عالم مثل میں سارتر کا مکالمہ پاکستان میں سنا گیا
بینی لیوی اور سارتر نے آج عالم مثل میں دنیاوی سیاست کے معاصر منظر نامے میں پاکستان کو موضوع بنایا۔ سارتر کے نزدیک اگرچہ مذہبی ریاست کے سود و زیاں ایک الگ مباحثہ بنتے ہیں مگر اس ملک کی تاسیس کے بعد سے ہی مسئلہ رہا ہے، جس میں سے بڑا مسئلہ سیاسی نظام کی بنت میں جولاہے کا کردار۔ وہ پارٹی کے نام سے لے کر اس کے قائد کا ایجاد کنندہ بنتا ہے اور اپنی بنائی ہوئی کھڈی پہ جب چاہے جس رنگ کو آمیز کر کے کوٹتا جاتا ہے۔
جب کہ وہ پارٹیاں اور قائد اس نظام میں صرف اس کی مرضی کے پابند۔ لیوی نے سارتر کو کہا کہ شاید یہ مسئلہ تو پوری دنیا میں کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے۔ بادشاہ کی جگہ کسی نے تو لینی تھی نا! سارتر نے اس مسئلے کو کسی اور طرف موڑنے کی کوشش کی کہ مسئلہ حل ہو سکتا تھا اگر یہ قائد ان کی مرضی کی رنگ آمیزی سے انکار کر دیں۔ لیوی نے فوراً ٹوکا کہ یہ آپ کا ناول نہیں کہ جس میں کردار کو آپ اس کی مرضی سے جینے کی اجازت دے دیں۔
یہاں تو ایوب کھوڑو سے لے کر آج تک کسی نہ کسی شکل میں سیاست دان کو اپنی مرضی کے خلاف جانے پہ زندان باسی کر دیا جاتا ہے، حتی کہ موت کی ’جزا‘ دے دیتے ہیں۔ ہاں اس کا ایک حل ہے کہ اب دوسرا مرحلہ عوام کی طرف سے ہو، اگر ان کو شعور مل جائے تو وہ اس نظام کو سنبھال سکتے ہیں۔ مگر یہاں سارتر نے عوامی شعور کی قبیح صورت بتائی کہ یہاں بھی ج جولاہے کی منشا کا راج ہے۔ اس نے کسی ایک عصبیت کی وجہ سے ’جزوی قبولیت‘ کے فارمولے کو جب سے سیاست میں روشناس کرایا ہے تب سے اس ’کلی رد‘ والے کلیے سے نظریات کی موت ہو گئی ہے۔
اس موت کے بعد کیسے کوئی پارٹی اپنا اخلاقی وجود برقرار رکھ سکتی ہے۔ تشکیکی اور ملحد آپ کو دائیں بازو کی پارٹی میں نظر آئیں گے اور عملی طور پر مذہبی آپ کو بائیں بازو میں دکھائی دیں گے۔ اب ذرا بتاؤ کہ یہاں کن معنوں میں کوئی نظریاتی سیاسی پارٹی موجود ہے؟ آج کی چھوڑو، میں نے تو تب تم سے کہا تھا کہ لیوی یار بائیں بازو کا اب کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ جب ووٹر کو امید ختم ہو چکی ہو کہ ووٹنگ سے کوئی مقصد حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
اب بائیں بازو کو ووٹ دینا محض کلاسیکی ریپبلکن ازم ہی سمجھا جائے۔ یا پھر۔ تحکمانی آزادی سے نربھرتا کا ایک لایعنی سفر۔ آزادی اور غلامی کی جدلیات کا دوری چکر نئے اسلوب میں ڈھل کر سامنے آ رہا ہے۔ یاد ہو گا تمھیں، جب میں دائیں بازو کی اصطلاح استعمال کرتا تھا تو اس کا مطلب کیا ہوتا تھا؟ لیوی نے فوراً ”گندے لوگ“ کا جواب داغا اور سن کر سارتر کا استفسار گویا ہوا: اور اب بائیں بازو کا مطلب کیا ہو گا؟ لیوی اس لہجے کی تشکیکی صورت بھانپ کر بولنے کی بجائے جواب کا منتظر تھا اور اب کے بار سارتر نے کہا: ”اور گندے لوگ“ ۔
