خیبرپختونخوا میں تبدیلی کی سرگوشیاں!

مخصوص نشستوں کا حتمی فیصلہ آ جانے کے بعد خیبرپختونخوا کی سیاست کی راہداریوں میں سرگوشیوں کا آغاز ہو چکا ہے، سیاست شطرنج کی وہ بساط ہے جس میں ہر فریق ہمہ وقت اس تاک میں رہتا ہے کہ وہ مخالف فریق کو کب پچھاڑ دے، وہ اس کی سیاسی کمزوریوں پر نظر رکھتا ہے اور اس کی جانب سے کی جانے والی کسی بھی غلطی کا انتظار کرتا ہے، بھٹو جیسے ذہین و فطین مانے جانے والے سیاستدان نے

Read more

جے یو آئی کا تصور انقلاب!

معاشروں میں نا انصافی اور عدم مساوات جب اپنے آخری نقطے کو چھو رہے ہوتے ہیں تو اس دوران سماج کے اندر ہی اندر گھٹن کا ماحول جنم لیتا اور پھلتا پھولتا رہتا ہے، گھٹن زدہ ماحول اپنے دامن میں شدید بے چینی، اضطراب، غصہ، اشتعال اور نفرت کی کیفیات ساتھ لیے انہیں انسانی نفسیات میں شامل کر دیتا ہے، ماضی کے جھروکوں کا مطالعہ کریں یا حال کے منظرناموں پر نظر ڈالیں، اس طرح کے اضطرابی اور بے چینی

Read more

بھوک کا نوحہ

بھوک کے اپنے ضابطے ہیں جو کسی اور ضابطے کو خاطر میں نہیں لاتے ہیں، خوراک انسان کی پہلی ضرورت ہے جو انسانی بقاء کا ضامن ہے، ابتداء افرینش سے اب تک خوراک انسان کی پہلی تلاش رہی ہے، جیسے جیسے انسانی آبادی زمین کی وسعتوں میں پھیلتی گئی ہے، خوراک تلاش کرنے کے بے شمار ذرائع بھی دریافت ہوتی رہی ہیں اور یہ دریافت بھی انسان ہی نے کیے ہیں۔ انسانوں کی بڑھتی آبادیوں نے مل جل کر رہنے

Read more

سندھ کی سیاسی انگڑائی۔۔۔

شاہ عبدالطیف بھٹائی کی شاعری میں گوندھی ہوئی سندھ دھرتی سراپا سحر ہے، یہاں قدم رکھیں تو یوں لگے جیسے آپ کسی خانقاہ کی روح میں اترتے چلے جا رہے ہیں، جیسے ایک تسکین بخش گہرائی ہو جس میں انسان اپنے تمام احساسات کے ساتھ چلا جا رہا ہو، صوفی ازم، نیشنل ازم اور وفاقیت کا حسین امتزاج لیے سندھ وسیع کائنات ہے، عاجزی یہاں کے مزاجوں کا خاصہ ہے، جو صدیوں سے موجود صوفی ازم سے مستعار ہے۔ یہاں

Read more

جے یو آئی کی کامیابیوں کا سفر

اس میں دو رائے نہیں ہیں کہ جے یو آئی ہی بلوچستان کی سب سے بڑی سیاسی و مذہبی تنظیم ہے، اس کے پاس کمیٹڈ ورکرز کی بہت بڑی کھیپ ہے، یونٹ سے لے کر صوبہ تک مربوط تنظیمی ڈھانچہ ہے، زیرک قیادت ہے، اور ہر قسم کی سیاسی مد و جزر سے گزرنے کا تجربہ ہے۔ 28 جولائی کو جب موجودہ صوبائی تنظیم سازی کے چند دن ہوئے تھے، ابھی تک صوبائی کابینہ کی تشکیل نہیں ہوئی تھی، جے

Read more

طوفان الاقصی

فلسطین اسرائیل تنازعہ بلکہ فلسطین پر اسرائیلی قبضہ دہائیوں سے ہے اور اہل فلسطین کی مزاحمت بھی قبضے کے پہلے دن سے چلی آ رہی ہے، 7 اکتوبر کو حماس نے اسرائیل پر طوفان الاقصی کے نام سے تاریخ کا سب سے بڑا حملہ کیا، یہ حملہ اس قدر اچانک اور منظم تھا کہ اسرائیل کو سنبھلنے کا موقع نہ ملا، حملے نے ایک طرف حماس کی کامیاب جنگی حکمت عملی دنیا کے سامنے پیش کی دوسری طرف اسرائیل کے

Read more

مفتی محمود رح اور ملکی سیاست!

