چند قصے سوانگی بھکاریوں کے


پاکستان میں آج کل جس طرح کے حالات چل رہے ہیں اس کی وجہ سے جہاں پر مڈل کلاس کی روزمرہ زندگی پر برے اثرات پڑے ہیں وہاں پر نچلے طبقے والوں کی زندگی بھی بد سے بدتر بن گئی ہے۔ روپے کی قدر میں مسلسل کمی اور دن بدن بڑھتی مہنگائی سے کاروباری طبقے اور تنخواہ دار لوگوں کے کے لیے بھی گزارا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ حاصل مطلب کہ آج کل کے حالات سے جو جہاں ہے اور جس طبقے سے تعلق رکھتا ہے وہ پریشانی اور جھنجھٹ کا شکار ہے۔

حال ہی میں غربت، بیروزگاری، مہنگائی، وسائل کی کمی اور مناسب مواقع کی قلت کے سبب ملک میں بھکاریوں کے تعداد میں بڑا اضافہ ہوا ہے۔ آپ چھوٹے سے چھوٹے شہر میں چلے جائیں یا کارپوریٹ شہروں میں، آپ کو بڑی تعداد میں ہر عمر کے بھیک مانگنے والے مل جائیں گے۔ ساٹھ ستر سال کے لاٹھی کے سہارے پر چلنے والے بوڑھے، ضعیف عورتیں، بدحالی اور بھوک میں سڑتی جوان عورتیں، معصوم بچے اور تو اور جوانیں کی جولان سے بھرپور نوجوان بھی آپ کو مختلف طریقوں سے بھیک مانگتے نظر آئیں گے۔

جدید دور میں آج کل جہاں ہر اک کام کا طریقہ تبدیل ہو گیا ہے وہاں پر بھکاریوں نے بھی نئے نئے نمونے سیکھ لیے ہیں۔ آج کل کے بھکاریوں کی اگر درست طریقے سے چھان بین کرلی جائے تو آدھے سے زیادہ تو آپ کو وہ لوگ ملیں گے جنہوں نے اس پیشے کو کمائی کا آسان طریقہ سمجھ کر خوشی سے اپنا لیا ہے۔ کئی لوگ تو آپ کو ایسے بھی ملیں گے جنہوں نے اپنے گھرانے کے سب آدمیوں کو اس دھندے سے لگا دیا ہے۔ ان کی عورتیں شہر کے دکانیں گھومتی خیرات مانگتی ہیں تو ان کے بچے ریلوی اور بس اسٹیشن پر بھیک مانگتے ہیں۔

آپ بس اسٹیشن پر جاؤ یا کسی کیبن سے سگریٹ لے کر اس کی پھونکیں مارو یا پھر سبزی منڈی میں آلو پیاز لینے چلے جاؤ یا بھلی کہیں پر بچوں کے گھمانے کے لیے جاؤ آپ کو مختلف عمر اور مختلف روپ کے پنچ دس بھکاری ہر جگہ پر ملیں گے ضرور۔ ان میں سے کئی ایک تو ایسے ہوتے ہیں جو معاف کرو بابا کہنے پر بھی آپ کو معاف نہیں کرتے اور تب تک آپ کا پیچھا نہ چھوڑیں گے جب تک آپ اس کو دس بیس روپے دے نہیں دیتے۔

