اٹک جیل سے اڈیالہ جیل اور مائنس ون


عمران خان اوسط دماغ کے ایسے شخص ثابت ہوئے جو متشددانہ رجحانات پر یقین رکھتے ہیں۔ انھوں نے اپنے دشمنوں کے لیے اتنی آگ بھڑکائی کہ اب خود اس آگ میں جھلس رہے ہیں۔ عمران خان بھول گئے تھے جب وہ اپنے مخالفین کو جھوٹے مقدمات میں جیلوں میں ڈال رہے تھے اسی وقت ان کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو گیا تھا۔ مکافات عمل دستک نہیں دیتی اور نہ ہی دروازے کھلنے کا انتظار کرتی ہے۔ یہ اپنے لیے خود ہی دروازے کھول لیتی ہے۔ گناہ گونگے نہیں ہوتے، زیادتیاں خاموش نہیں رہتیں۔ انہیں جیسے ہی موقع ملتا ہے وہ لاٹھی بن کر سر پر برسنے لگتی ہیں۔

عمران خان کی سیاست کا سادہ ترین اظہار وہ انتقامی کارروائیاں ہیں جو انھوں نے نواز شریف، ان کے ساتھیوں اور اپنے دیگر مخالفین کے ساتھ روا رکھا۔ نہ جانے وہ ایسا کیوں سمجھنے لگے تھے کہ موسم بہاران کے لئے دائمی ہے۔ چکی کے جن دو پاٹوں کے بیچ انھوں نے نواز شریف اور پوری مسلم لیگ نون کو بہت باریک پیسنے کی کوشش کی وہ دونوں پاٹ با ہم مل کر اب ان کے درپے ہیں۔ مقدمات، نا اہلی، پارٹی سے محرومی اور قیدوبند۔ یہ زندگی کا متنوع پہلو نہیں مکافات عمل ہے کہ مریم نواز لندن سے لاہور آ رہی ہیں اور عمران خان اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کیے جا رہے ہیں۔

شوکت ہمارے ساتھ بڑا حادثہ ہوا
ہم رہ گئے ہمارا زمانہ چلا گیا

پیپلز پارٹی کے بانی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا ”قبرستان نا گزیر لوگوں سے بھرے ہوئے ہیں۔“ عمران خان بھی اپنے آپ کو ایسا ہی ناگزیر سمجھنے لگے تھے۔ جب انھوں نے یہ کہا تھا کہ ”میرا کوئی متبادل نہیں ہے“ یہ ایسے انجام کو دعوت تھی، ایسی کال کوٹھڑی کی جستجو تھی جس میں وہ آج ایک جیل سے دوسری جیل میں منتقل ہو رہے ہیں۔ تکبر اللہ سبحانہ و تعالی کی ردا ہے اور صرف اسے ہی روا ہے۔

عمران خان کی قاتل ان کی ”میں“ تکبر اور خود پسندی ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ جس اسٹبلشمنٹ نے نواز شریف کو عدلیہ کی مدد سے ایک نرم سی بغاوت کے ذریعے نکال باہر کیا ہے عمران خان اس اسٹبلشمنٹ کی مسلسل اور بے بدل آرزو ہیں۔ ایسی آرزو جس کے بعد کوئی آرزو باقی نہیں رہتی۔ انھیں ہر آئینے میں اپنا ہی عکس نظر آنے لگا تھا اس پر بے وفائی بھی ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ لوگوں کو استعمال کرنے کے بعد وہ ان کا نام تک یاد رکھنا پسند نہیں کرتے۔

وہ اپنے ہی محسنوں کے خلاف صف آرا ہونے میں کوئی عار نہیں سمجھتے۔ اسٹبلشمنٹ نے جس طرح میدان عمران خان کے لئے خالی کروایا، انھیں وسائل مہیا کیے ، اپنے من پسند صحافی ان کے حوالے کیے ، سوشل میڈ یا کا اسلحہ بارود انھیں منتقل کیا وہ ان تمام کے ساتھ اسٹبلشمنٹ پر ہی حملہ آور ہو گئے۔ اسٹبلشمنٹ نے اس مرتبہ پارلیمنٹ کو استعمال کر کے انھیں نکال با ہر کیا۔ اس پر بھی وہ نہ سمجھے اسٹبلشمنٹ پر ہی حملہ آور رہتے تو پھر بھی بچت ہو سکتی تھی۔ نو مئی کو انھوں نے اپنی انا کا ٹائی ٹینک ریاست کے آئس برگ سے ٹکرا دیا۔

نگران وزیراعظم کاکڑ صاحب نے فرمایا ہے کہ عمران خان کے بغیر بھی منصفانہ الیکشن ہوسکتے ہیں۔ الیکشن اور منصفانہ؟ ایں خیال است و محال است و جنوں۔ الیکشن کے جو اسلوب رائج ہوتے جا رہے ہیں اب یہ سوال امریکا میں بھی غیر متعلقہ ہوتا جا رہا ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی یہی صورتحال ہے۔ پاکستان میں الیکشن اتنے ہی منصفانہ ہوں گے جتنے آپ کے معاشی تصورات منصفانہ ہیں۔ جتنا آپ کا معاشرہ منصفانہ ہے، جتنا یہ نظام منصفانہ ہے، جتنی آپ کی عدالتوں میں فیصلے منصفانہ ہیں، جتنی معیشت منصفانہ ہے، جتنی دولت کی تقسیم منصفانہ ہے جتنا گھروں کے معاملات منصفانہ ہیں۔ اس نظام میں انصاف اور شفافیت ہر شعبے میں غیراہم ہے۔ الیکشن میں اسے اتنی اہمیت دے کر بار بار اس کا تذکرہ کر کے ہم صرف اپنی منافقتوں کا اظہار کرتے ہیں اور کچھ نہیں۔