14 اکتوبر سیاست کے عظیم مفکر مفتی محمود رح کا یوم وفات ہے، مفتی محمود رح پاکستانی سیاست کے وہ شہسوار تھے، جن کا نام رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ بڑے لوگ روز پیدا نہیں ہوتے، بڑی مدتوں بعد جنم لیتے ہیں، بڑے لوگ تاریخ کا حصہ نہیں ہوتے ہیں، خود تاریخ ہوتے ہیں، جب تک زندہ ہوتے ہیں ان کا فیض ایک جہاں کو پہنچتا ہے اور جب رخصت ہوتے ہیں تو ان کی فکر کے رواں

Read more

جے یو آئی / ڈیجیٹل میڈیا سیل کا قیام!

وقت بدلتا ہے تو اپنے ساتھ بہت کچھ بدل دیتا ہے، بلکہ یوں کہیں کہ نئے آئیڈیاز کی آمد وقت کو بدل دیتا ہے، آپ 1450 سے قبل کی دنیا کا سوچیں جب پرنٹنگ پریس ایجاد نہیں ہوا تھا، اظہار خیال اندر ہی اندر گھٹ کر مر جاتا تھا، یا صرف چند لوگوں تک پہنچایا جاسکتا تھا، دماغ کے چشموں سے پھوٹتے خوبصورت خیال کبھی لفظ بن کر لوگوں کے دل و دماغ پر بسیرا نہیں کر سکتے تھے، یا

Read more

فلسفہ زندگی!

ایک چیز جو محسوس کی جاتی ہے کہ، بیشتر لوگ فلسفہ زندگی سے یکسر بے خبر ہیں، وہ زندگی جس کے لیے سب کچھ تیاگ دیا جاتا ہے، جس کے لیے سرد و گرم نہیں دیکھا جاتا ہے، جس کے لیے کسی کی پرواہ نہیں کی جاتی ہے، جس کے لیے انسان ہے کہ سرپٹ دوڑ رہا ہے، دریاؤں کو پھلانگتا ہے، سمندروں کے سینے چیرتا ہے، بلندیوں کی چوٹیوں کو سر کرتا ہے، صحراؤں کی طوالت ناپتا ہے، میدانوں

Read more

نو مئی اور عمران خان کا مستقبل

28 جنوری کو ملک میں عام انتخابات ہوں گے، الیکشن کمیشن کی طرف سے باقاعدہ اعلان ہو چکا ہے، سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں سے بظاہر یہی لگ رہا ہے کہ انتخابات دی گئی تاریخ کے مطابق ہوں گے، دی گئی تاریخ کے باوجود ایک خوف تو ہے کہ شاید حالات ایسے پیدا ہوں کہ انتخابات مزید طول پکڑیں لیکن یہ اب تک محض ایک خدشہ ہے، کیونکہ نواز شریف کی واپسی انتخابات کی تصدیق سمجھی جا رہی ہے، اس ضمن

Read more

بیمار زندگی!

ملکی معیشت خراب ہے، سیاست عدم استحکام کا شکار ہے، سماجی رویے اتھل پتھل ہیں، ان پر ہم بات کر رہے ہوتے ہیں، ہم دوسرے ممالک سے اپنا سیاسی و معاشی تقابل بھی وقتاً فوقتاً کرتے ہیں، لیکن ہم دوسرے معاشروں سے اپنا نفسیاتی تقابل نہیں کرتے ہیں۔ ترقی یافتہ اور پسماندہ معاشروں کی نفسیات میں بڑا فرق ہوتا ہے، نفسیات کے اس فرق کا اثر صرف ہماری گفتگو میں نہیں بلکہ ہمارے اٹھنے بیٹھنے سے لے کر، چلت پھرت

Read more

خوبصورت انسان!

اپنی زندگی کا بیشتر حصہ بلکہ یوں کہیں کہ قبل از بلوغت سے لے کر 47 سال تک کی عمر دشت سیاست میں گزری ہے، آپ جس شعبے سے تعلق رکھتے ہیں یقیناً آپ کی سوچ کا محور اسی شعبے کے نشیب و فراز ہوں گے، تحریر ہو یا گفتگو، وہی شعبہ موضوع سخن ٹھہرے گا، جب لکھنا شروع کیا تو سیاست ہی تحریر کا زیب داستاں ہوا کرتا تھا، بلکہ اب بھی ہے، اس لیے کہ سیاست انسانی زندگی

Read more

ٹھوکر پر پڑی دستاریں!

