اساتذہ کے معاشی مسائل، ذمہ دار کون؟
قلم کا سکوت، اذہان کے بنجر پن کا غماز ہوتا ہے۔ کبھی کبھی قلم کا چیخنے کو دل کرتا ہے لیکن اس کی آہ سینے میں دب کر رہ جاتی ہے۔ جس طرح ہمارا معاشرہ آئی سی یو میں پڑا مصنوعی تنفس پر زندہ ہے، ایسے ہی میرا قلم اب نوحے لکھنے سے عاجز آ گیا ہے۔ مسائل کا انبار قلم کی روانی میں ایسے ہی رکاوٹ بن رہا، جیسے گلیوں، محلوں میں پڑا تعفن کسی راہ گیر کی منزل کھوٹی کر رہا ہو۔ سیاست ہو یا صحافت، معیشت ہو یا معاشرت، تعلیم ہو یا صحت، ہر شعبے میں عطائیت کا دور دورہ ہے۔
سوشل میڈیا پہ موجود گھٹن ایک لاوے کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہماری عوام کے اندر موجود نفرت، بھوک، نا انصافی اور میرٹ کے قتل کا عفریت کسی وقت ہمارے معاشرے کو لپیٹ میں لے لے گا۔ پھر نہ نیرو بچے گا، نہ اس کی بانسری جو وہ روزانہ اپنے محل کی بارہ دری میں بیٹھا بجا رہا ہے اور عوام کا خون چوس چوس کر موٹا تازہ ہو تا جا رہا ہے۔ معاشرے میں اس انارکی کی سب سے بڑی وجہ تعلیم و تربیت کا وہ فقدان ہے جس کی وجہ سے ہم آج تک ایک قوم نہیں بن سکے۔ موجودہ افراتفری، لاقانونیت اور بگاڑ ظاہر کرتا ہے کہ ہماری قوم کے تمام افراد ملک کے لئے مفید شہری ثابت نہیں ہو سکے۔ دشمن نے ہمارے نظام تعلیم پہ جو کاری ضرب لگائی ہے، اس کا حل یہی ہے کہ ہم اس نظام کو نہ صرف جدید خطوط پر استوار کریں بلکہ اس میں موجود خامیوں کا بھی خاتمہ کریں۔
دیکھا جائے تو گزشتہ عشرے میں تعلیم کو مکمل طور پر تباہ کرنے کا سہرا رباب اختیار کے سر جاتا ہے اور اس پر طرہ یہ کہ اہل سیاست اور غیر منافع بخش تنظیموں کے ساتھ ساتھ میڈیا نے اس کا بیڑہ غرق کرنے میں بھر پور کردار ادا کیا ہے۔ ”مار نہیں پیار“ کے نعرے سے شروع ہونے والی یہ تباہی، سکولوں کالجوں میں ثقافت کے نام پر بے ہودہ رقص پر ختم نہیں ہوتی بلکہ ہمارے بچوں کی حب الوطنی کو نشانہ بنانے کے لئے بزم ادب سے وطنیت اور اسلام کے تمام موضوعات کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔
یکساں قومی نصاب کے نام پر ہمارے ادارہ جات کو ہومیو پیتھ نصاب پکڑا دیا گیا ہے جس سے ایک طالب علم دین سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ روح بلالی اور جذبہ اسلامی اب صرف مذہبی تنظیموں اور مدارس کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے۔ ہماری جوانی کا ایک دور تھا جب ہر طالب علم اقبال کا شاہین بننے کی کوشش کرتا تھا، اب یہ دور ہے کہ ہر طالب ٹک ٹاک پہ اداکار بننے کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پہ ایک فلاسفر اور سائنسدان بننے کی کوشش کر رہا ہے۔
ابھی ابھی خبر ملی ہے کہ سکولوں کے تمام اساتذہ لیو انکیشمنٹ اور تعلیمی اداروں کی نج کاری کے خلاف ہڑتال پر ہیں اور بچوں کو گھر واپس بھیج دیا گیا ہے ۔ ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ اس وقت یہی ہے کہ اساتذہ کو وہ عزت اور مقام نہیں دیا جا رہا جو اسلام میں متعین کیا گیا ہے یا جو ہمارے معاشرے کو دینا چاہیے۔ اساتذہ تنظیموں کے زیادہ تر عہدیدار اس وقت سلاخوں کے پیچھے ہیں، اگر پنجاب حکومت میں تھوڑی سی بھی عقل ہوتی یا ان کے دل میں استاد کا کوئی بھی مقام ہوتا تو مذاکرات کے ذریعے اس دھرنے اور ہڑتال کو ختم کرنے کی کوشش کرتے یا پھر ان سیاست دانوں کی طرح اساتذہ تنظیموں کے تمام رہنماؤں کو گھر میں ہی عزت سے نظر بند کر دیا جاتا۔
مجھ سے کل کسی نے سوال کیا کہ لیوو انکیشمنٹ کا نقصان کیا صرف اساتذہ کو ہوا ہے، باقی محکمہ جات کے لوگ اس ہڑتال میں کیوں شامل نہیں ہیں تو میں نے کہا کہ ہر محکمے کا چپڑاسی سے لے کر افسر اپنی اوپر کی آمدنی سے اتنا کچھ بنا لیتا ہے کہ اسے پنشن مال غنیمت لگتا ہے، ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن چاہے کم ہو یا زیادہ اس کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پنشن کے سابقہ قوانین میں سب سے اہم ترمیم یہ کی گئی ہے کہ ہے جو بھی ملازم ریٹائر ہو گا، اس کے واجبات اس کی ابتدائی بنیادی تنخواہ پر ادا کیے جائیں گے نہ کہ اس کی موجودہ یعنی رننگ بیسک سیلری پر اس کی پنشن کا بل بنے گا۔
ایک حکومتی ملازم جو کم از کم 25 یا 30 سال تک اپنے فرائض منصبی انجام دیتا ہے اس کی پنشن میں لاکھوں کی کٹوتی ہو گی۔ فرض کریں جب ایک استاد ریٹائر ہو تو وہ اس پوزیشن میں بھی نہیں ہو گا کہ اپنی پنشن سے ایک اچھا مکان ہی خرید سکے۔ موجودہ حالات میں تعلیم اتنی بے قدر ہو گئی ہے کہ نہ تو استاد کو کئی نذرانہ میسر ہے اور نہ ہی کوئی معاشرے میں عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ماضی میں جب پرائمری اور ایلیمنٹری امتحانات کا نظام رائج تھا تو کم از کم اتنا فرق تو پڑتا تھا کہ فیل ہونے والے طالب علم کے والدین اس بچے کو ٹیوشن پڑھانے کے ساتھ ساتھ ایک محنتی استاد کی عزت بھی کرتے تھے۔
اللہ بیڑہ غرق کرے تعلیم دشمن حکمرانوں کا جنہوں نے محنتی اور نا اہل دونوں قسم کے اساتذہ کو ایک صف میں کھڑا کر دیا ہے۔ جب آٹھویں جماعت تک بچے کا کوئی خارجی امتحان ہی نہیں ہو گا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ مستقبل میں سائنسدان، ڈاکٹر یا انجینئر بن سکے۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ ہمارے ملک کے دھرتا زمینی حقائق سے نابلد ہیں، جس کی وجہ سے جانے، انجانے میں ہمیشہ ان سے ملک دشمن فیصلے صادر ہوتے ہیں۔ آئی ایم ایف کی شرائط بجائے کرپٹ اور ٹیکس چور عناصر پر لاگو کرنے کے، حکومت نے سارا نزلہ ملازمین کے پنشن رولز میں ترمیم کر کے، اساتذہ پہ گرا دیا ہے۔
موجودہ مہنگائی اور افراط زر کی شرح میں اضافے کا سب سے بڑا شکار معزز اساتذہ کرام ہی ہیں۔ نجی بنکوں اور نیشنل بنک کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں، سب سے زیادہ سیلری لون (تنخواہ پر قرض) لینے والے اساتذہ ہی ہوں گے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے ساتھ ساتھ محکمہ تعلیم کے تمام افسران بھی انہی سکولوں اور کالجوں سے تعلیم حاصل کر کے آئے ہیں تو کیا ان کے علم میں نہیں کہ اردو، اسلامیات، عربی، پنجابی، فارسی، سرائیکی، مطالعہ پاکستان پڑھانے والے اساتذہ کے پاس تو ٹیوشن پڑھنے بھی کوئی نہیں آتا تو ان کے گھر کا چولہا کیسے جلتا ہو گا۔
جب ہشتم تک امتحان ہی نہیں ہو گا تو تکریم اساتذہ کا مرتکب ہونے کا شوق بھی کسی کو نہیں ہے۔ تعلیم سے دوری اور آؤٹ آف سکول بچوں کی بڑھتی تعداد کا سب سے بڑا سبب بھی تعلیم کی ناقدری ہے۔ ہمارے ملک میں صرف عیاشی ان کی ہے جو یا تو قانون ساز ہیں یا قانون پر عمل درآمد کروانے والے، کوئی بھی بڑا افسر یا حکمران اس فرد کے بارے میں سوچنے کو تیار نہیں جس نے اس کو اس منصب تک پہنچایا۔ شنید ہے کہ پنجاب میں تعلیمی اداروں کی نج کاری کا بھی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
میرے خیال میں ایک فرد کی تعلیم اور ملک کے دفاع جیسی اہم ذمہ داری ریاست کے بنیادی فرائض میں شامل ہے، اگر تعلیم کی نج کاری کی جا رہی ہے تو ہو سکتا ہے کہ مستقبل قریب میں ملکی دفاع بھی کرائے کی فوج کے حوالے کر دیا جائے کیونکہ جیسے فوج کسی ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ دار ہے ویسے ہی ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے ذمے دار استاد ہوتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ استاد کی بندوق یعنی اس کے ذہن کی مکمل آبیاری کی جائے اور اس کی معاشرتی مسائل سے گلو خلاصی کی جائے۔


