمت کاروں پر بل جلانے پر مقدمات اور پھر گرفتاریاں وزیر اعظم کی ایماء پر ہوئی اور اس عمل کے خلاف احتجاج کی کال دی جائے جو مخالفت کرے کیا وہ فری بجلی کی مخلصانہ انداز سے جدوجہد کرے گا؟ کیا وہ شہریوں کے بنیادی حقوق کے حق میں ہے؟ عمل وہ کسوٹی ہے جو واضح کرتی ہے کہ آپ حکمرانوں کے سہولت کار ہو یا عوامی حقوق کے پہرہ دار شہریو ہر کسی کے قول و فعل اور عمل پر گہری نظر رکھو سب واضح نظر آئے گا آزاد کشمیر میں جاری عوامی حقوق کی تحریک میں کوئی فرد واحد ہیرو نہیں ہے بلکہ پچاس لاکھ شہریوں کی اجتماعی قربانیاں اس تحریک کو توانا رکھے ہوئے ہیں۔ اگر کوئی یہ بولے کہ فلاں شخص حقوق دلوائے گا تو سمجھ جاؤ فلاں شخص فراڈ ہے دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ عوامی حقوق کی تحریکوں نے اجتماعی قیادت اور عوامی سطح پر قربانیوں کی مرہون منت ہی کامیابی تک رسائی حاصل کی۔

اب آزاد کشمیر کے عوام جنہوں نے بلوں کا بائیکاٹ کیا اس تحریک میں ریڑھ کی ہڈی کی ماند ہیں۔ سیکڑوں کی تعداد میں اجتماعی قیادت جو دن رات دھرنوں میں موجود ہے۔ مسلسل قربانیاں دے رہی ہے۔ جیلوں کا ذہنی و جسمانی تشدد برداشت کر رہی ہیں۔ تاجر ہر کال پر رضاکارانہ شٹر ڈاؤن کر رہے ہیں۔ وکلاء، طلبہ، ٹرانسپورٹرز، رکشہ ڈرائیورز، مزدور اور پھر خواتین ہر احتجاجی مظاہرے میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔ مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے شہری ہر ہڑتال کو کامیاب کرنے کے لئے اپنی مالی قربانی دے رہے ہیں۔ یہ سب عوامی حقوق کی تحریک کے حقیقی ہیرو ہیں۔ اگر کسی جگہ فرد واحد کی ذاتی تشہیر کی جا رہی ہے۔ تو سمجھ جاؤ یہ آپ کی اس تحریک جس کے اصل ہیرو آزاد کشمیر کا ہر شہری ہے یہ تشہیر کرنے والا اور جس کی تشہیر کی جا رہی ہے دونوں رانگ نمبر ہیں۔

آزاد کشمیر کے شہریوں کا اجتماعی سیاسی شعور اس تحریک کی وجہ سے چھلانگیں لگا رہا ہے۔ عوام متحد و منظم ہو رہے ہیں۔ بلوں کے بائیکاٹ میں ہر ماہ اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت سرکاری ملازمین کے لئے تنخواہ کی ادائیگی کے لئے بل کی رسید شرط رکھ رہی ہے۔ طلبہ، خواتین اور بچوں کو تحریک سے دور رکھنے کے لئے حکومت اور حکمران طبقات سر جوڑ رہے ہیں۔ یہ سب کسی فرد سے خوف کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ آزاد کشمیر کا ہر فرد جو کسی بھی سطح پر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک کی حمایت کر رہا ہے۔ اس کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور وہ اس تحریک کا ہیرو ہے۔ اب عوام کا اجتماعی شعور اتنا بلند ہو چکا ہے کہ کؤی بھی خود ساختہ ہیرو اب وزیر اعظم اور حکومت کی سہولت کاری کا کردار ادا نہیں کر پائے گا۔ آزاد کشمیر کے عوام اپنے بنیادی حقوق لینے میں ضرور کامیاب ہوں گے۔

Facebook Comments HS