محسن نقوی رخصت ہوتے ہیں

جنوری میں کُہر اپنا رنگ دکھاتی ہے۔ سردی کی اک مخصوص کاٹ رگ و پے میں اُترتی محسوس ہوتی ہے۔ جنوری کے ساتھ ہی اداسی کا ایک منفرد رنگ پورے کینوس پر پھیل سا جاتا ہے۔ ہر چیز کو اداسی کی سفید چادر اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ وہ بھی ایک ایسی ہی اداس سی شام تھی۔ 15 جنوری 1996 کی یخ بستہ اُداس شام۔ مون مارکیٹ لاہور کے باہر ٹریفک کا اژدہام اپنی معمول کی افراتفری کے ساتھ

Read more

میں ہوا ناکام تو فاروق ساغر بن گیا

حسب معمول اٹھا اور ضروری عوامل کے بعد دفتر پہنچ گیا۔ عموماً دفتر میں سوشل میڈیا کے استعمال سے احتراز برتتا ہوں کیونکہ اول تو اتنا وقت بھی نہیں ہوتا اور دوئم ایک بار سوشل میڈیا کی طرف دھیان گیا تو پھر آدھا پون گھنٹہ لمحوں میں ادھر ادھر کہیں دبک جاتا ہے مگر آج اچانک موبائل پر ابھرتے غائب ہوتے نوٹیفکیشن میں سے واٹس ایپ کے ایک نوٹیفکیشن نے جکڑ لیا۔ ”انتہائی افسوس ناک خبر ہے کہ معروف و

Read more

بہت شور سنتے تھے کوچے میں سگ کا

ہیلتھ ویک کا یہ دوسرا دن تھا تاہم ہماری اٹھک بیٹھک مسلسل پانچ یوم سے جاری تھی۔ مجال ہے جو کوئی ایک لمحہ بھی سانسوں کی بے ترتیب و بے ہنگم میراتھن کو مرتب کرنے کے لیے بہم میسر ہوا ہو۔ بس ایک ہی معمول تھا۔ نیچے او پی ڈی پہنچو، اوپر آفس بیٹھو اور پھر سے نیچے او پی ڈی آ دھمکو۔ ایسے میں کچھ اور یاد رہ جانا ممکن ہی نہ تھا۔ بیگم صاحبہ نے کچھ خرید لانے

Read more

کُچھ ذمہ داری معاشرے کی بھی ہوا کرتی ہے

میں بہت طویل عرصے کے بعد گاؤں کچھ دن کے لیے رُکا ہوں۔ گاؤں قیام کرنے سے ہمیشہ ہی طمانیت کا خوشگوار احساس ہوتا ہے۔ رات کھُلے آسمان تلے بادلوں اور چاند تاروں کی آنکھ مچولی دیکھتے گُزاری۔ ٹھنڈک کا خوشگوار احساس، مشرق سے مغرب کو جھُومتے بادِ صبا کے جھونکے، گلی میں بلا سُود بھونکتے آوارہ کُتّوں کی گھن گرج جس کو بدمست کرتا ہوا کبھی کبھار نگرانی پر مامُور کسی پالتو بُل ٹیرئیر یا بُوہلی کُتے کا تنبیہی

Read more

سون ویلی محبتوں کی آماجگاہ ہے

محبت ایک آفاقی جذبہ ہے۔ یہ کسی بھی انداز، کسی بھی رنگ اور کسی بھی پہلو سے حواس پر حملہ آور ہو سکتا ہے۔ اور جسے کبھی محبت زیر بار کر لے وہ ہر سو اسی محبت کی تلاش میں بھٹکتا سرگرداں ہمکتا چلا جاتا ہے۔ محبت اس سیارے کا سب سے زیادہ دلفریب اور سب سے زیادہ دیدنی جذبہ ہے۔ سون ویلی جو کہ بزبان یار وادیٔ سون سکیسر ہے ؛ اور لالاؤں (گل و لالہ کی انوکھی جمعی

Read more

مجھ کو ڈھونڈیں گے سدا اہل جفا میرے بعد

اللہ پوچھے اس دسمبر سے بھی کہ جب بھی بام و در پہ آیا کسی نہ کسی کے بچھڑنے کا دھڑکا سا لگ گیا۔ حر کے نقش قدم پہ چلنے والا آزاد مرد تو کچھ ہفتے ہوئے زیر زمیں آباد کسی طلسم نگری کا باسی ہوا، جا چکا ۔ مگر کسی گھر میں چند ہفتوں سے خالی ہوا بستر مسلسل نوحہ کناں ہے، روتا ہے، سر پٹختا ہے، کرلاتا ہے، بین کرتا ہے، بے سلوٹ چادروں کی ڈبڈباتی آنکھوں سے

Read more

ایک رات کبھیکی جھیل کے دامن می

میں کبھیکی میں تھا۔ رات آدھی سے زیادہ بھیگ چکی تھی۔ اکتوبر کے سنہرے بدن سے جلا پاتی خنکی دھیرے دھیرے بڑھ رہی تھی۔ یہاں پر خصوصاً اور پنجاب بھر میں عموماً اکتوبر سرما کا آغاز ہی سمجھا جاتا ہے جہاں سکول کالجوں میں یونیفارم و اوقات کار بدلنے شروع ہوتے ہیں وہیں پر گھروں میں لحافوں کو دھوپ لگانے کی مہم بھی تیز ہوتی ہے۔ اور پھر ہمارے بڑے بوڑھوں کے مطابق تو اسوج پہلا پتر سیالے کا ہوتا

Read more