لا حاصل کا قلق
خوشی کیا ہے؟ اس کی اصل کیا ہے؟ یہ کہاں سے نمو پاتی ہے؟ کیا خوشی غم کی ضد ہے یا اس کا تریاق؟ کیا انسان کو دکھ اس لیے لاحق ہوتے ہیں کہ اس کو خوشی کی اہمیت کا علم ہو؟ کیا کامیابی، خوابوں کا حقیقت ہونا، طاقت، دولت اور اقتدار کا حصول انسان کو ہمیشہ خوشی ہی دیتے ہیں؟ ایسے کون سے عناصر ہیں جو انسان کو رنجیدہ کرتے ہیں کہ وہ خوشی کے لیے سرگرداں ہو جاتا ہے؟
فلسفیوں نے ان سوالوں کے جواب دینے کی اپنی سی بھرپور کوشش کی ہے۔ ارسطو کا خوشی کا فلسفہ یا رسل کی خوشی اور ناخوشی کی وجوہات کا مقالہ پڑھنے سے ہمیں خوشی اور اس کے محرکات پر دقیق مباحث سے واسطہ پڑتا ہے۔ اسی طرح مذہب نے نیکی اور گناہ کے ساتھ خوشی اور غم کے تصور کو جوڑا ہے۔ دلائی لامہ نے بھی آرٹ اف ہیپینیس پر ایک مفصل کتاب لکھ کر خوشی کو فن سے تعبیر کیا اور کہا کہ وجدان اور روح کی پاکیزگی ہی خوشی ہے۔
مزید آگے چلیں تو سٹیفن کلائن نے خوشی کے دماغی یا نفسیاتی محرکات پر روشنی ڈالی ہے۔ اسی طرح جو نیتھن ہیڈ نے سائنسی تحقیق کی بنیادوں پر خوش رہنے کہ عمل اور اس کے محرکات پر طبع آزمائی کی ہے۔ اس تحریر کے آغاز میں بیان کیے گئے سوالات اور ان پر مختلف نقطہ ہائے نظر علمی و فلسفی گفتگو اور مباحث تو ضرور ہیں مگر یہ اذہان ایک عام انسان کے دماغ میں اٹھنے والے سوالات کے معروضی جوابات شاید میسر نہ کر سکیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر شخص کے حالات و واقعات مختلف ہیں، اس کی کامیابی اور ناکامی کے پیمانے بھی الگ ہیں۔
اسی طرح ایک شخص کے غم اور روحانی و نفسیاتی مسائل کسی دوسرے شخص سے میل نہیں کھاتے۔ اور جب ہر شخص کا اس جہان رنگ و بو کو دیکھنے اور پرکھنے کا زاویہ مختلف ہے تو پھر ان تمام تجزیات کا یکساں اطلاق کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ لہٰذا ان سوالوں کے جواب کے لیے ہمیں انسانی زندگی کے کچھ اور پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالنی ہو گی۔ یہ ایک تاریخ حقیقت ہے کہ دائمی خوشی کا حصول ہر دور کے انسان کی اولین ترجیح رہی ہے۔ شاید اسی وجہ سے عصر حاضر کا انسان ایک پر آسائش زندگی جی رہا ہے۔
اس کے پاس معلومات کا ایک بے پناہ خزانہ ہے، پلک جھپکنے کی دیر میں وہ دنیا کے کسی دوسرے کنارے پر بیٹھے اپنے پیاروں کو اسکرین پر دیکھ کر بات کر سکتا ہے۔ انسان کے تجسس اور ذہانت نے زمان و مکاں کو اس کی مٹھی میں بند کر دیا ہے۔ تاہم یہ حقیقت بھی اتنی ہی توجہ طلب ہے کہ دور جدید کا انسان مختلف نوعیت کی بے چینی اضطراب اور رنجیدگی میں مبتلا ہے۔ اس کے ہیجان نے اس کا سکون سلب کر لیا ہے۔ تو کیا خوشی اتنی نایاب ہو گئی ہے کہ وہ اسے افورڈ نہیں کر سکتا یا خوشی کا حصول اس کی دسترس سے باہر ہو چکا ہے؟
