ایک پراسرار کائنات: جب کچھ نہیں ہوتا تو کیا ہوتا ہے؟
کوانٹم میکینکس کی آمد سے پہلے، یہ تصور تھا کہ ایک ایسی جگہ جہاں کوئی روشنی موجود نہیں ہو، جہاں کا درجہ حرارت کم ترین سطح پر ہو، اور جہاں کسی قسم کی حرکت نہ ہو، وہاں کچھ بھی نہیں ہوتا۔ ایسی جگہ شمسی نظام یا کسی اور ستارے سے دور وسیع و عریض خلا سے وابستہ ہے۔ یہاں تاریکی اپنی انتہا پر ہے اور ٹھنڈ کسی بھی تصور سے زیادہ۔ اور یہ بات سوچنا بہت مناسب لگتی ہے کہ ایسے خلا میں توانائی کی مقدار صفر ہونی چاہیے۔
کوانٹم تھیوری کی سب سے بڑی ڈرامائی پیشین گوئیوں میں سے ایک یہ ہے کہ خلا میں توانائی کی لامحدود مقدار ہوتی ہے۔
کوانٹم مکینیکل تصویر کے مطابق، خلا میں فطرت کے تمام رنگ، مرئی اور پوشیدہ، اتار چڑھاؤ کی شدت کے ساتھ موجود ہوتے ہیں اور خلا میں توانائی کی کل مقدار لامحدود ہوتی ہے۔ یہ انکشاف چونکا دینے والا اور دماغ کو ہلا دینے والا ہے۔ خلا جس کے بارے میں ہم سوچتے تھے کہ روشنی اور مادہ سے بالکل خالی ہے، درحقیقت لامحدود توانائی رکھتی ہے۔
مختصر الفاظ میں کہا جائے تو جب کچھ بھی نہیں ہوتا تو لا محدود توانائی ہوتی ہے۔
اس حیرت انگیز نتیجے کی بنیاد کیا ہے؟
وہ کون سے مظاہر ہیں جو اس توانائی کا ثبوت فراہم کرتے ہیں؟
اور کیا اس قدرت کے تحفے سے استفادہ کیا جا سکتا ہے؟
یہ سوالات اس مضمون کا موضوع ہیں۔
جیسا کہ میں نے پچھلے مضامین میں بات کی کہ روشنی کا دوہرا کردار ہے۔ کچھ تجربات میں یہ لہر کی طرح کام کر سکتی ہے اور کچھ میں ذرات کی طرح۔ ان دو ڈرامائی طور پر مختلف طرز عمل کو کس طرح سمجھا جائے۔
1928 میں عظیم برطانوی سائنسدان پال ڈیراک نے ایک تصور پیش کیا جس میں روشنی سے وابستہ دونوں طرز عمل کی وضاحت کرنا ممکن ہو سکا۔ یہ کوانٹم میکینکس کی پیش رفت میں بڑی کامیابی تھی۔
جیسا کہ میں نے ایک پچھلے مضمون میں ذکر کیا تھا، روشنی مختلف رنگوں پر مشتمل ہوتی ہے، مرئی اور پوشیدہ۔ ہر رنگ ایک خاص فریکوینسی سے وابستہ ہوتا ہے۔ ان رنگوں کی تعداد لا محدود ہے۔
روشنی کی کوانٹم مکینیکل تصویر میں، ڈیراک نے فرض کیا کہ ہر رنگ کی روشنی کی لہر کو ایک جھولے کے ساتھ تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ لہر کا اتار چڑھاؤ اسی طرح ہوتا ہے جیسے ایک جھولا دو حدوں کے درمیان جھولتا ہے۔
روشنی کو جھولے کے طور پر سمجھنا ایک کلاسیکی تصویر ہے جو interference اورdiffraction جیسے مظاہر کی وضاحت کر سکتی ہے۔
پھر ڈیراک نے کوانٹم میکینکس کے تصورات اپناتے ہوئے یہ تجویز کیا کہ روشنی کی ہر لہر سے وابستہ جھولا صرف مخصوص توانائی رکھ سکتا ہے۔ اس طرح، ایک ذرہ قسم کی تصویر روشنی کے ہر رنگ کے ساتھ منسلک ہو جاتی ہے۔
ڈیراک نے ان دونوں تصویروں کو اس طرح ملایا کہ یہ ایک طرف ینگ ڈبل سلٹ کے تجربے میں interference جیسے مظاہر اور دوسری طرف فوٹو الیکٹرک اثر جیسے مظاہر کو متحد انداز میں بیان کر سکے۔ یہ کوانٹم تھیوری کی بہت بڑی فتح تھی۔
روشنی کی اس سادہ مگر خوبصورت تصویر میں ایک پر اسراریت پوشیدہ تھی۔ ڈیراک کی اس تصویر کے مطابق، جب بالکل کوئی روشنی موجود نہیں ہوتی، تب بھی ہر رنگ کے لئے کچھ توانائی موجود ہوتی ہے۔ یہ انتہائی حیران کن نتیجہ تھا۔
جب روشنی نہ ہو تو روشنی کے ہر رنگ کے ساتھ کچھ محدود توانائی کیسے موجود ہو سکتی ہے؟
