مجھے میری ’ایپس‘ سے بچاؤ


کسی گھر میں ایک شخص نے بارہ چودہ سال کی بچی کو دبوچ رکھا ہے، وہ خوف کے عالم میں رو رہی ہے، وہ بچی کو پلنگ پر پھینکتا ہے، بچی بھاگ کر کمرے میں چھپنے کی کوشش کرتی ہے، وہ شخص الماری سے کلاشنکوف نکالتا ہے، وہاں موجود دو لوگ اس شخص کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں مگر بظاہر وہ ان کے قابو نہیں آتا۔

کینیا کے کسی اسکول کا منظر ہے، وہاں لڑکیاں چیخ و پکار کر رہی ہیں کیونکہ کسی پراسرار بیماری کی وجہ سے انہیں چلنے میں دشواری پیش آ رہی ہے، نوے کے قریب لڑکیوں کو اسپتال بھیج دیا گیا ہے جہاں ان کے خون کے نمونے لے کر جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ان پر کیا آفت نازل ہوئی ہے۔

یہ اس لمحے کی فوٹیج ہے جب سیاحوں سے بھری ہوئی بس اٹلی کے شہر وینس کے قریب ایک پل سے نیچے گر گئی جس کے نتیجے میں بچوں سمیت اکیس افراد ہلاک ہو گئے۔ مرنے والے سیاحوں کی لاشیں سڑک کے کنارے پڑی ہیں۔

میکسیکو کے ایک گرجا گھر میں لوگ عبادت کے لیے جمع ہیں، پادری خطبہ دے رہا ہے کہ اچانک گرجے کی چھت گر جاتی ہے، درجنوں افراد زخمی ہو جاتے ہیں، تین بچے مر جاتے ہیں، ان بچوں کے والدین دھاڑیں مار مار کر رو رہے ہیں۔

یہ کراچی کے کسی بازار کا منظر ہے، ایک شخص ریڑھی سے کوئی چیز خرید رہا ہے، دو نوجوان موٹر سائیکل پر آتے ہیں اور بندوق کے زور پر اس کا موبائل فون اور پرس چھین لیتے ہیں، وہ بغیر کسی مزاحمت کے چیزیں ان کے حوالے کر دیتا ہے مگر وہ جاتے جاتے اسے گولی مار دیتے ہیں۔ بعد میں پتا چلتا ہے کہ مرنے والا غریب آدمی تھا اور دو بچیوں کا باپ تھا۔

اگر آپ انسٹا گرام، ایکس (سابقہ ٹویٹر) ، فیس بک یا ٹک ٹاک وغیرہ استعمال کرتے ہیں تو اس نوعیت کے واقعات کی فوٹیج آپ کی نظروں سے ضرور گزرتی ہوگی۔ جیسے کہ سڑک کے کنارے کھڑے آدمی کے سر پر کھمبا گر گیا، کسی راہ چلتے شخص کو گولی لگ گئی، کوئی ریل کی پٹری پار کرتا ہوا ٹرین کے نیچے آ کر کچلا گیا، کہیں کسی خاندان کے تمام افراد پکنک مناتے ہوئے دریا میں ڈوب کر مر گئے، زلزلے کے نتیجے میں عمارتیں زمین بوس ہو گئیں اور لوگ چیخ و پکار کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔

مجھے یوں لگتا ہے کہ ان ایپس کی وجہ سے ہم بہت جلد ذہنی مریض بن جائیں گے یا شاید بن چکے ہیں مگر ابھی ہمیں احساس نہیں ہوا۔ جس زمانے میں صرف اخبارات خبروں کا ذریعہ ہوا کرتے تھے اس وقت میں بھی اس قسم کے واقعات رونما ہوتے ہوں گے مگر چونکہ اخبار میں فقط خبر شائع ہوتی تھی اس لیے اس کا اثر وہ نہیں ہوتا تھا جو آج اپنے موبائل فون کی سکرین پر براہ راست موت کا منظر دیکھ کر ہوتا ہے۔ ہر روز کسی نہ کسی ایپ کے ذریعے ہم تک کوئی ایسی فوٹیج ضرور پہنچتی ہے جس میں کوئی عام شخص ناگہانی موت یا ظلم کا شکار ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

سات ارب کی آبادی میں سے اگر ان ناگہانی اموات یا واقعات کی شرح نکالی جائے تو شاید صفر سے کچھ ہی اوپر جواب آئے مگر جس طرح سے یہ مناظر ہماری ذہنی صحت کو متاثر کر رہے ہیں اس کا اندازہ ان فون کالز سے لگایا جا سکتا ہے جو ہم اپنے پیاروں کو گھر سے باہر بھیجنے کے بعد کرتے ہیں۔ ’کہاں پہنچے، کتنی دیر میں آؤ گے، فون کیوں نہیں اٹھا رہے تھے، فون بند کیوں جا رہا تھا۔‘ اس ایک لمحے میں ہمارے لاشعور میں وہ تمام مناظر گھوم جاتے ہیں جو ہم نے سوشل میڈیا ایپس پر دیکھے ہوتے ہیں بلکہ اس صورتحال پر کسی ستم ظریف نے ایک کلپ بھی بنایا تھا جس کا عنوان تھا کہ اگر میں اپنی ماں کے فون کا جواب نہ دوں تووہ کیا سوچتی ہے اور پھر اس کلپ میں ایک موٹر سائیکل سوار کو دکھایا جو تیز رفتاری کے باعث کسی ٹرک کے نیچے آ جا کر ہلاک ہوجاتا ہے۔

