آئی جی صاحب، فرینڈز آف پولیس نہیں، پولیس فرینڈز آف آل بنائیں


انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب ڈاکٹر عثمان انور پنجاب پولیس کا بدنما چہرہ تبدیل کرنے کے لئے دن رات کوشاں ہیں۔ ان کی کاوشوں پر ہنسی بھی آتی ہے اور ان پر ترس بھی آتا ہے۔ چند روز قبل لاہور میں ایک تقریب منعقد ہوئی، قارئین اس کا مختصر احوال پڑھ لیں جس کے بعد مزید بات کرتا ہوں، انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے عوام کے ساتھ باہمی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لئے فرینڈز ان پولیس اور والنٹیئرز ان پولیس پروگرامز کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ لاہور پولیس کے زیراہتمام الحمرا ہال میں فرینڈز آف پولیس/ والنٹیئرز ان پولیس پروگرام کا افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف تعلیمی اداروں کے طلبا و طالبات، سول سوسائٹی نمائندوں نے شرکت کی، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے طلبا و طالبات اور شہریوں کو فرینڈز آف پولیس اور والنٹیئرز ان پولیس کے بیجز لگائے۔

آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے اپنے خطاب میں کہا کہ پنجاب پولیس تیزی سے سٹیزن سنٹر پولیس کی جانب بڑھ رہی ہے اور فرینڈز آف پولیس اور والنٹیئرز ان پولیس کمیونٹی پولیسنگ کی جانب اہم سنگ میل ثابت ہوں گے۔ ان پروگرامز کے تحت نوجوان طلبا و طالبات کو پنجاب پولیس کا ایمبیسیڈر بنایا جا رہا ہے جس سے پولیس اور نوجوانوں کے درمیان روابط مضبوط مزید مضبوط ہوں گے۔ تقریب میں سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ، ایڈیشنل آئی جی آپریشنز شہزادہ سلطان اور ڈی آئی جی آپریشنز لاہور علی ناصر رضوی نے کہا کہ فرینڈز منتخب ہونے والے نوجوان ایک دن میں پولیس ورکنگ، پبلک سروس ڈلیوری، ان کے حصول کا طریقہ کار، شہریوں کے حقوق و فرائض اور دستیاب خدمات بارے معلومات حاصل کر کے عوام میں پولیس ایمبیسیڈر کا کردار ادا کریں گے۔ والنٹیئرز ان پولیس منتخب ہونے والے نوجوان دو ہفتے پنجاب پولیس کے ساتھ گزاریں گے۔

پنجاب کے ہر بالغ اور نابالغ شہری کو زندگی میں ایک بار کسی نہ کسی معاملے پر پنجاب پولیس سے پالا ضرور پڑتا ہے۔ شہری جب تھانے جاتا ہے یا پولیس ناکہ پر کسی شہری کو روکتی ہے تو اس کا پالا سے پہلے کانسٹیبل شاہد جٹ جیسے اہلکار سے پڑتا ہے جس سے شہری کو پنجاب پولیس کا اصلی روپ نظر آ جاتا ہے جس کے بعد شہری جان چھڑانے کے لئے دے دلا کر جان چھڑانے میں ہی عافیت سمجھتا ہے۔ دوسری صورت میں اگر کسی شہری کے ساتھ کوئی واردات ہو جائے تو وہاں بھی یہی صورتحال ہوتی ہے پھر کوئی کام ایس ایچ او صاحب کی اجازت کے بغیر ہو نہیں سکتا، ایس ایچ او صاحب کا تھانہ آنے اور جانے کا کوئی وقت ہی نہیں، سائل کی خواری یہاں سے شروع ہوتی ہے جو سالوں تک چلتی ہے۔ کوئی خوش نصیب ہی ہو گا جس کی تھانے سے جان جلد چھوٹ جائے گی۔

ان حالات میں آئی جی کا فرینڈز آف پولیس اور والنٹیئرز ان پولیس پروگرام دیوانے کا خواب ہی لگتا ہے۔ پروگرام کے مطابق والنٹیئرز ان پولیس منتخب ہونے والے نوجوان دو ہفتے پنجاب پولیس کے ساتھ گزاریں گے۔ یہ واضح نہیں کیا گیا کہ والنٹیئرز ان پولیس کیا کردار ادا کریں گے۔ لگتا تو ہے کہ جیسے نوجوان پولیس کے لئے سہولت کاری کریں گے تو جناب اس کام کو تھانے کے ٹاؤٹ بخوبی سرانجام دے رہے، یہ ٹاؤٹ ہر تھانے کے ایس ایچ او نے رکھے ہوئے ہیں جو مک مکا کرانے کا کام بہت کامیابی سے کردار ادا کر رہے ہیں۔

رہی بات فرینڈز آف پولیس کی تو آئی جی پنجاب سے دست بستہ عرض ہے فرینڈز شپ (دوستی) یک طرفہ نہیں ہوتی، دوستی ہمیشہ ان سے کی جاتی ہے جہاں کوئی بات مشترکہ ہو، وہ مذہبی، لسانی، ثقافتی، شوق (پرندے یا جانور پالنے وغیرہ) ، لکھنے، لکھانے کا شوق مشترکہ ہو تو بات دوستی تک جا سکتی ہے۔ اب نوجوانوں کو پولیس میں کیا بات مشترکہ نظر آئے گی جو وہ پولیس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائیں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ جب سے نگران آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور صوبے پر فائز ہوئے ہیں وہ پولیس کا فیس بہتر بنانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ ٹویٹر پر پولیس کا مہان بنانے پر دن رات کام ہو رہا ہے مگر زمین پر حالات مختلف ہیں۔ عثمان انور بہت ہی نفیس فیملی سے تعلق رکھتے ہیں۔ عثمان انور نے رحیم یار خان کے گیریژن پبلک سکول سے میٹرک کیا، ان کے والد واپڈا سکارپ میں ایکسیئن تھے۔ بہت سلجھی فیملی ہے۔ میں اس وقت خواجہ فرید کالج میں پڑھتا تھا۔ رحیم یار خان چھوٹا سا شہر تھا لوگوں کی ریپو (شہرت) سب کے علم میں ہوتی ہے مگر وہ جو کر رہے ہیں وہ بہت اوپر کے کام ہیں۔ ان کو شاید علم ہی نہیں کہ نچلی سطح پر پولیس کا بیڑہ غرق ہو چکا ہے۔

کانسٹیبل سے لے کر سب انسپکٹر تک کا عملہ انتہائی نا اہل، نالائق، رشوت خور، بدتمیز، مقدمات کو تباہ کرنے میں کمال کی مہارت رکھتا ہے۔ عثمان انور پہلے پولیس کی تربیت کریں اور ان کو کام کر کے حلال کھانے کی تربیت دیں، آئی جی صاحب سے عرض ہے کہ وہ فرینڈز آف پولیس نہیں، پولیس فرینڈز آف آل بنانے پر کام کریں۔

 

Facebook Comments HS