ڈیراک کے مطابق جب کوئی فوٹون موجود نہ ہو تو توانائی کی مقدار ہر فوٹون کی نصف توانائی کے برابر موجود ہوتی ہے، ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ، جب ایک فوٹون موجود ہوتا ہے، تو کل توانائی ڈیڑھ فوٹون کے برابر ہوتی ہے۔ اسی طرح جب دو فوٹون موجود ہوتے ہیں، تو کل توانائی ڈھائی فوٹون کے برابر ہوتی ہے۔
حیرت انگیز نتیجہ یہ ہے کہ خلا میں، جب کسی رنگ کا کوئی فوٹون موجود نہیں ہوتا ہے، تب بھی ادھے فوٹون کے برابر توانائی موجود ہوتی ہے۔ کائنات میں رنگوں کی لامحدود تعداد ہے، اور ہر رنگ کے ساتھ ادھے فوٹون کے مساوی توانائی منسلک ہوتی ہے۔ اس طرح، کائنات میں کل توانائی کا اندازہ ہر رنگ کے لیے ویکیوم انرجی کو شامل کر کے لگایا جا سکتا ہے اور اس کا نتیجہ توانائی کی لامحدود مقدار ہے۔ یہ چونکا دینے والا نتیجہ ہے۔
خلا، جسے کسی بھی توانائی سے خالی سمجھا جاتا تھا، درحقیقت لامحدود توانائی رکھتا ہے۔
لیکن صورت حال اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہے۔
نیلز بوہر کوانٹم میکا نکس کے بانیوں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے کوانٹم میکا نکس کی تصوراتی (conceptual) بنیادوں کو واضح کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ ان کا ایک اہم کارنامہ ایک اصول کی دریافت ہے جس کے مطابق، دو مشاہدات اس طرح ایک دوسرے سے منسلک ہوتے ہیں کہ ایک کا صحیح علم دوسرے کے تمام ممکنہ نتائج کی طرف لے جاتا ہے۔ طبیعیات سے ایک مثال کسی چیز کی پوزیشن اور رفتار ہے۔ اگر ہم کسی چیز کی پوزیشن کو انتہائی درست طریقے سے تعین کرتے ہیں، تو اس کی رفتار مکمل طور پر غیر یقینی ہوجاتی ہے۔ یہ انتہائی حیران کن اصول کوانٹم میکانکس کا ایک بنیادی اصول ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جس طرح پوزیشن متعین ہو تو رفتار غیر متعین ہو جاتی ہے، اسی طرح کا تعلق توانائی اور وقت میں بھی ہے۔ یعنی ہمارے پاس ایک مقررہ وقت میں توانائی کی ایک صحیح مقدار نہیں ہو سکتی۔ مطلب یہ ہے کہ، بہت کم وقت کے وقفے کے لیے، ہر رنگ، ہر تعدد کے ساتھ تقریباً لامحدود توانائی وابستہ ہو سکتی ہے۔
یہ توانائی جو دو لمحوں کے درمیان بہت مختلف ہو سکتی ہے اور ہر لحظہ تبدیل ہوتی ہے، وقتی طور پر بڑے ذرات پیدا کر سکتی ہے۔ یہ ذرات ہمیشہ جوڑوں کی شکل میں نمودار ہوتے ہیں :ذرات اور مخالف ذرات جیسے الیکٹران اور پوزیٹرون۔ یہ ذرات تھوڑی دیر کے لیے موجود ہوتے ہیں اور پھر ایک دوسرے میں ضم ہو کر واپس توانائی میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ یہ ذرات اتنی مختصر مدت کے لئے پیدا ہوتے ہیں کہ ان کا براہ راست یا بالواسطہ مشاہدہ نہیں کیا جا سکتا۔
ذرا تصور کریں کہ ہم ایسی کائنات میں رہتے ہیں جہاں ہر طرف لا محدود توانائی بکھری ہوئی ہے اور جہاں ہر لمحے بڑی تعداد میں مختلف سائز اور مختلف شکل کے ذرات خود بخود پیدا ہو رہے ہیں اور اس سے پہلے کہ ہم ان کو دیکھ پائیں، وہ واپس توانائی میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
کائنات کی یہ تصویر کتنی عجیب اور حیران کن ہے۔
ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ذرات اور مخالف ذرات (anti particles) کی موجودگی کا تصور بھی سب سے پہلے برطانوی سائنسدان ڈیراک نے پیش کیا تھا اور یہ کوانٹم میکانکس کے ایک اور حیرت انگیز نتیجے کی نمائندگی کرتا ہے۔
