حماس کی احمقانہ مہم جوئی کا خمیازہ فلسطینی بھگت رہے ہیں
سعودیہ اور اسرائیل کو قریب آتے دیکھ کر جس نے بھی حماس کو اْکسا کر ”گوریلائی پنگے بازی“ کروائی ہے اب اس سے سعودیہ اور اسرائیل تو یقیناً کچھ عرصہ کے لیے ایک دوسرے سے کیے گئے عہد و پیمان سے پرے ہوجائیں گے لیکن اب تک مرنے والے 1900 فلسطینیوں کے خون کا حساب کس سازشی اور فسادی کے سر جائے گا؟ اور آج نہیں تو کل سعودیہ اور اسرائیل پھر ایک دوسرے سے سفارتی ہتھ جوڑی ضرور کریں گے کہ دنیا میں رہنے کے لیے اس کے علاوہ اب کوئی حل ہے اور نہ ہی راستہ تو کیا یہ سازشی ہر بار سعودیہ اور اسرائیل کے تعلقات بڑھنے سے روکنے کے لیے اسی طرح خون کی ہولی کھیلا کریں گے؟
یقیناً سازشی گروہ ایسا ہی کرے گا تاکہ سعودیہ مسلمانوں کے بے انتہا جذباتی دباؤ کے زیرِ اثر آ کر اس سے مذاکرات تک سے پرے ہو جائے لیکن کیا یہ کسی مسئلے کا مستقل حل ہے؟ ساتھ بیٹھنے دیں، بات چیت کرنے دیں، اسی طرح کوئی پرامن راہ نکلے گی، ہاں اگر مسلمانوں میں اتنا دَم ہے تو آگے بڑھیں اور اسرائیل کو اڑا کے رکھ دیں، کیا یہ حوصلہ کوئی مسلمان ملک کر سکتا ہے؟
ترکیہ؟
پاکستان؟
ایران؟
ملائشیا؟
مصر؟ اردن؟ سعودی عرب یا عرب امارات؟
اور وہ ”عالمی اسلامی فوج“ کہاں ہے؟ اس کے سربراہ جناب جنرل راحیل شریف کیا کر رہے ہیں؟ ان کی طرف سے ایک سرگوشی بھی کسی کو اس ہولناک سانحے پر سنائی دی ہے آپ کو؟ سسکیاں ہیں، آہیں ہیں، چیخیں اور تڑپتے، پھڑکتے، لہولہان اور کٹے پھٹے لاشے ہر سمت نظر آرہے ہیں، کالا سیاہ دھواں ہے کہ سارے سہانے منظروں کو ملیا میٹ کر کے وحشت کا راج دکھا رہا ہے، شور مچاتی، چنگھاڑتی اور بھاگتی لپکتی ایمبولینسیں ہیں کہ بچوں، جوانوں، عورتوں اور بوڑھوں کو تباہ حال ہسپتالوں کی اور لیے بھاگ رہی ہیں جہاں نہ دوائیاں ہیں اور نہ ہی اسٹریچر اور نہ ہی طبی عملہ دستیاب ہے کہ احمقانہ انداز میں شروع کی گئی جنگ میں سب نشانہ بن چکے ہیں، ہلالِ احمر کے امدادی کارکنوں تک کو نہ بخشا جا رہا ہے، یو این کی انسانی بنیادوں پر کی جانے والی جنگ بندی کی اپیلیں نہ اسرائیل مان رہا ہے اور نہ ہی ایڈونچر پسند نام نہاد وہ مجاہدین جن کے پاس لڑنے کو نعروں کے سوا اور کچھ بھی نہ ہے اور وہ ان جذباتی نعروں کی وجہ سے مسلم امہ کے جذباتی عوام کو لبھا رہے ہیں کہ
”ہم اسرائیل کو سبق سکھا کر دم لیں گے“
