بہت شور سنتے تھے کوچے میں سگ کا
ہیلتھ ویک کا یہ دوسرا دن تھا تاہم ہماری اٹھک بیٹھک مسلسل پانچ یوم سے جاری تھی۔ مجال ہے جو کوئی ایک لمحہ بھی سانسوں کی بے ترتیب و بے ہنگم میراتھن کو مرتب کرنے کے لیے بہم میسر ہوا ہو۔ بس ایک ہی معمول تھا۔ نیچے او پی ڈی پہنچو، اوپر آفس بیٹھو اور پھر سے نیچے او پی ڈی آ دھمکو۔ ایسے میں کچھ اور یاد رہ جانا ممکن ہی نہ تھا۔
بیگم صاحبہ نے کچھ خرید لانے کی تلقین فرمائی تھی جو ہماری ہیلتھ ویک کی پریڈ کی نذر ہو گئی۔ چونکہ یہ بندۂ ناچیز پوری رات فقط صلواتیں سن کے نہیں گزار سکتا تھا چنانچہ عین نصف شب کہ گھڑی جب رات کے بارہ بجا رہی تھی، میں چکوال کیمسٹ سے اہم ترین سودا سلف خریدنے سنہ 1978 کی حنوط شدہ انتہائی قیمتی ہنڈا سی ڈی 70 پر روانہ ہوا کہ اس کے علاوہ اور کوئی چارہ بھی نہ تھا۔
وہ ساری باتیں جو رات کے اس پہر تھکن سے چور وجود کے ساتھ نرم گرم بستر سے نکلنے پر میرے تخیل میں آ چکی تھیں مگر بزبان حال جنہیں بیگم کے گوش گزارنے کی جسارت نہ کر سکتا، خود کو ہی دل ہی دل میں سناتا اپنے خیالات میں کھویا میں گھر کی چوکھٹ پھلانگ آیا تھا۔
رات اتنی خوفناک نہ تھی کہ کوئی خدشہ دل میں در آتا۔ بیگم کو تصورات میں روبرو کیے ان کہی کا آموختہ دہراتا جیسے ہی میں سابق وزیر صاحب کے ڈیرے والا موڑ مڑا، ایک عفریت جیسے مجھ پر جھپٹ پڑی۔ دل سینہ توڑ کر میرے حلق میں آ پہنچا۔ ٹانگوں نے میرے بدن کا بوجھ اٹھانے سے انکار کر دیا۔ کنپٹیوں کے سبھی نادیدہ مساموں سے ٹھنڈا پسینہ پھوٹ نکلا۔ کوئی دو ہاتھ اونچا سیاہ سگ در سردار مجھ پہ جھپٹنے کی مصنوعی کوشش میں میری عہد بو علی سینا کی بائیک کے مساوی دوڑتا چلا آ رہا تھا۔
بھاؤں بھاؤں ں ں ں۔ بھاؤں!
