کہیں ہم بھی تو سانپ نہیں تھے؟


چند روز پہلے اخبار میں ایک خبر نظر سے گزری۔ خبر کے مطابق جنوبی وزیرستان کے علاقے کوٹکئی سے ایک ایسا سانپ ملا ہے جس سے متعلق ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کا سانپ پاکستان میں پہلے نہیں دیکھا گیا۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کا ایک سانپ چند ہفتے قبل بلوچستان میں بھی دیکھا گیا تھا لیکن پاکستان میں پائے جانے والے سانپوں کی فہرست میں ابھی تک یہ سانپ شامل نہیں ہے۔ سانپوں پر تحقیق کرنے والے ایک ماہر نے بتایا ہے کہ اس سانپ کو زندہ یا مردہ منگوانے کی کوشش کی جا رہی ہے تحقیق کے بعد ہی واضح ہو سکے گا کہ یہ سانپ پاکستان میں پائے جانے والے سانپوں کی ہی کسی نسل سے تعلق رکھتا ہے یا کوئی نئی نسل ہے۔

خبر پڑھتے ہی زبان سے بے اختیار نکلا اللہ رحم کرے۔ یہ کون سا نیا سانپ نکل آیا؟ ہمارے اردگرد تو پہلے ہی فرقہ واریت دہشت گردی عدم برداشت نا انصافی بے راہ روی غربت جہالت عصبیت لسانیت توہم پرستی ضعیف الاعتقادی لاقانونیت اور بدعنوانی کے لاتعداد ناگ اور اژدھے رینگ رہے ہیں اور ان ناگوں نے ہمارے سماجی جسم کو اتنا ڈسا ہے کہ اب وہ اتنا زہریلا ہو چکا ہے کہ اس کے انگ انگ سے زہر پھوٹ رہا ہے۔

اللہ جنت نصیب کرے ہماری نانی اماں کو انہیں سانپوں میں بہت دلچسپی تھی۔ سانپوں سے متعلق انہیں بے شمار قصے کہانیاں یاد تھیں۔ جب بھی موقع ملتا وہ ہمیں سانپوں کے قصے سناتی تھیں۔ ہم شوق سے سنتے بھی تھے اور پھر ڈر کے کانپتے بھی تھے لیکن نانی اماں کا انداز اتنا دلچسپ ہوتا تھا کہ ہم نا چاہتے ہوئے بھی وہی قصے بار بار سنتے تھے۔

نانی اماں بتاتی تھیں کہ ناگن ایک وقت میں ہزاروں کی تعداد میں انڈے دیتی ہے جب ان میں سے بچے نکلنے شروع ہوتے ہیں تو ناگ اپنے بچے کھانا شروع کر دیتا ہے زیادہ تر بچے ناگ خود کھا جاتا ہے بہت کم بچوں سے سانپ بنتے ہیں۔ یہ کام تو ہم بھی کر رہے ہیں۔ اللہ نے اپنی نعمتوں سے مالامال ایک سرزمین ہمیں رہنے بسنے کے لیے عطا کی اور ہم اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کے وسائل لوٹ کر کھا رہے ہیں اتنا کھایا کہ آدھا ملک ہی ہڑپ کر لیا باقی جو بچا اسے کھا کھا کر کنگال کر دیا اور بھوک ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔

سانپ کی فطرت ہوتی ہے کہ کچھ عرصے تک ایک جگہ بے حس و حرکت پڑا رہتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے مر گیا ہو پھر انگڑائی لے کر اٹھتا ہے اپنی کیچلی اتار پھینکتا ہے اور اندر سے دوسرے رنگ روپ کے ساتھ نمودار ہوتا ہے۔ ہم لوگوں کا بھی یہی حال ہے۔ ہم وقت اور ضرورت کے مطابق اپنی اپنی کینچلیاں بدلتے رہتے ہیں ہر کسی کے لیے ہمارا روپ الگ اور نیا ہوتا ہے۔