اب ذرا ان کے مختلف قصے بھی سن لو، جن کا میں بذات خود چشم دید گواہ ہوں۔ کچھ ماہ پہلے شہر بینظیر لاڑکانہ کے اوور ہیڈ پل سے میرا موٹر سائیکل سے گزر ہو رہا تھا، میں نے دیکھا کہ ایک کونے میں ایک بچہ بیکل اور بچارہ بنا بیٹھا ہے اور اس کے آگے چھولوں کا ایک تھال گرا پڑا ہے اور چھولے بکھرے پڑے ہیں۔ اس کی یہ حالت دیکھ کر میں ذرا رکا، مجھے افسوس ہوا، میں نے سوچا کہ بچا چھولے بیچنے نکلا تھا اور کسی وجہ سے چلتے چلتے اس کا تھال گرگیا، میں نے اس پر ترس کھا کر پچاس سو بچے کو دے دیے، ایک دو اور بھی وہاں سے گزرنے والے رکے اور ترس کھاکر اس بچے کو کچھ نہ کچھ دے گئے تب وہاں سے اک اور بندہ گزرہ جس نے ہمیں یہ بتایا کہ یہ اس بچے کی روزانہ کی عادت ہے، یہ روز مختلف جگہ پر چھولوں کا تھال گرا کر لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکتا ہے۔ بحرالحال میں نے اس بات پر اعتبار نہ کیا اور وہاں سے نکل چلا لیکن کچھ دن بعد جب کسی اور جگہ سے گزر ہوا تو اس بچے کو اس ہی حالت میں دیکھا تو یقین آ گیا۔

یہ تو ایک بچے کی کہانی تھی، اب ذرا چالیس پچاس سال کے ایک آدمی کا قصہ سن لیں۔ لاڑکانہ میں تاریخی مقام موہن جو دڑو کے قریب ڈوکری شہر میں مجھے ایک بندہ خریداری کرتے ملا، اس نے مجھے آہستہ کہا کہ آپ میں کام ہے۔ میں اس ان جان موٹے اور کالے رنگ والے آدمی کو دیکھ کر پریشان ہو گیا کہ پتا نہیں اس کا مجھ میں کیا کام ہے۔ میں رستے سے تھوڑا ہٹ کر اس سے بات کرنے لگا تو اس نے بتایا کہ میں غریب اور مسکین ہوں گھر میں کھانے کو کچھ نہیں۔

میں نے اس کو کچھ نہ کچھ دے تو دیا لیکن اب وہ میرے گلے ہی پڑ گیا۔ روز آتے جاتے وہ میرا رستا روکتا اور وہی روداد سناتا۔ میں نے دیکھا کہ وہ آتے جاتے لوگوں کو یونہی جھاڑتا اور تاڑتا رہتا، پھر ایک دن وہ میرے پیچھے ہی پڑ گیا میں ایک دکان پر گیا تو وہ جلدی سے واپس لوٹا، دکان والا میرا جاننے والا تھا جب اس نے پوچھا تو میں نے ساری کہانی اسے بتادی۔ اس پر وہ حیران سا رہ گیا اور بولا کہ یہ بندہ تو شہر میں کتنے دکانوں کا مالک ہے، میں جانتا ہوں تبھی تو میرے سامنے وہ ٹکا ہی نہیں اور بھاگ نکلا۔ اب ایسے لوگ بھی ایسا کریں تو اصلی بھکاری بچارے کدھر جائیں۔

آپ کو کراچی کی سڑکوں پر بھی ایسے، اس جیسے لوگ ملیں گے، ہاں طریقہ مختلف ہو سکتا ہے، کوئی آپ کو قلم بیچتے نظر آئے گا تو کوئی رومال یا اخبار، جو کہ وہ اپنی قیمت سے زیادہ قیمت پر بیچے گا، پہلے وہ آپ کو مجبور کرے گا کہ آپ یہ چیز خرید لو، اپنی غربت کا بتائے گا لیکن پھر بھی آپ اس سے وہ چیز نہ لیں گے تو وہ صاف کہہ دے گا کہ بھوکا ہوں کچھ نہ کچھ دے دو۔ اب آپ اسے بھیک سمجھ لیں یا کچھ اور۔

یہاں پر ایک ایسے جوان بندے کا ذکر کرنا بھی خوب ہو گا جو خود کو سید کہلواتا ہے اور ہٹا کٹا پہلوان جیسا ہے، کئی سال پہلے میں نے اسے دیکھا تھا، اس کے ہاتھ میں ہسپتال کی رپورٹیں تھی، یہ بول کر بھیک مانگ رہا تھا کہ میرا بچہ اسپتال میں داخل ہے، تب میں نے اسے کچھ دے دیا تھا، لیکن اس کے بعد وہ ہر ماہ میں ایک دو مرتبہ مجھے مختلف جگہوں پر ملتا رہا، ہاتھ میں رپورٹیں اور زبان پر وہی جھوٹی کہانی۔ کئی سال سے میں اسے یونہی دیکھتا آ رہا ہوں، خیر لوگ تو اسے پہچان گئے ہیں اب اگر کوئی نیا گاہک پھنس جائے تو اور ہی بات ہو۔

