ریاست کا بیانیہ بدل رہا ہے


ریاست پاکستان کا قیام ہندوستان کے تقسیم کے نتیجے میں عمل میں آیا۔ جب پاکستان بنا تو ہمارے پاس کوئی واضح بیانیہ نہیں تھا۔ حکومت ان لوگوں کے حوالے کی گئی جو انگریزی نظام کے پروردہ اور آزمودہ تھے۔ یوں شروع کے دو دہائیوں تک ہم اسی تسلسل میں چلتے رہے۔ برطانوی سلطنت کا مستحکم وجود اور سرپرستی کے نہ ہونے سے ہم زیادہ بہتر طریقے سے ملک کا انتظام نہیں چلا پائے اور شخصی فیصلوں کی وجہ سے اس دور کے سفارتی تعلقات سے بھی خاطر خواہ مستفید نہ ہو سکے۔

پھر ساٹھ کی دہائی میں ریاست کا پہلا بیانیہ بنا۔ جس میں پہلی مرتبہ تعلیم یافتہ لوگوں کی مدد سے خود کفالت اور صنعتی ترقی کا ہدف مقرر کیا گیا اور اس مقصد کے لیے پانچ سالہ منصوبہ بندی کی گئی، پاکستان کے بنکنگ نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا، توانائی کے ذرائع ڈھونڈے گئے اور ان پر عملی کام ہوا۔ مواصلات کا نظام بہتر بنایا گیا۔ خصوصاً ریلوے اور پی آئی اے پر توجہ دی گئی۔ تعلیم پر توجہ دی گئی۔ صنعتی شہر بسائے گئے۔

بندرگاہوں پر کام ہوا۔ خارجہ تعلقات پر کام ہوا۔ پھر جنگ چھڑ گئی اور یکے بعد دیگر جنگیں ہوتی رہیں جس سے ریاست کا وہ بیانیہ جو ترقی، خود انحصاری اور کامیابی کا تھا اس سے ریاست پیچھے ہٹ گئی۔ اور ہم فلسطین اور دنیا کی دیگر مسائل کے حل کے لیے کمر بستہ ہو گئے۔ امریکہ نے روس کے ساتھ سرد جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کو بطور فرنٹ لائن شراکت دار کے استعمال کرنا شروع کیا۔ جس کے نتیجے میں جو ایک دہائی کی ترقی تھی وہ بھی ختم ہو گئی اور ہمارا انحصار حربی کمائی پر رہ گیا۔

ستر کی دہائی کے شروع میں مشرقی پاکستان کا بنگلہ دیش بننا اور پھر اسی دہائی کے آخر میں افغان روس جنگ کا چھڑ جانا۔ وہ بنیادی محرکات تھے جن کی وجہ سے ہماری ریاست کا بیانیہ مکمل حربی اور جہادی ہو گیا۔ یوں ہم نے تعلیم، صنعت و حرفت، زراعت، ہوا بازی اور دیگر معاملات کو پیچھے چھوڑ کر مجاہدین بنانا شروع کر دیے اور اس میں ہم اتنے کامیاب ہو گئے کہ ہم نے عظیم سوویت یونین کو تقسیم کر کے چھوڑا۔ مگر ان دو دہائیوں میں ہم نے ضرورت سے کچھ بہت زیادہ مجاہدین پیدا کر لیے تھے۔

روس افغان جنگ تو ختم ہو گئی، امریکہ کامیاب ہو گیا، سرد جنگ کا خاتمہ ہوا اور اس کا فاتح امریکہ ٹھہرا۔ مگر جن لاکھوں انسانوں کا اوڑھنا بچھونا جنگ و مارنا و مر جانا تھا ان کو امداد و خوراک و سہولیات ملنی کم ہو گئیں۔ جس کا نتیجہ لازماً یہ تھا کہ وہ ان کی طرف پلٹ پڑے جنہوں نے انہیں پالا تھا۔ اور جن کے لیے پالا تھا وہ اپنے وعدوں سے مکر گیا۔ بلکہ دنیا میں اعلان کروا دیا کہ یہ لوگ مہذب نہیں ہیں، یہ انسانیت کے لیے خطرے کا باعث ہیں۔