سانپ کے بارے میں ایک بات اور مشہور ہے کہ اگر کوئی ناگ کو مار دے تو اس کی تصویر ناگ کی آنکھوں میں اتر جاتی ہے اور پھر ناگن اسے دیکھ کر اپنے ناگ کی موت کا بدلہ ضرور لیتی ہے۔ سالوں سے ہم بھی یہی کام کر رہے ہیں۔ بس ایک دوسرے کو مارے جا رہے ہیں۔ کبھی مذہب کے نام پے کبھی فرقے کے نام پے کبھی غیرت کے نام پے۔ ہمارا انتقام ہے کہ پورا ہی نہیں ہو رہا ہے۔ شاید یہ آزادی کا بدلہ ہے۔

سانپ کا نام ذہن میں آتے ہی سب سے پہلے اس کی پھنکار سنائی دیتی ہے۔ کہتے ہیں کہ پھنکار کے ذریعے سانپ اپنے غصے کا اظہار کرتا ہے اور اپنے دشمن کو ڈراتا ہے۔ ہم لوگوں نے بھی اب بولنا اور بات کرنا چھوڑ دیا ہے۔ جسے دیکھو وہ اب پھنکارتا ہے اور اپنی زبان سے زہر اگلتا ہے یہ زہر سماج کی رگ رگ میں سرایت کر چکا ہے اور اس زہر کا نا تو کسی کے پاس تریاق ہے اور نا ویکسین۔

نانی امی سناتی تھیں کہ ہیروں کی ایک بہت بڑی کان ہے اس کے دہانے پر ایک ناگ دیوتا پھن پھیلائے بیٹھا ہے۔ جو کوئی بھی اس کان میں داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے ناگ دیوتا اسے ڈس کر ہلاک کر دیتا ہے۔ یعنی ناگ دیوتا اس ہیروں کی کان پے قابض ہے اور کسی کو ان ہیروں تک پہنچنے نہیں دیتا ہے۔ پچھلے پچھتر سالوں سے ایک دیوتا اس ملک پر اور اس کے وسائل پر قابض ہے۔ اس نے بھی ملکی وسائل کو عوام کی پہنچ سے دور رکھا ہوا ہے جب بھی کسی نے یہ وسائل عوام تک پہچانے کی کوشش کی تو ناگ دیوتا نے اسے ایسا ڈسا کہ اس نے تڑپ تڑپ کے جان دے دی۔

بر صغیر پاک و ہند میں سانپوں کے متعلق ایک اور بات مشہور ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر کسی سانپ کی عمر سو سال سے زیادہ ہو جائے تو وہ انسان کا روپ دھار سکتا ہے۔ کبھی کبھی مجھے خیال آتا ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ہم پہلے سانپ ہوں۔ پھر ہماری عمریں سو سال سے زیادہ ہو گئی ہوں اور پھر ہم نے انسانوں کا روپ دھار لیا ہو۔ کیونکہ سانپوں کی جس بستی میں ہم زندگی گزار رہے ہیں اگر ہم انسان ہوتے تو مسلسل ڈسے جانے کے بعد ایک وقت تڑپ تڑپ کر جان دے ہی چکے ہوتے۔

مگر ہم ہیں کہ اتنے زہریلے ہونے کے باوجود جیے جا رہے ہیں۔ نا صرف جی رہے ہیں بلکہ ان سانپوں سے اپنی جان چھڑانے کے بجائے انہیں اپنی آستینوں میں پال رہے ہیں انہیں دودھ پلا کر طاقت ور کر رہے ہیں اور اپنے وجود کو ڈسوائے جا رہے ہیں۔ ہم شاید منتظر ہیں کسی سپیرے کے جو کہیں سے رستہ بھول کر سانپوں کی اس بستی کی طرف آ نکلے اپنی بین بجا کے ان سب کو قابو میں کرے اپنی پٹاری میں ڈال کر اتنی دور لے جائے جہاں سے یہ روز قیامت ہی واپس ہوں۔

Facebook Comments HS