انسان کتنا عظیم ہے؟
کارخانہ قدرت میں انسان کو اعلی مقام حاصل ہے۔ وہ ایسی خصوصیات اور صلاحیتیں رکھتا ہے کہ دیگر ہر کائناتی شے پر حاوی ہو تا جا رہا ہے۔ وہ چرند، پرند، حیوانات اور نباتات اور فطری توانائیوں کو اپنے مفاد میں استعمال کرنے کی بے پناہ قوت رکھتا ہے۔ ننگ دھڑنگ اندھیری غاروں میں رہنے والا انسان قدرتی آفات، جنگلی جانوروں اور حشرات الارض سے محفوظ نہ تھا۔ آگ کی دریافت کے بعد رات کو ان آفات سے بچنے کے لئے آگ کے الاو جلا کر سویا کرتا تھا۔
وہ آج ان بلاؤں سے محفوظ مکانوں اور آرام دہ آبادیوں میں منتقل ہو گیا ہے۔ پہیہ کی ایجاد کے بعد بائیسکل سے لے کر دیوہیکل ہوائی جہاز اور سیاروں جیسی مفید ایجادات کرچکا ہے۔ بجلی کی دریافت نے انسانی زندگی میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ بنیادی انسانی حقوق کے چارٹرڈ بنائے جا رہے ہیں۔ ملکوں کی حد بندی تسلیم کر لی گئی ہے۔ فرد اور قوموں کا حق آزادی تسلیم کر لیا گیا ہے۔ فرانس کے معروف فلسفی والنٹیر نے انسانی حقوق و احترام کو نقطہ عروج پر پہنچا دیا ہے، جو اپنے مخالف سے کہتا ہے۔
”آپ جو کچھ کہتے ہیں، ہو سکتا ہے میں اس سے اتفاق نہ کروں بلکہ اس کی مخالفت کروں، لیکن میں آپ کے ایسا کہنے کے حق کی حفاظت اپنی جان پر کھیل کروں گا۔“
جانوروں کی فلاح و بہبود کا شعور بیدار ہو چکا ہے۔ ویٹرنری ہسپتال بنائے جا رہے ہیں۔ قانون بے رحمی لاگو ہو چکا ہے۔ معذور انسانوں کے حقوق متعین ہو گئے ہیں۔ معاشرے میں تضحیک و توہین کی بجائے انہیں پیار و محبت کا مخصوص مقام دیا جاتا ہے ۔ ان کو معاشرہ میں فعال کرنے کے لئے سکول اور کالج بنائے گئے ہیں۔ طبی دنیا میں تحقیق اور دریافتوں سے بہت سی وبائی امراض اور آفات پر قابو پا لیا گیا ہے۔ فوت شدہ انسانوں کے اعضاء کی زندہ انسانوں میں پیوندکاری کی جا رہی ہے۔
پھر لیزر ٹیکنالوجی سے آنکھ جیسی نازک شے میں قرنیہ کی پیوند کاری نے اس عمل کو نقطہ عروج پر پہنچا دیا ہے۔ آج کا انسان فضاء اور خلاء کو اپنے مفاد میں استعمال کر رہا ہے۔ کمپیوٹر، انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا نے اس دنیا کو گلوبل سٹی بنا دیا ہے۔ انسان نے حیران کن سہولتوں کے انبار لگا دیے گئے ہیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ ایک حیرانی ختم نہیں ہوتی کہ پھر ایک اور حیرانی سے واسطہ پڑ جاتا ہے۔ البتہ یہ سائنسی ایجادیں اور دریافتیں کسی کی جاگیر نہیں، یہ نسل انسان کی میراث ہیں، اس لئے سبھی مستفیض ہو رہے ہیں۔ سطح زمین پر انسانی فنکاری دیکھ کر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بغیر یہ زمین ادھوری تھی۔ انسانی کارناموں سے الگ کر کے اس دنیا کو دیکھیں تو ہر طرف مہیب اندھیرے اور جنگل و بیاباں ہی نظر آتے ہیں۔ مقصد اس بحث کا یہ بتانا ہے کہ انسان کا نظام کائنات میں عمدہ کردار ہے۔
انسان کی عظمت کو جاننے کے لئے یہ جان لینا ضروری ہے کہ فطرت کا نظام ”جنگل کے قانون“ پر چل رہا ہے۔ فطرت کے قانون اور ضابطے اندھے کے ہاتھ میں لاٹھی ہیں۔ یہ جذبات و احساسات سے عاری ہیں۔ یہاں کمزور کے رہنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ فطری ضابطے صاف کہتے ہیں کہ اگر تم میں زندہ رہنے کی قوت نہیں تو مرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔ اگر تم فطری بد بلاؤں اور آفات کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو نا بود ہو نے کے لئے کمر کس لو۔