ان سے دنیا کی امن و سکون کو خطرات ہیں۔ یہ جنگجو لوگ پہلے آپس میں لڑ پڑے، پھر دوسروں سے لڑ پڑے، اب ریاست کو ایک نیا بیانیہ ترتیب دینا پڑا۔ کہ ان سب سے محفوظ رہنے کے لیے ایک اور تجربہ کیا جائے اور اپنے اسٹریٹیجک سرمائے میں اضافہ کیا جائے۔ یہ تجربہ وقتی طور پر کام کر گیا مگر پھر امریکہ کے پالے ہوئے عربوں نے امریکہ پر ہی حملہ کر دیا۔ جس کو بنیاد بنا کر انہوں نے افغانستان پر حملہ کر دیا۔ اس بار بھی ہماری حیثیت سہولت کار کی تھی۔

یہ سلسلہ پھر دو دہائیوں تک چلا۔ اس عرصہ میں ریاست اپنا نیا بیانیہ نہ بنا سکی یا پھر عالمی طاقتوں نے اسے بنانے ہی نہیں دیا۔ امریکہ کا مقصد پھر پورا ہو گیا اور ہمارا استعمال کر کے وہ اپنی راہ نکل گیا مگر جن کو بوتل میں بند کرنے کے بجائے اس مرتبہ کھلا چھوڑ گیا اور ساتھ میں اپنی تمام طاقت کے وسائل اسے تحفہ میں دے کر گیا۔ گزشتہ دو دہائیوں میں ہم اپنی دانست میں کچھ کو اچھا اور دوست اور کچھ کو برا اور دشمن سمجھتے رہے۔

ان کی مدد کرتے رہے مگر اب جاکر حقیقت کھل گئی کہ دوست کوئی نہیں تھا سب دشمن تھے۔ اس تمام عرصہ میں ریاست کا بہت زیادہ نقصان ہوا۔ خطے کی دیگر ممالک کی طرح اس نے ترقی نہیں کی اپنے وسائل استعمال نہیں کیے، ملک میں امن و امان کی صورتحال بہت زیادہ خراب رہی، ملک میں سیاحت بالکل ختم ہو گئی، بیرون ملک پاکستان کی پہچان اچھی نہیں رہی۔ اس کی کرنسی اور پاسپورٹ دونوں بدترین انحطاط کا شکار رہے۔ ملک میں سب کچھ سمگل ہو کر آتا رہا، کچھ علاقوں کو ریاست نے آزادی دیے رکھی کہ وہاں سب کچھ جائز ہے، منشیات کا استعمال، خرید و فروخت، سمگل شدہ اشیاء کی فروخت اور سب کچھ۔

مگر اس عرصہ میں چند ہزار اشخاص نے خوب فائدہ اٹھایا، وہ کچھ فائدے جو امریکہ کی ہم رکابی سے اس ملک میں آئے تھے وہ بھی کچھ مخصوص لوگ اس ملک سے باہر لے گئے۔ اور جو اس ملک میں حکمران رہے وہ اس کو لوٹتے رہے۔ حکمرانوں میں کوئی بھی اس قابل نہیں تھا کہ جسے عمومی درجہ کے کسی فیکٹری میں منیجر بھی لگایا جا سکے۔ مگر ان کرپٹ اور نالائق ترین لوگوں کو باری باری حکومتیں دی گئیں۔ کسی کو ایک بار اور کسی کو کئی بار۔ جس سے خرابی میں اضافہ ہوتا گیا۔