جہاں تک عمران خان کے بغیر الیکشن کا سوال ہے تو جب ذوالفقار علی بھٹو کے بغیر الیکشن ہوسکتے ہیں، نواز شریف کے بغیر الیکشن ہوسکتے ہیں، بے نظیر بھٹو کے بغیر الیکشن ہوسکتے ہیں تو عمران خان کے بغیر بھی الیکشن ہوسکتے ہیں۔ ہم یہ کیوں سمجھنے لگے ہیں کہ اس ملک میں الیکشن ہوتے ہیں؟ اس ملک میں جس قسم کے الیکشن ہوتے ہیں، ہر الیکشن کے بعد ملک کے ساتھ جو کھلواڑ کیا جاتا ہے اس کے بعد عمران خان کے مائنس ہونے سے، نواز شریف کے مائنس ہونے سے یا سب کے مائنس ہونے سے فرق کیا پڑتا ہے۔

اور اگر یہ لوگ مائنس نہ بھی ہوں برسراقتدار بھی آ جائیں تو کیا فرق پڑے گا؟ پھر بھی حکومت کا مرکز و محور الیکٹیبلز ہی رہیں گے، حکمران اپنی حکمرانی برقرار رکھنے کے لئے ان ہی کے ترلے اور منتیں کرتے رہیں گے انھیں ہی نوازتے رہیں گے۔ ججوں اور جرنیلوں سے قوت حاصل کرتے رہیں گے اور ان کے اشاروں پر ناچتے رہیں گے۔ کس کے دور میں عوام ترجیح رہے ہیں جو اب ترجیح رہیں گے؟ عوام کی، ادنی طبقے کی، زندگیوں میں کسی بھی الیکشن سے، کسی عمران خان سے نواز شریف سے یا زرداری سے کیا فرق پڑنا ہے؟

مائنس ون پاکستان میں پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا ہے۔ پاکستان کی تخلیق کے ساتھ ہی ان محترم سیاست دانوں کو مائنس کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا جن کی سیاست اور کوششوں سے یہ ملک وجود میں آیا۔ پونے چار برس کی بدترین کارکردگی کے باوجود آٹھ مئی تک عمران خان عوامی شہرت کی اس بلندی پر تھے کہ اگلے پانچ دس برس تک دور دور کوئی ان کا مدمقابل نہیں تھا لیکن نو مئی کو جب انھوں نے اپنی جماعت کو ریاست کے مقابلے میں لا کھڑا کیا، وہ ریاست سے ٹکرا گئے تو اسی وقت الیکشن تو رہے ایک طرف ان کا قومی کردار بھی بہت محدود ہو گیا۔

تحریک انصاف ملک گیر جماعت تھی، یہ کوئی قوم پرستوں کا چھوٹا سا گروپ نہیں تھا جن کا وجود اس طرح کی حرکتوں میں اپنی بقا کے راستے تلاش کرتا ہے۔ عمران خان کو بڑے جوڑ توڑ اور محنت کے بعد اقتدار کے ایوانوں تک لایا گیا۔ عمران خان کو لانے کے لئے نواز شریف کو مائنس کیا گیا، قراردیا گیا کہ وہ صادق اور امین نہیں رہے۔ وہ 2018 کے الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے۔ معمولی اکثریت کے باوجود اسٹبلشمنٹ نے دباؤ ڈال کر الیکٹیبلز کی تحریک استقلال میں شمو لیت یقینی بنائی، ہر ہر مرحلے پر جتن سے کھیر پکا کر عمران خان کے حوالے کردی گئی لیکن آج اسی عمران خان کے بارے میں مقتدر حلقوں میں یہ رائے پائی جاتی ہے کہ پاکستان ان کی سیاست کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ عمران خان مائنس پاکستان کی راہ پر چل پڑے ہیں۔ انھوں نے آئی ایم ایف پر امریکا پر دباؤ ڈالا کہ وہ پاکستان کی مدد نہ کریں۔

الیکشن میں عمران خان کے مائنس ہونے سے یقیناً الیکشن کی ساکھ متاثر ہوگی، الیکشن کے نتائج پر غیر یقینی کے سائے لرزاں رہیں گے لیکن جس ہائبرڈ نظام کے وہ تخلیق کار ہیں جسے شہباز حکومت نے قانونی اور آئینی جواز اور بنیادیں عطا کردی ہیں اگلے پانچ دس برس وہی نظام چلتا نظر آ رہا ہے۔ اس ہائبرڈ نظام نے عمران خان کو خلق کیا تھا اور اب یہی نظام اور عمران خان ایک دوسرے کے درپے ہیں۔ دیکھتے ہیں کیا گزرتی ہے قطرے پہ گہر ہونے تک۔

Facebook Comments HS