خلا میں لامحدود توانائی اور اس سے وابستہ اتار چڑھاؤ یعنی fluctuations، کوانٹم دنیا کے حیران کن ترین پہلوؤں میں سے ایک ہے۔
اس اتار چڑھاؤ کا سب سے نمایاں نتیجہ ایٹم سے روشنی کا اخراج ہے۔ یہ اثر روشنی کے روایتی ذرائع جیسے لائٹ بلب میں پیدا ہونے والی روشنی کے لیے ذمہ دار ہے۔
بوہر کے ایٹمی ماڈل کے مطابق الیکٹرون نیوکلیس کے گرد مخصوص مداروں میں چکر لگا رہے ہوتے ہیں۔ الیکٹرون یا ایک مدار میں ہوتا ہے یا دوسرے مدار میں۔ یہ ان مخصوص مداروں کے درمیان نہیں پایا جا سکتا۔ یہ بالکل اس طرح ہے جیسا کہ ایک اونچی عمارت میں ہم یا ایک منزل پر موجود ہو سکتے ہیں یا کسی دوسری منزل پر۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ دو منزلوں کے درمیان معلق پائے جائیں۔ عام طور پر ہم زمینی لیول کی منزل پر پائے جائیں گے لیکن اگر توانائی فراہم کی جائے تو دوسری یا تیسری منزل پر جانا ممکن ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ایک ایٹم میں الیکٹرون عام طور پر نیوکلیس کے قریب ترین مدار میں پائے جاتے ہیں۔ لیکن جب ان کو توانائی فراہم کی جاتی ہے تو وہ اونچے مدار میں جا سکتے ہیں۔
کلاسیکی نقطہ نظر سے، اگر کوئی ایٹم اونچے مدار میں ہے، تو وہ ہمیشہ اسی حالت میں رہے گا جب تک کہ اس پر مماثل رنگ کی روشنی نہ پڑ جائے۔ تاہم، خلا میں موجود روشنی کے تلاطم اس ایٹم کو نچلے مدار میں لا سکتے ہیں۔ اس پراسس میں بے ساختہ ایک فوٹون خارج ہوتا ہے۔ یہ ہمارے ارد گرد پائی جانے والی روشنی کا سرچشمہ ہے۔
اس عمل کو درخت پر ایک سیب کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر تیز ہوا چل رہی ہو تو سیب گر جائے گا۔ سیب اس وقت تک نہیں گرے گا جب تک کہ درخت کو نہ ہلایا جائے۔ اگر ہوا بالکل نہیں ہے، تو ہم توقع کریں گے کہ سیب درخت میں ہی رہے گا۔ اب اگر کوئی ہم سے کہے کہ جب ہوا بالکل نہیں ہے، پھر بھی کچھ اتار چڑھاؤ ہیں جس سے سیب گر جائے گا تو ہم حیرانی سے اس شخص کو دیکھیں گے۔
خلا میں موجود توانائی میں اتار چڑھاؤ ایک ایسا پراسرار ذریعہ فراہم کرتا ہے جو ایٹم میں موجود الیکٹرون کو اونچے مدار سے نچلے مدار میں گرا سکتا ہے، اس عمل میں ایک فوٹون پیدا ہوتا ہے۔
ہم بے ساختہ اخراج کے ذریعے روشنی کے بلب میں روشنی پیدا کرنے کے عمل کو سمجھ سکتے ہیں۔
ایک لائٹ بلب عام طور پر ایک پتلی ٹنگسٹن تار پر مشتمل ہوتا ہے۔ کسی بھی وقت، ایٹم کے اندر زیادہ تر الیکٹرون سب سے کم توانائی کی حالت میں ہوتے ہیں۔ جب ٹنگسٹن تار میں برقی رو بہتی ہے، تو کچھ ایٹم توانائی حاصل کر لیتے ہیں۔ یہ ایٹم، کسی بیرونی محرک کے بغیر، اس توانائی سے وابستہ لیول یا مدار سے زمینی لیول پر آ سکتے ہیں اور روشنی خارج کر سکتے ہیں۔
خلا کی اس غیر معمولی نوعیت کا ایک اور انتہائی حیرت انگیز نتیجہ یہ ہے کہ اگر ہم دو دھاتی پلیٹوں کو خلا میں رکھیں جن پر کوئی بیرونی قوت موجود نہ ہو تو پلیٹوں کے مابین ایک قوت ہو گی جو ان کو ایک دوسرے کے قریب لا سکے گی۔ ویکیوم انرجی کے نتیجے میں پلیٹوں کے درمیان اس پرکشش قوت کو پھر ممکنہ طور پر مفید کام کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ پلیٹوں کے درمیان قوت کا پراسرار ذریعہ کیا ہے؟
اس سوال کا جواب انتہائی حیرت انگیز ہے۔
