ٹیلنٹڈ بندہ کہاں جائے
مانگے تانگے کی دو چار شاعری کی کتابیں پڑھ کر ہمارے اندر ایک زعم سا پیدا ہو گیا تھا کہ اردو تو ہمارے گھر کی باندی ہے۔ باقی مضامین پہ محنت کرنا تو بنتا بھی ہے مگر اردو پہ سر کھپانے کی کوئی خاص ضرورت نہیں۔ میٹرک کے پرچے دیے تو اردو میں اسی فیصد نمبر آ گئے اور ہمارے زعم کی گویا تصدیق ہو گئی۔ اسی طرح انٹرمیڈیٹ کا امتحان بھی اطمینان کن انداز میں پاس کر لیا۔ اب تو گویا ہم اپنے آپ کو اردو دان سمجھنے لگ گئے۔ بات بے بات، محل بے محل یار و اغیار کی تصحیح کرنے لگے۔ کئی دوست ہماری اس حرکت سے نالاں بھی ہوئے مگر ہم نے اپنی روش نہ بدلی۔
بڑے بھائی عرصہ دراز سے لاہور میں مقیم تھے سوچا چھٹیاں ان کے ہاں لاہور میں جا کر گزاری جائیں اور ہو سکے تو آئندہ سلسلہ تعلیم بھی لاہور جیسے بڑے شہر میں ہی جاری رکھا جائے۔ سو سامان باندھا اور لاہور کی راہ لی۔
ایک دن گلبرگ کے علاقے میں گشت کرتے ہوئے ایک سکول کے دروازے پر نظر پڑی جہاں ٹیچرز ریکوائرڈ کا چھوٹا سا بینر لگا نظر آیا۔ فوراً چوکیدار سے راہ و رسم بڑھائی۔ اس نے دفتر تک رسائی دینے میں مدد فراہم کی۔ ایڈمن کے افسر نے ایک فارم پر کرنے کا کہا جس میں اور تفصیلات درج کرنے کے علاوہ ایک خانہ یہ بھی تھا کہ کون سے مضمون میں مہارت رکھتے ہیں۔ ہم نے جھٹ سے اردو لکھ دیا کہ اپنے تئیں اردو میں تو ہم طاق تھے۔ فارم مکمل پر کیا اور دستخط کر کے ایڈمن افسر کو جمع کروا دیا۔
ایڈمن افسر نے ایک چھوٹی سی پرچی نما سلپ دے دی جس پر ٹیسٹ کی تاریخ درج تھی۔ ٹیسٹ کی تاریخ دو چار روز کے بعد تھی اور ہمیں پریشان ہونے یا سر کھپانے کی چنداں ضرورت نہ تھی کیونکہ اردو کے بارے میں ہمارا علم بحر بے کراں کی مانند تھا۔ محسن نقوی اور احمد فراز کے درجنوں اشعار زبانی یاد تھے۔ پریم چند اور منٹو کے دو دو افسانے پڑھ رکھے تھے۔ اب اس عمیق مطالعے اور گہرے مشاہدے کے بعد بھی ہمیں اردو پڑھانے کے لیے منتخب نہ کیا جاتا تو اسے ان کی کم قسمتی پر ہی محمول کیا جا سکتا تھا۔
امتحان والے دن ایک ادائے بے نیازی سے جا کر اپنی سیٹ پر براجمان ہو گئے۔ نگرانی کرنے والوں نے تصدیق کی غرض سے سوال کیا کہ ہم واقعی اردو کا ٹیسٹ دینے آئے ہیں یا کسی اور مضمون کا؟ ہم نے جھنجھلا کے کہا ”میاں کیوں اتنا زچ کر رہے ہو جلدی سے پرچہ شروع کراؤ۔“ ”سر اس وجہ سے تصدیق کر رہے ہیں کہ اور مضامین کے امیدوار بھی آئے ہوئے ہیں ہم ہر مضمون کے امیدواروں کی علیحدہ لائن بنوا رہے ہیں۔“ ایک نگران نے صراحتاً اپنا نقطہ نگاہ پیش کیا جسے ہم نے نیم دلی سے سن لیا۔ ہمیں تو اس بات کی جلدی تھی کہ کب پرچہ شروع ہو اور کب ہم اپنی قابلیت کے جو ہر دکھلائیں۔
خیر کچھ دیر کے بعد پرچہ تقسیم ہونے کا مرحلہ آن پہنچا۔ سوالیہ پرچے کو جب ہم نے پہلی نظر دیکھا تو ہمیں یوں لگا کے جیسے کوئی خالی شیٹ دے کر جا رہا ہے۔ ہم نے الٹ پلٹ کر اسے غور سے دیکھا تو اس پر صرف ڈیڑھ سطر یوں رقم تھی کہ درج ذیل موضوع پر سیر حاصل مضمون لکھیں، ”شمشیر و سناں اول طاؤس و رباب آخر“