میں نے ازمنہ قدیم کی اس موٹرسائیکل کی ریس دبائی اور بائیک غوں غوں کی آواز نکالتی تیزی سے آگے کو بھاگی۔ وہ ناہنجار مخلوق کہ جس کو اب آنکھیں پہچاننا شروع ہو گئیں تھیں۔ کسی آوارہ کتیا کا فرزند ارجمند۔ کتا کہ اہل دانش جسے سگ راہ سمجھتے آئے ہیں اسی رفتار کے ساتھ بائیک پہ حملہ آور ہوا۔ کمال سرعت کے ساتھ بائیں ٹانگ ہوا میں اچھال کر اس کا غیر متوقع حملہ بچاتے ہوئے میں اس گنوار کتے کی سلطنت سے فرار ہو گیا۔
بیگم اور اس سے متعلقہ جملہ باتیں تو پہلی بھاؤں کے ساتھ ہی میرے ذہن سے محو ہو چکی تھیں۔ اب تو دل ناداں کو ایک نیا ہی مسئلہ درپیش تھا۔ یہ کہ رات کی اس نورا مخلوق سے کیسے بچنا ہے۔ یہی سوچتا سوچتا میں محلہ بھٹیاں کی چڑھائی چڑھ کر سرپاک کی جانب گامزن ہوا۔ اب میں مکمل طور پر چوکنا اور متحرک ہو چکا تھا۔ میں جان چکا تھا کہ رات کے اس پہر شہر چکوال کی ان سڑکوں پر کتوں کا راج ہے۔
خمینی چوک سے ذرا پہلے ایک منڈلی دکھائی دی۔ کم و بیش دس بارہ کتے کھڑے تھے۔ تھوتھنیاں ایک دوسرے کے ساتھ ملائے وہ کسی گہری سوچ میں مستغرق نظر آئے۔ ان میں سے دو ادھیڑ عمر کے کتے ذرا الگ ٹہل رہے تھے۔ محسوس ہوتا تھا کہ وہ اس منڈلی کے بزرگ ہیں اور کسی اہم مسئلہ پر ایک دوسرے سے تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ باقی تمام کتے جو نو عمر معلوم ہوتے تھے، بزرگوں سے ذرا دور چوکنے کھڑے کان اٹھائے بزرگوں پہ آنکھ جمائے یوں جیسے ان کے حکم کے منتظر ہوں۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسا معاملہ کسی شریک ٹولے پر شب خون مارنے کا تھا۔
میں نے ڈر کے مارے فوراً رفتار بڑھا دی۔ بائیک کی غوں غوں کا شور سننا تھا کہ وہ سب بگٹٹ میری طرف یوں بھاگ نکلے گویا میں ہی ان کا شریک قبیلہ ہوں۔ وہ بزرگ کتے جو کسی اہم مسئلے میں الجھے ہوئے تھے، اپنی ساری متانت بھلاتے، اپنی نگاہوں کو خون آلود کرتے، تیوریاں چڑھاتے، رالیں ٹپکاتے، غراتے، خوفناک آوازیں نکالتے میری جانب لپکے۔
بھاؤں بھاؤں ں ں ں۔ بھاؤں!
رہ گیا میں۔ تو میں یوں ان کے چنگل سے بھاگ نکلا جیسے سوئمبر والے دن ارجن کی کمان سے تیر نکلا تھا۔ میں نے تو کسی سپیڈ بریکر پر رکنے کا کشٹ بھی نہیں اٹھایا۔ اور سپیڈ بریکر بھی کوئی ایک دو تو تھے نہیں، پورے پانچ تھے۔ اچھل اچھل کر موت کے کنویں پہ موٹر سائیکل دوڑانے کا عملی مظاہرہ کرتا میں ان ظالموں کی پہنچ سے دور نکل آیا۔ یہ الگ بات کہ اس دھماچوکڑی میں میرے گردے پھیپھڑوں کے ساتھ الجھ بیٹھے اور میرے گھٹنوں نے میرے رخ انور کو چھونے کا کامیاب تجربہ بھی کر لیا۔
