چین سے سیکھیں
علم کے حصول اور حیات کے مقصد کی تلاش میں جن راہوں، راستوں، ناموں اور مقامات سے واسطہ پڑتا ہے، وہ بڑے خاص ہوتے ہیں۔ ان کا میری زندگی میں نام اور مقام بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔
محمد کریم احمد بھی مجھے اس تلاش کے سفر میں ملے اور مجھے خوشی ہے کہ میں ان سے واقف ہوا اور ان کی تخلیق سے فیضیاب ہوا ہوں۔
گزشتہ ماہ۔ میں ریڈیو پاکستان لاہور کے سٹوڈیو میں گیا جہاں محمد کریم احمد سے پہلی مرتبہ ملاقات ہوئی اور انہوں نے اپنی کتاب ” چین سے چین تک“ مجھے بطور تحفہ پیش کی۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان سے وعدہ کیا کہ میں ان کی یہ کتاب پڑھ کر اس پر اپنے خیالات کا اظہار ضرور کروں گا۔ اپنے وعدے کے مطابق میں نے اس کتاب کو مکمل طور پر پڑھا اور اب اس پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہا ہوں۔
محمد کریم احمد اپنے نام اور شخصیت میں ایک درویش اور ادیب لیے بیٹھے ہیں، جو اپنی پروفیشنل ذمہ داریوں کی سرانجام دہی میں مصروف ہے۔
محمد کریم احمد کے اندر تخلیق اور ادیب کا گہرا چشمہ بہہ رہا ہے جس سے علم کے پیاسوں کو آسودگی حاصل کرنی چاہیے۔ اس کتاب کو پڑھ کر مجھے احساس ہوا کہ ہمارا تخلیق کار اور لکھاری اگر مناسب سہولتوں، پذیرائی اور حوصلہ افزائی کی نعمت سے لیس ہو جائے تو وہ کسی بھی میدان میں کم نہیں ہے۔
محمد کریم احمد کی کتاب ” چین سے چین تک“ 2020 میں شائع ہوئی، 256 صفحات پر مشتمل یہ کتاب فکشن ہاؤس نے شائع کی ہے۔ جس کا دیدہ زیب ٹائٹل چین کے جھنڈے اور رنگ کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ کتاب محمد کریم احمد کے چین میں گزرے تین سالہ پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کا احوال، چینی معاشرے کا جائزہ اور ان کے براہ راست زندگی کے تجربات اور واقعات پر مشتمل دلچسپ اور شاندار سفرنامہ ہے۔
اس کتاب میں جہاں محمد کریم احمد نے چین میں گزرے اپنے ایام، چینی معاشرتی رویوں اور مختلف طبقات فکر کی عکاسی کی ہے وہ ایک عمدہ اور قابل ذکر تخلیق ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ کرنے کے دوران آپ کو یہ بات بار ہا متاثر کرے گی کہ مصنف نے اپنے تجربات کو یوں بیان کیا ہے جیسے اس کے قارئین بھی اس سفر میں ان کے ساتھ شامل ہیں۔ کتاب کو پڑھتے ہوئے مجھے تو یوں محسوس ہوا جیسے محمد کریم احمد کوئی وی لاگ بنا رہے ہیں اور ہم اسے اپنی سکرین پر دیکھ رہے ہیں۔ یہ کتاب چینی معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کے اسباب ہی بیان نہیں کرتی بلکہ ایک ماہر مبصر کی طرح ان خوبیوں اور اکائیوں کی تلاش کرتی ہے جو اس معاشرے کی ترقی کی بنیاد بنے ہیں۔
میں کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے محمد کریم احمد کی ماہرانہ سوچ، معاشرتی زاویوں کے مطالعہ اور دور اندیشی سے متاثر ہوا ہوں۔
آئیے اس کتاب کے متعلق کچھ اور مزید جانتے ہیں۔ انہوں نے یہ کتاب اپنے والد عبدالکریم اور اپنی والدہ جہاں آراء کے نام منسوب کی ہے جن کی تعلیم و تربیت اور دعاوٴں نے انہیں اس قابل بنایا ہے۔
محمد کریم احمد کی اس کتاب کی ایک اور اہم اور خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے اس کتاب کو صرف سفر نامے تک محدود نہیں رکھا بلکہ اپنے قارئین کے لیے ایک شاندار تحقیقی اور آنکھوں دیکھا مقالہ پیش کیا ہے جو نہ صرف چین بلکہ ان تمام لوگوں اور معاشروں کے لیے سیکھنے اور تحقیق کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔
کتاب کی ترتیب بھی بہت عمدہ طریقے سے کی گئی ہے جس میں اہم اور تاریخی مقامات پر لی گئی تصویریں، ساتھیوں کی تحریریں، ماہرین کے تاثرات اور چینی ہم کاروں کے مختصر خاکے شامل ہیں۔
15 ابواب پر شامل یہ کتاب چین اور پاکستان کے درمیان دوستی، سیاسی، سماجی اور معاشی روابط اس کے علاوہ اردو زبان کے لیے چینیوں کی محبت اور عقیدت کو بڑی خوبصورتی اور احسن طریقے سے بیان کرتی ہے۔
صفحہ نمبر 31 پر وہ لکھتے ہیں۔ ”زندگی کے اسی اتراؤ چڑھاؤ میں انسان جہاں بہت سی چیزیں سیکھتا ہے وہیں اس کا پیشہ بھی ایک استاد کی مانند نت نئی منزلوں اور مقامات سے اسے آشنا کرواتا ہے۔“
محمد کریم احمد چونکہ ریڈیو کے آدمی ہیں اور وہ اسی سلسلے میں تین برس ( 2015۔ 2018 ) چین میں چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل کی اردو سروس کے لیے بطور فارن ایکسپرٹ اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔ وہ صفحہ 33 پر لکھتے ہیں۔
” ترقی کے سفر کی جانب گامزن اور عصر حاضر میں ستر ملین سے زائد شہریوں کو غربت کے دائرے سے نکالنے والا چین، دنیا کی سب سے بڑی انسانی آنکھ فاسٹ ٹیلی سکوپ کا حامل چین، فائیو جی انٹرنیٹ سروس کی تجرباتی ابتدا کرنے والا اور دنیا کا سب سے بڑا ڈیم بنانے والا، فاسٹ ٹرینز اور اپنا سیٹلائٹ لانچ کرنے والا چین،
ون بیلٹ ون روڈ جیسے منصوبے شروع کرنے والا چین جدید ترین ٹیکنالوجی کا حامل ہونے کے باوجود آج بھی ریڈیو کی افادیت کا قائل ہے اور یہ میڈیم ان کی فارن پالیسی کی ترویج کا ایک اہم حصہ ہے ”
نئی عالمی زبان سیکھنے کے شوقین افراد کو صفحہ 77 پر مشورہ دیتے ہیں کہ ”اگر کوئی ابھرتی ہوئی قوم کی زبان سیکھنے کا خواہش مند ہے تو چینی زبان بہترین آپشن ہے۔“
چین کی معاشی ترقی کے راز کو صفحہ 169 پر بیان کرتے ہیں ”یہ سب کچھ ایک ادارہ جاتی نظام کی وجہ سے ہوا ہے۔ جہاں فرد واحد کی بجائے اجتماعی مشاورت اور ذاتی رجحانات پر قومی ترجیحات اور مفاد کو اولین حیثیت دی جاتی ہے۔“
چین کے سیاسی نظام کے بارے میں صفحہ 184 پر بیان کرتے ہیں۔ ”چین میں قیام کے دوران یہ مشاہدہ بھی ہوا کہ چین میں نیشنلزم بہت زیادہ ہے۔ ہر شہری کا چین کے سسٹم پر مکمل اعتماد اور بھروسا ہے۔ وہاں بسنے والے مختلف نسلی و لسانی گروہ باہمی طور پر ایک سیاسی وحدت ہیں۔
مختلف النوع ثقافتی پس منظر اور اپنی آبادی کے قطع نظر وہ اپنے ملک کی ترقی کے لیے کام کر رہے ہیں۔ یہی چین کے نظام کی خوبی ہے کہ یہاں کوئی اپنے آپ کو مرکزی دھارے سے الگ اور حکمرانوں کو اجنبی نہیں گردانتا۔ ”
محمد کریم احمد اپنے اس یادگار سفر کو صفحہ 246 پر یوں بیان کرتے ہیں۔
” ان گزرے تین برسوں میں بہار و خزاں، گرم اور سرد موسم، نشیب و فراز کے کتنے ہی موسم اور پڑاؤ آئے
مگر زندگی کا سفر دھیرے دھیرے چلتا ہی رہا۔ ان تین برسوں میں نہ صرف پہناوے اور معمولات خورد و نوش میں تبدیلی اور بدلتے مزاجوں کا مشاہدہ کیا بلکہ قلب و روح میں آنے والے تغیرات زندگی کے اس سفر کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں۔ ”
میں سمجھتا ہوں کہ یہ کتاب خصوصی طور پر ان طالب علموں کو ضرور پڑھنی چاہیے جو چین میں تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ چین کے ساتھ کاروبار اور چین کے متعلق جاننے کے لیے یہ کتاب ایک اہم دستاویز ہے۔
چین کی ترقی سے ہم یہ سبق سیکھتے ہیں کہ ادب، معیشت اور ٹیکنالوجی جب تک معاشرتی بھلائی کے لیے نہ ہو یہ محض تفریح ہو سکتی ہے اجتماعی ترقی نہیں۔ چین اس ضمن سے سب سے روشن اور بہترین مثال ہے ہمیں انفرادی، اجتماعی اور قومی سطح پر چین سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔


