فلسطینیوں کا جذبۂ حریت

7 اکتوبر کو اسرائیل پر ایک میزائلوں کی برسات ہونا شروع ہوئی کم و بیش 7000 میزائل داغے گئے یہ صبح سویرے ساڑھے چھ بجے فلسطینی سیلاب آپریشن کی کارروائی شروع ہوئی۔ اکثر لوگ ابھی تک محو خرام ہی تھے کہ یکایک ہوا و فضا بدل سی گئی۔ سینکڑوں لوگ ہلاک ہوئے اور دیگر ہزارہا افراد زخمی ہیں کچھ فوجیوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔ فوراً اسرائیلی حکومت حرکت میں آ گئی اور اعلان جنگ کر کے فیصلہ کن جوابی کارروائیاں شروع کرنے کا عندیہ دیا۔
ادھر امریکی و برطانوی اور کچھ اور یورپی ممالک نے اس حملے کی مذمت کی ہے۔ اس کارروائی کا سب سے اہم پہلو اس کی خفیہ پلاننگ اور عملداری ہے جو اس قدر چابکدستی سے کی گئی کہ کسی کو کانوں کان خبر تک نہ ہوئی۔ یہ عمل کئی اقسام کے پیغامات کا منبع ہو گا۔ پہلا تو یہ حیرت انگیز عمل جس کا تذکرہ کئی مرتبہ پہلے دیا گیا تھا کہ عنقریب ایک حیرت انگیز جواب دیا جائے گا کیونکہ فلسطین بالخصوص غزہ میں ظلم و بربریت کا بازار بہت طویل عرصہ سے گرم کیا گیا تھا اور اپنوں پرایوں کی بے بسی و بے حسی کی وجہ طوالت پکڑ رہا تھا۔
یہ اسی ظلم و ستم کا حتمی انجام ہے۔ اب ہو گا کیا یہ دیکھتے ہیں۔ اسرائیل اپنا حق دفاع جتائے گا اس کے حلیف اس کارروائی کی مذمت کریں گے۔ اسرائیلی جارحیت بڑھ جائے گی، حماس والے اپنی فتح عظیم کا اعلان کریں گے مگر فلسطینیوں کا لہو مزید بہایا جائے گا اور عرب دنیا غزہ کی تعمیر نو کے لئے کچھ فنڈ دے کر مطمئن ہو جائے گی۔ لیکن اگر عمیق جائزہ لیا جائے تو زمینی حقائق میں شاید کوئی بڑی تبدیلی نہیں آنے والی۔ اسرائیلی جنگی مہارت کے سامنے یہ کامیابیاں وقتی محسوس ہوں گی اور اسرائیلیوں کے مظالم میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا۔
مسلمانوں کا عالم کفر ہمیشہ سے تمسخر اڑایا کرتے ہیں کہ ان کی تشریح کے مطابق دنیا ایک چوکور ہموار زمین ہے۔ اب اس غزہ کو ہموار کر کے یہ ثابت کیا جائے گا۔ امریکہ نے اپنی پوری مدد کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے ادھر روس نے اس کارروائی کا خیر مقدم کیا ہے اور اسے فلسطینیوں کا حق دفاع قرار دیا ہے۔ فلسطین میں قائم شدہ نام نہاد فلسطینی حکومت کی پہلے ہی کوئی شناخت اور اہمیت نہیں تھی، رہی سہی کسر اس کارروائی نے نکال دی ہے اور حماس نے ثابت کیا ہے کہ فیصلہ سازی تو اس کی منشاء و مرضی کے بغیر ناممکن ہے جس طرح یمن میں ہوثیوں، لبنان میں حزب اللہ اور فلسطین میں حماس کے بغیر کوئی قابل عمل لائحہ عمل مکمل نہیں ہو سکتا ۔
ناکام ممالک کی پہچان ہی یہی ہے کہ ریاستی اداروں سے یہ خودمختار گروہ اور گروپ زیادہ تگڑے ہو جاتے ہیں اور ریاست کو اکثر اوقات ان کے سامنے سرنگوں ہونا پڑتا ہے۔ بظاہر تو اس کارروائی میں فلسطینیوں کا بڑا نقصان ہوتا دکھائی دیتا ہے مگر تنگ آمد و بجنگ آمد کے مصداق جب جورو ستم کی رات زیادہ طویل ہو جائے تو پھر آخری حربہ خودکش حملہ آوری ہی ہوتا ہے سود و زیاں کے پیمانے یہاں بے معنی نظر آتے ہیں۔ آنے والے موسم سرما میں ماحول خاصا گرم دکھائی دے رہا ہے۔ جب تک دو ریاستی حل تک نہ پہنچا جائے ایسی کارروائیوں کی حدت و شدت بڑھتی رہے گی۔ حتمی امن تک پہنچتے پہنچتے نہ جانے کتنے خونی دریا عبور کرنا ہوں گے۔