اس سے بھی دلچسپ ایک اور قصہ سنا کر میں اس کالم کا اختتام کرنا چاہوں گا۔ ایک مرتبہ چھٹیوں میں میں ایک ہوٹل پر چائے پی رہا تھا تو روڈ پر ایک نئی سی موٹر سائیکل کھڑی ہوئی۔ اٹھارہ سال کا نوجوان بائیک چلا رہا تھا، بیچ میں آٹھ سال کی بچی بیٹھی تھی، پیچھے تیس سال کی عورت۔ بچی بائیک سے اتری اور میرے پاس چلی آئی۔ مسافر ہیں گاڑی کا پیٹرول ختم ہو گیا ہے، کچھ دے دیں۔ اب میں نے اسے دیکھا، اس کے بناوٹی انداز کو دیکھا، میں سمجھ گیا کہ یہ تو عادی مجرم لگ رہی ہے۔ میں نے کہا کہ چلو میں پٹرول ڈلوا دیتا ہوں تو اس نے ہاں کی، وہ ذرا رکی اور پھر نہ جانے کیا سوچ کر چل پڑی۔

وہی لوگ مجھے کسی اور دن واک کرتے مل گئے۔ میرے پیچھے سے موٹر سائیکل رکی، اور نوجوان کی آواز آئی بھائی، میں نے سوچا کہ شاید وہ مجھ راستہ پوچھیں گے، اس لیے میں نے مڑ کر دیکھا، یہ وہی لڑکا تھا، بیچ میں بچی بیٹھی تھی اور پیچھے عورت۔ لڑکا بولا۔ ہم مسافر ہیں لیکن گاڑی کا پٹرول اچانک ختم ہو گیا ہے اور ہمارے پیسے بھی کہیں پر گر پڑے ہیں۔ میں نے اسے دیکھا اور نظر انداز کر کے چل پڑا۔ آپ اب ان لوگوں کو بھکاری بولیں یا ڈرامہ باز، یہ آپ کی مرضی۔

یہ تو چند قصے لوکل بھکاریوں کے تھے جو ہم جیسے علاقائی لوگوں کو الو بناتے ہیں یا تنگ کرتے ہیں، لیکن ہمارے ملک کے بھکاری عالمی دنیا میں بھی اپنا نام روشن کر رہے ہیں، ہزاروں کی تعداد میں ایسے لوگ ہوتے ہیں جو لاکھوں روپے لگا کر ایران، سعودی اور دوسرے ملکوں میں جاتے ہیں اور پاکستانیوں کا نام روشن کرتے ہیں۔ اس حوالے سے حال ہی میں سمندر پار پاکستانیوں کے سیکریٹری نے سینٹ کے اسٹینڈنگ کمیٹی کو بریفنگ دیتے بتایا تھا کہ بیرون ملک میں جو بھکاری گرفتار کیے جاتے ہیں ان میں سے نوی فیصد پاکستانی ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ عراق اور سعودی والے حکام تو یہاں تک کہتے ہیں کہ ہم نے ان لوگوں کو گرفتار کر کے جیل بھردیتے ہیں پھر بھی ان کی تعداد کم نہیں ہوتی۔

گزشتہ ماہ کراچی سے بنکاک جانے والی ایک پرواز میں بھی ایک بھکاری اندر گھس گیا اور وہاں پر خیرات مانگنے لگا۔ یہ وڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئی جس میں تھائی کے ائر ہوسٹس اس آدمی کو بڑے ادب سے اس کام سے منع کر رہے ہیں۔ تو یہ ہے ہمارے ملک میں بھکاریوں کی کارکردگی۔ افسوس ہے کہ حکومت ایسے عادی فراڈی اور بلا وجہ بنے بھکاریوں کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھاتی۔

Facebook Comments HS