میں نے بدلتے موسم نہیں دیکھے تھے
میں جس جگہ سے آئی ہوں وہاں میں نے چہروں کی منافقت، بدلتی آنکھیں یا پھر بدلتے لہجے تو دور کی بات کبھی موسم کا بدلاؤ تک نہیں دیکھا۔ میری والدہ کو میری شادی کے بعد یہ فکر بہت زیادہ تھی کہ میں موسم کا بدلاؤ نہ جانے کیسے برداشت کروں گی۔
یہ مائیں بھی نہ جانے کیا ہوتی ہیں!
کیا کیا سوچتی رہتی ہیں اور کیا کیا اندیشے دامن میں بھر لیتی ہیں۔
رات سرد موسم کی پہلی بارش تھی، لائٹ حسب معمول خراب موسم کا بہانہ بنا کر چلی گئی تو موبائل فونز کی ٹارچ ان ہو گئی۔ ٹھنڈی ہوا کے سرد جھونکے لاونج میں یوں آرہے تھے کہ جیسے میں جدہ کے ساحل سمندر پہ کھڑی ہوں۔ بجلی ذرا سی چمکتی تو باہر درختوں کی شاخیں گویا نئے موسم کو چہک چہک کر خوش آمدید کہہ رہی تھیں۔
میں نے اس موسم کا مما پاپا سے بہت سنا تھا کیونکہ ان کا بچپن تو پاکستان کی سرد شامیں ان کے دامن اور گھر کے آنگن میں اب بھی ان کو محسوس ہوتا تھا۔ مما ہمیں ہر اس چیز سے باتوں باتوں میں آگاہ کرتی تھیں جس سے ہم نا آشنا تھے۔ کبھی پڑھائی کے ذریعے سے تو کبھی ڈرامہ سکرین یا پھر انٹرنیٹ۔ مگر یہ اکسپوژر بڑا محدود تھا یوں جیسے کوئی ماں بچے کے ہاتھ میں کانچ کا گلاس پکڑا کر پاس کھڑی ہو جائے۔ اس طرز کی پرورش نے ہماری شخصیات کو ایک خاص سانچے میں ڈھال دیا اور اب جب میں اپنے آس پاس لوگوں سے ملتی ہوں تو وہ کبھی کبھار مجھے بہت مختلف نظر آتے ہیں خاص طور پر وہ خواتین جو اپنے بچوں سے غافل ہیں اور وہ مرد جو اپنے بچوں اور بیوی دونوں سے۔
میرے لئے یہاں صرف موسم ہی نہیں بدلا بہت کچھ بدلا ہے جس میں بہت ساری خوشگوار چیزیں بھی ہیں اور ان سب میں سب سے بہترین چیز وہی احساس زندگی ہے جو اس گھر میں تھا جہاں سے رخصت ہو کر میں یہاں آئی اور میں خداوند عالم کے کرم سے ایک ایسی دنیا میں آئی ہوں جہاں میرے آس پاس آنے والی تبدیلی کو محسوس کرنے والے حساس اور خوبصورت لوگ موجود ہیں اور جب ایسا ہوتا ہے تو موسموں کی سختیاں زیادہ دشوار نہیں ہوتیں۔
طارق نے لائٹ جانے پر فوراً موبائل کی ٹارچ آن کر دی۔ سرد رات کی خنکی کا لطف اپنے قہقہوں سے کسی اداس یاد میں تبدیل نہیں ہونے دیا۔ یہ رفاقت میرے لئے ایک خوبصورت احساس بنی تو میں اپنی سوچ میں جدہ کے ساحل سے فورا لمحہ حاضر میں واپس آ گئی اور یہ جان گئی کہ کوئی بھی شخص اگر مطمئن ہو تو زیادہ دیر تک ماضی میں نہیں رہتا چاہے وہ ماضی جتنا بھی مسحور کن ہو۔ ایک دلنشیں ساتھ آپ کے شاندار ماضی کو ہوا کے اس جھونکے میں بدل سکتا ہے جو خوشبوئیں پھیلاتا ہوا آپ کو اپنی گرفت میں تو لیتا ہے مگر گزر جاتا ہے۔ میں نے سرد موسم کی اس پہلی تبدیلی کو قلم کے سپرد کر کے اپنی ماں کے دل سے کسی بھی قسم کے اندیشے کو دور کرنے کی ایک چھوٹی سی کوشش کی ہے جس کا اختتام میں اپنی والدہ ہی کے ایک خیال سے کروں گی کہ ماضی جتنا بھی خوبصورت ہو حال سے مطمئن لوگوں کا مسکن کبھی نہیں رہا۔