دوسری طرف بو علی سینا کے دور کی موٹرسائیکل کے شاکوں نے شدید برا منایا اور مسلسل احتجاج کا رنگ اپناتے ہوئے چیں چیں کی کرخت آوازیں نکالنا شروع کر دیں۔ غالباً اگلے چکے کے دانتوں پہ بھی کوئی گہری ضرب پہنچی تھی تبھی تو بائیک کے اولیں میوزک میں اب غوں غوں کے ساتھ ساتھ گھرر گھرر کا شور بھی شامل ہو چکا تھا۔ بائیک کے اس بے ہنگم شور سے کتوں نے تو متوجہ ہونا ہی تھا، یوں محسوس ہونے لگا تھا کہ جہاں جہاں سے میں گزر رہا ہوں وہاں وہاں موجود گھروں میں خوابیدہ لوگ بھی ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھے ہوں۔ شکر ہے کہ ان کی تعریفوں سے کان محروم تھے ورنہ شاید ان کتوں کی مغلظات بہت پیچھے رہ جانے تھے۔
کتوں کی خوفناک منڈلی سے تو میں جان بچا آیا تھا مگر اب میرے دل نے دھڑک دھڑک آسمان سر پر اٹھا لیا تھا۔ سامنے سرپاک کا گراؤنڈ تھا جو اس وقت ان آوارہ کتوں کے ہیڈکوارٹر کا منظر پیش کر رہا تھا۔ رات کی دبیز گہری تاریکی میں بھی میں نے بھانپ لیا تھا کہ قسم قسم کے کم و بیش پچاس سے زائد کتوں کا جتھا خوفناک تیور لیے گراؤنڈ میں گھوم رہا ہے جن کے نرغے سے بچ نکلنا قریب قریب ناممکن تھا۔ ایسے میں میری اس بائیک کا کلاسیکل میوزک جو بھانت بھانت کی ان بولیوں کے ساتھ ون ون ٹو ٹو کی ایمبولینس سے زیادہ بلند سائرن بجا رہا تھا۔ میں کیونکر اس پل صراط سے گزروں گا بھلا؟ یہی سوچتے سوچتے میں نے بائیک امام بارگاہ سے پیچھے روک لی۔
کروں تو کیا کروں؟ واپس جاتا ہوں تو احساس مردانگی جاتا ہے۔ آگے بڑھوں احساس زندگی نہیں رہتا۔ خدا غارت کرے اس منحوس لمحے کو جب بیگم کے حکم سے روگردانی کی جرات کی تھی۔ یہی سب سوچتے سوچتے بائیک سڑک کنارے کھڑی کر کے میں دبے پاؤں سر پاک گراؤنڈ کی جانب بڑھا۔ نیت شوق یہی تھی کہ ریکی کر کے دیکھ لی جائے، شاید جاں بچانے کی کوئی صورت نظر آ جائے۔
میں دھیمے قدم اٹھاتا سر پاک گراؤنڈ کی جانب بڑھتا جا رہا تھا کہ اچانک دو کسرتی بدن والے سفید کتے سامنے سے نمودار ہوئے۔ منہ کھولے، رالیں ٹپکاتے، تیز قدم اٹھاتے وہ میری جانب ہی لپکے۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے سر پاک کے ہیڈکوارٹر کے ریڈار پر میری شبیہ ابھر آئی ہو اور کتوں کے شہنشاہ نے ان بوگیروں کو میرا قبلہ درست کرنے بھیجا ہو۔ میں اپنے قدموں پر جم گیا اور بچپن کی پڑھی کہانی کا اعادہ کرتے ہوئے سانس کی آمدورفت روک لی۔ گویا مرنے سے پہلے مر جانے کی مکمل سعی کی۔ دونوں ہولناک کتے ٹاؤں کرتے یوں میرے پاس سے نکل گئے گویا میں بھی جیسے ان کے ہی قبیل کا کوئی سگ آوارہ ہوں۔ میرے بدن کی وہ تمام رونگٹے جو کھڑے ہو چکے تھے، پھر سے حالت سکوں میں چلے گئے مگر میرے ہاتھ میں مسئلے کا حل تھما گئے۔
