ناروے پہ نادرہ مہر نواز کی نادر کتاب ”ناروے پگڈنڈیوں سے شاہراہوں تک“
نادرہ مہر نواز سے میں غائبانہ طور پہ اس وقت سے واقف ہوں کہ جب وہ کسی ڈائجسٹ میں افسانے اور انٹرویوز لکھ رہیں تھیں۔ میری بڑی بہن خواتین کے ڈائجسٹ میں چھپنے والے افسانے بڑے شوق سے پڑھتیں تھیں۔ میرا رجحان اور دلچسپی افسانوں کے بجائے انٹرویوز کی حد تک ہی تھی جسے میں عموماً دس پندرہ منٹ میں پڑھ لیا کرتی تھی اور بس۔ لیکن اتفاق سے ایک دن ایک افسانے کی ابتداء نے میری توجہ کھینچ لی۔ انداز کچھ ورجینیا وولف اور ہماری ”آگ کا دریا“ والی عینی آپا کی شعور کی رو میں لکھی تحریر کا سا تھا۔ عینی ہماری پسندیدہ اردو قلمکاروں میں سے ہیں۔ افسانہ نگار نادرہ گیلانی تھیں۔ بس اس طرح ہماری پڑھت میں نادرہ گیلانی بھی شامل ہو گئیں۔
پھر وقت نے جست لی۔ اس دوران تعلیم، شادی اور پھر ہمارا امریکہ میں جا بسنا۔ نئی زمین پہ اپنی اکھڑی جڑوں کو نئے سرے سے اگانا آسان کہاں، اس کوشش میں انسان اکثر تو اپنے آپ کو کھو بیٹھتا ہے۔ لیکن مجھے احساس ہوا کہ زندگی کی طویل مسافت طے کرنے کے بعد بھی نادرہ گیلانی کی تحریر ذہن کے کسی نہاں خانے میں اب بھی کہیں تھی۔ بہت عرصے بعد جب میں خود ”ہم سب“ میگزین، ( آن لائن میگزین ) ، سے جڑی تو نادرہ مہر نواز کی تحریروں سے متعارف ہوئی۔ جن سے فیس بک کے ذریعہ دوستی ہوئی تو پتا چلا کہ نادرہ مہر نواز ہی دراصل نادرہ گیلانی ہیں۔ گو ہم پہلے کبھی نہ ملے تھے لیکن اس کے باوجود بھی یہ سرپرائز ملاپ خوشگوار سا لگا۔
”ہم سب“ میں نادرہ کے مضامین مختلف موضوعات پہ چھپتے رہے ہیں۔ جن کی روانی اور فکری گہرائی سے ان کی علمیت، ذہانت اور قلم کے منجھے ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ وہ اکثر ادیبوں کی طرح کثرت سے چھپنے کی چاہ میں قلم کا بے دریغ استعمال نہیں کرتی ہیں۔ بلکہ ہمیشہ کوئی نئی بات پہنچانے کے لیے ہی ہمیں مضمون پڑھنے کی دعوت دیتی ہیں۔
ہم دونوں کے درمیان جو قدرے مشترک ہے وہ ہماری پاکستانی شہریت اور پھر بیرون ملک نقل مکانی کا تجربہ ہے۔ میرا ڈھائی سے زیادہ دہائیوں کا شمالی امریکہ میں بسنے کا تجربہ، جبکہ نادرہ کا 1989 سے یورپ کے ملک ناروے میں اپنی اکھڑی ہوئی جڑیں جمانے کا دورانیہ ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ آج وہ اپنے خاندان کے ساتھ ناروے کی اس دھرتی پہ بہت مضبوطی کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔
نادرہ گھر میں اپنے ایرانی شوہر سے فارسی، بچوں سے اردو اور انگریزی میں اور ملازمت اور ناروے کے عام شہریوں کے ساتھ نارویجین زبان میں اہل زبان کی طرح ہی گفتگو کرتیں ہیں۔ اس طرح محسوس یہ ہوتا ہے کہ وہ زبانوں کو سیکھنے کی قدرتی صلاحیت رکھتی ہیں۔ جو اس قسم کی ”کھوجی“ کتاب لکھنے میں معاونت کا سبب بنتی ہے۔
ناروے کے متعلق کتاب ”ناروے پگڈنڈیوں سے شاہراہوں تک“ لکھنے کا آئیڈیا غالباً میگزین ایڈیٹر وجاہت مسعود صاحب کا ہے۔ نادرہ نے اس سلسلے میں خاصی سعادت مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناروے سے متعلق تقریباً تمام اہم موضوعات پہ بہت محنت کے ساتھ تحقیق کی اور گاہے بگاہے ایک سے ایک دلچسپ معلومات کا ذخیرہ اپنے مضامین کی شکل میں پیش کیا۔ چونکہ میں مزاجاً تحقیق کو پسند کرتی ہوں نادرہ کے ان مضامین نے مجھے بہت متاثر کیا۔
