فلسفہ زندگی!


ایک چیز جو محسوس کی جاتی ہے کہ، بیشتر لوگ فلسفہ زندگی سے یکسر بے خبر ہیں، وہ زندگی جس کے لیے سب کچھ تیاگ دیا جاتا ہے، جس کے لیے سرد و گرم نہیں دیکھا جاتا ہے، جس کے لیے کسی کی پرواہ نہیں کی جاتی ہے، جس کے لیے انسان ہے کہ سرپٹ دوڑ رہا ہے، دریاؤں کو پھلانگتا ہے، سمندروں کے سینے چیرتا ہے، بلندیوں کی چوٹیوں کو سر کرتا ہے، صحراؤں کی طوالت ناپتا ہے، میدانوں کی وسعتیں قابو میں رکھتا ہے، یہ سب کچھ زندگی کے لیے کرتا ہے، ان سب کے باوجود اگر وہ زندگی کے حقیقی فلسفے کو سمجھے بغیر اسے گزار دیتا ہے تو یہ خود اپنے ساتھ کتنی بڑی نا انصافی ہے۔

زندگی بہت بڑا موضوع ہے، اسے سمجھنے کے لیے زندگی بیت جاتی ہے، ہر شخص کے پاس زندگی کی اپنی تعبیر ہے، بقول کسے، جب زندگی سمجھ آنا شروع ہوجاتی ہے تو زندگی ختم ہو چکی ہوتی ہے، اکثریت کے ہاں زندگی کی تعبیر بہت زیادہ خوشحال ہونا ہے، ڈھیر ساری دولت کمانا ہے، بڑے بڑے لگژری گھروں میں رہنا ہے، بڑی بڑی گاڑیوں میں سفر کرنا ہے، نوکر چاکروں کے جلو میں زندگی کو شاہانہ طرز پر بسر کرنا ہے۔ جبکہ بعض لوگ زندگی کے فلسفے کو یہ تعبیر دیتے ہیں کہ اسے اپنے لیے نہیں دوسروں کے لیے جینا چاہیے، اپنی ذاتی زندگی کا تصور خود غرضی ہے، خود کو سماج کے لیے وقف کرنا ہے اور اپنی ذات کو مٹا دینا چاہیے۔

کسی کے ہاں زندگی آرٹ ہے، غم زندگی کا بوجھ کاندھوں پر اٹھا کر نہیں چلنا ہے، اسے بہتے دریا کے بہاؤ کے ساتھ رکھنا ہے، زندگی کو غزل بنانا ہے، اسے گیت بنا کر ہونٹوں پر سجانا ہے، اس کے نغمے گنگنانا ہے اور اس کے ہر لمحے کو کیف و سرور سے سرشار کرنا ہے۔

زندگی ہے کیا؟

زندگی کی تعبیر میں مذہب، لامذہب، سیکولرازم یا لبرل ازم کے اپنے اپنے تصورات ہیں، مشرق و مغرب کے بھی اپنے تصورات ہیں، دنیا کی بہت بڑی آبادی مذہب سے وابستہ ہے، مذہبی نکتہ نگاہ سے بھی سوچ کے کئی چشمے پھوٹتے ہیں، کچھ کا خیال ہے جیسے تیسے گزار دی جائے، یہ فانی ہے اسے اتنی اہمیت نہیں دی جانی چاہیے، اسے آخرت کی تیاری میں بسر کرنا ہے، آخرت کی تیاری میں زندگی گزارنی ہے اس پر کوئی اختلاف نہیں کیا جاسکتا ہے، مگر اس بات پر بھی اتفاق نہیں کیا جاسکتا ہے کہ فانی ہے جیسے تیسے گزار دی جائے۔

تمام تعبیرات اپنی جگہ تاہم ہمارے معاشروں میں زندگی کو خوشحال، پر تعیش اور لگژری بنانے کا تصور سب سے زیادہ مضبوط ہے، اسی تصور نے انسانوں کی دوڑیں لگادی ہیں، اسی تصور نے خود زندگی کے تصور کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے، اور فلسفہ زندگی کو نظروں سے اوجھل کر دیا ہے، زندگی سنوارنے میں اس قدر کھو گئے ہیں کہ زندگی میں زندگی موجود نہیں ہے۔

زندگی کی اصل تعبیر اطمینان ہے، جو انسان مطمئن ہے وہ زندہ ہے، قطع نظر اس کے کہ وہ کسی محل میں رہتا ہے یا کسی جھونپڑی میں ہے، آپ اپنی زندگی سے کتنے مطئمن ہیں، کتنے خوش ہیں اور اس سے کتنا لطف لے رہے ہیں، یہی پیمانے ہیں کہ آپ کیسی زندگی گزار رہے ہیں۔

