غزہ کی سرزمین سے آپریشن طوفان الاقصیٰ


غزہ کی سرزمین سے قابض اسرائیلی ریاست کے خلاف ”آپریشن طوفان الاقصیٰ“ شروع ہو چکا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ آپریشن بلاوجہ شروع ہوا ہے۔ اس کا پس منظر ہے۔ یہ بات ہر شخص جانتا ہے کہ کوئی بھی فلسطینی ”مسجد اقصی“ کی بے حرمتی برداشت نہیں کر سکتا۔ اس آپریشن کا پس منظر بھی مسجد اقصی کی بے حرمتی اور فلسطینیوں پر ہو رہے ان گنت حملے سے متعلق ہے۔ وہ یہ ہے کہ قابض اسرائیل کے یہودی ایک تہوار مناتے ہیں۔ اس تہوار کو ”عید العریش“ کہا جاتا ہے۔

وہ لوگ یہ تہوار سات دنوں تک مناتے ہیں۔ سال رواں میں یہ تہوار یکم اکتوبر 2023 کو شروع ہوا۔ بروز: اتوار، یکم اکتوبر کو عید العریش کے بہانے تقریباً نو سو یہودی آباد کاروں نے مسجد اقصی پر دھاوا بولا۔ عید العریش کے تیسرے دن یعنی بروز: منگل، تین اکتوبر کو تقریباً ایک ہزار یہودی مسجد اقصی کے صحن میں داخل ہو گئے اور انھوں نے تلمودی رسم ادا کی۔ مسجد اقصی پر یہ دھاوا ”ہیکل“ گروپوں کی اپیل پر کیا گیا۔ اس سال ہیکل کے گروپوں نے اپنے حامیوں سے مسجد اقصیٰ پہنچنے اور ہیکل کی تطہیر کی نماز کے لیے گزشتہ سالوں کی تعداد کا ریکارڈ توڑنے کی اپیل کر رکھی تھی۔

یہودی آباد کاروں کے دھاوے کے دوران، اسرائیلی حکومت نے پولیس کی بھاری نفری، مسجد اقصی کے اطراف میں تعینات کر رکھی تھی۔ مشرقی بیت المقدس کے باہر سے آنے والے فلسطینیوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ پولیس مسجد اقصیٰ کے اندر اور باہر فلسطینی مرد و خواتین اور بوڑھے بچے پر حملے کر رہی تھی۔ مزید یہ کہ اسی عید العریش کے موقع سے، مغربی کنارے کے شہر ”خلیل“ میں واقع ”مسجد ابراہیمی“ کو بھی یہودیوں نے مسلمانوں کے لیے بند کر دیا تھا۔

ان حالات کے پیش نظر یہ امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ فلسطینیوں اور یہودی آبادکاروں کے درمیان کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ چناں چہ فلسطینی اتھارٹی نے خبردار کیا تھا کہ اگر حالات یوں ہی رہیں گے ؛ تو مسجد اقصی میں مذہبی جنگ چھڑ سکتی ہے۔ اس ”آپریشن طوفان الاقصیٰ“ کا پس منظر یہی ہے کہ یہودی آباد کار مسجد اقصی میں داخل ہو کر، پولیس کی مدد سے، مسجد کی بے حرمتی کر رہے تھے اور پولیس فلسطینیوں کو مسجد اقصی میں داخل نہیں ہونے دے رہی تھی؛ بلکہ ان پر حملہ کر رہی تھی۔

مشرق وسطی اور فلسطین کے مسائل سے دلچسپی رکھنے والے قلم کار، تجزیہ نگار اور صحافی اچھی طرح جانتے ہیں کہ سال رواں، یعنی 2023 کے شروع سے، غاصب اسرائیلی حکومت کی افواج نے عام طور پر ”غزہ کی پٹی“ اور خاص طور پر ”مغربی کنارے“ کے فلسطینی شہریوں کو جس طرح اپنے حملے کا نشانہ بنایا، اسے کسی بھی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ چناں چہ اس آپریشن کا ایک پس منظر یہ بھی ہو سکتا ہے۔

”آپریشن طوفان الاقصیٰ“ ، بروز: سنیچر، سات اکتوبر 2023 کو، تقریباً صبح سات بجے شروع ہوا۔ اس حملے میں صرف دو گھنٹے کے اندر، تقریباً پانچ ہزار راکٹ غزہ کی سرزمین سے قابض اسرائیل کے سرحدی شہروں، یہودی کالونیوں اور صہیونی فوج کے ٹھکانوں پر داغے گئے۔ پھر فلسطینی مزاحمت کار سرحد پر لگی رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے، غزہ سے اسرائیل میں داخل ہو گئے۔ یہ آپریشن فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کی طرف سے کیا گیا، جو ‏غزہ کی پٹی پر حکومت کرتی ہے۔