عموماً لوگ اپنے تحقیقی مضامین کو مشکل زبان میں لکھتے ہیں لیکن نادرہ کی خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنی عرق ریزی سے تحقیق کیے مضامین کو سہل، رواں اور دلچسپ انداز میں لکھا ہے۔ اس کی وجہ سے پڑھتے ہوئے آپ کی طبیعت بوجھل نہیں ہوتی۔ اپنے چونتیس مضامین میں انہوں نے ناروے کو اتنے مختلف زاویوں سے دکھایا ہے کہ کسی موضوع کی تشنگی کا احساس نہیں ہوتا۔ ہاں البتہ آپ مزید کچھ اور جاننے کے لیے گوگل سرچ ضرور کرنے لگتے ہیں۔ دراصل مزید جستجو پہ مائل کرنا کسی بھی تحریر کی کامیابی کی دلیل ہے۔
دیکھا جائے تو یہ انتہائی سرد ملک جو آج یورپ کی اہم فلاحی اور امیر ریاست میں شمار ہے کل تک اس کو سویڈن اور ڈنمارک کا ”غریب کزن“ کہا جاتا تھا۔ تاہم ساٹھ کی دہائی کے آخیر میں تیل کی دریافت نے اس ملک کی قسمت بدل دی اور آج اس کا شمار امیر ترین ممالک میں ہے۔ لیکن جناب تیل تو عرب ممالک میں بھی ہے۔ وہاں کیوں جہالت اور دقیانوسی کا بسیرا ہے؟ وجہ صاف ظاہر ہے کہ جب حکمران صرف اپنے مفاد کو سوچتے ہیں اور دولت کو محض اپنی عیاشی کے مصرف میں لاتے ہیں تو ایسے ممالک فلاحی حکومت کے بجائے دھرتی پہ بوجھ بن جاتے ہیں۔ بادشاہت تو ناروے میں بھی ہے مگر نام کو ہی ہے، بس تفریحاً۔
ماضی میں غربت کو جھیلنے والے اس ملک کی گود ان پناہ گزینوں کے لیے کشادہ رہی ہے کہ جنہیں اپنی زمین کو مختلف وجوہات کی بناء پہ چھوڑنا پڑا۔ ان مہاجرین میں پاکستان سے آئے ہزارہ کمیونٹی کے شیعہ اور احمدی شامل ہیں۔ تاہم نائین الیون کے بعد ناروے کو اپنی نرم امیگریشن پالیسیوں کو عمومی طور پہ بالخصوص اسلامی ممالک کے باشندوں کے لیے سخت کرنا پڑا۔
کتاب میں ملک کی تاریخ، ماضی میں بسنے والے سامی، مقامی باشندوں، ثقافتی تہوار مثلاً ایسٹر، کرسمس اور سترہ مئی کو پرجوش طریقے سے منانے والا یوم آزادی کے علاوہ مصوری، موسیقی، ڈرامہ نگاری، رقص، لباس، زبان، جذبہ قومیت اور سرد برفیلے ممالک کے اسپورٹس کی تفاصیل ہیں۔ خاص کر ڈیڑھ گھنٹہ لمبی واک کو ہر ایک ضروری کام سمجھ کے کرتے ہیں۔ لوگ ”میڈ ان ناروے“ دیکھ کر بڑے فخر سے اپنی چیزوں کو پورے اعتماد سے خریدتے ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس ہم ملکی کارکردگی اور جعلی کاموں کی وجہ بے اعتمادی کا شکار ہیں اور غیر ملکی اشیاء پہ فدا ہیں۔ نادرہ نے ناروے کی ثقافت کے حوالے سے لکھا ہے ”مذہب، روایات، اور رسم و رواج سے زیادہ یہ اقدار اور اصولوں پہ قائم ہے۔“ ملک میں کوئی آپ کی جنسیت پہ معترض نہیں ہوتا۔
کتاب کا ایک پورا باب ناروے میں بسنے والے امیگرنٹ کی کامیابیوں کی تفصیل کی لیے مختص کیا گیا ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سیاسی اور حکومتی سطح پہ پاکستانیوں نے اپنا مقام بنایا ہے۔
بحیثیت منشیات کے عادی افراد کی تھرپسٹ کے میں نے خاص کر اوسلو کے تاریک پہلو ڈرگز، ریپ، شراب نوشی، گداگری کے علاوہ غربت پہ لکھے مضامین کو پڑھا۔ مضمون کے مطابق اوسلو کو ”ڈرگ ڈیتھ کیپٹل آف یورپ“ کا نام دیا ہے۔ اس کی وجہ ہیروئن کا استعمال اور اور ڈوز سے اموات ہے جو یورپ میں سب سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ دوسری منشیات اور الکوحل کا استعمال، ریپ، سیکس ورکرز کا دھندا بھی عام ہے۔ گو حکومتی ادارے اس سلسلے میں مستعد ہیں۔ لیکن کسی بھی سماج میں محرومی کہیں نہ کہیں پالیسی کی ناکامی اور انصاف کی کمی کی نشاندہی کرتی ہے۔ چاہے ناروے ہو یا پاکستان ہمیں اپنے احتجاج کو جاری رکھنا ہو گا۔
غرض اس انتہائی سرد ملک پہ نادرہ کے بہت گرمجوشی سے لکھے مضامین نہ صرف عام پڑھنے والوں بلکہ تحقیق دانوں کے لیے بھی معلومات کا عمدہ ذریعہ ہیں۔ اس کتاب کا ٹائیٹل خوبصورت، کتابت اور پیپر عمدہ استعمال ہوا ہے۔ کتاب کو عکس پبلیکیشن کے محمد فہد نے شائع کیا ہے۔
نادرہ اپنی اہم کتاب پہ مبارکباد کی مستحق ہیں۔


