نامرادی و تشنگی کی پرکار میں قید ہر ایک جنم کی جانما

علی شریعتی کا کہنا ہے کہ عورت اگر پرندے کی صورت میں ہوتی تو ضرور مور ہوتی، اگر چوپائے کی جنس میں آتی تو یقیناً ہرن ہوتی، اگر کیڑے مکوڑے کی شکل میں اترتی تو لازماً تتلی ہوتی، لیکن وہ انسان خلق ہوئی تاکہ ماں، بہن اور عشق بنے۔ تھوڑی کمی بیشی کے ساتھ علی شریعتی کی یہی آخری سطر حفیظ خان کے ناول ”ہر ایک جنم کی جانما“ کے عنوان کا مرکزی خیال ہے، جو اپنے کرب کی شدت

Read more

کہانی باغ کے رنگ

’شجرِ حیات‘ ریاظ احمد کا ناول ہے جسے مارکسی فریم میں ترتیب دیا گیا ہے۔ اسے ایک دور افتادہ مشرقی یورپی فضا کا ناول کہا جا سکتا ہے مگر اپنے نقطۂ نظر بیان کرنے اور تعمیم لانے کے لیے ایک فنتاسی میں رکھا گیا ہے جس کا مکانی دائرہ ’کہانی باغ‘ ہے اور اس کے باسی ’شوق‘ اور ’جنون‘ ہیں یا وہ ’ادراک‘ کہ جس میں کردار کو اپنے ’سایہ‘ ہونے کا اس لیے معلوم ہے کہ اس نے ہزاروں

Read more

اور بھٹو پھانسی سے بچ گئے

اس سوشل میڈیائی عہد میں عجب رسم چلی ہے کہ وقتی جذبات پہ ٹرولنگ کر کے اس کی اہمیت کو اپنے انداز میں ٹھٹھا اڑا کر ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ شاید اس واقعے کی ایک ہی جہت ہو سکتی ہے۔ 6 مارچ 2024ء کو سپریم کورٹ نے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی سزا کالعدم قرار دی تو پڑھنے کو ملا؛ ”سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ۔ شکر ہے بھٹو صاحب پھانسی سے بچ گئے۔“ اس ٹرولنگ

Read more

رائے دہندہ کو لاحق ریاست و سیاست

نطشے نے کہا خدا مر گیا، ڈی ایچ لارنس نے کہا کہ انسانی تعلقات کا ادب مر گیا، اور مالرو نے بتایا کہ انسان مر گیا۔ اس تثلیث کی بالترتیب موت ریاست کا جنم تھی، جس میں Principle Perspective افقی سطح پر انفراد سے اجتماع کی طرف اشارہ کرتا ہے جب کہ عمودی سطح پر آسمان سے زمین کی طرف سفر کرتا ہے۔ اس تناظر میں ریاست اس معاہدے کا نام ہے جو میگنا کارٹا کی کوکھ سے برآمد ہوا۔

Read more

شناخت کے بحران میں طاقت کا کردار

جب یہ طے ہو گیا کہ کسی نے سوائے ’ماسوا‘ کے بات نہیں کرنی تو اس سے پہلے کہ آوازیں خود کشی کر جاتیں ؛ کتابوں نے اپنی اپنی جگہ سے نکل کر آمنے سامنے نشست جما لی۔ ان کی آوازیں اتنی گویا تھیں کہ نفسیاتی معارف ”اونچی آواز میں سوچنا اور چپ کر کے بولنا“ دونوں پہلوؤں سے الگ ہو کر نئے قضیے اور نئے امکان کی بازگشت بن گئے۔ اصل میں بات شروع ہوئی تاریخ اور فلسفہ کی

Read more

تاریخ، کہانی اور دھوکا

کردار کہانی کار کے قلم کے ہاتھوں اتنے تنگ آ گئے کہ انھوں نے آگے بڑھنے سے انکار کر دیا، کہ کہانی ویسے ہی آگے بڑھے گی جیسے کردار کی ضرورت ہو گی۔ اس کے برعکس قلم کہانی کار کی منشا کا پابند تھا اور اس کے نزدیک تاریخ کی تفہیم ویسے ہی ہونی چاہیے جیسا کہ وہ ”واقع“ ہوئی مگر کہانی کے کرداروں کا تصورِ تاریخ ’کیسے ہوا‘ کی بجائے ’کیسے واقع ہونا چاہیے تھا‘ سے جڑا ہوا تھا۔

Read more

ہیر کے قتل کی ایف آئی آر

البرٹ کامس کے بہ قول: فکشن وہ جھوٹ ہوتا ہے جس کے سہارے سچ بیان کیا جاتا ہے۔ یہاں یہ سوال ضرور سامنے آتا ہے کہ سچ بیان کرنے کے لیے جھوٹ کا سہارا ہی کیوں لیا جاتا ہے؟ اس کا جواب بہت سی جہات سے دیا جا سکتا ہے مگر ازمنہ حال میں قدیم نوآبادیات یا جدید نوآبادیات کے دائرے میں آنے والے معاشروں میں سچ کہنا قریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ اس عمل کو صرف فکشن اور خاص

Read more

تو مرا ’ڈاکٹر‘ بگو

مائیکل کنتات جب سارتر سے احساس جرم پر باتیں کر رہے تھے تو ایسے لگا کہ جیسے وہ سارتر کو چھیڑ رہے ہوں، مگر اس پر سارتر کا جواب بہت نپا تلا سا تھا۔ وہ بتانے لگے کہ Ecole میں جب وہ ٹیوشن دینے لگے تو پڑھانے کے بدلے میں جو معاوضہ ملتا وہ ویٹروں میں تقسیم کر دیتے۔ کیوں کہ ان کا موقف تھا کہ انھیں پڑھانے میں مسرت حاصل ہوتی تھی، اس کے بعد معاوضہ بے معنی ہو

Read more

خداؤں کی جنگیں اور انسانی استحصال

One Dimensional Globalization عالمی آقاؤں کے بڑے کاریگروں کی ہنر مندانہ اختراع ہے۔ پوری دنیا کو اجارہ دارانہ سرمایہ داری کے لیبر کیمپ میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ خود ساختہ مسائل کو حل کرنے کی خاطر، کہیں خود ایجاد کردہ دہشت گردی کا راستہ روکنے کے بہانے، اور کبھی کسی کو اپنے ’احساس خرتری‘ کو باور کرانے کارن؛ دنیا بھر میں جنگوں کو اس لیے ایڑ لگائی جاتی ہے کہ کس طرح تمام انسانوں اور عالمی وسائل کو ماورائے

Read more

عالم مثل میں سارتر کا مکالمہ پاکستان میں سنا گیا

بینی لیوی اور سارتر نے آج عالم مثل میں دنیاوی سیاست کے معاصر منظر نامے میں پاکستان کو موضوع بنایا۔ سارتر کے نزدیک اگرچہ مذہبی ریاست کے سود و زیاں ایک الگ مباحثہ بنتے ہیں مگر اس ملک کی تاسیس کے بعد سے ہی مسئلہ رہا ہے، جس میں سے بڑا مسئلہ سیاسی نظام کی بنت میں جولاہے کا کردار۔ وہ پارٹی کے نام سے لے کر اس کے قائد کا ایجاد کنندہ بنتا ہے اور اپنی بنائی ہوئی کھڈی

Read more