حماس کے عسکری بازو القسام بریگیڈز کے سربراہ محمد الضیف ابو خالد نے اس آپریشن کے شروع ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ”یہ آپریشن اسرائیل کی جانب سے مسجد اقصی میں مسلسل اشتعال انگیزی اور فلسطینیوں پر مظالم کے جواب میں ہے۔“ یہ آپریشن تاریخ کا سب سے بڑا حملہ ہے۔ یہ حملہ صرف راکٹ داغنے تک ہی محدود نہیں رہا؛ بلکہ خبر رساں ادارے ”ایسوسی ایٹڈ پریس“ کے مطابق، حماس کے جنگجوؤں نے اسرائیل پر زمین، فضا اور سمندری راستے سے بھی حملہ کیا۔

متعدد فلسطینی مزاحمت کار زمینی اور بحری راستے عبور کرتے ہوئے، اسرائیل کے علاقوں میں داخل ہو گئے۔ کچھ کمانڈو پیراشوٹ سے بھی اسرائیل میں داخل ہوئے اور فائرنگ کرتے ہوئے فوجی اڈے کا رخ کر لیا۔ انھوں نے اسرائیل کی سڑکوں پر فوجیوں سے جھڑپیں شروع کردی۔ تقریباً تین گھنٹے کے اندر میں، تین فوجی تنصیبات میں داخل ہوچکے تھے۔

اس آپریشن کے شروع ہونے کے بعد ، اسرائیل کے شہروں میں، آئرن ڈوم کو چالو کر دیا گیا اور ایک سو ساٹھ سے زائد علاقوں میں سائرن بجنے لگے۔ بہت سے اسرائیلی شہری جان بچانے کے لیے بھاگتے نظر آئے۔ بہت سے اسرائیلی شہریوں کو مزاحمت کاروں نے یرغمال بھی بنایا ہے۔ درجنوں صہیونی فوجیوں کو قیدی بنا کر، غزہ منتقل کیا گیا۔ یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ فلسطینیوں کے خلاف کارروائی کے انچارج میجر جنرل نمرود الونی بھی مبینہ طور پر یرغمال بنائے گئے لوگوں میں شامل ہیں۔

حماس کا دعوی ہے کہ اس نے ایک سو تیس سے زیادہ اسرائیلی شہریوں کو یرغمال بنا رکھا ہے، جن میں اعلی درجے کے فوجی اہل کار بھی ہیں۔ اسرائیلی شہروں میں متعدد گاڑیاں جلتی دکھائی دی رہیں ہیں۔ اسرائیل کے متعدد ٹینک پر حملے کیے گئے اور انھیں جلایا گیا۔ رہائشی عمارتوں کے تباہ ہونے کی بھی خبر ہے۔ اس حملہ نے اسرائیل کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس آپریشن کے نتیجے میں، ایک رپورٹ کے مطابق، اب تک ہلاک ہونے والے اسرائیلیوں کی تعداد سات سو پہنچ چکی ہے، جن میں تقریباً 44 افواج بھی شامل ہیں ؛ جب کہ پندرہ سو کے قریب اسرائیلی شہری زخمی ہوئے ہیں۔ اس آپریشن نے اسرائیل کے احساس برتری کو خاک میں ملا دیا اور یہ واضح کر دیا کہ اسرائیل کوئی ناقابل تسخیر نہیں۔

اس آپریشن کے بعد ، اسرائیل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے سیکیورٹی ایجنسیوں کے سربراہوں کے ساتھ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے وزارت دفاع کے ہیڈ کوارٹر روانہ ہوا۔ وزیر اعظم نے اپنی قوم کو خطاب کرتے ہوئے کہا: ”ہم حالت جنگ میں ہیں۔“ انھوں نے اپنی فوج کو، پہلے ہی دن بھرپور جوابی کارروائی کی ہدایت دی۔ پھر اسرائیلی قابض فوج نے غزہ کی پٹی پر فضائی حملہ شروع کر دیا۔ اب تک قابض افواج نے آٹھ سو سے زیادہ جگہوں کو نشانہ بنایا ہے۔

اب تک تقریباً چار بڑے ٹاور تباہ کیے جا چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے دستوں نے شمالی غزہ کی پٹی میں، انڈونیشیا کے ہسپتال کو بھی نشانہ بنایا۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، اسرائیل کے فضائی حملوں میں تقریباً 436 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں ؛ جب کہ دو ہزار سے زائد زخمی ہیں۔ آج بروز: پیر، 9 / اکتوبر، آپریشن کا تیسرا دن ہے۔ قابض افواج اور حماس کے مزاحمت کاروں کے درمیان لڑائی جاری ہے۔