جواب سن کر لیوی بے ساختہ ہنس پڑا مگر سارتر کے چہرے کے تاثرات میں کچھ عجیب ہی چل رہا تھا۔ اس نے پارٹی کے اصولی نظام کو اپنے حساب سے دیکھا اور سمجھا تھا اسی لیے خود ہی گویا ہوا: دائیں بازو کی پارٹی غبی ہوتی ہے، کیوں کہ اس کے خیالات اوپر سے آتے اور نیچے جو سوچا جا رہا ہوتا ہے، اس پر اثر انداز ہوتے ہیں، لیکن بائیں بازو کی پارٹی کا نظام فکر نچلی سطح سے پرورش پا کر اوپر کی طرف سفر کرتا ہے۔ لیوی اسی طرز سے ترقی کے نظام کو سوچ رہا تھا اور ایک دم اسے لگا کہ سارتر نے تو واضح کر دیا کہ پاکی سیاست میں خیالات اوپر سے نیچے کی طرف مسافر ہیں۔
شاید اسے بھی پہلی بار سارتر کی طرح سیاسی پارٹی کے نام سے نفرت محسوس ہونے لگی اور اسے لگا کہ یہاں تو مسئلہ ہی تصور انسان اور تصور اخلاق کا ہے۔ وہ سارتر جو فرائیڈ، کافکا اور جوائس کی انگلی پکڑ کر مارکس ازم تک پہنچا تھا وہ سب چیزوں سے نا امید کیسے ہو گیا۔ مگر اگلے ہی لمحے اسے ساری بات سمجھ آ گئی کہ سارتر کو مارکس ازم کے تحت ’جمع‘ کرنے سے نفرت تھی اور اسے یہ بھی ادراک تھا کہ یہ اشیاء جن کے بہ ظاہر ہم مالک ہوتے ہیں، دراصل یہ ہماری مالک بن جاتی ہیں (اسی لیے جمع نہ کر کے اور پسند کی چیز کو دوسرے کو دے دینے سے سارتر خود غلام بننے سے بچ جاتا) ۔
اور اسی طرح پارٹیاں اپنا تفاعل افراد پر کر رہی ہیں، ووٹر پارٹی کے مالک ہونے کی بجائے غلام بن چکے ہیں۔ یہ انسان کی نظریاتی آزادی کے بنیادی اصول کے خلاف تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اصولوں کے تحت اس نے مارکسی ہونے کے باوجود چیکوسلواکیہ میں روسی افواج کی مداخلت کی مخالفت کی۔ الجیریا پہ اپنے ملک فرانس کے مظالم کی عملی مذمت الجیریا میں جا کر احتجاج میں شریک ہو کر کی۔ کیوبا کے انقلاب کو وہاں جا کر سراہا مگر اسی حکومت نے جب شاعر ’ہربرٹو پڈسیلا‘ کو غیر انقلابی رجحان رکھنے پر گرفتار کیا تو اس نے اس کی بھرپور مذمت کی۔
کیوں کہ سیاسی نظریے کی بنیاد پر انسان کو زنجیروں میں جکڑنا کسی مکالمے کو ختم کرنے کا اعلان ہوتا ہے۔ یہاں لیوی کو سارتر کے سیمون کے اس مکالمے کا خیال آیا کہ جب سیمون نے پوچھا تھا ’اگر انسان خدا پر ایمان نہ لائے پھر بھی وہ دنیا اور زندگی کے بارے میں ایک نظریہ رکھتا ہے؟‘ تو سارتر نے نظریاتی اختلافات کو کس خوب صورتی سے ڈھال کر پیش کیا تھا: ”اگر کوئی شخص خدا پر ایمان نہیں لاتا پھر بھی خدا کا تصور اس کی شخصیت کا حصہ رہ سکتا ہے، جس سے وہ دنیا کو دیکھ سکتا ہے اور اس میں آفاقیت تلاش کر سکتا ہے۔
“ یہ خیال آتے ہی اس کی نگاہ پھر پاکستان اس کی عوام اور عوام کے نظریۂ خدا اور تصور انسان سے ہوتی ہوئی مستقبل کی اور بڑھی تو وہ سارتر کے سامنے سر جھکا کر اتنا ہی کہہ سکا کہ نظم دنیا پہ سیاست بھی ایسا بورژوائی ذہنی حملہ ہے جو نامکمل انسانی ذہنوں کو نامکمل تشریحوں کو منوانے کے لیے زندہ وجودوں کو لڑواتا رہتا ہے اور سیاسی پارٹی خود تعریفی کی شدید خواہش میں انسانیت کی تذلیل کراتی چلی جاتی ہے اور ج جولاہا اس تانے بانے کے کھیل میں کھلکھلا کر ہنستا رہتا ہے۔ یہاں تک آتے آتے مکالمے کے تیسرے فریق؛ ووٹر کو اس ج جولاہے کے لیے خود پہ صادق آنے والی Sans cullotes کی اصطلاح اس کے لیے بھی بامعنی لگی مگر ’بے لباس‘ کی بجائے ’ننگے‘ کے معنوں میں، اور وہ بھی ہنسی میں شریک ہو گیا۔


