آزاد کشمیر, احتجاجی تحریک کے کچھ دیگر پہلو
حکومت ریاست کی ہی نمائندہ ہوا کرتی ہے، وہ اگر ریاست کی نمائندگی نہ کرے تو کس کی کرے۔ کیونکہ عموماً حکومت ایک طرف تو ریاست کا چہرہ ہوتی ہے اور دوسری طرف عوام کی نمائندگی اور ملکیت کا اظہار اور اعلان بھی ہوا کرتی ہے، اس کے ساتھ ساتھ ریاست کے، عوام کے ساتھ تعلق کی ایک علامت اور اظہار کی حیثیت بھی رکھتی ہے۔ لہذا حکومت کو بالکل ریاست سے الگ تصور کر لینا، ایک ایسا خطرناک خلاء پیدا کرتا ہے، جس کے منفی اثرات بہت دور تک جاتے ہیں، لہذا اگر کوئی حکومت کسی وجہ سے ریاست کی نمائندگی کی ذمہ داری سے انکار بھی کرے، توبھی اس کا یہ موقف کسی طرح سے بھی تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
آزاد کشمیر میں جاری یہ عوامی احتجاجی تحریک جو بظاہر بجلی اور آٹے کی مہنگائی کے مطالبات پر شروع کی گئی اسے جان بوجھ کر سول نافرمانی کی تحریک میں بدلنے کی کوششیں کی جاتی رہیں، اور لاگت کے تناسب سے مناسب قیمت میں بجلی کی فراہمی کے جائز اور منطقی مطالبے کو بالکل مفت بجلی کی فراہمی جیسے ناممکن مطالبات کی طرف موڑ دیا گیا، بجلی کے بل نذر آتش کرنے کے ایک ”علامتی“ احتجاجی اظہار کے بارے میں سادہ لوح عوام کو یہ تاثر دیا گیا کہ اسی طرح بار بار اپنے بجلی کے بل نذر آتش کرنے سے ان کے یہ واجب الادا بل ختم ہوجائیں گے، بعد ازاں اس میں ”امراء“ کی مراعات کے خاتمے کے مبہم مطالبات شامل کروائے گئے، یہ واضح کئیے بغیر کہ امراء سے ان کی مراد کیا ہے۔
جبکہ یہ بھی امر واقع ہے کہ بیوروکریسی، عدلیہ سمیت اعلیٰ افسران اور اہلکاران کی مراعات اس خطے کی معاشی حالت کے ساتھ کسی بھی طرح مطابقت نہیں رکھتیں، بلکہ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے، کہ صرف پانچ برس تک کی پارلیمانی مدت کے لیے منتخب ارکان اسمبلی تک کی پینشن مقرر کر دی گئی ہے، اسے ہی ”حلوائی کی دکان پر نانا جی کی فاتحہ“ کہتے ہیں۔ اس ناجائز قانون کے خلاف اسمبلی میں سے اٹھنے والی واحد آواز مرحوم خالد ابراہیم کی تھی، جنہوں نے نہ صرف ان ناجائز مراعات کی کھل کر مخالفت کی بلکہ خود بھی انھیں لینے سے انکار کر دیا، سب نے دیکھا کہ مرحوم خالد ابراہیم اس مطالبے کو لے کر پوری اسمبلی میں بالکل اکیلے کھڑے رہے۔ اور کسی ممبر اسمبلی نے ان کا ساتھ نہ دیا، گویا وہ سب ممبران اسمبلی جو حکومت سے ہوں یا اپوزیشن سے، زیادہ سے زیادہ مراعات کے لیے وہ سب ایک تھے.
