”انارکلی“ ۔ اردو کا ایک شاہکار ڈرامہ
ادیب کا اخلاقی فرض یہ ہے کہ وہ، اپنے جمالیاتی شعور و ذوق کے ساتھ، فکر کی موزونیت، اسلوب کی نفاست اور تشبیہات کی فنکاری کو ہم آہنگ کرنے کے ساتھ ساتھ، تقدیر کی لعنت اور روحانی جاہ و جلال کی جستجو کے درمیاں الجھے ہوئے انسانوں کی کشمکش، جرات اور دانش مندی کی وضاحت کرتے ہوئے، فن کا لازوال جواز پیش کرتے ہیں۔ اس اصول کی روشنی میں، ہم سمجھ سکتے ہیں کہ کیوں انارکلی کو اردو کے ایک شاہکار ڈرا مے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
انارکلی مغلیہ دور میں ایک واقعے پر مبنی ہے اور اس ڈرامے کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ محل کی سجی ہوئی چھت کے نیچے ہونے والی لڑائی میدان جنگ میں ہونے والی تشدد کی مانند اتنی ہی خونخوار ہے۔ لالچ و حسد، انسانی جبلت کا ایک عنصر ہے، جو اس ڈرامے کے مکالموں میں ظاہر کیا گیا ہے، جس میں منافقت اور طنز یکجا نظر آتے ہین۔
ڈرامہ کچھ انوکھی خصوصیات کو ظاہر کرتا ہے جو نثر یا نظم میں نہیں پایا جاتا ہے۔ در حقیقت، یہ غلط فہمی ہے کہ ادبی اسلوب کے حوالے سے ڈرامے پر لگائی ہوئی پابندیاں نثر اور نظم کی نسبت کم ہیں۔ سب سے پہلے، ڈرامے کے ادبی قدر کا انحصار، نظم اور افسانہ پڑھنے کے برعکس، کاغذ پر نہیں، تھیٹر دیکھنے پر ہوتا ہے۔ جہاں ایک ناول نویس سامعین کے ذوق سے بے پرواہ ہو کر کسی بھی موضوع یا کسی بھی انداز میں لکھ سکتا ہے، جبکہ ایک ڈرامہ نویس سامعین کو تھیٹر میں ذہنی طور پر الجھائے رکھتا ہے۔
ڈرامہ کا فن اس جمالیاتی طاقت پر مبنی ہے کہ ڈرامہ نویس اور اداکار دونوں مکالموں، جسمانی حرکات، چہرے کے تاثرات، ملبوسات اور اسٹیج کی ترتیب کے امتزاج کے ذریعے پلاٹ کو جس طرح عروج پر پہنچاتے ہیں اس میں آپ سامعین کو اب صرف تماشائیوں کے طور پر تصور نہیں کر سکتے ہیں، بلکہ وہ ایک کردار کے طور پر موجود ہوتے ہیں۔ یہاں ڈرامہ نویس کی مہارت کا اس بات پر انصار نہیں ہوتا ہے کہ استعاراتی زبانوں کے ذریعے جمالیاتی ذائقہ پیدا کیا جائے، جو نظموں اور نثر کی ایک نمایاں خصوصیت ہوتی ہے۔ اس کے بجائے، ڈرامہ نویس مکالموں اور موڑ کا استعمال کرتے ہوئے کسی طرح ایک زبردست ماحول پیدا کرتا ہے جس میں سامعین کرداروں کے شخصیات کو اپنے ذہن میں از سر نو تشکیل دے سکتے ہیں۔
انارکلی، ایک کنیز کے حوالے سے محض ایک المیہ ڈرامہ ہونے کے بجائے، ایک ڈرامہ ہے کہ کس طرح انسانی رشتے خود غرضی، غلط حسابی، حسد اور منافقت سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ سلیم ایک لاڈلا شہزادہ ہے جس کے پاس مغل بادشاہت کی شان کو قائم رکھنے کے لئے ایک جائز لیڈر بننے کی کوئی صلاحیت نہیں ہے اور ان کے روئے کی بنیاد اور رہنمائی کس عقلیت میں نہیں، بلکہ مزاج میں ہے۔ اکبر ایک ایسا بادشاہ ہے جو اپنی جاہ و جلال کے باوجود اپنے آپ کو نا ہی زندگی کی پائیداری سے نا ہی شاہی خاندان کے وقار کا دفاع کرنے کے تفکرات سے آزاد کر سکتا ہے۔
انارکلی، اپنی توبہ شکن خوبصورتی کی وجہ سے، تعریف و داد اور نفرت دونوں سے مل جاتی ہے، پر حقیقت میں، یہ خوبصورت گلدان امید، ہمت اور شخصیت سے خالی نظر آتا ہے۔ دل آرام ایک چالاک کنیز ہے، لیکن اس بات سے واقف ہے کہ وہ ایک ایسے میدان جنگ میں رہ رہی ہے جس میں صرف موقع پرست ہی زندہ رہ سکتے ہیں۔ مختصر یہ کہ ہر کردار کی خامیوں کو محل کے شاندار ہیئت سے چھپایا نہیں جا سکتا ہے۔ اگرچہ اس مضمون میں اس ڈرامے کے بارے میں سب کچھ بیان کرنا نا ممکن ہے، لیکن میں اس ڈرامے کی قدر و حیثیت کے اتنے بلند ہونے کے چند وجوہات پر روشنی ڈالنا چاہوں گا۔