ان نا اہل لوگوں کی موجودگی میں وہ ادارے جو ساٹھ کی دہائی میں بنائے گئے اور جو انتہائی کامیاب تھے۔ وہ منصوبہ بندی سے خراب کیے گئے اور اسی بہانے ان کو فروخت کرنے کا عمل شروع ہوا۔ پہلے کسی ادارے کو عملاً کام کرنے کے قابل نہیں چھوڑا جاتا اور پھر اسی عذر کو بنیاد بنا کر اسے نیلام کر دیا جاتا رہا اور وہ بھی اونے پونے، گزشتہ چار دہائیوں میں ہم نے امریکہ کو خوش کرنے کے لیے لاکھوں افغان شہریوں کو اپنے ملک میں بلا کسی روک ٹوک آنے جانے رہنے اور کاروبار کرنے کی کھلی اجازت دی اور ان پر ملک کا کوئی قانون لاگو نہیں کیا۔

جس کے نتیجے میں وہ ہر ایک شعبے میں مافیا بنتے چلے گئے اور ملک کو انہوں نے اپنی کالونی بنا دیا ہے۔ جہاں وہ جو چاہتے تھے وہ حاصل کرلیتے تھے۔ اور ہمارے کچھ خود غرض اور ضمیر فروش ان کا ساتھ دیتے رہے۔ یہ سلسلہ شاید مزید کچھ عرصہ چلتا مگر اب اس ریاست کی تھنوں سے دودھ کی جگہ خون رسنے لگا تھا۔ ایسے میں ریاست نے کچھ فیصلے لیے ہیں جن سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ریاست اب ایک نئے بیانیے کی طرف گامزن ہو گئی ہے۔

یہ بیانیہ جو گزشتہ چند ماہ کے فیصلوں سے لگ رہا ہے کہ خود مختاری اور اقتصادی ترقی کا بیانیہ ہے۔ اس لیے پہلی مرتبہ افغان شہریوں کو واپس بھیجنے کی بات ہو رہی ہے، بجلی کی چوری کرنے والوں پر گرفت ہو رہی ہے، ہنڈی حوالہ اور منی ایکسچینج کے ذریعہ ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے والوں کو پکڑا جا رہا ہے۔ ملک میں کالے دھن سے ہاؤسنگ سوسائٹیز بنانے والوں کو پوچھا جا رہا ہے۔ سمگلنگ اور منشیات کے ہوش ربا سلسلے کو لگام ڈالنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔

اپنے اداروں میں ادارہ جاتی احتساب کی باتیں ہو رہی ہیں۔ پہلی مرتبہ نظام کی بہتری کے لیے ٹھوس اقدامات ہو رہے ہیں۔ اگرچہ یہ اقدامات بہت ہی محدود پیمانے پر ہو رہے ہیں لیکن ان اقدامات کا تسلسل اور مزید بہتری ایک نئے ریاستی بیانیے کی بنیاد بن سکتی ہے جس کے کامیابی کے لیے برسوں درکار ہیں۔ لیکن سفر آغاز کرنا مشکل ہوتا ہے۔ نئے بیانیے میں وقت کے ساتھ ساتھ خود بخود طاقت اور جان پیدا ہوتی چلی جائے گی۔ حربی اقتصاد سے صنعتی اور پیداواری اقتصاد کا سفر مشکل بھی ہے اور کٹھن بھی ہے۔

اس سفر میں کامیابی کے لیے ہمیں افغان شہریوں کو ہر حال میں یہاں سے نکالنا ہو گا۔ اس لیے کہ ان کی موجودگی میں یہ سفر ممکن نہیں ہو گا۔ اس لیے کہ ان کی وجہ سے ملک کی تمام سرحدوں پر اسمگلنگ کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں ملک میں کوئی بھی صنعت نہیں لگ رہی اور ملک کا سارا زرمبادلہ واپس ان کے ذریعہ چلا جاتا ہے جس سے ڈالر پر ہمیشہ دباؤ رہتا ہے۔ اور یوں ہمارے ہاں مہنگائی کا ایک طوفان ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔

ان کے جانے سے ملک میں بدامنی کا خاتمہ ہو جائے گا اور ملک میں سیاحت کا دروازہ پھر سے کھل جائے گا۔ ہمارے وسائل پر بوجھ کم ہو جائے گا۔ جس سے ضروریات زندگی تک رسائی اور قوت خرید میں سہولت پیدا ہو جائے گی۔ ہسپتالوں اور رہائشی علاقوں اور روڈوں پر بوجھ کم ہونے سے معیار میں ترسیل میں بہتری آئے گی۔ ان کی وجہ سے جو پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہو رہی ہے وہ ختم ہو جائے گی۔ اور روزگار اور کاروبار کے سلسلے میں دنیا ہم پر بھروسا کرنا شروع کردے گی۔

جو پاکستانی پاسپورٹس چند ہزار میں بنوا کر لاکھوں افغان شہری خلیج اور دیگر ممالک میں ہیں جو اپنی تربیت اور مزاج کی وجہ سے غیر قانونی دھندوں خصوصاً منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہیں۔ اگر ان کی شناخت کر کے ان کے پاسپورٹس کینسل کیے جائیں تو لاکھوں پاکستانیوں کے لیے ان ممالک میں نوکریوں کا حصول آسان ہو جائے گا اور جو تصور ہمارے بارے میں ان کی وجہ سے پختہ ہو چکا ہے اس سے نجات مل جائے گی۔ اس نئے بیانیہ کو جو ریاست بنا رہی ہے اگر حقیقی معنوں میں نافذ کیا جاتا ہے تو پاکستان اگلے چند برسوں میں واپس ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے اگر ان لوگوں کو پھر اس نظام کا حصہ بنایا گیا جو اس تباہی کے ذمہ دار ہیں تو پھر ایسا ممکن نہیں ہو گا۔

اس لیے کہ وہ اس ریاست کے نہیں اپنی ذاتی مفادات کے خیر خواہ ہیں۔ اب اس ملک میں ایسا قانون نافذ کرنے کی ضرورت ہے کہ جو اس ملک میں رہے گا وہ یہاں سیاست کرسکے گا۔ جو کسی بھی بڑے عہدے پر ہو گا اس کے لیے چین اور دیگر ممالک کی طرح لا زم ہو کہ وہ یہ ملک چھوڑ کر باہر نہیں جاسکتا اور نہ ہی باہر کوئی جائیداد خرید سکتا ہو۔ اس نظام میں پڑے شگاف بند کر کے اگر ریاست پہلی توجہ تعلیم پر دے تو ترقی کا سفر نہایت آسان اور سہل ہو جائے گا۔

اس لیے کہ بغیر تعلیم کے ترقی ممکن نہیں ہے۔ پھر وسائل کی منصفانہ تقسیم سے بھی ترقی کا عمل بہتر طریقے سے آگے بڑھ سکتا ہے۔ شہروں میں مزید توسیع پر پابندی لگا کر ہم دیگر خطوں کو آباد کر سکتے ہیں۔ ہمیں آئی ٹی پر توجہ دینی ہوگی۔ اس لیے کہ مستقبل میں ترقی کا واحد راستہ آئی ٹی ہے خصوصاً مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سائنس۔ گزشتہ دور کے ذاتی فائدے کے لیے کیے گئے معاہدوں کا از سر نو جائزہ لینا ہو گا تاکہ اربوں ڈالر سالانہ معاہدے کرنے والوں کی بدنیتی کی وجہ سے جو پاکستان کی ریاست اور عوام کی جیبوں سے نکل کر مفت میں ان کے پاس جا رہے ہیں وہ سلسلہ ختم ہو سکے۔

ریاستی مفاد کو شخصی، گروہی، مسلکی، صوبائی مفاد پر ترجیح دینا ہوگی۔ اور ہر ادارے کو اپنے دائرے میں رہ کر اپنا کام سرانجام دینا ہو گا۔ اگر ایسا ہوجاتا ہے تو یہ نیا بیانیہ ہماری بقا ء کا ضامن بن جائے گا۔ ورنہ اطراف میں حالات پھر سے خراب ہو رہے ہیں اور اگر اس بار بھی ہم ان کی جنگوں میں کسی بھی حیثیت میں شامل ہوئے تو پھر ہماری ریاست کی گائے مر جائے گی۔

Facebook Comments HS