اکلوتا سوال پڑھتے ہی دماغ کے تمام فیوز اڑ گئے اور ہر طرف تاریکی سی چھا گئی اور تاریکی بھی ایسی کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دے۔ تھوڑے حواس بحال ہوئے تو عنوان کو چھان پھٹک کر دیکھنے لگے بات تو سنی سنی سی لگتی تھی مگر اس کا مطلب کیا تھا، کچھ خبر نہیں۔ شمشیر کو سناں اور طاؤس کو رباب سے علیحدہ کر کے دیکھ لیا، اول کو آخر اور آخر کو اول میں فٹ کرنے کا تجربہ بھی کر لیا مگر بے سود۔ پہلی سطر لکھنے کو قلم کاغذ پر دھر تو دیا مگر اس نے آگے سرکنے سے انکار کر دیا۔ مصرع کو چاروں طرف سے گھوم گھما کر دیکھ لیا کہ اس حسن نو روز کی کوئی ایک جھلک دکھائی دے جائے مگر بے سود۔
بہت کوشش کی کہ کسی طرح پہلی سطر ہی احاطہ تحریر میں آ جائے تاکہ آگے بڑھنے کا کچھ امکان پیدا ہو۔ تمام اعضاء مضمحل پڑتے محسوس ہو رہے تھے، خاص طور پر ہاتھوں میں رعشہ سا اتر آیا تھا۔ اس لمحے تو ہمیں خود پر کسی نرسری کے بچے کا گمان ہو رہا تھا۔ اب ایک پریشانی تو یہ تھی کہ کمرہ امتحان میں اس طرح بیکار کب تک بیٹھے رہیں اور دوسری دقت یہ سوچ کر بن رہی تھی کہ خالی پرچہ ممتحن کو کس منہ سے واپس کریں اور وہ بھی اس وقت جب سب امیدوار اپنا اپنا پرچہ دینے میں مگن ہوں۔
ایسے میں قرین القیاس تھا کہ نگران نے ہمارے پرچے کو غور سے دیکھنا تھا اور اس کے بعد ہمیں بھی غور سے دیکھنا تھا اور کہنا تھا جناب کو ہی پرچہ شروع کروانے کی جلدی تھی اور جناب نے ایک لفظ بھی لکھنا گوارا نہیں کیا۔ خیالات کی ایک کھچڑی سی دماغ میں پک رہی تھی۔ یقین جانیے اس وقت ہماری حیات فانی کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ کوئی ہم سے یہ پرچہ وصول کر لے اور ہمیں باہر سڑک تک جانے کا باعزت موقع فراہم کر دے۔
خیر دماغ میں ایک ترکیب نے سر اٹھایا اور ہم نے نگران کو اشارے سے بلایا کر کہا جناب والا! ہم نے مطالعہ پاکستان کے ٹیچر کے لیے اپلائی کیا تھا آپ نے ہمیں اردو کا پرچہ تھما دیا۔ نگران نے کھا جانے والی نگاہوں سے ہمیں دیکھا اور کہا 15 منٹ کے بعد آپ کو خیال آیا کہ آپ نے اردو نہیں مطالعہ پاکستان کا ٹیسٹ دینا تھا؟ اس بات کا بوکھلاہٹ بھرا جواب دینے کی بجائے ہم نے سکوت کی دبیز چادر اوڑھ لی، اس نے تند و تیز سوالات کے ایک دو تیر اور بھی داغے مگر ہم نے جواب نہ دینے میں ہی عافیت گردانی۔
اچانک ایک اور روح فرسا خیال بجلی کی طرح دماغ میں کوندا کہ اگر ان کم بختوں نے ہمارا وہ فارم نکال کے پڑھ لیا جو ہم نے اپنے ہاتھوں سے لکھنے کے بعد دستخط کر کے ان کے حوالے کیا تھا تو پھر کیا بنے گا۔ خیر ایسا کچھ نہیں ہوا اور نگران نے سوالیہ پرچہ ہم سے لے کر چند منٹ کے بعد مطالعہ پاکستان کا سوالیہ پرچہ لا کر ہمیں تھما دیا۔ مطالعہ پاکستان کے پرچے میں کل پانچ سوالات تھے جن میں سے دو ہمیں صحیح طرح سے نہیں آتے تھے اور بقیہ تین تو بالکل بھی نہیں آتے تھے۔ خیر دو تین صفحے کالے کرنے کے بعد امیدواروں کے رش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پرچہ جمع کروا دیا اور باہر سڑک پر آ کر سکھ کا سانس لیا۔
گھر پہنچے تو بڑے بھائی نے ٹیسٹ کی بابت پوچھا۔ ”بھائی جان! ٹیسٹ تو بہت ہی شاندار ہوا ہے مگر آپ کو تو پتہ ہے اس ملک میں کوئی کام سفارش اور رشوت کے بنا تو ہوتا نہیں ہے اور ہمارے پاس دینے کو رشوت ہے اور نہ کوئی ٹھوس سفارش، یہی وجہ ہے کہ ٹیلنٹڈ نوجوان ملک چھوڑ چھوڑ کر باہر بھاگ رہے ہیں۔“
بھائی جان نے اثبات میں سر ہلا دیا۔


