ایک پراسرار کائنات: آئن سٹائن کا خصوصی نظریہ اضافیت


1905میں، البرٹ آئن سٹائن نے ایک مقالہ شائع کیا جس نے جگہ اور وقت کے بارے میں ہماری سمجھ میں انقلاب برپا کر دیا۔ اس مقالے نے حرکت سے وابستہ نیوٹن کے دریافت کردہ قوانین کو ایک مہلک دھچکا پہنچایا جو اس مفروضے پر بنائے گئے تھے کہ جگہ اور وقت ایک دوسرے سے آزاد ہیں۔

آئن اسٹائن کے نظریہ اضافیت نے ثابت کیا کہ اگر دو افراد ایک دوسرے کے حوالے سے ایک مستقل رفتار سے حرکت کر رہے ہوں تو رفتار کس طرح وقت، جگہ اور کمیت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ ایک ساکن شخص کے لئے مستقل رفتار سے حرکت پذیر شخص کی گھڑی سست ہو جاتی ہے، لمبائی سکڑ جاتی ہے، اور کمیت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اگر کوئی شخص روشنی کی رفتار سے حرکت کرنے کے قابل ہو جائے تو ساکن شخص کے مطابق حرکت پذیر شخص کے لئے وقت رک جائے گا، لمبائی سکڑ کر صفر ہو جائے گی اور کمیت لامحدود ہو جائے گی۔

یہ منظرنامہ سائنس فکشن سے کم نہیں ہے۔
لیکن بات اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہے۔

آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت نے اس انقلابی خیال کو جنم دیا کہ کمیت اور توانائی ایک دوسرے میں بدل سکتے ہیں۔ ایٹم اور ہائیڈروجن بموں کی ایجاد، اور جوہری توانائی کا حصول، یہ سب اسی نظریے کی پیداوار ہیں۔ اس کام نے سورج کے اندر اس عمل کو سمجھنے میں مدد کی جو بڑی مقدار میں توانائی پیدا کرتے ہیں اور ہمارے لیے زندگی کا ذریعہ ہیں۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ نظریہ اضافیت کیا ہے اور آئن سٹائن کو نظریہ اضافیت پیش کرنے کے لیے کس چیز نے تحریک دی؟

آئیے ہم طبیعیات کے قوانین کے درمیان ان تنازعات کو دیکھتے ہیں جنہیں آئن سٹائن حل کرنا چاہتے تھے۔

گلیلیو اور نیوٹن کے حرکت کے قوانین کے مطابق گاڑی جیسی چیز کے اندر موجود شخص کے لئے یہ فیصلہ کرنا ناممکن ہے کہ اس کی گاڑی رکی ہوئی ہے یا ایک خاص رفتار سے حرکت کر رہی ہے۔

اس اصول کو رسمی طور پر اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے : طبیعیات کے قوانین ان دو افراد کے لئے بالکل یکساں ہیں جو ایک دوسرے کی نسبت ایک مستقل رفتار کے ساتھ حرکت کر رہے ہیں۔ آئن سٹائن نے اسے اپنے خصوصی نظریہ اضافیت کے پہلے اصول کے طور پر اپنایا۔

اضافیت کے اس اصول کو واضح کرنے کے لیے، آئیے ایک سادہ تجربے پر غور کریں۔ جب ایک گیند کو ایک خاص اونچائی سے گرایا جاتا ہے تو وہ اچھلتی ہے۔ اگر فرش کی سطح رگڑ سے پاک ہے تو گیند اصل اونچائی پر واپس آجاتی ہے اور اچھلتی رہتی ہے۔

اب ایک اور شخص پر غور کریں جو ایک ایسی گاڑی کے اندر گیند کو گرا رہا ہے جو ایک سمت میں مستقل رفتار کے ساتھ حرکت کر رہی ہے۔

وہ کیا مشاہدہ کرے گا؟

اس کے مطابق بھی گیند گاڑی کے فرش سے اچھلتی ہے اور اچھلتی رہتی ہے۔ اگر گاڑی سے باہر دیکھنا ممکن نہ ہو تو گاڑی کے اندر موجود شخص کے لیے یہ معلوم کرنا ناممکن ہو گا کہ گاڑی رکی ہوئی ہے یا مستقل رفتار سے چل رہی ہے۔

1862 میں، جیمز کلرک میکسویل نے ایک مقالہ شائع کیا جس میں انہوں نے فطرت کی دو قوتوں، چارجز کے درمیان برقی قوت اور مقناطیسی قطبوں کے درمیان مقناطیسی قوت، کو متحد کیا۔ میکسویل کی اس کوشش کا ایک ڈرامائی نتیجہ یہ تھا کہ روشنی خلا میں تین لاکھ کلو میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے حرکت کرتی ہے اور یہ رفتار روشنی کے منبع کی رفتار پر منحصر نہیں ہے۔ مطلب یہ کہ روشنی کی رفتار کا انحصار روشنی کے منبع جیسے ٹارچ کی رفتار پر نہیں ہونا چاہیے اور یہ رفتار وہی رہتی ہے چاہے روشنی کا منبع کتنی ہی تیزی سے حرکت کر رہا ہو۔

