کراچی کیا سے کیا ہو گیا


ساٹھ کے عشرے میں جب ہم لائلپور سے کراچی آئے تو ہمیں سب سے زیادہ اچھی جو چیز لگی وہ کراچی کی ہوا تھی، پھر شہر میں عمارتوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور ہوا کہیں چھپ گئی۔ کل جب نرگس رحمن اور کراچی کے دیگر درد مند دوستوں کی جانب سے منعقدہ سیمینار میں طارق الیگزینڈر قیصر نے ہم سمیت سارے شرکا سے پوچھا کہ کس کس کو کراچی کی ہوا یاد ہے تو سب سے پہلے مشہور ٹی وی آرٹسٹ جہاں آرا حئی اور ہم نے ہاتھ اٹھایا۔

ہم تازہ دم کر دینے والی اس روٹھی ہوئی ہوا کو کیسے منا کر واپس لائیں۔ طارق الیگزینڈر ہمیں یہی سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہرے بھرے پودے اور درخت ہوا میں آکسیجن چھوڑتے ہیں مگر کراچی جیسے ساحلی شہر میں سب سے زیادہ آکسیجن فائٹو پلینکٹن اور مینگریوز کے درخت فراہم کرتے ہیں۔ کراچی پہلے اور ابھی بھی بائیولیومینیسینٹ فائٹو پلینکٹن کے آبی ہاٹ اسپاٹ میں واقع ہے۔ یہ پودے سب سے زیادہ آکسیجن پیدا کرتے ہیں۔ اور ہمارا ساحل ان سے بھرا ہوا ہے۔ ان درختوں کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔ ہماری ساحلی پٹی کا فطری نظام آلودگی کی سطح کو کم کر کے ہی برقرار رہ پائے گا۔ اگر ہم فضلے اور گندے مواد کو صاف کیے بغیر سمندر میں ڈالتے رہیں گے تو فائٹو پلینکٹن پودوں کے ذخائر کم ہوتے چلے جائیں گے۔

مینگریوز جیسے درمیانی سمندری جنگلات، کھمبیاں اور بیکٹیریا ماحولیاتی نظام کے لئے بے حد اہمیت رکھتے ہیں۔ اپنے ساحلی ماحول کے حفاظت کر کے ہی ہم کراچی کی ہوا کو واپس لا سکتے ہیں۔ اس ہوا کے نہ ملنے کی وجہ یہ ہے کہ آلودگی کی وجہ سے فائٹو پلینکٹن کے پودے زہریلے ہو گئے ہیں اور آکسیجن کو بڑھانے کی بجائے اسے ختم کر رہے ہیں۔ تو صاحب اگر آپ کو کراچی کی ہواؤں کو واپس لانا ہے۔ تو اور کچھ کریں یا نہ کریں کراچی کے سمندر میں واقع بنڈال جیسے جزائر سے چھیڑ چھاڑ بند کر دیں، وہاں پودوں کو پھلنے پھولنے دیں، اگر بنڈال اور دیگرجزائر ہرے بھرے ہو گئے تو ہوائیں لوٹ آئیں گی۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ کراچی کے جزائر کو قدرتی ذخائر اور محفوظ آبی علاقے قرار دے دیا جائے۔ یہ باتیں سمجھنے اور سمجھانے کے لئے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ بچوں کو سائنس اور فلسفے کی تعلیم دیں۔ صرف کاروباری منتظمین پیدا کرنے سے بات نہیں بنے گی۔

اگلا مرحلہ کراچی کے فضلہ ملے پانی کی صفائی کا ہے، اس کے لئے ٹریٹمنٹ پلانٹس کو بحال کیا جائے۔ گٹر باغیچہ کا نام تو کراچی والوں کو یاد ہو گا۔ اسی طرح محمود آباد میں بھی ایک ٹریٹمنٹ پلانٹ ہوا کرتا تھا۔ پانی کی نکاسی کے لئے جو نالے بنائے گئے ہیں، وہ تجاوزات اور کچرے کی وجہ سے بند پڑے ہیں اور اسی لئے بارشوں کے بعد کراچی میں سیلاب آ جاتا ہے۔

ڈاکٹر نعمان جیسے عوام دوست اربن پلانر ہمیں بتاتے رہتے ہیں کہ کراچی کئی لحاظ سے ایک غیر معمولی شہر ہے۔ نہ صرف پاکستان بلکہ آس پاس کے ممالک سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی یہاں رہتے ہیں۔ سرکاری لحاظ سے کراچی کی آبادی دو کروڑ مگر آزادانہ جائزے کے مطابق اس سے کہیں زیادہ ہے۔ سندھ کی آبادی کا ایک تہائی حصہ اور پاکستان کی کل آبادی کا 22 فی صد حصہ کراچی میں رہتا ہے اور اس کے علاوہ بھی لوگوں کی آمد کا سلسلہ لگا رہتا ہے کیونکہ تعلیم، رہائش اور روزگار کی سہولتیں ان کے اپنے علاقوں میں میں کم ہیں۔ اندرون سندھ سے لوگ اسی لئے کراچی آتے ہیں کیونکہ یہ کم قیمت پر زندگی کی سہولتیں فراہم کرتا ہے۔ جو بھی یہاں آتا ہے اسی کا ہو کر رہ جاتا ہے۔

آبادی بڑھتی جاتی ہے مگر اس کے لئے درکار سہولتوں میں اضافہ نہیں ہوتا۔ انفرا اسٹرکچر کے نام پر جو منصوبے بنائے جاتے ہیں، ان سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ صدر کے علاقے میں بنائے جانے والے پارکنگ پلازہ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ یہ پلازہ اس لئے بنایا گیا تھا کہ لوگ یہاں گاڑیاں پارک کر کے صدر میں خریداری کریں مگر پلازہ سے دکانوں تک کے راستے پر چلنے کی جگہ نہیں، اس لئے کسی نے آج تک اسے استعمال نہیں کیا۔ اسی طرح سندھ سیکریٹریٹ کے پاس پیپلز اسکوائر بنایا گیا مگر اس کی دیکھ بھال کے اخراجات اس سے ہونے والی آمدنی سے کہیں زیادہ ہیں۔ سیف سٹی کے منصوبے کے تحت سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جانے تھے جو یا تو لگے نہیں یا خراب پڑے ہیں۔ صحیح کام کرنے والے کیمروں کی مدد سے مجرموں کو پکڑا جا سکتا ہے۔

بس ریپڈ ٹرانزٹ پراجیکٹ کی بڑی دھوم مچی تھی مگر ٹرانسپورٹ کا مسئلہ حل نہیں ہوا۔ پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے شہر میں موٹر سائیکلوں اور پرائیویٹ گاڑیوں کی بھر مار ہے۔ جس سے ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دنیا کے 173 شہر جن میں رہنا سب سے زیادہ مشکل ہے، ان میں کراچی کا نمبر 169 ہے۔ کراچی میں صرف آلودگی ہی نہیں بڑھی، جرائم بھی بڑھے ہیں۔ 1985 سے یہ ایک تشدد زدہ شہر بن چکا ہے۔

آج کل بنیادی سہولتوں کی نج کاری پر زور دیا جا رہا ہے لیکن ایک زمانہ تھا کہ سرکاری ادارے عوام کی خدمت میں مصروف رہتے تھے۔ لوگوں کو پانی جیسی بنیادی سہولت پیسے دے کر خریدنی پڑ رہی ہے کیونکہ نلکوں میں پانی نہیں آتا۔ پانی ٹینکر مافیا کے قبضے میں ہے۔ آلودہ ہوا اور پانی نے کراچی کے شہریوں کو طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا کر دیا ہے اور ڈاکٹروں اور ادویاات ساز کمپنیوں کا کاروبار پھل پھول رہا ہے۔

بہرحال جب تک کراچی کا درد دل میں رکھنے والے شہری موجود ہیں، امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ حکومت کو بھی عوام دوست ماہرین کی تجاویز پر توجہ دینی چاہیے۔

Facebook Comments HS