مشہور ہے کہ مغل اعظم شہنشاہ اکبر نے اپنے نو رتنوں کے ساتھ کھانا تناول کرتے ہوئے کسی بات پر کہا کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں، اس پر ملا دو پیازہ بولے ”مگر بوقت خوردن“ یعنی کھاتے وقت برابر ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح سابق وزراء اعظم نے آپس میں ”مفاد باہمی“ کی بنیادوں پر اپنے لیے تاحیات مراعات کا ایک مہنگا پیکیج حاصل کر رکھا ہے، جس میں ہر چند سال کے بعد حسب فرمائش نئی مہنگی گاڑی تک شامل ہے، جو کہ آزاد کشمیر جیسے چھوٹے سے علاقے کی ابتر معاشی حالت سے نہ صرف مطابقت نہیں رکھتا، بلکہ یہ یہاں کے غریب عوام کی توہین کے مترادف اور مضحکہ خیز بھی ہے۔
دنیا کے کسی ملک میں بھی سیاسی بنیادوں پر پارلیمانی مختصر مدت کے لیے منتخب نمائندوں کی پینشن اور دیگر مراعات کی کوئی مثال نہیں ملتی، بلکہ آزاد کشمیر جیسے منفرد اور حساس سیاسی و جغرافیائی کیفیت والے علاقے میں یہ اسراف اور ناقص پالیسیاں نہ صرف عوام میں اضطراب، غم و غصہ اور نفرت پیدا کرتی ہیں، بلکہ ان عناصر کے ارادوں کے لیے تقویت کا باعث بھی بنتی ہیں جو بوجوہ اس علاقے کے عوام میں بے چینی، نفرت اور مایوسی پھیلانا چاہتے ہیں۔
مہنگائی کے خلاف اس عوامی احتجاج کو دیگر سیاسی معاملات کی طرف موڑنے کی کوشش اور ان کو پرتشدد رنگ دینے کی کوشش کرنے والے عناصر کی مسلسل کوشش رہی، کہ اس عوامی احتجاج کو کسی بھی طرح تشدد کی طرف لے جایا جائے، اور ردعمل اور جواب میں تشدد کا نشانہ بنوایا جائے، اور اس طرح عوام کے امکانی غصے اور ناراضگی کو لے کر ”مزید آگے“ کو بڑھا جائے، اس سلسلے میں عوام کو بھڑکا کر پولیس سٹیشنز اور دیگر سرکاری تنصیبات پر حملے کے لیے کھلے عام مسلسل اکسایا جاتا رہا، پراسرار اور مشکوک پس منظر کے عناصر کی طرف سے، اس تحریک کے سٹیج کو استعمال کرتے ہوئے انتہائی نفرت آمیز اور زہر آلود تقاریر کی جاتی رہیں، عوام کو بھڑکانے اور ان کو اشتعال دلانے کی پوری پوری کوششیں کی جاتی رہیں، اس تحریک کو دیگر سیاسی معاملات جیسے الحاق و خود مختاری جیسے معاملات کی طرف موڑنے کی کوشش کی گئی، لیکن اس کوشش کے ”محسوس“ ہو جانے اور ان مذموم کوششوں کو سامنے لے آئے جانے کی وجہ سے یہ عناصر پھر کچھ پیچھے ہٹ گئے، مگر اپنی سرگرمیاں مسلسل جاری رکھیں، اور اس احتجاج میں خواتین اور بچوں کو سامنے رکھنے کی کوششیں کی گئیں، لیکن ان کوششوں کو بھی عوام میں وسیع پیمانے پر پذیرائی نہ مل سکی۔
ضرورت اس امر کی ہے، کہ حکومت کو ان احتجاجی مظاہرین کے تمام جائز اور ممکن مطالبے فوری طور پر تسلیم کرنے چاہئیں جب گلگت بلتستان میں آٹے اور بجلی کے علاوہ دیگر بنیادی اشیاء صرف پر رعائت اور سبسڈی دی جا سکتی ہے، تو آزاد کشمیر میں بھی فوری طور پر ویسی ہی سبسڈیز دی جانی چاہئیں، اس کے علاوہ حکومت ان احتجاجی عوام سے مذاکرات کے لیے ایسے وزراء کی کمیٹی مقرر کرتی دکھائی دیتی ہے، جو خود وزارتوں کے حسب خواہش قلمدان نہ ملنے پر ناراض ہیں، لہذا ان میں سے کچھ کی واضح طور پر یہ خواہش دکھائی دیتی ہے کہ یہ احتجاج کسی نہ کسی شکل میں جاری رہے، بلکہ مہنگائی پر اس عوامی احتجاجی تحریک میں وزراء کو قلمدان تفویض نہ کئیے جانے، اور اس میں تاخیر پر ”تشویش“ کی بازگشت بھی ان مطالبات کے ساتھ شامل کی جاتی سنائی دی۔
حکومت کو بھی اس معاملے میں سنجیدگی کا ثبوت دیتے ہوئے، چیف سیکریٹری کی سربراہی میں ایک با اختیار مذاکراتی کمیٹی تشکیل دینی چاہیے تاکہ مسائل کو حل کرنے کی طاقت و اختیار رکھنے والے ”حلقوں“ تک یہ مطالبات اور صورتحال براہ راست پہنچ سکیں، اور ان معاملات کو حل کرنے کے اختیار کے سلسلے میں آزاد کشمیر حکومت کی بے بسی، مزید اشتہار نہ بنے۔ اب وقت آ گیا ہے، کہ دونوں فریقین حکومت اور مظاہرین کو ”پردوں“ کے پیچھے سے نکل کر اپنے اصل مطالبات اور حکومت کو ان کے حل کے لیے اپنے دستیاب اختیار سامنے لانے چاہئیں، اور ان کے ممکن حل کے لیے مثبت اپروچ اختیار کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے عوام کے جائز مسائل کو فوری طور پر خطاب اور حل کیا جانا چاہیے، اس سے قبل کہ اس بے چینی اور اضطراب سے فائدہ اٹھانے کے منتظر اور خواہشمند اس بے چینی کو کسی غلط سمت میں لے جانے میں کامیاب ہو جائیں۔