اقوام ہوں یا افراد، انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی معاشرتی رہن سہن، اس میں اقدار کی بڑی اہمیت ہوتی ہے، انسانی زندگی میں جن چیزوں پر فخر کیا جاتا ہے ان میں سے ایک چیز ان کی روایات ہیں، جو انسانی زندگی کی شناخت کا حصہ بن جاتی ہیں۔ ڈیجیٹل دور نے جہاں انسانی زندگی کے لیے بے شمار نئی راہیں تلاش کی ہیں، مادی اسباب مہیا کیے ہیں، آسانیاں پیدا کی ہیں، وہیں اس نے انسانی اقدار پر شدید

Read more

باجوڑ کا درد اور جے یو آئی کا خراج

باجوڑ کا دکھ بہت بڑا ہے، ایسا دکھ جو اٹھائے نہیں اٹھتا ہے، چشم گریاں کے آنسو ہیں کہ تھمتے نہیں ہیں، یہ صرف باجوڑ کا دکھ نہیں ہے، یہ صرف جے یو آئی کا درد و الم نہیں ہے اور نہ صرف کے پی کے کا نوحہ ہے بلکہ اس نے ایک اجتماعی ماتم کا روپ دھار کر اب پورے ملک کو انسانیت کا ماتم کدہ بنا دیا ہے۔ البتہ کے پی کے اور بلوچستان تزویراتی پالیسیوں کا سب

Read more

جے یو آئی بلوچستان کی تاریخی کامیابی!

مولانا فضل الرحمن بلوچستان کے پانچ روزہ دورے پر ہیں، اس موقع پر جے یو آئی بلوچستان نے 8 دسمبر کو ایوب اسٹیڈیم میں بہت بڑا ورکرز کنونشن کا انعقاد کیا، جو جذبوں اور ولولوں کا سیل رواں اور عزم و عمل کا عہد و پیمان تھا۔ اس کنونشن کی خاص بات بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سابق تین صوبائی وزراء، حاجی امان اللہ نوتیزئی، غلام دستگیر بادینی، میر ظفراللہ زہری سمیت، دیگر قبائلی و سیاسی شخصیات کی جے یو

Read more

عمران خان کا کل اثاثہ!

کل 25 مئی ہے، عمران خان لانگ مارچ کے لیے اسلام آباد جا رہے ہیں، عمران قریب قریب چار سال حکمران رہے ہیں اور ان چار سالوں میں ان کا جو کل اثاثہ ہے، وہ کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے جسے وہ اپنی حکومت کے خاتمے کے لیے دھمکی آمیز خط کہتا ہے۔ عمران خان کا گزشتہ ایک بیان میڈیا پر چلا، جس میں انہوں نے فرمایا تھا کہ، آئندہ انتخابات میں اکثریت نہیں ملی پھر سڑکوں پر آؤں گا،

Read more

بلوچستان: ذلت کی گزرگاہیں

گوادر کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے، ایک چھوٹا سا شہر پوری دنیا میں متعارف ہے، اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں یہاں ڈیپ سی پورٹ کے کام کا آغاز ہوا، کام کا افتتاح پرویز مشرف نے کیا، افتتاحی تقریب میں اپنے خطاب میں فرمایا کہ ”یہ لوگ جو میرے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں، اپنی زندگی میں ترقی دیکھیں گے ”۔ اس بات کو بیس سال گزر چکے ہیں اور مشرف کے سامنے یا اس وقت مشرف کو سننے والوں

Read more

نئی حکومت اور کرنے کے کام

یہ عام نہیں تاریخی لمحہ تھا، جب سپریم کورٹ نے تاریخ رقم کردی، نظریہ ضرورت کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا، اور یہ طے کیا کہ آئین سپریم ہے، پارلیمنٹ بالادست ہے اور جمہوریت اس ملک کا مستقبل ہے۔ اب ضرورت ہے کہ سیاستدان ماضی کی تاریخ کو دفن کریں اور ایک نئی تاریخ رقم کریں، کرنے کے لیے ڈیڑھ سال بڑا عرصہ ہے، نہ کرنے کے لیے دس سال بھی کم ہیں۔ عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد

Read more

آئین شکنی اور عمران خان کا زوال

عمران خان نے جس طرح حکومت چلائی وہ آنے والے عام انتخابات میں تحریک انصاف کی ناکامی کے لیے کافی تھا، اس لیے کہ گزشتہ انتخابات میں وہ خود کو پاکستان کے لیے اخری امید بتا کر میدان میں آئے تھے، اس کے باوجود اسے اقتدار تک پہنچنے کے لیے بیساکھیوں اور جہانگیر ترین کی ضرورت پڑی تھی، مگر آنے والے انتخابات میں نہ وہ قوم کی آخری امید ہیں اور نہ ہی اسے وہ بیساکھی اور جہانگیر ترین جیسے

Read more

روشن خیال پاکستان سے نیا پاکستان تک!