میں کوئی ماہر نفسیات نہیں جو ان مسائل کی پڑتال کروں اور فرائڈ کی طرح انسان کے تحت الشعور اور لا شعور میں پوشیدہ خوف کو اس زمانے سے جوڑوں جب انسان غاروں میں رہتا تھا اور پھر یہ نتیجہ نکالوں کہ یہ ہزاروں سال پہلے کا انجانا خوف ہے جس سے انسان کبھی جان نہیں چھڑوا پائے گا۔ ممکن ہے کہ یہی بات ہو مگر آج کل اس خوف نے ذہنی بیماری کی شکل اختیار کر لی ہے اور شاید اس کی بڑی وجہ سوشل میڈیا ایپس کا ضرورت سے زیادہ استعمال ہے۔

رہی سہی کسر Reels نے پوری کردی ہے، یہ وہ ایک آدھ منٹ کے یہ ٹکڑے ہیں جو یکے بعد دیگرے فون کی سکرین پر نمودار ہونا شروع ہوتے ہیں اور آپ کو وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہو پاتا، آپ سونے سے پہلے آخری مرتبہ فون چیک کرنے کی غرض سے اٹھاتے ہیں کہ اچانک فون پر یہ ریلز چلنی شروع ہوجاتی ہیں اور پھر پتا ہی نہیں چلتا کہ کب رات کے تین بج گئے۔ ساری رات خواب بھی ویسے ہی آتے ہیں کہ آپ چھت پر ہوا خوری کے لیے گئے تھے کہ چھت گر گئی اور آپ ملبے تلے تب گئے!

ان ایپس کے بے جا استعمال پر ایک لا جواب مزاحیہ ویڈیو انڈیا کے اداکاروں نے بنائی ہے جو یوٹیوب پر موجود ہے، عنوان ہے If Apps were Human۔ اس میں نئی پرانی ایپس کو انسانی روپ میں دکھایا گیا ہے کہ کیسے وہ ہماری زندگیوں کو اجیرن بنا رہی ہیں۔ اب ہو گا یہ کہ آپ میں سے جن لوگوں نے وہ ویڈیو نہیں دیکھی، وہ یو ٹیوب پر ویڈیو تلاش کر کے دیکھیں گے مگر اس کے بعد (کم از کم ) اگلے دو گھنٹوں تک یو ٹیوب بند کرنا بھول جائیں گے، یہ ہے مسئلہ!

اس مسئلے کے تین حل ہیں۔ پہلا یہ کہ ہم سمارٹ فون کا استعمال ہی ترک کر دیں، نہ نو من تیل ہو گا نہ ریما ناچے گی (رادھا سے ہمارے مذہبی جذبات مجروح ہونے کا اندیشہ تھا اس لیے میں نے احتیاطاً ریما کر دیا ہے ) ۔ یہ حل قابل عمل نہیں ہے، کوئی بہت ہی اللہ لوک اس پر عمل کر سکتا ہے، ہم فانی انسانوں سے یہ نہیں ہو پائے گا۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ سمارٹ فون کا استعمال جاری رکھیں مگر اس میں سے سوشل میڈیا کی تمام ایپس نکال دیں۔

یہ حل پہلے والے کی نسبت قدرے بہتر ہے مگر میں جانتا ہوں کہ ہم سے یہ بھی نہیں ہو پائے گا کیونکہ ان ایپس پر صرف موت کا منظر ہی نہیں دیکھنے کو ملتا بلکہ بہت سا تفریحی مواد بھی ہوتا ہے جس سے کوئی بھی محروم نہیں ہونا چاہتا۔ تیسرا حل جو مجھے پسند ہے وہ یہ ہے کہ کال سننے کے علاوہ آپ موبائل فون کے استعمال کا وقت مقرر کر دیں، جیسے صبح اور رات کوایک ایک گھنٹہ، اور زیادہ سے زیادہ اپنے فون کو ہوائی جہاز کی حالت (بولے تو ائر پلین موڈ ) میں رکھیں، یہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا ایپس سے ان اکاؤنٹس کو فالو کرنا بند کر دیں جو ذہنی دباؤ اور اضطراب کا باعث بنتے ہیں اور جن میں ہمہ وقت حادثات کی ویڈیوز اپ لوڈ کی جاتی ہیں۔

میرا اندازہ ہے کہ اگر ہم ان طریقوں سے موبائل فون کا استعمال محدود کر دیں تو ہماری ذہنی کیفیت خاصی بہتر ہو جائے گی مگر ایک الجھن بدستور رہے گی جو رفع نہیں ہوگی۔ اس الجھن کا تعلق اس ذہنی تناؤ سے نہیں بلکہ اس مسئلے سے ہے جس کا تا حال کوئی جواب ہمارے پاس نہیں اور وہ مسئلہ یہ ہے کہ ظلم، نا انصافی اور حادثات کے یہ مناظر اگر ہم اپنے موبائل فون سے غائب بھی کر دیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہو گا کہ دنیا سے بدی یا شر ختم ہو گیا، الجھن وہیں رہے گی کہ عادل و قادر کے جہاں میں معصوم بچے کیوں مر جاتے ہیں، نیک لوگوں پر زمین تنگ کیوں کی جاتی ہے اور بے گناہوں کو خواہ مخواہ ظلم کیوں سہنا پڑتا ہے؟ ہمیں ان سوالوں کے جوابات بچپن میں ہی بتا دیے گئے تھے مگر کیا یہ جوابات تسلیٰ بخش ہیں؟ یہ ہے اصل الجھن!

یاسر پیرزادہ

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 482 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments