رواداری انسانی بقا کی ضامن ہے


ہم جس کائنات میں رہ رہے ہیں اس کا ذرہ ذرہ پکار کر ہمیں متوجہ کر رہا ہے کہ یہاں یک رنگی نہیں، رنگا رنگی ہے اور اسی اختلاف میں حسن کائنات مضمر ہے۔

انسانوں کی دنیا میں جب ہم قدم رکھتے ہیں تو ہمارا واسطہ ایک طرف نسلی، لسانی، علاقائی، قومی، سیاسی، معاشی و معاشرتی تنوع سے پڑتا ہے تو وہیں دوسری طرف انسانیت مختلف مذاہب میں منقسم نظر آتی ہے۔ رواداری ہی وہ واحد سبیل ہے جس کے ذریعے پر امن اور خوش حال بقائے باہمی کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

رواداری سے مراد اختلافی امور میں برداشت کو اوڑھنا بچھونا بناتے ہوئے دوسرے انسانوں سے اپنے تعلقات اس طرح استوار کرنے ہیں کہ تصادم، لڑائی، جھگڑے اور چپقلش کی نوبت ہی نہ آنے دی جائے۔ یہی وہ حکمت عملی کا راستہ ہے جو انسانوں کی بقاء کا ضامن ہے۔ ترقی و خوشحالی کی منزل اسی راستے کے دوسرے سرے پر ہے۔

رواداری کے مطلب و مفہوم کی تصریح یہ ہے کہ ہم انسان آپس کے اختلافات میں ایک دوسرے کے نظریات، خیالات، عقائد، تصورات اور آراء کو جگہ دیں ؛ برداشت کریں، حوصلے اور صبر سے کام لیں۔ ایسی بے جا اور نامناسب تنقید سے بچیں جو دوسروں کی دل آزاری کا سبب بنے۔ ایسی حکمت عملی اپنائیں جو دوسروں کے لیے تلقین ثابت ہو؛ تعلیم کا ذریعہ بنے اور قابل تقلید نمونہ ٹھہرے۔ کسی بھی ایسی روش کو اپنانے سے گریز کریں جو وجہ نزاع بنتے ہوئے انسانوں میں تفریق، تقسیم اور انجام کار لڑائی جھگڑوں کو جنم دے۔

لیکن یاد رہے کہ رواداری کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ آدمی حق گوئی اور راست بازی ہی ترک کر دے۔ مصلحت کے نام پر ایسا کرنا رواداری نہیں بلکہ منافقت اور دوغلا پن ہو گا۔ رواداری کا بہترین اسلوب اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب، قرآن مجید میں بتایا ہے جسے تمام مسلمانوں کو اپنانے اور اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو غیر مسلموں سے مخاطب ہونے کی تعلیم یوں دے رہے ہیں، ”پس، تم ان کو حق کی دعوت دو اور اپنے طریقے پر جمے رہو جیسا کہ تم کو حکم دیا گیا ہے اور ان کی خواہشات کی ہرگز پیروی نہ کرو اور کہو کہ اللہ نے جو کتاب اتاری ہے اس پر میں ایمان لایا ہوں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمھارے درمیان انصاف کروں، اللہ ہمارا بھی پروردگار ہے اور تمھارا بھی، ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمھارے اعمال تمھارے لیے، ہمارے اور تمھارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ اللہ ہم سب کو قیامت میں جمع کرے گا اور اسی کی طرف واپس جانا ہے“ ۔ (الشوریٰ42:15)

تاریخ انسانی شاہد ہے کہ انسانوں کی تباہی و بربادی کا سب سے بڑا سبب عدم برداشت، رواداری سے احتراز اور تحمل و بردباری سے گریز رہا ہے۔ بیسویں صدی اپنے دامن پہ انسانی خون کے چھینٹے لیے رخصت ہوئی جس میں دو عظیم جنگیں لاکھوں انسانوں کی زندگیاں نگل گئیں، کروڑوں کو اپاہج، معذور، مجبور و مقہور بنا گئیں۔ نسلی و لسانی، قومی و سیاسی، علاقائی و مذہبی اختلافات ہی ان جنگوں کا سبب بنے۔ رواداری کا فقدان، برتری کی ہوس اور قبضے کی خواہش انسانیت کا خون پانی کی طرح بہاتی چلی آئی ہے۔

آج بھی ہم اپنے گرد و پیش میں دیکھیں تو انسانوں کے مابین فطری اختلافات، مصنوعی تنازعات کی صورت اختیار کیے ہوئے ہیں۔ عدم برداشت کے نتیجے میں انسانیت کا قتل عام ہو رہا ہے۔ رواداری سے عاری معاشروں میں نہ کوئی نسلی گروہ محفوظ ہے اور نہ ہی کوئی مذہبی شناخت۔