مشرف تشریف لائے، فرمایا! نواز شریف اور بے نظیر کی سیاست ختم ہو چکی ہے، اب یہ دوبارہ کبھی بھی پاکستان کی سیاست میں واپس نہیں آ سکیں گے، ایک رعب تھا، دبدبہ تھا، روشن خیالی کے خیالی پلاؤ کی ہانڈی چڑھا دی گئی تھی، چودھری برادران اور شیخ رشید جیسے درباری ہانڈی پکنے سے قبل ہی ذائقے کی تعریف میں زمین کو آسمان سے اور آسمان کو زمین سے ملا رہے تھے۔ مشرف کی آمد کو نوید سے انقلاب

Read more

تامل ٹائیگر کے دیس میں

نور ایلیاء قریب آتے ہی گاڑی کی رفتار کچھ کم ہو چکی تھی، سڑک کے پیچ و خم اور ٹریفک کا زیادہ ہونا رفتار کم ہونے کی وجہ بنے، ڈرائیور عرفان جو ہر وقت گاڑی اڑا دینے کے موڈ میں ہوتا ہے، یہاں ان کا بس نہیں چل رہا تھا، کینڈی سے نور ایلیاء آتے ہوئے ٹریفک اس قدر زیادہ نہیں ہے، مگر جب ہم نور ایلیاء سے بنٹوٹا کو جا رہے تھے تو اس سڑک پر بہت زیادہ ٹریفک

Read more

خدا حافظ عمران خان

عمران خان بتا رہے ہیں کہ وہ عدم اعتماد سے ایک دن پہلے سرپرائز دیں گے اس کے پاس آخری پتہ رہتا ہے۔ جو سیاسی حالات ہیں وہ تو یہی بتاتے ہیں کہ عمران خان کے ہاتھ سے معاملات مکمل نکل چکے ہیں، تحریک انصاف کے ناراض اراکین تو اپنی جگہ، تمام اتحادیوں نے بھی ساتھ چھوڑ دیا ہے، ممکنہ طور پر اتحادی 26 مارچ تک عدم اعتماد کی حمایت کا اعلان کریں گے۔ سیاست تحمل، بردباری ایک دوسرے کو

Read more

جام صاحب کی رخصتی اور نئی امیدیں؟

جام صاحب رخصت ہو گئے، جہاں رہیں خوش رہیں، کیونکہ اس کے جانے سے سب خوش ہیں اور اس کی موجودگی میں کوئی خوش نہ تھا، نہ اپوزیشن نہ اتحادی نہ اپنی پارٹی کے لوگ، یہ حقیقت ہے بلوچستان سمیت پورے ملک میں انتظامی سسٹم ڈیلیور کرنے میں ناکام ہے اس لیے ناکامی کا ذمہ دار کسی ایک شخص کو قرار نہیں دیا جاسکتا ہے، مگر حکومت چلانے میں ذاتی رویوں کا عمل دخل رہتا ہے، جام کمال اپنے والد

Read more

گوادر کی ترقی؟

ایک شخص ایوان میں کھڑے ہو کر کہتا ہے کہ گوادر ترقی کر رہا ہے، گوادر کے ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل کر بتاتے ہیں کہ ترقی دور کی بات ہماری روزانہ کی بنیاد پر ذلیل کی جاتی ہے۔ گوادر سے متعلق جو لوگ ترقی کی بات کرتے ہیں دراصل ان کی اپنی ترقی ہوئی ہے، ان کے دن پھر گئے ہیں، وہ بونے تھے گوادر کے نام پر قد اور ہو گئے ہیں، جو کونسلر نہ بن سکتے تھے

Read more

اسٹوڈنٹس کی حمایت کیوں؟

پاکستان کی مذہبی سوچ میں جو انتہا پسندی تھی اس انتہا پسندی کے فروغ میں ریاستی مفادات کا بہت بڑا عمل دخل رہا ہے، مگر آج کی مذہبی سوچ 20 سال سے پہلے کے مقابلے میں خود کو انتہاپسندی سے کافی حد تک الگ تھلگ کرنے میں کامیاب ہوئی ہے، اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مذہبی سیاسی تنظیموں با الخصوص جے یو آئی نے اس پر بہت محنت کی ہے۔ میں مذہبی اور لبرل ازم یا

Read more

امر جلیل کی کہانی پر ردعمل

امر جلیل سندھی ادیب ہیں، میں نے کبھی اس کا کوئی افسانہ نہیں پڑھا ہے، ایک زمانے میں روزنامہ جنگ میں ان کی فکاہیہ و طنزیہ تحریریں پڑھتا رہا ہوں، سماجی مسائل پر اپنے مخصوص انداز میں لکھتے ہیں، صوفی منش اور اپنی دنیا میں مگن رہنے والے انسان ہیں، ان کی شخصیت کی کئی پرتیں اور کئی پہلو ہوں گے، سوچنے لکھنے، پڑھنے اور بولنے کا اپنا انداز ہوگا، جن سب سے نہ ہم واقف ہیں اور نہ ہی واقف ہونے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

Read more