اقوام متحدہ کے نام فلسطینی بچے کا خط
جناب محترم انتونیو گوتریس! میں غزہ میں رہنے والا ایک 12 سالہ بچہ ہوں۔ میرا نام نجیب نصر ہے۔ میری ماں نے میرا نام مشہور فلسطینی صحافی اور ادیب کے نام پر رکھا تھا۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ: سر زمین فلسطین کو انبیاء کی سر زمین کہا جاتا ہے۔ فلسطین میں لوگوں کو نہ تو صرف اپنے حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے بلکہ ان پر اجتماعی حملوں، من مانی نظر بندیوں اور قبضے کرنے کی ظالمانہ کارروائیاں جاری و ساری ہیں۔
صدیوں سے فلسطین کی زمین پر گلہ بانوں اور کاشت کاروں کی بڑی اکثریت تھی۔ ان کی زبان عربی اور مذہب اسلام تھا۔ فلسطین ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے کئی شاخسانے ہیں اور یہ جنگ عظیم دوم کے بعد دنیا کا انتہائی متنازع مسئلہ بن چکا ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو فلسطین پر قبضہ کرنے کی تگ و دو میں معصوم نہتے لوگوں کی جانیں لے رہے ہیں۔ دوسری طرف فلسطین کے وہ لوگ ہیں جو اس کی بازیابی اور آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں خلیج کے خطے میں غزہ کی پٹی میں حالات خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں۔
اس جنگ کا آغاز تقریباً پانچ روز پہلے حماس کی جانب سے اسرائیل پر بری، بحری اور فضائی مربوط حملوں کے بعد ہوا تھا۔ فلسطین ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر بہت لے دے ہوئی ہے۔ اگر ایک فریق نعرہ لگاتا ہے فلسطین موجود ہے تو دوسرا کہتا ہے نہیں۔ 1948 میں جب سے فلسطینی خطے میں اسرائیل ریاست کا قیام ہوا تب سے لے کر حماس کا یہ حملہ بہت ہی منظم اور سب سے بڑا ہے۔ اس حملے کے بعد جب سے اسرائیل نے اعلان جنگ کیا ہے تو حالات ایک سنگین رخ اختیار کر چکے ہیں۔
ارض فلسطین میں بکھرا ہوا لہو اور ملبہ تک صدائیں دے رہا ہے کہ ہمیں حق خودارادیت دیا جائے۔ ہمارے اوپر سے غاصبانہ قبضہ ہٹایا جائے۔ ننھے بچے بھی ہاتھوں میں سنگ لیے تنگ گلیوں کی نکڑوں پر کھڑے اقوام متحدہ اور تمام انسانی تنظیموں سے سوال پوچھ رہے ہیں۔ اے طاقتورو! تم لوگوں کی بے ضمیری آخر کو کب ختم ہو گی؟ اغیار نے ہماری سرزمین پر ایسا قبضہ جمایا اور ظالموں نے آگے بڑھ کر ان کا ساتھ دیا۔ مگر تم کیا جانو! فلسطین تو ہمارے دل میں بستا ہے۔
اس پر قبضہ کیسے ہو گا۔ ہمارے فلسطین کی روح تو آزاد ہے۔ اسرائیل نے ہماری زمین پر ہمیں ہی اپنے گھروں سے بے دخل کیا۔ ہمارے زیتون کے درخت کاٹے۔ ہمارے بے زبان مویشی ہلاک کیے۔ ہماری چھوٹی چھوٹی زرخیز زرعی زمینوں پر تسلط قائم کیا۔ ہمارے کنوؤں میں پتھر بھرے اور ہمیں ضرورت کے پانی تک سے محروم کیا۔ یہ سب ظلم سہنے کے باوجود ہمارے حوصلے ٹوٹے نہیں۔ کیا ہوا اگر آپ کو امریکی پشت پناہی حاصل ہے۔ جب تک فلسطین کی ریاست قائم نہیں ہو گی عرب دنیا میں امن اور پائیداری کا تصور بھی لہو لہو ہے۔