سب سے پہلے یہ کہ کوانٹم میکینکس کے قوانین کے مطابق دو پلیٹوں کے درمیان توانائی کی لامحدود مقدار موجود ہے، اور پلیٹوں سے باہر بھی توانائی کی مقدار لا محدود ہے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ پلیٹوں کے درمیان لا محدود توانائی پلیٹوں کے باہر موجود لامحدود توانائی سے چھوٹی ہے۔ اس طور پلیٹوں کے باہر موجود لامحدود توانائی دونوں پلیٹوں کو ایک دوسرے کی طرف دھکیلتی ہے۔ سائنسدان اس اثر کو Casimir effect کا نام دیتے ہیں۔
مگر ایک لامحدود مقدار دوسری لامحدود مقدار سے کیسے چھوٹی ہو سکتی ہے؟
معمہ یہیں نہیں رکتا۔ سب سے قابل ذکر نتیجہ یہ ہے کہ دو لامحدود مقداروں کے درمیان فرق ایک سادہ محدود عدد ہے۔ یہ بات ناقابل یقین لگتی ہے لیکن یہ سچ ہے۔
دلچسپی کا سوال یہ ہے کہ کیا ہم لامحدود توانائی کے اس سمندر سے حقیقی فوٹون نکال سکتے ہیں؟ یہ ٹوپی سے خرگوش نکالنے والے جادوگر کے مشابہ ہو گا۔ اگر یہ ممکن ہو گیا تو ہمارا توانائی کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ ہم توانائی کے اس لامحدود ذریعہ کو استعمال کرتے ہوئے ایسی مشینیں بنا سکتے ہیں جن کو چلانے کے لئے توانائی کے کسی اور ذریعے کی ضرورت نہیں۔
تاہم، فطرت ہمیں مفت میں چیزیں حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ ہر چیز کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ فزکس کے قوانین کے مطابق ایک مستقل (perpetual) مشین بنانا ناممکن ہے۔ مثال کے طور پر خلائی توانائی کے سمندر میں سفر کرنے والے خلائی جہاز کی صورتحال گرم پانی کے سمندر میں سفر کرنے والے بحری جہاز کی طرح ہے۔ سمندر کے پانی میں گرمی کی توانائی بھی تقریباً لامحدود ہوتی ہے۔ لیکن جہاز اکیلے اس توانائی پر نہیں چل سکتا۔ تھرموڈینامکس کے قوانین توانائی کے بیرونی ذرائع کے بغیر سمندر کے پانی سے توانائی نکالنے کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔
تھرموڈینامکس کے قوانین حیرت انگیز طور پر پائیدار ثابت ہوئے ہیں۔ جیسا کہ میں نے پچھلے مضامین میں ذکر کیا، بیسویں صدی کے آغاز میں اضافیت اور کوانٹم میکینکس کے انقلابی نظریات کی آمد سے انیسویں صدی کی طبیعات کے نظریات کی بنیادیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئیں۔ تاہم، حیرت انگیز طور پر تھرموڈینامکس کے قوانین اپنی جگہ پر قائم ہیں۔ تھرموڈینامکس کا دوسرا قانون لامحدود توانائی کے اس سمندر سے فائدہ اٹھانے میں رکاوٹ ہے جسے ہم ویکیوم کہتے ہیں۔
اس بارے میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 2003 میں، میں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ چند انتہائی مخصوص حالات میں توانائی کے سمندر سے بیرونی ذرائع کے بغیر کسی مشین کو چلانا ممکن ہونا چاہیے۔ اس طرح پہلی دفعہ کوئی ایسی تجویز سامنے آئی کہ دو سو سال پرانے تھرموڈینامکس کے قوانین کو توڑا جا سکے۔ ہمارے اس ریسرچ پیپر کو کافی پذیرائی ملی۔ لیکن یہ ابھی تک واضح نہیں کہ کیا یہ نظریہ کائنات میں موجود لا محدود توانائی سے استفادہ کر نے میں مددگار ثابت ہو سکے گا۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہماری آنے والی نسلیں تھرموڈینامکس کے قوانین کے گرد کوئی راستہ تلاش کریں گی جن سے اس توانائی کے بحر بیکراں سے استفادہ کیا جا سکے؟
(یہ مضمون میری کتاب A Mysterious Universe (Oxford University Press 2023 ) سے ماخوذ ہے۔ )