تاہم یہ نتیجہ نیوٹن کے حرکت کے قوانین سے متصادم تھا۔ نیوٹن کے قوانین کے مطابق روشنی کی رفتار روشنی کے منبع کی رفتار پر منحصر ہے۔ اس کو ایک سادہ مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔

ایک عام مشاہدہ یہ ہے کہ حرکت relative ہے۔ اگر ہم سڑک پر کھڑے ہوں اور ایک کار 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گزرے تو ہماری نسبت گاڑی کی رفتار 40 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگی۔ تاہم، اگر ہم ایک کار میں ہیں جو دوسری گاڑی کی سمت میں 30 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہے تو دونوں گاڑیوں کے مابین رفتار 40۔ 30 = 10 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگی۔

یہ صورت حال اس وقت بھی برقرار رہتی ہے جب رفتار زیادہ ہو۔ فرض کریں ایک راکٹ دس ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اگر ہم ایسے راکٹ میں ہوں جو پندرہ ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔ کچھ دیر بعد ، ہم نہ صرف پہلے راکٹ کے برابر پہنچ جائیں گے بلکہ اس سے آگے نکل جائیں گے۔

ابھی تک کوئی بات غیر معمولی نہیں، اور سب کچھ ہماری توقعات کے مطابق ہے۔

اب زمین پر موجود ایک مشعل پر غور کریں۔ جب اسے آن کیا جاتا ہے تو روشنی کی شعاعیں خارج ہوتی ہیں جو تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے پھیلتی ہیں۔ اس طرح اگر ہم بھی زمین پر کھڑے ہوں تو روشنی کی رفتار تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے۔ تاہم، اگر ہم کسی راکٹ میں 10,000 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے روشنی کی کرن کی سمت بڑھ رہے ہیں تو روشنی کی رفتار ہمیں 300,000۔ 10,000 = 290,000 کلومیٹر فی سیکنڈ دکھائی دینی چاہیے۔ اوپر کی طرح کی منطق کو استعمال کرتے ہوئے، اگر ہم ایک ایسا راکٹ بنا سکیں جو تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے روشنی کی کرن کی سمت حرکت کرتا ہے تو روشنی، جیسا کہ راکٹ سے نظر آتی ہے، ساکن نظر آ نی چاہیے۔

میکسویل کے نظریہ کے مطابق، روشنی برقی اور مقناطیسی لہروں پر مشتمل ہے۔ اس طور نیوٹن کے دریافت کردہ قوانین کے مطابق یہ برقی مقناطیسی لہریں ساکن دکھائی دیں گی۔ تاہم یہ میکسویل کے کام سے متصادم ہو گا، جن کے دریافت کردہ قوانین خلا میں ایسی ساکن لہروں کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ میکسویل کے مطابق، روشنی، برقی مقناطیسی لہروں پر مشتمل ہے جو خلا میں ہمیشہ تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے حرکت کرتی ہے۔

یہ دو نظریات تھے جو ایک دوسرے سے متصادم تھے۔

نیوٹن کی دریافت کردہ مکینکس کے مطابق، ہم روشنی کی رفتار سے حرکت کر سکتے ہیں اور روشنی ہمیں جامد دکھائی دے سکتی ہے۔

تاہم میکسویل کے مطابق روشنی کی رفتار تمام مبصرین کے لیے یکساں ہونی چاہیے، چاہے وہ کتنی ہی تیزی سے حرکت کر رہے ہوں۔

ان میں سے صرف ایک درست ہو سکتا تھا، نیوٹن یا میکسویل۔

ایک طرف، نیوٹن کے قوانین تقریباً دو صدیوں سے وقت کی کسوٹی پر پورے اترے تھے۔ دوسری طرف، میکسویل کے دریافت کردہ بجلی اور مقناطیسیت کے قوانین ان دونوں قوتوں کو ایک متحد انداز میں پیش کرنے کی سو سالہ کوششوں کا ثمر تھے۔

نیوٹن کے میکانکی حرکت کے قوانین یا میکسویل کے بجلی اور مقناطیسیت کے قوانین میں سے کسی ایک کو ترک کرنے کا مطلب ایک بہت بڑا قدم تھا۔

یہ وہ تضادات تھے جس کا ماہرین طبیعات کو سامنا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب آئن سٹائن 1905 میں برن میں سوئس پیٹنٹ آفس میں ٹیکنیکل اسسٹنٹ تھرڈ کلاس کے طور پر خدمات انجام دیتے ہوئے ان بنیادی سوالات پر غور کر رہے تھے۔

یہ بات بہت عجیب اور ناقابل قبول سمجھی جائے گی، اگر کوئی ہمیں بتائے کہ نیوٹن کے دریافت کردہ حرکت کے اصول ٹرینوں اور کاروں جیسی عام اشیاء کے لیے تو درست ہیں، لیکن روشنی کے لیے درست نہیں؟ لیکن آئن سٹائن نے بالکل ایسا ہی کیا۔

آئن سٹائن نے اپنی گہری سمجھ اور وجدان کے ذریعے فیصلہ کیا کہ روشنی کی رفتار ان تمام مبصرین کے لیے یکساں ہونی چاہیے جو ایک جگہ ساکن ہوں یا ایک دوسرے کے حوالے سے یکساں رفتار کے ساتھ حرکت کر رہے ہوں۔ انہوں نے روشنی کی رفتار کے بارے میں میکسویل کے نتیجے کے حق میں نیوٹن کی میکانکس کو ترک کر دیا۔

آئن سٹائن نے میکسویل سے اتفاق کیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ روشنی ایک ہی رفتار سے حرکت کرتی ہے چاہے روشنی کا منبع جامد ہو یا مستقل رفتار کے ساتھ حرکت کر رہا ہو۔

یہ آئن سٹائن کے خصوصی نظریہ اضافیت کا دوسرا اصول ہے، جس نے خلا اور وقت کے بارے میں ہماری سمجھ پر بہت اہم او ر انقلابی اثرات مرتب کیے۔ آئن سٹائن کا نظریہ اضافیت نیوٹن سے وابستہ میکانکس سے براہ راست متصادم تھا۔

یہ ادراک کہ روشنی کی رفتار روشنی کے منبع کی رفتار پر منحصر نہیں ہے، بہت سے ایسے نتائج کی بنیاد ہے جو بہت حیران کن ہیں اور جن کا نیوٹن کے دریافت کردہ قوانین کی روشنی میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

میں موجودہ اور اگلے مضامین میں ان کی کئی مثالیں پیش کرتا ہوں۔

نیوٹن کے وضع کردہ حرکت کے قوانین کے مطابق کسی شے پر قوت لگائی جائے، تو اس کی رفتار میں اضافہ ہوتا ہے۔ یعنی جب تک قوت کا اطلاق ہوتا ہے، شے کی رفتار بڑھتی رہتی ہے۔ تاہم رفتار کی کوئی حد نہیں ہے۔ اصولی طور پر، کافی لمبے عرصے تک ایک بڑی قوت کو استعمال کرنے سے، رفتار کو خلا میں روشنی کی رفتار، جو تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے، سے بڑھایا جا سکتا ہے۔

نظریہ اضافیت کا ایک اہم نتیجہ یہ ہے کہ کوئی بھی چیز روشنی کی رفتار سے زیادہ تیز نہیں چل سکتی۔ یہ انقلابی نتیجہ نیوٹن کے دریافت کردہ حرکت کے قوانین کی نفی کرتا ہے۔

بظاہر روشنی کی رفتار بہت زیادہ ہے لیکن کائنات کو دریافت کرنے کے لیے یہ بہت ناکافی ہے۔ اس بات کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے سیاروں کے نظام سے قریب ترین ستارہ تقریباً چار نوری سال دور ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک خلائی جہاز، جو سب سے زیادہ ممکنہ رفتار، روشنی کی رفتار کے ساتھ حرکت کرتا ہے، چار سال سے کم وقت میں اس قریب ترین ستارے تک نہیں پہنچ سکتا۔ اس طور یہ ممکن نظر نہیں آتا کہ انسان کبھی بھی ان ستاروں اور کہکشاؤں تک پہنچ سکے گا جنہیں ہم رات کو آسمان پر دیکھتے ہیں۔ وہ تو ہزاروں، لاکھوں نوری سال، بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ دور ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم نظریہ اضافیت کے ذریعے یہ کیسے سمجھ سکتے ہیں کہ کسی چیز کے لئے روشنی کی رفتار سے زیادہ تیز چلنا ناممکن ہے۔

یہ سمجھنے کے لئے پہلے ہم نظریہ اضافیت کے دونوں اصول یاد کرتے ہیں :

پہلے اصول کے مطابق، خلائی جہاز کے اندر ایک شخص اس بات کا تعین نہیں کر سکتا کہ اس کا خلائی جہاز رکا ہوا ہے یا ایک سمت میں ایک مستقل رفتار سے سفر کر رہا ہے۔

دوسرے اصول کے مطابق خلائی جہاز کے اندر روشنی کی رفتار خلائی جہاز کی رفتار پر منحصر نہیں۔