انسان خوشی کے معنی سے نا واقف ہو چکا ہے یا زندگی کی الجھنوں میں اس قدر غرق ہو چکا کہ خوشی کی طرف اس کی توجہ ہی نہیں رہی؟ خوشی پر موجود تمام فلسفے، ماہرین نفسیات کی تحقیق اور مذہبی نظریات کو قطع نظر کر دیا جائے تو ایک سادہ ترین نقطہ نظر یہ ہے کہ خوشی ایک انتہائی دلفریب، روح پرور اور حسین کیفیت کا نام ہے۔ (فی الوقت ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ خوشی کی وجہ سے یہ کیفیت پیدا ہوتی ہے یا اس کیفیت کی وجہ سے انسان کو خوشی ہوتی ہے۔) خوشی ایک عالمگیر احساس کا نام ہے اور یہ احساس ہمیشہ انسان میں موجود رہا ہے۔ بلکہ ہر وہ چیز جس میں زندگی کی رو بہتی ہے خوشی کے احساس سے بھرپور ہے۔ چاہے وہ انسان ہوں، جانور یا نباتات۔ نسیم صبح کی وجہ سے مسکراتے پھول اور لہلہاتے کھیت بہت خوش نما دکھائی دیتے ہیں اور ان کو دیکھ کر انسانی طبیعت تازہ ہو جاتی ہے۔ سگ آوارہ کو اپنے کھانے سے گوشت کا ٹکڑا دینے سے ایک طرف اس جانور کی خوشی دیدنی ہوتی ہے تو دوسری طرف رحم کے جذبے کی تسکین کی وجہ سے انسان خود بھی خوش ہو جاتا ہے۔
سو خوشی کا احساس وقت، موسم، مزاج، جنس، مذہب اور مقام پر نہیں بلکہ انسان اور اس کے ماحول کے باہمی ربط پر منحصر ہے۔ ایک عزیز دوست کے بقول بہار میں اگر دل خزاں رسیدہ ہو تو مہکتے گلاب کی خوشبو بھی پھول سے باہر آتی محسوس نہیں ہوتی اور اگر دلبر میسر ہو تو خشک پھول بھی پوری رعنائی کے ساتھ روح تک اتر جاتا ہے۔ تو سوال اٹھتا ہے، اس سب کے باوجود انسان غم ناک، پریشان اور مضمحل کیوں ہے؟ جب خوشی انسان کی سانس سے بھی قریب تر ہے تو پھر اس تک اس کی رسائی ممکن کیوں نہیں؟
شاید آج کا انسان خوشی کو محسوس ہی نہیں کرنا چاہتا۔ وہ اس کیفیت سے محظوظ ہی نہیں ہونا چاہتا جو خوشی کے لمحے میں ہوتی ہے۔ وہ خوشی کے پیچھے دوڑ کر اسے پکڑنا چاہتا ہے۔ انسان اپنی عظمت اور ذہانت کے زعم میں خوشی فتح کرنا چاہتا ہے۔ اس نے اپنی کامیابی کا معیار اتنا بلند کر لیا ہے کہ وہاں تک پہنچنے سے پہلے ہی اس کی عمر ختم ہو جاتی ہے اور وہ ہلکان ہو کر موت کے گھاٹ اتر جاتا ہے۔ اس نے اپنی خوشی کو اتنے زیادہ مقاصد کے ساتھ مشروط کر لیا ہے کہ وہ نہ تو عمر بھر خوشی حاصل کر پاتا ہے اور اور نہ اس کے مقاصد پورے ہوتے ہیں۔
اس نے اپنی خوشی کو اپنی خواہشات کے تابع کر دیا ہے اور ان کی تکمیل کے ساتھ اسے پابند کر دیا ہے۔ ہفت اسمان تک پہنچنے کے جنون میں وہ زندگی کی رعنائیوں سے محروم تر ہوتا جا رہا ہے۔ اسی طرح یہ لاحاصل امیدوں اور مقاصد کی ناکامی کی وجہ سے پریشان ہے۔ مثال کے طور پر ایک لڑکے کی ماں خوش ہے کہ اس کے بیٹے کو نوکری مل گئی مگر وہ خود ناخوش ہے کہ اس کو اس کی مرضی اور پسند کی نوکری کیوں نہیں ملی؟ ایک گھر میں ایک نوجوان خوش ہے کہ اس نے اپنی محنت سے ایک بائی سائیکل خرید لی لیکن اسی شہر کی اشرافیہ کا ایک نوجوان رنجیدہ ہے کہ اس کو تحفے میں دی جانے والی کار اس کی پسند کی کمپنی اور رنگ کی کیوں نہیں۔
ایک متوسط طبقے کی لڑکی خوش ہے کہ اس نے نیا لباس خرید لیا مگر اسی شہر کے دوسرے کونے میں ایک لڑکی کسی تہوار کو منانے سے اس لیے انکاری ہے کہ اس کی پسند کے برانڈ پر اس کی پسند کا لباس دستیاب نہیں تھا۔ شہر کے ایک شادی ہال میں دو والدین اس لیے خوش ہیں کہ وہ اپنے بچوں کی ذمہ اداری بخوبی ادا کر چکے ہیں۔ وہ دولہا اور دلہن شاید اپنے دلوں کے اندر اپنی ناکام محبتوں کا نوحہ پڑھ رہے ہیں۔ شاید آج کا انسان خوشی کی نا رسائی کی وجہ سے ناخوش نہیں بلکہ لاحاصل کے قلق کی وجہ سے پریشان اور غمناک ہے


