امریکہ، بحران کی زد میں

کچھ روز قبل یعنی 3 اکتوبر 2023 کو امریکی ایوان نمائندگان کے ریپبلکن اسپیکر کیون میکارتھی کی ”عدم اعتماد“ کی کامیابی کے بعد برطرفی نے امریکہ کے سیاسی منظر نامے کو ہنگامہ آرائی اور بحران نے آ جکڑا ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ”موصوف امریکہ کی سیاسی تاریخ میں پہلے اسپیکر ہیں جنہیں ان کے عہدے سے“ عدم اعتماد ”کے ذریعے ہٹایا گیا ہے۔ اسپیکر بننے سے پہلے وہ ایک ریپبلکن کانگریس مین تھے، جو رواں سال جنوری میں ہی امریکی ایوان نمائندگان کی جانب سے 15 راؤنڈز کی ووٹنگ کے بعد لیڈر (اسپیکر) منتخب ہوئے تھے۔“
بہرحال، مورخین کا کہنا ہے کہ تاریخ عالم میں ایک زمانہ ایسا بھی گزرا ہے کہ جب امریکہ کو مستحکم جمہوریت کا علمبردار تصور کیا جاتا تھا اور دنیا ”نظم حکمرانی“ کے گر امریکہ سے سیکھا کرتی تھی۔ البتہ، ٹرمپ کی صدارت کے ابتدائی سالوں سے لے کر اب تک امریکہ کے سیاسی سماج میں ایک نئی قسم کی افراتفری دیکھنے میں آئی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ انتہا پسند دائیں بازو والوں کا یہ دعویٰ ہے کہ ”بائیڈن جن انتخابات میں صدر منتخب ہوئے وہ“ غیر منصفانہ ”تھے“ ان کی جانب سے مزید یہ بیانیہ بھی پیش کیا جا رہا ہے کہ امریکہ میں ایک ”ڈیپ اسٹیٹ“ ٹرمپ اور ان کے ”انقلابی“ نظریات کے خلاف برسر پیکار ہے، جو انہیں مقتدر ہونے سے روک رہا ہے۔
2018 ء کے مونماؤتھ پول کے مطابق، مجموعی طور پر 37 فیصد جواب دہندگان نے ”ڈیپ اسٹیٹ“ نامی چیز کے بارے میں سنا تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کا خیال ہے کہ ”غیر منتخب حکومتی اور فوجی عہدیداروں کا ایک گروپ ہے جو خفیہ طور پر قومی پالیسی میں تبدیلیاں کرتا ہے یا ان کی ڈکٹیشن کرتا ہے“ تو تقریباً تین چوتھائی جواب دہندگان نے اتفاق کیا کہ ایسی ”ڈیپ اسٹیٹ“ ’موجود ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی تشدد سے پر زبان اور امریکہ کے ریاستی اور عدالتی اداروں کے بارے میں متنازعہ خیالات، اس بحران کو مزید شدید کرتے جا رہے ہیں جو امریکی فضا میں پنپ رہا ہے۔ البتہ، امریکی ایوان نمائندگان کے ریپبلکن سپیکر کیون میکارتھی کی برطرفی پر صدر بائیڈن نے کہا کہ، ”کسی بھی چیز سے بڑھ کر ہمیں واشنگٹن کی زہریلی فضا کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔“ مزید برآں، ٹرمپ کے ”سازشی نظریات“ کا مقابلہ کرنے کے لیے بائیڈن کہتے ہیں، ”میں جانتا ہوں کہ ہمارے درمیان شدید اختلاف ہے، لیکن ہمیں ایک دوسرے کو دشمن سمجھنا چھوڑ دینا چاہیے۔
ہمیں ایک دوسرے سے بات کرنے، ایک دوسرے کو سننے اور ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اور ہم یہ کر سکتے ہیں۔“ اگرچہ، یہ جواب اس سوال کا جواب نہیں دیتا جو ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے وقتاً فوقتاً پوچھا جاتا رہا ہے کہ ”کیا بائیڈن جیسے عمر رسیدہ روایتی سیاست دان امریکہ سے جکڑے مسائل کو حل پیش کر سکتے ہیں؟“ اس سوال کا بائیڈن اور ان کی انتظامیہ کی جانب سے کوئی حتمی جواب نہ دینا ٹرمپ کو ایک ایسی مضبوط پوزیشن عطا کرتا ہے جو بائیڈن کے لئے تباہ کن ہو سکتی ہے۔
علاؤہ ازیں، ٹرمپ نے بدھ کے روز نیویارک میں کمرہ عدالت کے باہر اپنے کیس کی سماعت کرنے والے جج سے دعویٰ کیا کہ ”ان کو ڈیموکریٹس چلا رہے ہیں“ انہوں نے مزید کہا، ”ہمارا پورا نظام کرپٹ ہے۔ اٹلانٹا کرپٹ ہے۔ اور جو ڈی سی (واشنگٹن) میں ہیں وہ بھی کرپٹ ہیں۔“ ایک امریکی سابق صدر کی جانب سے ریاستی و عدالتی اداروں کے متعلق اس طرح کے خیالات نا صرف عام لوگوں کو بلکہ بالخصوص ٹرمپ کے حامیوں کے اندر الجھن اور بد اعتمادی کی فضا پیدا کر رہے ہیں۔
اور ایک ایسا بیانیہ پروان چڑ رہا ہے جو بالآخر امریکی شہریوں کا اپنی ریاست اور جمہوریت سے اظہار برہمی و تنفر کا باعث بنے گا۔ کچھ امریکی اسکالرز کا یہ کہنا ہے کہ ”ٹرمپ کی قیادت میں ریپبلکیوں نے انتخابات کو قبول کرنے سے انکار کر کے اور سیاسی تشدد کی حوصلہ افزائی کر کے جمہوری نظام کی بنیاد پر براہ راست حملہ کیا ہے۔“ ہارورڈ کے ایک پروفیسر، ڈینیئل زیبلاٹ نے حال ہی میں اپنے ساتھی اسٹیون لیوٹسکی کے ساتھ ایک کتاب ”Tyranny of the Minority“ شائع کی، جو ان کی بنیادی کتاب ”How Democracies Die“ کا سیکوئل ہے۔ انہوں نے اس بحران کے بارے میں کہا ہے کہ ”امریکی جمہوریت بے لگام ہونے کے دہانے پر ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جمہوری عمل میں اہم سیاسی کھلاڑی، کھیل کے بنیادی اصولوں کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔“
امریکی ریاست میں شہریوں کی جانب سے حکومت اور جمہوریت کے حوالے سے عدم اعتماد تیزی سے بڑھ رہا ہے، نیو یارک ٹائمز کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، ”، تقریباً دو دہائیاں قبل جنوری 2004 آخری گیلپ سروے میں زیادہ تر امریکیوں نے حکومت کے متعلق اطمینان کی تصدیق کی تھی، لیکن رواں سال جون میں ایسوسی ایٹڈ پریس ’این او آر سی سنٹر فار پبلک افیئر ریسرچ کے سروے سے پتا چلا کہ 49 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ امریکہ میں جمہوریت ٹھیک کام نہیں کر رہی، جبکہ 40 فیصد کا کہنا ہے کہ یہ صرف کچھ حد تک ٹھیک کام کر رہی ہے اور صرف 10 فیصد لوگ کو یقین تھا کہ یہ بہت اچھا کام کر رہی ہے۔
“ امریکی قومی سلامتی کے ایک اہلکار جنہوں نے دونوں صدور یعنی جار بش اور اوباما کے لئے بطور سیکرٹری دفاع کی حیثیت میں کام کیا ہے، رابرٹ ایم گیٹس نے گزشتہ ہفتے فارن افیئرز میگزین میں شائع ہونے والے اپنے مضمون جس کا عنوان ”غیر فعال سپر پاور“ تھا، خبردار کیا کہ روسی صدر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ امریکہ کی مشکلات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید لکھا کہ ”وہ (روسی و چینی صدر) اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ جیسی جمہوریتیں اپنے عروج سے گزر چکی ہیں اور ایک ناقابل تعطل زوال کی طرف گامزن ہیں، یہ ان کی بڑھتی ہوئی تنہائی، سیاسی پولرائزیشن اور داخلی تنازعات سے ظاہر ہے۔“ مسٹر گیٹس نے لکھا کہ ”غیر فعالیت نے امریکی طاقت کو بے ترتیب اور ناقابل اعتبار بنا دیا ہے۔ ریپبلکن اسپیکر کو ہٹانے کے متعلق انہوں نے لکھا“ گزشتہ دو دنوں کے واقعات نے صرف اس بات کی نشاندہی کردی ہے کہ یہ بات کس قدر حقیقی ہے۔ ”
بہرکیف، امریکہ کا موجودہ بحران جس کی نوعیت ”سیاسی و عدالتی“ ہے، محض عوام کو سیاست سے لاتعلق کرنے، غلط معلومات پہنچانے، اور تنقیدی سوچ کے فقدان کی وجہ سے نمودار ہوا ہے۔ تاہم، اس بحران کا ارتقائی پس منظر کیا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو میرے نذدیک ایک الگ مضمون کا متقاضی ہے جسے آئندہ مضمون میں واضح کر دیا جائے گا۔