میں نے بائیک پکڑی اور اسے گھسیٹتا ہوا انتہائی نپے تلے قدم اٹھاتا سر پاک کے گراؤنڈ سے چہل قدمی کرتا ہوا نکل گیا۔ بائیک مکمل خاموش تھی گویا ایک طرح کا اعلان امن تھا۔ دو تین بے ضرر کتوں نے نظریں اٹھا کر میری جانب دیکھا بھی مگر مجھے معصوم جان کر جانے دیا گیا۔ سر پاک گراؤنڈ کراس کرتے ہی میں یوں بھاگا جیسے ایک لمحہ بھی مزید گزرا تو پتھر کا ہو جاؤں گا۔
پرانی چونگی کے پاس پھر سے مجھے جان کنی کے مرحلے سے گزرنا پڑا۔ وہاں دو عدد جوان کتے ایک کم عمر دوشیزہ کتیا کو رجھانے میں مصروف تھے۔ میرے موٹرسائیکل کی غوں غوں گھاں گھاں گھرر گھرر کو انہوں نے اپنی محبت میں دخل در معقولات جانا اور کتیا سمیت مجھ پر لپک پڑے۔ میں ایسا گھبرایا کہ چلتی بائیک سے چھلانگ لگا بیٹھا۔ بس پھر کیا تھا، سنسان سڑک پہ تنہا یوں پڑا تھا جیسے تین کتوں میں مرغ حرام پڑا ہوتا ہے۔ شومئی قسمت بائیک میرے آگے ہی گرا ہوا تھا اور ہاتھ میرا ابھی تک اس کے ہینڈل پر ہی موجود تھا۔
بارہ عدد ٹانگیں میرے قریب آ رہی تھیں۔ فاصلہ کم ہوتا جا رہا تھا۔ میں ابھی تھوڑی دیر پہلے جسے اپنی خوش قسمتی سمجھ رہا تھا، اب وہی زحمت بنی ہوئی تھی۔ بائیک کی ہیڈ لائیٹ روشن تھی اور اس دوبدو جنگ میں نائٹ ویژن راؤنڈ کا کردار ادا کر رہی تھی۔ محبت میں چوٹ کھائے یہ کتے زخمی شیر بنے مجھے نگلنے کو تیار تھے۔ ڈر کے مارے میرا بدن تشنج کا شکار ہوتا چلا گیا۔ گردن، سینے، کمر، کولہوں و ٹانگوں کے عضلات میں شدید کھنچاؤ پیدا ہوا اور خودکار طریقے سے ہتھیلیوں میں دبی ہوئی بائیک کی ریس کھنچنا شروع ہو گئی۔ بائیک نے اپنی وہی مخصوص عجیب و غریب آواز نکالنا شروع کر دی۔ کتے جو شاید مجھے بے ضرر سمجھ کر رک گئے تھے اس نامانوس آواز سے گھبرا کر پھر سے مجھ پر لپک پڑے۔
اب صورتحال کچھ یوں تھی کہ میں زمین پہ لنگر انداز تھا۔ میرے آگے بائیک نیم کمان کی صورت میری ڈھال بنی ہوئی تھی اور بائیک کے محاصرے پر محبت میں گھاؤ کھائے تین کتے، جو مسلسل بھونک بھونک کر آسمان سر پر اٹھائے ہوئے تھے۔ تیوری چڑھا کر مجھے مسلسل بری نگاہ سے آنکھیں بدل بدل کر دیکھ رہے تھے۔ غصے سے بھری ہوئی گونجیلی آواز ان کے نتھنوں سے یوں نکل رہی تھی جیسے ریل کے انجن سے سیٹی کی آواز نکلتی ہے۔ جبڑے کھلے ہوئے تھے، نوکیلے دانت جھلک دکھلا رہے تھے اور ہانپنے کی وجہ سے رالیں اڑ اڑ کر مجھ تک پہنچ رہی تھیں۔
حلق سے ایسی آوازیں نکال رہے تھے جو اس سے قبل میرے کانوں نے کبھی نہیں سنی تھیں۔ باچھیں چر کر کانوں تک جا پہنچی تھیں، ناک سمٹ کر ماتھے سے جا لگا تھا اور ڈاڑھوں تک دانت باہر نکل آئے تھے۔ منہ سے جھاگ اڑ رہی تھی۔ وہ مجھے کسی اور ہی سیارے کی مخلوق سمجھ کر میرا تیاپانچہ کرنے کو بالکل تیار تھے۔ خدا بھلا کرے میری اس بائیک کا جسے کوئی شر شرار سمجھ کر پاس آنے کی جرات نہیں کر رہے تھے۔