فلسطینی بچوں اور لوگوں کے خلاف اشتعال انگیز حملوں، صیہونی قابض فوجوں کی کارروائیوں میں ہر لمحہ اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ مگر میں عرب ہوں۔ فلسطینی ہوں۔ میں اپنی ہی زمین کے پتھروں سے روٹی اور اپنے لیے کتابیں بھی نکالتا ہوں۔ اے ظالمو! میں تمہارے دروازے پر نہیں آتا۔ میرا دل کبھی غلامی قبول نہیں کرے گا۔ جانتا ہوں میں۔ میرا جھکنا تمہیں پسند نہیں ہے۔ لیکن میں حق ہوں۔ مجھے باطل کے آگے جھکنا نہیں آتا۔ غزہ کی پٹی پر فلسطینی آبادی کو تم نے فضائی بمباری سے نہتے بچوں کو مار ڈالا ہے۔
مگر پھر بھی ہم اپنی دھرتی ماں فلسطین کی پکار پر قربان ہوتے رہیں گے۔ آہ! ہم کمزور ضرور ہیں مگر بے بس نہیں۔ ہم انقلاب کے بیٹے ہیں۔ ہمارا نام آزادی ہے۔ ہماری آنکھیں، ہمارے ہاتھ، ہمارے پاؤں سب آزادی کی منزلیں طے کرتے چلے جائیں گے۔ مجھے یہ بھی خبر ملی ہے کہ اس حساس صورت حال پر اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کا اجلاس بھی ہوا ہے۔ وہاں کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا بیان آیا ہے کہ مزید جنگ سے بچنے کے لیے تمام تر کوششیں بروئے کار لائی جائیں گی۔
ظالمو! تم ہمارا نام و نشاں مٹانا چاہتے ہوں مگر یہ نہیں ہو سکے گا۔ یاد رکھو! انتونیو گوتریس! تمہیں اب اپنے کہے ہوئے ان الفاظ کو عملی صورت دینا ہوگی۔ سب طاقت ور کو یہ جان لینا ہو گا کہ فلسطین اور اسرائیل میں سلامتی قائم کرنے کے لیے امن کی ضمانت دینا ہوگی۔ امن اسی صورت میں قائم ہو گا جب ہماری سر زمین فلسطین سے اسرائیل کا غاصبانہ قبضے کا خاتمہ ہو گا۔ اقوام متحدہ تمہیں فلسطینیوں کی آزادی اور خود مختاری کے حق کو ہر قیمت پر ماننا ہو گا۔
فلسطین کے متعلق کتنے منصوبے صیہونیوں نے بنائے وہ سب کے سب بودی تھے۔ 1948 میں تقریباً 7 لاکھ 80 ہزار عرب فلسطینیوں کو اپنے گھروں اور جائیدادوں سے محروم کر دیا گیا تا کہ فلسطین پر قبضے کے کام کو آسان بنایا جا سکے۔ 1967 کی جنگ کے بعد جو علاقے اسرائیل کے قبضے میں چلے گئے (جن کے متعلق اسرائیل کا سابق وزیر اعظم یہ دعویٰ کرتا رہا کہ انہیں آزاد کر دیا گیا ہے ) ان میں فلسطینیوں کی کل تعداد 17 لاکھ ہے۔ فلسطین کی خود مختار قوم کے ضمن میں یہ واضح طور پر نظر آتا ہے کہ ان پر قتل و غارت نا حق مظالم ڈھائے گئے۔ جو بھی کوئی صیہونیوں کا تنقیدی جائزہ پیش کرتا ہے تو کہہ دیا جاتا ہے کہ وہ یہود دشمن ہے۔ میری ماں مجھے محمود درویش کی نظمیں سنایا کرتی تھی۔ لو تم بھی سن لو
درویش! درویش
تو رو رہا ہے میری جاں!
میری روح تیری روح ہے
میرا درد تیرا درد ہے
میں اسی قوم سے ہوں
جو غلامی کی زندگی جی رہی ہے
جو محصور و مظلوم و مہجور ہے
کیا ہماری قسمت میں غلامی لکھی ہے
میں فلسطین کے لیے تڑپتا ہوں
میں نے اپنے وطن کے لیے
در در بھرے نغمے لکھے ہیں
لیکن مجھے ایک روشن دن چاہیے
کوئی فسطائیت بھری رات نہیں چاہیے