انارکلی ایک طویل ڈرامہ ہے اور اس کی ادبی کامیابی ڈرامہ نویس کی اس مہارت پر ہے کہ وہ منظر کی تقسیم اور گفتگو کی طوالت کے ذریعے ڈرامے کی رفتار اور سامعین کی دلچسپی کو کنٹرول کرتا ہے۔ ڈرامہ میں بوریت کی کوئی جگہ نہیں ہے، اور تجسس کے زبردست ماحول کو برقرار رکھا گیا ہے۔ مثلاً ”زندان کا بیرونی منظر“ (باب سوم، منظر چہارم) میں، جو ڈرامے کا مختصر ترین منظر ہے، انارکلی کی بدقسمتی، کچھ پیچیدہ مکالمے اور حرکات کے بغیر، ایک دردناک منظر کی تصویر کشی کرتے ہیں اور اس ڈرامے کی اداسی کو بلند کرتے ہیں۔
یہ منظر ڈرامے کی رفتار کو اور بھی سست کر دیتا ہے، جس سے سامعین کو آخری عروج تک پہنچنے سے پہلے ایک وقفہ ملتا ہے۔ مکالمے کے علاوہ، حاشیہ کے اندر لکھی گئی وضاحتوں سے ہم اس کی تعریف کر سکتے ہیں کہ ڈرامہ نویس انسانی جذبات، شخصیتوں، اور جسمانی حرکات کے درمیاں ہونے والے تعلق کے حوالے سے ان کا مشاہدہ کتنا ژؤف ہے۔ سلیم کی بی اعتدالی، بی پرواہی اور آرزوئیں، انارکلی کے اضمحلال اور تذبذب، دل آرام کی ہوشیاری اور چالاکی، اکبر کے احساس سختی، ایذا اور مایوسی، سب ہی حاشہ کے اندر لکھی گئی وضاحتوں سے ہم فرار حاصل نہیں کر سکتے ہیں۔
جہاں ڈرامہ کا مرکزی پلاٹ یہ بتاتا ہے کہ دل آرام نے اپنے احساس انتقام سے ایسا جال بچھایا جس نے نہ صرف انارکلی بلکہ شاہی خاندان کو بھی حسرت، صدمہ اور دکھوں کے ایک بھنور میں پھنسا دیا، وہاں ڈرامہ نویش نے بھی سامعین کے لیے ایک جال بچھایا ہے۔ ڈرامے کے عنوان سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ”انارکلی“ ڈرامے کا مرکزی کردار ہے، پر در حقیقت سید امتیاز علی تاج کے نزدیک انارکلی مرکزی کردار نہیں، بلکہ دل آرام ہے، جو ڈرامے کے اختتام میں ظاہر کیا گیا ہے۔
انارکلی کی بدقسمتی کو ڈرامے کے محور کے طور پر تصور نہیں کیا جا سکتا، بلکہ دل آرام کی فن دھوکہ دہی، جس نے تمام کرداروں کی تقدیر کو چہ مگوئیوں و سازشؤں کی زنجیر کے ساتھ باندھتے ہوئے تباہ کر ڈالا۔ اس لیے، یہ کہنا مبالغہ آرائی نہیں کہ ڈرامہ نویس نے تخلیقی چال چلائی جس میں سامعین کو جان بوجھ کر گمراہ کیا گیا!
اگر ہم ایک وسیع تر تاریخی نقطہ نظر کو اختیار کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ سلیم کی زندگی میں انارکلی کا کردار عاشق ہونے کے ساتھ ساتھ ہارنے والی کا بھی ہے۔ خواہ مخواہ انارکلی صرف ایک خوبصورت کنیز ہے جس کی جگہ کوئی اور کنیز لے سکتی ہے، جیسا کہ تاریخ نے ہمیں بتایا ہے کہ مغل شہزادہ سلیم کے ساتھ خوبصورت بیویاں بھی شامل تھیں، مثلاً من بھاوتی بائی۔ دالارام، اس کے برعکس، شہزادہ سلیم کو دکھاتی ہے کہ محل میدان جنگ سے مختلف نہیں ہے، جس کے ذریعے سلیم ان کے مستقبل کی راہ تیار کر رہا ہے۔ سب سے قیمتی سبق ڈرامے کے غیر تحریری آخری مکالمے میں سامنے آتا ہے۔
سلیم اکبر اور ماں سے اعترافی اور مصالحتی انداز میں کہتا ہے : ”سچ میں میں دل آرام سے مختلف نہیں۔ (بے قابو ہو کر روتا ہے ) میں ہوں، کم بخت!“