ہم جس وطن عزیز کے باسی ہیں یہاں بھی فطری اختلاف؛ جو باعث حسن ہے، موجود ہے۔ ہمارا سماج مختلف النسل، مختلف السان اور مختلف العقائد ہے۔ اس رنگا رنگی اور تنوع میں پر امن بقائے باہمی کا راز یقیناً رواداری میں ہی مضمر ہے۔

ہمیں مسلمان ہونے کے ناتے جس تصور رواداری کو اپنانے کی ضرورت ہے وہ کتاب اللہ اور اسوہ رسول ﷺ میں دیا گیا ہے۔ کلمہ حق کے ساتھ اپنی وفاداری استوار رکھتے ہوئے ہمیں غیر مسلم ہم وطنوں کے لیے اپنے دستر خوان پہ رواداری کی ضیافت کا خصوصی اہتمام رکھنا ہو گا وگرنہ بقاء کی جبلت؛ امن عامہ کے حصول اور استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔

اسی طرح مسلمانوں کو آپس کے مسلکی اختلافات میں بھی رواداری کو ہی اپنانے کی ضرورت ہے۔ مذہبی فرقہ واریت؛ انتشار، لاقانونیت اور بد امنی کو فروغ دیتی ہے جس کا فوری اور لازمی نتیجہ عدم تحفظ کی صورت نکلتا ہے۔ پر امن بقائے باہمی، ترقی و خوشحالی ہر ایک کا خواب ہے جسے شرمندہ تعبیر، صرف رواداری ہی کر سکتی ہے۔

نسلی و لسانی امتیازات کو برتری و تفاخر کا ذریعہ بنانے سے گریز کا درس بھی ہمیں کتاب اللہ سے لینے کی ضرورت ہے، جو سیرت و کردار کو معیار فضیلت بتاتی ہے۔ صورتوں کی صورت گری خدائے واحد کو ہی سزاوار ہے، ہمارے ہاتھ کردار سازی ہے جس کے اہتمام کی ذمہ داری ہماری ہے اور جس کے لیے ہمارا احتساب بھی ہونا ہے۔ اسی جواب دہی کے احساس کو زندہ رکھتے ہوئے اپنے عمل کو اس کے تقاضوں سے ہم آہنگ رکھنا، عند اللہ مومن کی معراج ہے۔

ہم انسانوں کے لیے عموماً اور مسلمانوں کے لیے خصوصاً نیکی میں سبقت اور مقابلے کی فضاء قائم کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ عصبیتوں کے گرداب میں پھنس کر خیر کی توقع عبث ہے۔

بقول اقبال
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

زندہ رہنے کے لیے شکم پری ہی کافی نہیں، احساس زندگی بھی ناگزیر ہے۔ اخلاق حسنہ کی ترویج اور رزائل اخلاق سے احتراز میں ہی ساری انسانیت کی فلاح ہے۔

باہمی تنازعات کے تصفیے کے لیے علم و عقل سے رہنمائی درکار ہوتی ہے۔ دلیل کی فتح طاقت کے غلبے سے کہیں بڑھ کر ہے جو دیر پا اثرات کی حامل اور امن و آشتی کی روح رواں ہے۔

عصر حاضر میں جن قوموں کو زندگی کے متعدد شعبوں میں غلبہ حاصل ہے وہ علم و عقل کے مثبت استعمال کا ہی نتیجہ ہے۔ خون خرابے کے بھیانک نتائج کو دیکھتے ہوئے اقوام عالم نے تاریخ کا سبق ازبر کر لیا ہے۔ طاقت اور غلبے کی نفسیات میں جینے والی اقوام ترقی و خوشحالی کے سفر میں بہت پیچھے ہیں۔

مسلم دنیا کو خصوصاً اپنے دگرگوں حالات کے اسباب کا جائزہ لینا ہو گا کہ آخر کیوں کر وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود پسماندگی ان کا مقدر بن گئی ہے؟ رواداری سے اعراض، باہمی چپقلش اور ترجیحات طے کرنے میں مجرمانہ غفلت یا دانستہ کوتاہی، زبوں حالی کا سبب تو نہیں ہے؟ امت وسط ہونے کے باوجود اعتدال کے راستے سے بھٹکے ہوئے کیوں ہیں؟ کرنے کے کیا کیا کام ہیں، اقدامات کون کون سے ضروری ہیں، ترجیحات کیسے طے کرنی ہیں اور ان میں سر فہرست کون سے امور ترتیب دینے ہیں؟ یہ اور ان جیسے کئی سوالات ہیں جو خود احتسابی اور سمت راست کے تعین کے لیے ضروری ہیں۔

Facebook Comments HS