اور حال یہ ہے کہ ان کی احمقانہ مہم جوئی کی بدولت پورا فلسطین لہو لہو نظر آ رہا ہے، گھر گھر صفِ ماتم بچھ چکی ہے، بلڈنگیں راکھ کا ڈھیر بن چکی ہیں، پورا انفرا اسٹرکچر اسرائیلی جنگی جہازوں سے بارش کی طرح برستے میزائلوں نے برباد کر کے رکھ دیا ہے اور مبصرین کے مطابق کل جب بھی جنگ بند ہوگی تو فلسطین کی بحالی کے لیے کم از کم 2 سال درکار ہوں گے اور 15 سے 20 ارب ڈالرز فوری حاصل کرنے پڑیں گے لیکن جو انسان اس فضول جنگ میں مارے جا چکے یا ابھی مزید مریں گے، ان کا ازالہ کیسے ہو گا؟ ان خاندانوں کو صبر کیسے آئے گا؟ ان کی کفالت کیسے ہوگی؟ مرنے والوں کے وارثوں کو آپ کیسے مطمئن کریں گے؟ سراسر گھاٹے کا سودا احمق ہی کیا کرتے ہیں، صرف محدود مدت کے لیے کچھ سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے حماس کے رہنماؤں کو اسرائیل جیسے طاقتور وحشی سے لڑوانے کی سازش کے مرتکبین کو کچھ تو سوچنا چاہیے تھا کہ نہیں؟ دو چار بڑے ملکوں کی ”آشیر باد“ تو ساتھ رکھنی چاہیے تھی کہ نہیں؟
اسرائیل کی حمایت میں کھل کر امریکہ نے اپنا بحری بیڑہ مشرقی بحیرہ روم میں لاکر کھڑا کر دیا ہے، اسلحے سے بھرا ایک امریکی جہاز بھی تل ابیب پہنچ چکا ہے کہ اس جنگ سے فائدہ اٹھا کر کوئی اور طاقت، تنظیم یا ملک مہم جوئی کی کوشش/حماقت نہ کرے لیکن کیا فلسطین کی حمایت میں کوئی اس طرح کھل کر سامنے آیا ہے؟ کسی نے اپنا جہاز، بحری بیڑہ یا فوجی بھیجنے کی بات یا دھمکی بھی دی ہے؟ جس طرح نیٹو اور یورپی یونین اسرائیل کی حمایت میں کھلے عام بیانات دے رہے ہیں، کیا مسلمان ممالک اس طرح کے بیانات بھی دے رہے ہیں؟ ترکیہ جو امہ کا بڑا لیڈر بنا پھرتا ہے، اس کے اردوان کی نیتن یاہو کو کوئی دھمکی آمیز کال یا کوئی سفارتی پیغام کسی کان میں پڑا ہو؟ پاکستان تو خیر شدید معاشی مشکلات کا شکار ہے وہ تو کسی پرائی جنگ کا حصہ بننے جوگا بھی نہ ہے لیکن کیا ایران جو مالی لحاظ سے کسی حد تک ٹھیک ٹھاک ہے، کیا اس کے رہبر خامنہ ای نے اپنے پاسدارانِ انقلاب کے کسی کمانڈر کی ڈیوٹی لگائی ہے کہ دس بارہ ہزار اپنے انقلابی اسرائیل کی طرف بھیجنے کے لیے بھی تیار رکھیں؟ سعودیہ نے ”عالمی اسلامی فوج“ کے سپہ سالارِ اعظم راحیل شریف کو اس جنگ کے حوالے سے کچھ ہدایات دی ہوں؟ چلیے کسی بھی اسلامی ملک نے ایسا سوچا بھی ہو؟
کوئی سامنے نہیں آئے گا، حماس کے احمقانہ ایڈونچر کی سزا صرف فلسطینی عوام بھگتیں گے اور وہ بھگت رہے ہیں، اللہ کرے کہ یہ جنگ زیادہ طویل نہ ہو ورنہ سلگتے، بھڑکتے اور خون میں تر بتر غزہ میں انسان نامی مخلوق کو ڈھونڈنے کے لیے کوئی خاص ہی نظر تلاشنی ہوگی اور آخر میں بس یہ کہ اللہ ہمارے ہمسائے ملک ایران کو عقل دے جس نے پہلے حماس کو اکسایا اور اب حزب اللہ کو بھی اس جنگ میں شامل ہونے کے لیے اشارہ کر دیا ہے اور خود دوسرے اسلامی ملکوں کی مانند دور بیٹھا صرف تماشا دیکھ رہا ہے اور معصوم فلسطینی تیزی سے موت کے منہ میں جاتے جا رہے ہیں۔