دوسری جانب میں زمین پہ لیٹا ڈر کے مارے رال ٹپکا رہا تھا۔ پورا بدن پسینے میں شرابور تھا۔ بدن یوں تپ رہا تھا گویا 104 کا تاپ چڑھا ہوا ہو۔ ہاتھ پاؤں مڑ چکے تھے۔ سانس اکھڑ چکا تھا اور مجھے یقین ہو چکا تھا کہ میرا وقت آخر آ چکا ہے۔ میں اگر کتوں کے نرغے سے بچ بھی جاتا تو ہارٹ اٹیک یقیناً میرا قصہ تمام کر جائے گا۔ اپنے رقیب کے ہاتھوں تنگ ایک کتے نے شاید خودکشی کی کوشش کی اور بائیک پھلانگ کر مجھ پر حملہ آور ہوا۔
موت کو یوں سامنے دیکھ کر تشنج کا دورہ شدید تر ہو گیا۔ ٹانگ کے عضلات کھنچے اور تین کلو کی کپتان چپل سے آراستہ میرا پاؤں ٹھاہ کر کے عاشق مزاج کتے کے منہ پر غوری میزائل کی مانند لگا۔ اس کے منہ سے با آواز بلند چاؤں نکلی اور وہ دم ٹانگوں میں دبائے اس معرکے سے بھاگ نکلا۔ بچ رہ جانے والے جوڑے نے اسے غنیمت سمجھا اور باقی ماندہ محبت کی کہانی کو لکھنے کے لیے قریبی جھاڑیوں کی راہ لی۔ میں نے بھی جان بچ جانے پر کلمہ شکر ادا کیا اور بائیک سنبھال، کپڑے جھاڑ چکوال کیمسٹ کی راہ لی۔
خدا بھلا کرے یہ جہلم روڈ دو رویہ کرنے والوں کا۔ اگرچہ کہ کتوں کے مسلح جتھے یہاں بھی قدم قدم پر موجود تھے مگر جب تک وہ بھاؤں بھاؤں کرتے میری طرف متوجہ ہوتے، میں ہوا ہو چکا ہوتا۔ چکوال کیمسٹ سے بیگم صاحبہ کی مطلوبہ ڈیری ملک اوریو چاکلیٹ کی خریداری کر کے میں بائیک کے پاس کھڑا سوچ رہا تھا کہ اب واپس جاؤں یا رات دفتر میں ہی بسر کر لوں۔ پہلے تو رک جانے کو ترجیح دی مگر فوراً خیال آیا کہ آج تو دفتر رک ہی جاؤں گا مگر پھر تا عمر گھر سے باہر ہی رہنا پڑے گا۔
آخر کتوں کے خوف پہ بیگم کا خوف حاوی رہا۔ واپسی کی راہ لینے سے پہلے میں ہسپتال ایمرجنسی گیا اور ڈیوٹی ڈی ایم ایس سے تصدیق چاہی کہ اگر ابھی کتوں کے کاٹے کا کوئی مریض ہسپتال آ جائے تو کیا ہمارے پاس اینٹی ریبیز ویکسین موجود ہے۔ چودہ ویکسین کا سٹاک موجود ہونے پر ہم نے سر پر کفن باندھا اور گھر کا قصد کیا۔
ڈیوٹی ڈی ایم ایس کے استفسار پر یہاں تک پہنچنے کا قصہ کہہ سنایا۔ اللہ بھلا کرے دھنی نسل کے اس دلیر ڈاکٹر کا۔ پہلے تو قہقہہ لگا کر میری حالت زار کا ماتم کیا اور پھر بیش قیمت نصیحت میری جیب میں اڑسی کہ جہاں کتا دیکھو وہاں رفتار کم کر لو۔ کتا کچھ نہیں کہے گا۔ واپسی پر ڈاکٹر صاحب کے مشورے کو صائب پایا اور خیریت سے گھر کی دہلیز پر پہنچے۔
خدا غارت کرے ان کتوں کو جن کے طفیل ہم نے نیم شبی کے باقی سفروں سے روگردانی کی اور بیگم صاحبہ کے حضور توبہ تائب ہوئے۔


