نامرادی و تشنگی کی پرکار میں قید ہر ایک جنم کی جانما
علی شریعتی کا کہنا ہے کہ عورت اگر پرندے کی صورت میں ہوتی تو ضرور مور ہوتی، اگر چوپائے کی جنس میں آتی تو یقیناً ہرن ہوتی، اگر کیڑے مکوڑے کی شکل میں اترتی تو لازماً تتلی ہوتی، لیکن وہ انسان خلق ہوئی تاکہ ماں، بہن اور عشق بنے۔ تھوڑی کمی بیشی کے ساتھ علی شریعتی کی یہی آخری سطر حفیظ خان کے ناول ”ہر ایک جنم کی جانما“ کے عنوان کا مرکزی خیال ہے، جو اپنے کرب کی شدت
Read more