اس حملے کے بعد ، متعدد ممالک کی طرف بیانات آنے شروع ہو گئے ہیں۔ قطر نے اسرائیل فلسطین کشیدہ صورت حال کی مذمت کرتے ہوئے تمام تر ذمہ داری اسرائیل پر عائد کی ہے۔ قطری وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ حالیہ کشیدہ صورت حال اور تشدد کا ذمہ دار صرف اسرائیل ہے۔ سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ فلسطین کی غیر معمولی صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں، فلسطین اسرائیل کشیدگی میں، متعدد محاذوں پر تشدد کے واقعات ہوئے ہیں، فریقین سے تشدد فوری روکنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

سعودی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے پہلے ہی فلسطینیوں کے خلاف اشتعال انگیز کارروائیوں کے تباہ کن نتائج سے خبردار کر دیا تھا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ حماس کے آپریشن کا طریقہ کار قابضین کے خلاف فلسطینی عوام کے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔ امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے سنیچر کو ایک کانفرنس کے دوران کہا: ”ہم اس نازک وقت میں اسرائیل کو قریبی، گہری خفیہ معلومات مشترک کرنے سمیت مدد فراہم کرنا جاری رکھیں گے۔“

ہمارے وطن عزیز کے موجودہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے اسرائیل پراس حالیہ حملے پر کہا: ”اسرائیل میں دہشت گردانہ حملوں کی خبر سے گہرا صدمہ لگا ہے۔ ہماری ہمدردیاں اور دعائیں بے قصور متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں، ہم اس مشکل وقت میں اسرائیل کے ساتھ متحد ہو کر کھڑے ہیں۔“ یہ راقم الحروف، اس مناسبت سے بابائے قوم مہاتما گاندھی جی نے فلسطین اور اسرائیل کے حوالے سے جو کچھ کہا، اسے نقل کرنا نہیں چاہتا؛ کیوں کہ وہ تاریخ کا حصہ ہے اور سب لوگ جانتے ہیں۔ اس موقع سے ہم سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی جی کی وہ بات نقل کرنا ضروری سمجھتے ہیں، جو انھوں نے فلسطین اور اسرائیل کے حوالے سے کہی تھی۔ انھوں نے کہا تھا: ”۔ مشرق وسطیٰ کے حوالے سے صورت حال واضح ہے کہ اسرائیل کو وہ عرب سرزمین خالی کرنی پڑے گی جس پر وہ قابض ہے۔“

اس آپریشن کے بعد ، کچھ لوگوں نے چیخنا شروع کر دیا، انسانیت کا حوالہ دینا شروع کر دیا اور بے قصور شہریوں پر حملے کو ناجائز قرار دیا۔ مگر وہ بھول گئے کہ اسرائیلی دہشت گردی نے پچھلے 75 سالوں میں، لاکھوں فلسطینی بچے، بوڑھے اور مردو خواتین کو شہید کیا اور ان کو وطن چھوڑنے پر مجبور کیا۔ جس غزہ کے مزاحمت کاروں نے یہ کارروائی انجام دی ہے، اس غزہ کو اسرائیلی حکومت نے کئی سالوں سے غیر قانونی طور پر، اپنے محاصرہ میں لے رکھا ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے، وہاں کے شہری دوائیں اور بنیادی ضروری اشیا سے بھی محروم ہیں۔ کیا غزہ کے شہری انسان نہیں ہیں؟ کیا ان کے کچھ حقوق نہیں ہیں؟ کیا دنیا ان کے حالات اور مشکلات و مسائل سے واقف نہیں ہے؟

یہ ایسی حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جو بھی امن معاہدہ ہوا، اسرائیل نے کبھی اس کی پاسداری نہیں کی۔ ہمیشہ فلسطینیوں کا خون بہتا رہا۔ اب فلسطینیوں کو یقین ہو چکا ہے کہ عالمی طاقتیں ان کے مسائل کے حل پر توجہ نہیں دے رہی ہے۔ فلسطینیوں کو محسوس ہو رہا کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہو رہا ہے۔ مرتا کیا نہ کرتا! پھر وہ اپنے وطن کی آزادی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ جو کچھ فلسطینی کر رہے ہیں، یہ اپنی قسم کا کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے ؛ بلکہ تاریخ میں ایسے متعدد واقعات ہیں کہ اپنے وطن کی آزادی کے لیے، دنیا کے متعدد ممالک کے باعزت شہریوں نے یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔

Facebook Comments HS