غربت ذلت ہے، غربت کی زندگی مطمئن نہیں ہو سکتی ہے، پھر یہ سوال اٹھتا ہے کہ جھونپڑی والے کی زندگی میں کس طرح اطمینان آ سکتا ہے، جھونپڑی اگر طرز زندگی ہے تو اس میں اطمینان ہے، دنیا بھر میں خانہ بدوشانہ طرز زندگی موجود ہے جو محلات کی زندگی سے بہت زیادہ مطمئن ہیں، جھونپڑی اگر مجبوری یا غربت کی وجہ سے ہے پھر ذلت ہے اور ہر شخص کو اپنی غربت کے خلاف لڑنا چاہیے، مادی زندگی کے اتنے اسباب ضرور ہوں کہ زندگی میں محتاجی نہ ہو۔ محتاج زندگی مطمئن نہیں ہو سکتی ہے۔

کیا دولت مند بننے میں کوئی قباحت ہے، بالکل نہیں ہے، حریص بننے میں قباحت ہے، ناجائز دولت اکٹھی کرنے میں قباحت ہے، آمدن کے ناجائز ذرائع استعمال کرنے میں قباحت ہے، سماج کی قدروں کو روند کر پیسہ بنانے میں قباحت ہے، معاشرے کے چند افراد کے ہاتھوں دولت کے ارتکاز میں قباحت ہے اور یہی چیز ایک غیر مطمئن زندگی ہے۔

انسان انفرادی زندگی نہیں گزار سکتا ہے، ایک غیر مطمئن سماج میں ایک فرد کا مطمئن ہونا ممکنات میں سے نہیں ہوتا ہے، زندگی کئی بندھنوں سے بندھا ہوتا ہے، مطمئن زندگی کے لیے ضروری ہے کہ یہ ہمہ گیر ہو اور پورے سماج پر محیط ہو، لوگ برسوں دولت جمع کر کے سوچتے ہیں کہ آخری وقت میں زندگی کا لطف لے سکیں، اور بعض گزر بسر پر اکتفاء کر کے سمجھتے ہیں کہ دولت میں سکون نہیں ہے، دراصل یہ عدم اطمینان کی وجہ نہ دولت کی زیادتی ہے اور نہ ہی مادی اسباب کی کمی بیشی ہے بلکہ یہ سب کچھ اجتماعی نظم میں بگاڑ کی وجہ سے ہے۔

اجتماعی نظم کے کچھ قانون ہوتے ہیں، جو سب کے لیے یکساں ہوتے ہیں، جس میں ترازو کے دونوں پلڑے برابر رکھے جاتے ہیں، ان قانون کی موجودگی میں انسانی ترقی اس کی محنت اور فطری صلاحیتوں کے مطابق ہوتی ہے، قانون نہ کسی کو ناجائز دولت اکٹھی کرنے کی اجازت دیتا ہے اور نہ ہی کوئی محنت کرنے والا اپنے صلے سے محروم رہتا ہے، اجتماعی نظم کی خوبصورتی میں اپنی بے پناہ صلاحیتوں اور کمٹمنٹ سے دولت کمانے والے اور ایک دیہاڑی دار کی رہائش کے معیار میں تو فرق ہو سکتا ہے لیکن دونوں کے اطمینان کے معیار ایک جیسے ہوں گے، کیونکہ وہاں قانون اور اجتماعی نظم کے معیار ایک جیسے ہیں۔

یقیناً جہاں ہم ہیں وہاں اجتماعی نظم غیرمعیاری ہے، قانون پر عملدرآمد نہیں ہے، ضابطے ناہموار ہیں، اصول شکستہ ہیں، پھر کسی کے لیے فلسفہ زندگی کو سمجھنا کہاں آسان ہو گا، یہاں دو انتہا ہیں، غربت کی انتہا ہے یا دولت کی انتہا ہے، لیکن اطمینان دونوں کے پاس نہیں ہے، سرگرداں دونوں ہیں، پریشاں حال دونوں ہیں بے چین دونوں ہیں۔

فلسفہ زندگی کو تلاشنے کے لیے ضروری ہے کہ اجتماعی نظم کو خوبصورت اور معیاری بنا دیا جائے، یہ کام اہل سیاست اور صاحب اختیاروں کا ہے، انہیں توجہ دلانا چاہیے کہ سماج کے اجتماعی اطمینان کے لیے وہ قانون کی حقیقی بالادستی کو یقینی بنائیں تاکہ ایک دولت مند اور ایک دیہاڑی دار کی رہائش کے معیار الگ ہوں مگر ان کے اطمینان کے معیار یکساں رہیں، کیونکہ فلسفہ زندگی اطمینان کا نام ہے، جو شخص مطمئن ہے وہ زندہ ہے جو مطمئن نہیں ہے وہ زندہ درگور ہے، جو سماج مطمئن ہے وہ زندہ ہے جو مطمئن نہیں ہے وہ مردہ ہے۔

Facebook Comments HS