یہی حال جانوروں کا ہے، وہ تلاش رزق کے ساتھ ساتھ تحفظ کے بھی متلاشی رہتے ہیں، کیونکہ وہ ہر لمحہ کسی کا نوالہ ہوتے ہیں۔ یہ حقیقت چارلس ڈارون کے قانون انتخاب میں تسلیم کر لی گئی ہے۔ فطری قوتیں جذبہ رحم سے بالکل عاری ہے۔ بجلی کے کوندے کو معصوم اور غریب کسان کی کٹیا پر گرتے ہوئے ذرہ بھی ترس نہیں آتا۔ اسی طرح جنگل میں شیر کو ایک ہرنی کو شکار کرتے ہوئے اس کے چار بچوں پر بالکل رحم نہیں آتا، جن کی ماں کے بعد ساری کائنات ہی لٹ گئی ہے۔ سونامی اور زلزلے کس طرح معصوم اور بے گناہ لوگوں کو زندہ در گور کر رہے ہیں اور کیوں؟ وہ نہ اس سوال کا جواب دیتے ہیں اور نہ ہی کسی ناکردہ گناہ کی سزا سے باز آتے ہیں۔
انسان میں جانوروں کے لئے بھی جذبہ رحم موجود ہے۔ ایک آوارہ کتیا کو کوئی پوچھتا نہ تھا لیکن جب اس نے گلی کے ایک کونے میں بچے دیے تو گلی والوں نے اس کے آگے دودھ اور خوراک کے ڈھیر لگا دیے تا کہ اسے بچے پالنے میں سہولت میسر ہو۔ ایک گھر میں چڑیا نے انڈے دینے کے لئے گھونسلہ بنانا شروع کیا۔ تو گھر والوں نے تنکے اور دھاگے صحن میں پھینک دیے تاکہ چڑیا کو گھونسلہ بنانے میں آسانی ہو۔ جب اس نے انڈے دیے تو کوا پینے آ گیا۔ جو بچ گئے ان سے بچے نکلے تو بلی کھانے آ گئی۔ گھر والے حتی الامکان ان کی حفاظت کرتے رہے، تا وقتیکہ وہ اڑنے کے قابل ہو گئے۔ انسان جذبات و احساسات کی ان امتیازی خوبیوں سے مالامال ہے جن سے فطری قوتیں عاری ہیں۔ البتہ جو انسان دوستی و محبت کے جذبات نہیں رکھتا، وہ انسان کے نام پراک دھبہ ہے۔
گو کہ آزادی فکر و ضمیر کے ضمن میں بعض کمزوریاں پائی جاتی ہیں لیکن یہ عموماً ذاتی مفاد پرستی کا شاخسانہ ہیں۔ میرے خیال میں اس ضمن میں انسان ابھی ارتقائی منازل میں ہے۔ انسانی تاریخ شاید کہ وہ ایسے نظریات میں تدریجی ترقی کر رہا ہے اور وہ یقیناً اس پر بھی قابو پا لے گا۔ جیسا کہ سیاست میں وہ اس نظریہ کو رد کر چکا ہے، جو طاقتور کو حق دیتا تھا کہ وہ اپنے ارد گرد کے کمزوروں پر چڑھائی کرے اور ان کی ریاستوں پر قبضہ کر لے۔ آج کی نسل اپنے بزرگوں کی حرب کاری پہ خندہ زن ہے۔ سو وہ اس کا تسلسل نہیں چاہتی۔
انسان کتنا عظیم ہے کہ وہ انسان دوستی کے جذبات سے مزین ہے۔ اس میں جذبہ رحم بدرجہ اتم پایا جاتا ہے ۔ وہ کمزور افراد اور اقوام کو نہ صرف زندہ رہنے کا حق دیتا ہے بلکہ ان کی مدد بھی کرتا ہے۔ عالمی بینک، این جی اوز اور اقوام متحدہ کا کردار ہمارے سامنے ہے۔ سونامیوں اور زلزلوں کے زندہ در گور کیے گئے انسانوں کو نکالنے کے لئے ساری دنیا بے چین ہو جاتی ہے اور اپنے جملہ وسائل لے کر وہاں پہنچ جاتی ہے۔ میرے وطن پاکستان میں آنے والے 2005 ٰء کے زلزلے میں اقوام عالم کا کر دار انتہائی قابل ستائش ہے۔ آج بھی برطانیہ سے منگوائے گئے وہ کتے یاد ہیں جو ملبے میں دبے زندہ انسانوں اور لاشوں کی نشاندہی کرتے تھے۔


