ماحولیاتی تبدیلیاں اور بخار میں مبتلا ہمارا سیارہ


اگرچہ سائنسدان گزشتہ کچھ دہائیوں سے انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے برپا ہونے والی ممکنہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے خبردار کر رہے تھے لیکن معیشت میں اضافے کی شرح کے عشق میں مبتلا دنیا ان سائنسدانوں کی باتوں کو سنجیدگی سے لینے کے لئے تیار نہیں تھی۔ اور کافی عرصے تک ماحولیاتی تبدیلیوں کو مستقبل کا مسئلہ سمجھا جاتا رہا۔ مگر پچھلے کچھ سالوں میں دنیا بھر میں رونما ہونے والے شدید موسمی واقعات نے ماحولیاتی بحران کی خوفناک حقیقت سب کے سامنے آشکار کردی ہے۔

اسی تناظر میں آج کل دنیا کے تین براعظم گرمی کی غیر معمولی لہر کا سامنا کر رہے ہیں اور اس سال جولائی کے مہینے کو دھرتی کی گزشتہ 120000 سالہ تاریخ کا گرم ترین مہینہ سمجھا جا رہا تھا اور اس کے بعد سے اب تک ہر آنے والے مہینے میں رکارڈ گرمی پڑ رہی ہے۔ دوسری طرف سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ رکارڈ بار بار ٹوٹتے رہیں گے کیونکہ موسمیاتی اعتبار سے ہمارا سیارہ غیر معمولی طور پر بحرانی صورتحال سے نبرد آزما ہے۔

اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ بات اب گلوبل وارمنگ سے آگے بڑھ گئی ہے اور ہم boiling era global یعنی ابلنے والے عہد میں زندہ ہیں۔ جہاں سورج ایسے علاقوں میں بھی آگ برسا رہا ہے جن کو عام طور پر ٹھنڈے علاقے سمجھا جاتا ہے، اور جہاں موسم گرما کو تفریح اور موج مستی کا موسم سمجھا جاتا رہا ہے۔ مثال کے طور پر برطانیہ کے لوگوں نے 1884 سے موجود رکارڈ کے مطابق اس سال تاریخ کے گرم ترین جون کا سامنا کیا اسی طرح شمالی امریکہ، یورپ اور ایشیا کے کئی ممالک میں تاریخی طور پر غیر معمولی گرمی کی وجہ سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے، جبکہ کچھ ممالک میں درجہ حرارت باقی دنیا کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق روس میں عالمی حدت کے اثرات باقی دنیا سے 2.5 فیصد زیادہ تیزی اور شدت سے ظاہر ہو رہے ہیں۔

دوسری طرف پوری دنیا میں درجہ حرارت میں اوسط اضافہ نوٹ کیا جا رہا ہے۔ گرمی کی یہ شدید لہر دنیا کے کئی ملکوں میں جنگلی آگ لگنے کا سبب بنی ہے۔

مجموعی طور پر جون 2023 سے لے کر اب تک رونما ہونے والے موسمی واقعات کے تناظر میں ماحولیاتی ماہرین کی جانب سے اس سال کے موسم گرما کو انسانی تاریخ کا گرم ترین موسم گرما قرار دیا جا رہا ہے۔ جس سے دنیا بھر میں ہزاروں اموات اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی واقع ہوئی۔ ایلیناز انشورنس کمپنی کی تحقیق کے مطابق صرف یورپ میں شدید گرمی کی لہر کی وجہ سے عالمی جی ڈی پی کے 0.6 فیصد سے زیادہ کا نقصان ہوا۔ ”دی نیچر“ میں شایع ہونے والے ایک آرٹیکل کے مطابق اس سال درجہ حرارت میں اضافے کے لئے پیرس معاہدے میں مقرر کردہ 1.5 سینٹی گریڈ کی حد سے تجاوز ہو گیا ہے لیکن معاہدے کی رو سے اس حد سے تجاوز کو تسلیم کرنے کے لئے گرمی کی اس شدت کا کئی سالوں تک برقرار رہنا ضروری ہے۔

بہرحال 2023 کی حد تک گرمی کی شدت جون سے متواتر برقرار رہی ہے اور جولائی، اگست اور ستمبر کو کئی ملکوں میں گرم ترین مہینے قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکہ کے سرکاری موسمیاتی ادارے این او ای ای نے اپنے 174 سالہ موسمیاتی رکارڈ کے تجزیے کے بعد اس سال کے اگست کو انسانی تاریخ کا گرم ترین اگست قرار دیا۔ اسی طرح فرانس نے اس سال کے ستمبر کے مہینے کو ملکی تاریخ کا گرم ترین ستمبر قرار دیا ہی۔

اس طرح ابھی تک کے موسمی تجزیات میں 2023 انسانی تاریخ کا گرم ترین سال قرار دیا جا رہا تھا، سائنسدانوں کے مطابق اگلا سال اس سے بھی زیادہ گرم ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ ایل لنیو کے موسمیاتی رجحان کے اثرات بڑھنے سے دنیا کے مجموعی درجہ حرارت میں اضافے کا امکان موجود ہے۔

معروف ماحولیاتی ماہر یئرڈائنس کے مطابق اب ستمبر موسم گرما کا مہینہ بن گیا ہے اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے دنیا کے نصف کرہ شمالی کے روایتی موسم غائب ہو رہے ہیں۔

اس حوالے سے ایک اور ماحولیاتی سائنسدان ڈاکٹر فریڈرک اوٹو کا کہنا ہے کہ عالمی حدت میں اضافے کے حوالے سے موجودہ صورتحال سے یہ مطلب لیا جا سکتا ہے ہمارا سیارہ بخار میں مبتلا ہے۔ جس کے نتائج مختلف نوعیت کے غیر متوقع موسمی حالات اور واقعات کی صورت میں ظاہر ہو رہے ہیں۔

Facebook Comments HS