اب ہم جو دکھا سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ اگر کوئی خلائی جہاز روشنی کی رفتار سے زیادہ رفتار سے حرکت کرتا ہے تو خلائی جہاز کے اندر موجود شخص کے لیے یہ معلوم کرنا ممکن ہو جاتا ہے کہ آیا خلائی جہاز رکا ہوا ہے یا یکساں رفتار سے حرکت میں ہے۔ اس طرح نظریہ اضافیت کے پہلے اصول کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ نظریہ اضافیت کو محفوظ رکھنے کا پھر واحد طریقہ یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کوئی چیز روشنی کی رفتار سے زیادہ تیز نہیں حرکت کر سکتی۔

یہاں ہم ثابت کرتے ہیں کہ اضافیت کے قوانین سے یہ نتیجہ کس طرح اخذ کیا جا سکتا ہے۔

آئیے فرض کریں کہ ایک خلائی جہاز روشنی کی رفتار سے زیادہ رفتار کے ساتھ حرکت کرنے کے قابل ہے۔ خلائی جہاز کے پچھلے حصے میں موجود شخص ایک ٹارچ کے ذریعے خلائی جہاز کے اگلے سرے کی طرف روشنی کا سگنل بھیجتا ہے۔ اوپر بیان کیے گئے دوسرے اصول کے مطابق روشنی کا سگنل تین لاکھ میل فی سیکنڈ کی رفتار سے چلتا ہے چاہے خلائی جہاز کتنی ہی تیزی سے حرکت کر رہا ہو۔ اس لیے یہ سگنل کبھی بھی خلائی جہاز کے اگلے سرے تک نہیں پہنچ سکے گا کیونکہ خلائی جہاز کی رفتار روشنی کے سگنل کی رفتار سے زیادہ ہے۔

روشنی کا سگنل خلائی جہاز کی رفتار کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ یہ صورتحال دو دوڑنے والوں کی طرح ہے جو ایک ہی سمت میں سیدھے ٹریک پر مستقل رفتار کے ساتھ دوڑ رہے ہیں۔ اگر پہلے رنر کی رفتار دوسرے رنر کی رفتار سے کم ہے، تو وہ کبھی بھی دوسرے رنر کو نہیں پکڑ سکے گا۔ میری مثال میں، روشنی کا سگنل پہلے رنر کی طرح ہے اور خلائی جہاز دوسرے رنر کی طرح ہے۔ خلائی جہاز کے اندر موجود شخص کو معلوم ہو گا کہ روشنی کا سگنل کبھی بھی سامنے نہیں پہنچتا۔ تاہم، اگر خلائی جہاز رکا ہوا ہے، تو روشنی کا سگنل خلائی جہاز کی لمبائی طے کر کے جہاز کے اگلے سرے سے ٹکرائے گا۔

اب ہمارے سامنے ایک تضاد ہے۔

اگر سگنل اگلے سرے سے نہ ٹکرائے تو خلائی جہاز کے اندر موجود شخص یہ نتیجہ اخذ کرے گا کہ خلائی جہاز روشنی کی رفتار سے زیادہ رفتار سے حرکت کر رہا ہے،

اور اگر روشنی کا سگنل اگلے سرے سے ٹکرا جائے تو وہ یہ نتیجہ اخذ کرے گا کہ خلائی جہاز رکا ہوا ہے۔

نظریہ اضافیت کے پہلے اصول کے مطابق ایسا ممکن نہیں ہونا چاہیے۔ خلائی جہاز کے اندر مو جود شخص کو کسی طور معلوم نہیں ہونا چاہیے کہ اس کا جہاز رکا ہوا ہے یا یکساں رفتار سے حرکت کر رہا ہے۔

لہٰذا، ہم صرف وہی نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں، جو نظریہ اضافیت سے مطابقت رکھتا ہے، وہ یہ ہے کہ خلائی جہاز، اور اسی طرح کوئی بھی چیز، روشنی کی رفتار سے زیادہ تیزی سے حرکت نہیں کر سکتی۔ اس طور تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ایک حتمی رفتار ہے۔

اس مضمون میں، میں نے ان اصولوں کی وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے جن پر آئن سٹائن کے خصوصی نظریہ اضافیت کی بنیاد رکھی گئی۔ اس نظریے کا ایک اہم نتیجہ یہ تھا کہ روشنی کی رفتار سے بڑی رفتار سے سفر کرنا ناممکن ہے۔

اگلے مضمون میں، میں اس نظریہ اضافیت کے کچھ اور حیران کن نتائج پیش کروں گا۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سہیل زبیری

ڈاکٹر سہیل زبیری ٹیکساس یونیورسٹی میں کوانٹم سائنس  کے Distinguished Professor ہیں اور اس ادارے میں کوانٹم آپٹکس کے شعبہ میں Munnerlyn-Heep Chair پر فائز ہیں۔

suhail-zubairy has 93 posts and counting.See all posts by suhail-zubairy